یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
15 دسمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
سڈنی پولیس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حملہ آوروں کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے بے گناہ شہریوں کی تعداد 15 ہے اور ان کی عمریں 10 سے 87 سال کے درمیان ہیں
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
15 دسمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیسی نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران جاس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتوار کے روز ہونے والا حملہ خالصتاً ’شیطانی عمل‘ تھا اور ایک ایسا حملہ تھا جس میں جان بوجھ کر یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی۔
وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ’یہود دشمنی‘ پر مبنی تھا جبکہ ’ہماری سرزمین پر دہشت گردی کا بدترین واقعہ‘ تھا۔
البانیسی نے کہا کہ ’ہم اس واقعے کے جواب ڈھونڈنے کے لیے ہر ممکن وسیلہ بروئے کار لائیں گے۔‘
وزیرِاعظم البانیسی نے ان ’عام شہریوں اور دلیرانہ جواب دینے والوں کی تعریف کی جنھوں نے واقعے کے بعد رد عمل میں فوری کارروائی کی اور آسٹریلیا کی اقدار کا دفاع کیا۔
پولیس کمشنرلینیون کے مطابق وہ اس دہشت گردی کے حملے کے پیچھے محرکات تلاش کر رہے ہیں-
حملے سے متعلق ہونے والی پریس کانفرنس میں پولیس کمشنر سے صحافیوں نے دوران سوالات پوچھا کہ کیا دونوں حملہ آوروں کا ریکارڈ پولیس کے پاس تھا اور کیا وہ ان اطلاعات پر تبصرہ کریں گے کہ جائے وقوع پرشدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کا سیاہ پرچم موجود تھا؟
اس کے جواب میں پولیس کمشنر لینیون نے بتایا کہ ’وہ تفصیلات یا قیاس آرائیوں میں نہیں جائیں گے تاہم یہ بتایا کہ بڑی عمر والے حملہ آور کے پاس تقریباً دس سال سے اسلحے کا لائسنس تھا۔
’ہم اس حملے کے پیچھے محرکات کو دیکھیں گے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ تحقیقات کے حصے کے طور پر اہم ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ جائے وقوع کے قریب سے دو فعال دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد (آئی ای ڈیز) ملے ہیں جنھیں پولیس نے ’محفوظ ‘ کر لیا ہے۔
نیو ساؤتھ ویلز کے پولیس کمشنر مال لینون نے پریس بریفنگ میں بتایا ہے کہ شوٹنگ کی تحقیقات میں تیزی سے چیزیں سامنے آ رہی ہیں اور پولیس کو اب مزید حملہ آوروں کی تلاش نہیں۔
لینیون کا کہنا ہے کہ اس دہشت گردی کے حملے میں ملوث دونوں شوٹر باپ بیٹا تھے جن کی عمریں 50 اور 24 سال تھیں۔
انھوں نے تصدیق کی کہ 50 سالہ شخص جائے وقوع پر ہلاک ہو گیا جبکہ اس کا 24 سالہ بیٹا، جو کہ دوسرا حملہ آور ہے، تشویشناک حالت میں ہسپتال میں زیرعلاج ہے۔
پولیس کے مطابق مرنے والے حملہ آور کے پاس اسلحے کا لائسنس تھا اور اس کے پاس چھ آتشیں اسلحے تھے۔
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ چھ ہتھیار بھی بونڈائی کے ساحل پر ہونے والے حملے استعمال کیے گئے تھے تاہم اس کی تحقیق ابھی ہونا باقی ہے۔
آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیسی اور نیو ساؤتھ ویلز پولیس کی جانب سے سڈنی کے ساحل پر دہشت گردی کے حملے سے متعلق تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ دونوں حملہ آور باپ بیٹا تھے جن میں سے ایک ہلاک ہو گیا ہے جبکہ دوسرا حملہ آور شدید زخمی حالت میں ہے۔
پولیس کے مطابق حملہ آوروں کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد 15 ہے اور ان کی عمریں 10 سے 87 سال کے درمیان ہیں۔
