وکلا سے ملاقات نہ کروا کر احکامات کی خلاف ورزی کی گئی، عمران کو آج ہی عدالت میں پیش کیا جائے: اسلام آباد ہائی کورٹ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹینڈنٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ آج دوپہر تین بجے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو عدالت میں پیش کریں تاکہ وہ اپنے وکلا سے ملاقات کر سکیں۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ 13 اکتوبر کے بعد سکیورٹی خطرات کے باعث ملاقاتوں پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
خلاصہ
ترکی کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ انقرہ حملے میں کُرد علیحدگی پسند تنظیم پی کے کے کا ہاتھ ہو سکتا ہے
ترک صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ ایرو سپیس انڈسٹریز کے ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ ’ہمارے ملک کی بقا اور سلامتی کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔‘
ترکی کے شہر انقرہ کے قریب جنگی سازوسامان بنانے والی سرکاری کمپنی پر دہشت گرد حملے میں پانچ افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے ہیں جبکہ دو حملہ آوروں کو بھی ہلاک کر دیا گیا ہے
ترک حکومت نے انقرہ حملے کی عدالتی تحقیقات شروع کر دی ہیں
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہاشم صفی الدین کو حزب اللہ کے انٹیلیجنس کمانڈر علی حسین ہزیما کے ہمراہ ہلاک کیا گیا تھا۔
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ تعیناتی کی منظوری دے دی
لائیو کوریج
عمران خان کو وکلا سے ملاقات کے لیے آج ہی عدالت میں پیش کیا جائے: اسلام آباد ہائی کورٹ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹینڈنٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ آج
دوپہر تین بجے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو عدالت میں پیش کریں تاکہ وہ اپنے وکلا
سے ملاقات کر سکیں۔
عمران خان سے جیل میں وکلا اور پارٹی رہنماؤں کی ملاقات نہ کروانے پر دائر
توہین عدالت کی درخواست پر جمعرات کو جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے سماعت کی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ 13 اکتوبر سے اب تک عمران خان کی جیل میں وکلا سے
ملاقات نہیں کروائی گئی ہے۔
دوران سماعت جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کہہ
رہا ہے کہ ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے عمران خان کی وکلا سے ملاقات کروانے کے حوالے سے
جاری کیے گئے عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
اس پر سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کی ان کے وکلا سے ملاقات اس
لیے کروائی گئی کیونکہ اس دوران عدالتی سماعتیں نہیں ہو رہی تھیں۔
انھوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ 13 اکتوبر کے بعد سکیورٹی خطرات کے باعث
ملاقاتوں پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے سرکاری وکیل کی بات پر کہا کہ عدالت سکیورٹی خطرات
کو نہیں مانتی، عمران خان کو ان کے وکلا سے بھی نہیں ملنے دیا گیا اور یہ توہینِ
عدالت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹیفکیشن ان کے احکامات
کی خلاف ورزی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ وزارتِ داخلہ کی رپورٹ
عدالت میں پیش کریں اور بتائیں کہ کیا سکیورٹی خطرات ہیں۔
عدالت کی جانب سے اڈیالہ جیل کے سپرنٹینڈنٹ کو حکم دیا گیا کہ اگر عمران خان کو
عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا تو انتظامیہ کو سکیورٹی خطرات کے حوالے سے عدالت کو
مطمئن کرنا ہوگا۔
دوران سماعت عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل سے کہا کہ ’اے جی
صاحب، یہ توہین میرے احکامات کی ہے، وزارت داخلہ کو وضاحت دینا ہوگی کہ وہ میرے
احکامات سے کیسے لاعلم رہے۔‘
ایرو سپیس انڈسٹریز پر حملے کے بعد ترکی کی عراق اور شام میں کُردستان ورکرز پارٹی کے ٹھکانوں پر کارروائیاں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترکی کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے بدھ کی رات کو عراق اور شام میں کُردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ترکی کی وزارتِ دفاع کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ جوابی حملے میں ’مجموعی طور پر دہشتگردوں کے 32 ٹھکانے کامیابی سے تباہ کر دیے گئے ہیں۔‘
