اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی
توشہ خانہ کیس میں ضمانت منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ کسی اور مقدمے میں
مطلوب نہیں تو انھیں رہا کر دیا جائے۔
عدالت نے بشریٰ بی بی کے وکیل کو دس، دس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے
کا حکم دیا ہے۔بشری بی بی اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔
یہ حکم اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس میں گل حسن اورنگزیب نے ملزمہ کی جانب
سے اس مقدمے میں دائر کی گئی ضمانت کی درخواست پر سنایا ہے۔
واضح رہے کہ توشہ خانہ کے ایک اور مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ سابق وزیر
اعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کو دی جانے والی سزائیں پہلے ہی معطل کرچکی ہے۔
اس سے قبل بشریٰ بی بی کو عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں بھی بری کردیا گیا
تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ عمران خان کی اہلیہ دہشت
گردی کے متعدد مقدمات میں بھی بری ہوچکی ہیں اور اب ان کے خلاف کوئی ایسا مقدمہ نہیں
ہے جس میں وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب ہوں۔
بشری بی بی کے وکیل سلمان صفدر نے ضمانت کے حق میں دلائل منگل کے روز ہی مکمل
کرلیے تھے۔
ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر عمر مجید نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مختلف
ادوار کے توشہ خانہ رولز عدالت میں پیش کیے
تھے۔
انھوں نے کہا کہ توشہ خانہ کے حوالے سے تمام ایس او پیز اور قواعد وزیراعظم کے
دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور توشہ خانہ کے حوالہ سے پالیسی کو کہیں اور کبھی بھی
چیلنج نہیں کیا گیا ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے استفسار کیا کہ توشہ خانہ کے رولز کس بنیاد پر
بنائے جاتے ہیں اور کیا کسی بھی پالیسی کی بنیاد کسی قانون پر ہوتی ہے؟
اس پر ایف آئی اے کے وکیل نے جواب دیا
کہ ریاست کو ملنے والا گفٹ جمع کرانا اور ڈیکلیئر کرنا ہوتا ہے۔ جب تک اسے قانونی
طریقے سے خرید نا لیا جائے یہ تحفہ ریاست کی ہی ملکیت ہوتا ہے۔
ایف آئی اے کے پراسیکوٹر کا کہنا تھا کہ ایک طریقہ کار طے ہے جس کے تحت قیمت
کا تخمینہ لگنے کے بعد چار ماہ میں تحفہ خریدا جا سکتا ہے اور یہ کیس ایسے ہی تحفے
سے متعلق ہے جو جمع ہی نہیں کرایا گیا۔
انھوں نے کہا کہ ریاست کی ملکیت تحفے کو خریدنے سے قبل اپنے پاس نہیں رکھا جا
سکتا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے استفسار کیا کہ اگر بشریٰ بی بی نے تحائف جمع
نہیں کرائے تو بانی پی ٹی آئی کو ملزم کیوں بنایا گیا؟ جس پر ایف ائی اے کے پراسیکوٹر نے جواب دیا کہ
کیونکہ عمران خان پبلک آفس ہولڈر تھے۔
بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو پھر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس
قاضی فائز عیسٰی کی طرح کا کیس ہے اور اُس کیس میں بھی شوہر کو بیوی کے کیے کا ذمہ
دار ٹھہرایا گیا تھا۔
تاہم ایف ائی اے کے پراسیکوٹر نے اس سے اختلاف کیا اور کہا کہ یہ کیس اُس سے
تھوڑا مختلف ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توشہ خانہ کی تحفے کی قیمت کا درست تخمینہ آکشن
کے ذریعے ہی لگایا جا سکتا ہے۔
انھوں نے ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر سے پوچھا کہ آپ کسی دُکان سے گھڑی لے کر
نکلیں اور بعد میں اس کی قیمت لگوائیں تو کیا قیمت لگے گی؟
عمر مجید کا کہنا تھا کہ کوئی جیولری جب تک توشہ خانہ میں دستیاب نہ ہو مارکیٹ
میں اس کی قدر کا کا تعین ہی نہیں کیا جا سکتا۔
انھوں نے کہا کہ ملزمہ کے پاس جو جیولری سیٹ تھا اسے کبھی توشہ خانہ میں جمع ہی
نہیں کروایا گیا اور انھوں نے اسے اپنی ملکیت میں رکھ کر اس کی قیمت قیمت لگوائی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ریاست کو اس جیولری سیٹ کا درست تخمینہ لگوانے کا موقع ہی نہیں
دیا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اگر اب بشریٰ بی بی بلغاری کا جیولری سیٹ واپس کر دیں
تو کیا ہو گا؟ تو ایف آئی اے کے پراسیکوٹر کا کہنا تھا کہ نیب قانون میں تو پلی
بارگین ہے لیکن اس قانون میں تحفہ واپس ملنے سے متعلق کوئی شق نہیں ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ برطانوی وزیراعظم بھی
تحائف اپنے ساتھ گھر لے گئے تھے۔ جب وہاں پر لوگوں نے سوالات کیے تو وزیر اعظم نے
کہا کہ انھوں نے یہ تحفے رولز کے مطابق لیے ہیں۔
عدالت نے ایف ائی اے کے پراسیکوٹر سے استفسار کیا کہ کیا انھیں بشریٰ بی بی سے
تفتیش کی ضرورت پڑی ہے اور جب سے یہ کیس ایف
آئی اے کو منتقل ہوا ہے انھوں نے کوئی تفتیش کی؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ ایف آئی اے کو اس ضمن میں ملزمہ سے تفتیش کرنے
کی ضرورت نہیں پڑی۔
اس کے بعد عدالت نے ضمانت کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے بشریٰ بی بی کو
ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
پہلے اس مقدمے کی تحقیقات قومی احتساب بیورو یعنی نیب کر رہا تھا، تاہم نیب
ارڈیننس میں ترامیم کے بعد یہ مقدمہ ایف ائی
اے کو منتقل کردیا گیا تھا۔
پی ٹی آئی رہنما اور سابق وفاقی وزیر زلفی بخاری کا کہنا ہے
کہ بشریٰ بی بی کی رہائی کے لیے ضمانتی مچلکے جمع کروا دیے گئے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائت ایکس پر انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جس
جج نے بشریٰ بی بی کی رہائی کے روبکار جاری کرنے تھے وہ اپنی عدالت کو تالا لگا کر
چلے گئے ہیں جس کی وجہ سے تاحال روبکار جاری نہیں ہو سکے ہیں۔
زلفی بخاری نے الزام لگایا کہ بشریٰ بی بی کو قید میں رکھنے
کے لیے غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