نیو ساؤتھ ویلز کے پریمیئر کرس منز نے تصدیق کی ہے کہ ایک حملہ آور بھی مارا گیا ہے۔ منز نے کہا کہ 42 افراد اب بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آسٹریلیا کے ساحل بونڈائی میں اتوار کے روز یہودی کمیونٹی کی تقریب پر ہونے والے ’دہشت گردانہ‘ حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 16 ہو گئی ہے۔ مرنے والوں میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔
نیو ساؤتھ ویلز کے وزیرِ صحت رائن پارک نے آسٹریلیا کے خبر رساں ادارے اے بی سی کو بتایا ہے کہ بونڈائی کے ساحل پر فائرنگ کے بعد ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 16 ہو گئی ہے۔ تاہم فی الحال یہ واضح نہیں کہ ہلاکتوں کی تازہ تعداد میں دونوں حملہ آور شامل ہیں یا نہیں۔
نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے مطابق اس وقت 40 افراد زخمی حالت میں ہسپتال میں داخل ہیں جن میں چار بچے بھی شامل ہیں۔
اس سے قبل پولیس نے بتایا تھا کہ مشتبہ حملہ آوروں میں سے ایک مارا گیا ہے جبکہ دوسرا تشویشناک حالت میں ہے۔
اس سے قبل پولیس نے ایک حملہ آور سمیت 12 ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہABIR SULTAN/EPA/Shutterstock
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے آسٹریلیا کی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قریباً چار ماہ پہلے کینبرا کو خبردار کر چکے تھے کہ آسٹریلوی حکومت کی پالیسی ملک میں یہود دشمنی کو فروغ دے رہی ہے اور اس عمل کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔‘
ڈیمونا میں ایک سرکاری اجلاس کے دوران انھوں نے ایک خط کا حوالہ دیا جوان کے مطابق انھوں نے 17 اگست کو آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیسی کو بھیجا تھا اور اس میں انھوں نے آسٹریلیا پر ’یہود دشمنی کی آگ پر تیل ڈالنے‘ کا الزام لگایا تھا۔
یاد رہے کہ یہ وہ وقت تھا جب آسٹریلیا نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔
اجلاس کے دوران نیتن یاہو نے یہود دشمنی کو ’کینسر‘ سے تشبیہ دی اور کہا کہ یہ اس وقت پھیل جاتی ہے جب رہنما خاموش رہتے ہیں۔
اپنے خطاب میں آسٹریلوی وزیر اعظم البانیسی کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’آپ نے اس بیماری کو پھیلنے دیا اور اس کا نتیجہ وہ ہولناک حملے ہیں جو ہم نے آج یہودیوں پر ہوتے دیکھے۔


،تصویر کا ذریعہUGC
تقریباً 11 منٹ طویل ایک ویڈیو، جو تقریباً 50 میٹر کے فاصلے سے بنائی گئی، یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہنوکا کی تقریب پر حملہ کس طرح ہوا اور پولیس و شہریوں نے کس طرح ردِعمل دیا۔
یہ واضح نہیں کہ ریکارڈنگ حملے کے کتنے دیر بعد شروع ہوئی، لیکن ویڈیو کے آغاز میں ایک حملہ آور کو کیمبل پیریڈ اور آرچر پارک کے درمیان فٹ برج پر دیکھا جا سکتا ہے جبکہ دوسرا، سفید پینٹ اور بیگ پہنے، ایک بھاگتے ہوئے شخص پر فائرنگ کرتا ہے۔
دونوں حملہ آور تقریب کی سمت مسلسل فائرنگ کرتے ہیں۔ پل پر موجود حملہ آور تقریباً مسلسل گولیاں چلاتا ہے، وقفے وقفے سے اپنے قدموں کے پاس رکھی ایک اضافی بندوق کو درست کرتا ہے۔ وہ صرف ایک بار دس سیکنڈ سے بھی کم کے لیے پل کی سیڑھیاں اترتا ہے اور پھر دوبارہ اپنی جگہ پر واپس آ جاتا ہے۔ چھ منٹ تک وہ صرف ری لوڈ کرنے یا قریب آنے والوں کو دھمکانے کے لیے رکتا ہے۔
دوسرا حملہ آور پل پار کر کے تقریب سے تقریباً 30 میٹر دور ایک درخت کے قریب پہنچتا ہے اور فائرنگ جاری رکھتا ہے، یہاں تک کہ ایک اور ویڈیو میں دکھایا گیا کہ ایک شہری نے اس کا ہتھیار چھین لیا۔ وہ دوبارہ پل پر آ کر اضافی بندوق اٹھا لیتا ہے۔
ویڈیو کے ابتدائی 22 سیکنڈ میں ایک پولیس گاڑی گزرتی ہے اور سائرن بجتے رہتے ہیں، لیکن دو منٹ بعد عینی شاہدین کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’پولیس کہاں ہے؟‘
چار منٹ کے بعد حملہ آوروں پر فائرنگ شروع ہوتی ہے۔ تقریباً 30 سیکنڈ بعد سفید پینٹ والا حملہ آور گولی لگنے سے گر جاتا ہے۔ ایک منٹ بعد دوسرا حملہ آور بھی مارا جاتا ہے، جس پر موجود افراد خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔
بعد ازاں وہاں افراتفری نظر آتی ہے۔ لوگ پل پر دوڑتے ہیں، زخمی حملہ آوروں پر حملہ کرتے ہیں اور آپس میں بھی الجھتے ہیں۔
سات منٹ بعد پہلا پولیس اہلکار پل پر پہنچتا ہے، اس کے بعد مزید اہلکار آتے ہیں جو شہریوں کو قابو میں کرنے اور علاقے کو صاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پولیس گاڑیاں پہنچتی ہیں اور ویڈیو کے آخری منٹ میں کیمرہ تقریب کی طرف مڑتا ہے جہاں لوگ زخمیوں کی مدد کر رہے ہیں۔
بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے وڈھ میں اتوار کی شب ایک گھر پر دستی بم حملے میں ایک بچہ ہلاک اور خواتین و بچوں سمیت چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
پولیس حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جس گھر کو نشانہ بنایا گیا وہاں دو بھائیوں کا خاندان رہائش پذیر تھا۔ دونوں بھائیوں کا تعلق سندھ کے علاقے کشمور سے ہے اور وہ وڈھ میں کھیتوں میں مزدوری کرتے ہیں۔
ایس ایچ او عبدالوہاب کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والے بچے کی عمر تقریباً آٹھ برس تھی۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
ادھر بلوچستان کے ضلع پنجگور میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں اغوا کے بعد ایک سی ٹی ڈی اہلکار خلیل احمد کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق لاش چکل کلگ کے علاقے سے ملی۔
اہلکار کے لواحقین نے لاش کے ہمراہ ایس ایس پی کے دفتر کے باہر احتجاج کیا تاہم پولیس حکام سے مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 12 اور 13 دسمبر کو خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیوں میں 13 شدت پسند مارے گئے ہیں۔
عسکری حکام کے مطابق مہمند ضلع میں ایک اطلاع پر کارروائی کی گئی جہاں جھڑپ کے دوران سات شدت پسند ہلاک ہوئے۔
اسی طرح بنوں ضلع میں ایک اور انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران چھ مزید شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں تاکہ کسی بھی دیگر شدت پسند کو گرفتار یا ختم کیا جا سکے۔
ان کے مطابق یہ کارروائیاں ’عزمِ استحکام‘ کے تحت کی جا رہی ہیں، جو نیشنل ایکشن پلان پر وفاقی اپیکس کمیٹی کی منظوری سے شروع کی گئی انسدادِ دہشت گردی مہم کا حصہ ہے۔
حکام نے کہا کہ یہ مہم مکمل رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کو ختم کیا جا سکے۔
وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں کے خلاف دو ’کامیاب‘ آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں میں 13 شدت پسند مارے گئے اور فورسز نے بروقت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ کارروائی کی۔
آسٹریلوی نیشنل امامز کونسل اور کونسل آف امامز نیو ساؤتھ ویلز نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ آسٹریلوی مسلم کمیونٹی کے ساتھ مل کر بونڈائی میں ہونے والی ’خوفناک فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہیں‘۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’تشدد اور جرائم کی ایسی کارروائیوں کی ہمارے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں۔ ذمہ داروں کو مکمل طور پر جواب دہ بنایا جائے اور قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔‘
مسلم تنظیموں کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ہمارے دل، خیالات اور دعائیں متاثرین، ان کے خاندانوں اور ان تمام افراد کے ساتھ ہیں جو اس صدمہ خیز واقعے کے گواہ یا متاثر ہوئے۔‘
بیان کے مطابق ’یہ لمحہ ہے کہ تمام آسٹریلوی، بشمول آسٹریلوی مسلم کمیونٹی، اتحاد، ہمدردی اور یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہوں اور ہر قسم کے تشدد کو مسترد کریں۔‘

،تصویر کا ذریعہX/@ImamsCouncil

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
آسٹریلیا ہمیشہ اپنے محفوظ ملک ہونے پر فخر کرتا ہے۔ ابھی اسی ہفتے پڑوسیوں کے ساتھ گفتگو میں یہ بات سامنے آئی کہ لوگ سڈنی کو اس لیے پسند کرتے ہیں کہ وہ اسے محفوظ سمجھتے ہیں۔
لیکن یہ تصور اب ٹوٹ رہا ہے اور شہری صدمے میں ہیں۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب محض دو برس سے بھی کم عرصہ قبل قریبی علاقے بونڈائی جنکشن میں ایک شاپنگ سینٹر پر بڑے پیمانے پر چاقو زنی کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس وقت بھی لوگ حیران تھے اور بار بار کہتے تھے: ’یہاں ایسا نہیں ہوتا۔‘
اب ایک اور خونی حملہ، ساحل پر ویک اینڈ گزارنے والے بے گناہ افراد کو نشانہ بنا گیا۔
بونڈائی سڈنی کا وہ حصہ ہے جو سیاحوں اور مقامی شہریوں دونوں کو یکساں طور پر عزیز ہے۔ یہ حملہ آسٹریلیا کے لیے ایک سخت دھچکا ہے۔
آسٹریلیا کے بونڈائی ساحل پر ہونے والے حملے میں متعدد اطلاعات کے مطابق سڈنی کے بونڈائی ساحل پر یہودی کمیونٹی پر ہونے والے حملے میں ایک اسرائیلی شہری بھی ہلاک ہوا ہے۔ یہ اطلاع اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے حوالے سے دی گئی ہے۔
اتوار کے روز ہونے والی فائرنگ میں 11 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ایک حملہ آور بھی مارا گیا۔
اس حملے میں برطانوی نژاد ربی ایلی شلانگر بھی ہلاک ہوئے ہیں، ان کے خاندان نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
41 سالہ شلانگر پانچ بچوں کے والد تھے، جن میں ایک بیٹا رواں سال اکتوبر میں پیدا ہوا۔
ان کے کزن ربی زلمان لیوس، جو برائٹن سے تعلق رکھتے ہیں، نے کہا کہ شلانگر ’زندہ دل، پرجوش، زندگی سے بھرپور اور نہایت گرم جوش شخصیت کے مالک تھے جو دوسروں کی مدد کرنا پسند کرتے تھے۔‘
ایلی شلانگر کے کزن ربی زلمان لیوس نے بی بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ ان کے کزن کے نام پر صدقات خیرات اور نیک اعمال کے ذریعے ’روشنی پھیلائیں‘۔
ان کے مطابق: ’میں جانتا ہوں کہ وہ کس طرح ردِعمل دیتے، اور یہ وہ بات ہے جو انھوں نے حال ہی میں کہی تھی۔ ہر انسان کے پاس دنیا کو بہتر بنانے کا مثبت طریقہ ہے، ہمیں روشنی پھیلانے کا عمل جاری رکھنا ہوگا۔ دنیا ایک مثبت جگہ ہے اور ہمیں یہ دکھانا ہے، اور میں جانتا ہوں کہ ایلی یہی کہتے۔‘
ربی لیوس نے بتایا کہ ایلی شلانگر شمال مغربی لندن میں پیدا ہوئے اور بچپن میں اپنے خاندان کے ساتھ نیویارک منتقل ہو گئے، بعد میں انھوں نے ایک آسٹریلوی خاتون سے شادی کی۔
انھوں نے کہا کہ ’وہ نہایت زندہ دل، زندگی سے بھرپور، خوش مزاج اور گرم جوش شخصیت کے مالک تھے۔ دوسروں کی مدد کرنا پسند کرتے تھے اور ان سے بات کرنا ہمیشہ خوشی کا باعث ہوتا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اتوار کے روز آسٹریلیا کے بونڈائی ساحل پر ہونے والا حملہ اس وقت پیش آیا جب وہاں ہنوکا تہوار کے پہلے دن کی تقریب جاری تھی۔
ہنوکا یہودیوں کا ’روشنی کا تہوار‘ ہے۔ تاریخی طور پر یہ اس واقعے کی یادگار ہے جب یہودیوں نے دو ہزار سال سے زیادہ عرصہ قبل یونانیوں کے خلاف جنگ جیت کر اپنے مذہب کی آزادانہ عبادت کا حق حاصل کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ تہوار آٹھ دن تک جاری رہتا ہے اور عبرانی کیلنڈر کے نویں مہینے ’کیسلیف‘ کی 25 تاریخ سے شروع ہوتا ہے۔
اسے ہر رات منورہ کی شمع روشن کر کے منایا جاتا ہے۔ اس دوران ڈریڈل کھیلنے، گانے گانے، بچوں کو تحائف اور ’گیلٹ‘ کہلانے والی ہنوکا کی رقم دینے کی روایت ہے۔
چانوکا‘ اس جشن کا قدرے روایتی نام ہے۔

،تصویر کا ذریعہDAVID GRAY/AFP via Getty Images
آسٹریلیا میں یہودی کمیونٹی کی نمائندہ تنظیم ’آسٹریلین جیوری‘ کی ایگزیکٹو کونسل کے عہدے دار الیکس راؤچن کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں اُن کے خاندان کے افراد اور دوست بھی شامل ہیں۔
بی بی سی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’ہلاک ہونے والوں میں میرا ایک پیارا دوست بھی شامل ہے جو ایک ماہ قبل ہی والد بنے تھے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’میرا دوست، انتہائی ہنس مکھ اور خوبصورت شخصیت کے مالک تھے۔ اب ان کا بیٹا، جو صرف ایک ماہ قبل پیدا ہوا ہے، بغیر باپ کے پرورش پائے گا۔‘
راؤچن کہتے ہیں کہ جائے وقوعہ کے قریب اُنھیں ایک چار سالہ بچی بھی ملی، جس نے اپنے چہرے پر شیرنی کی پینٹنگ کی ہوئی تھی اور یہ اپنے والدین سے بچھڑ گئی تھی۔
اُن کے بقول ’ہمیں خدشہ تھا کہ شاید اس نے اپنے والدین کو کھو دیا ہے، لیکن بہت جلد ہم، بچی کو اس کے والدین تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ حملہ آوروں نے اس معصوم بچی اور اس جیسے دیگر لوگوں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔‘
بونڈائی ساحل پر ہونے والے حملے سے متعلق آسٹریلیا کے خفیہ ادارے کے سربراہ مائیک برگس نے کہا ہے کہ یہ بتانا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ آیا مشتبہ حملہ آور سکیورٹی اداروں کے ریڈار پر تھے یا نہیں۔
تاہم انھوں نے وضاحت کی کہ ’ان افراد میں سے ایک ہمیں معلوم تھا لیکن فوری خطرے کے تناظر میں نہیں، اس لیے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ اصل میں کیا ہوا۔‘
اس سے قبل آسٹریلوی پولیس نے کہا تھا کہ وہ ایک مشتبہ حملہ آور سے ’واقف‘ تھے لیکن ان کے بارے میں ’انتہائی کم معلومات‘ دستیاب تھیں۔
پاکستان نے سڈنی کے بونڈائی بیچ پر ہونے والے دہشت گرد حملے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم اس دہشت گرد حملے سے شدید رنجیدہ ہیں۔ آسٹریلیا کی حکومت اور عوام، بالخصوص زخمیوں کے لیے ہماری دعائیں ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’دہشت گردی ایک سراسر برائی ہے، انسانیت کے خلاف ناقابلِ معافی جرم۔ پاکستان روزانہ اس عفریت کا سامنا کرتا ہے، اس لیے ہم اس درد کو سمجھتے ہیں۔ پاکستان آسٹریلیا کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پولیس حکام نے کہا ہے کہ اس وقت وہ بہت سی تفصیلات نہیں بتا سکتے۔ تاہم ایک بات واضح طور پر کہی گئی کہ یہ واقعہ ’دہشت گردی کا حملہ‘ تھا۔
ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ حملہ آور کتنے تھے اور ان کا مقصد کیا تھا۔ حکام نے ہلاک ہونے والوں کے بارے میں بھی کوئی معلومات فراہم نہیں کیں، اس کی وجہ انھوں نے متاثرہ خاندانوں کو اطلاع دینے کا عمل بتایا۔
پولیس کا کہنا تھا کہ ’یہ معلومات دینا ابھی بہت جلدی ہوگا‘۔
پولیس کمشنر میل لینین نے عوام، خصوصاً یہودی برادری کو یقین دلایا کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
آسٹریلیا میں بونڈائی کے ساحل کے قریب ایک ریستوران کے کارکن نے فائرنگ کے واقعے کے دوران کے لمحات بیان کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی گولیاں چلنے کی آواز آئی، وہ فوراً سمجھ گئے کہ یہ فائرنگ ہے۔
18 سالہ ولیم ڈولینٹے پیٹی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’میں نے فوراً سمجھ گیا کہ یہ فائرنگ ہیں۔‘
ان کے مطابق ابتدا میں انھیں اس واقعے کی سنگینی کا اندازہ نہیں ہوا، لیکن جیسے ہی لوگوں نے دوڑنا شروع کیا، ریستوران کے تمام گاہک بھی کھڑے ہو گئے اور پچھلے دروازے کی طرف بھاگنے لگے۔
انھوں نے کہا: ’سب ایک دوسرے کو دھکیل رہے تھے، کوئی ترتیب نہیں تھی، اور ہم بس دوڑتے چلے گئے۔‘