خیال رہے گذشتہ روز ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے قریب واقع ترکش ایرو سپیس انڈسٹریز (ٹی اے آئی) پر حملہ ہوا تھا جس میں پانچ افراد ہلاک اور 22 زخمی ہوئے تھے۔
گذشتہ روز وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دو حملہ آوروں کو ٹی اے آئی کے داخلی دروازے کے قریب فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔
اس حملے کی ذمہ داری کسی گروہ نے تاحال قبول نہیں کی ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوغان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس حملے کو ’سنگین‘ جُرم قرار دیا تھا۔
ترکی کے وزیر داخلہ علی یرلیکایا کا کہنا تھا کہ حملے میں ملوث ایک مرد اور خاتون حملہ آور کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس حملے میں پی کے کے کے ملوث ہونے کا قومی امکان موجود ہے۔
پی کے کے پر ترکی، امریکہ اور برطانیہ میں پابندی عائد ہے اور اس کے جنگجو ترکی میں کُرد اقلیت کے حقوق کے لیے 1980 کی دہائی سے ترک ریاست کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
ترک نائب صدر جودت یلماز کا کہنا ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والے چار افراد ٹی اے آئی کے ملازمین تھے جبکہ پانچواں شخص ایک ٹیکسی ڈرائیور تھا۔
اس سے قبل ترکی کے مقامی میڈیا پر اطلاعات نشر کی گئیں تھیں کہ حملہ آوروں نے ٹیکسی ڈرائیور کو قتل کر کے ان کی گاڑی کو ٹی اے آئی پر حملے میں استعمال کیا۔
اطلاعات کے مطابق ٹی اے آئی کے داخلی دروازے پر دھماکہ اس وقت ہوا جب شفٹ تبدیل ہو رہی تھی اور اسی وقت تمام ملازمین کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی احکامات جاری کیے گئے تھے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترکی کے وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ حملے میں زخمی ہونے والے 22 افراد میں سپیشل فورسز کے سات اہلکار بھی شامل ہیں۔
ترک صدر اردوغان اس وقت برکس کے اجلاس میں شرکت کے لیے روس میں موجود ہیں۔ انھوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے دوران انقرہ کے قریب ہونے والی عسکریت پسندوں کی کارروائی کو ’گھناؤنا حملہ‘ قرار دیا ہے۔
بعد میں ایکس پر جاری کیے گئے ایک تفصیلی بیان میں صدر اردوغان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے برق رفتاری سے عسکریت پسندوں سے نمٹا اور یہ کہ ’ہماری سکیورٹی کو خطرے میں ڈالنے والی کوئی بھی دہشتگرد تنظیم، کوئی بھی شیطانی قوت اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو پائے گی۔‘
ترک حکام نے ٹی اے آئی پر ہونے والے حملے کے حوالے سے میڈیا پر تفصیلات نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے اور ملک کے ایک بڑے حصے میں سوشل میڈیا صارفین یہ شکایت کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ وہ یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بُک اور ایکس تک رسائی نہیں حاصل کر پا رہے۔
ترکی کے ریڈیو اور ٹی وی ریگولیٹر کے صدر نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس واقعے سے متعلق تمام تصاویر سوشل میڈیا سے ہٹا دی جائیں۔ انھوں نے سوشل میڈیا صارفین سے گزارش کی کہ وہ بھی یہ تصاویر ڈیلیٹ کر دیں کیونکہ اس سے ’دہشتگردوں کے مقصد کو تقویت‘ ملے گی۔
ترکی میں جنگی سازوسامان، ایف 16 اور ایروسپیس ٹیکنالوجی کمپنی کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
ٹی اے آئی ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے قریب قائم ایک سرکاری ادارہ ہے۔
یہ ادارہ سویلین اور فوجی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ڈرونز بھی بناتا ہے۔ جو نہ صرف ترک فوج استعمال کرتی ہے بلکہ دنیا بھر میں فروخت بھی کیے جاتے ہیں۔
ٹی اے آئی کی ویب سائٹ کے مطابق اس ادارے کے قیام کا مقصد ایروسپیس ٹیکنالوجی کے حوالے سے ترکی کی دفاعی درآمدات میں کمی لانا تھا۔
یہ کمپنی ترکی میں امریکی ڈیزائن کردہ ایف 16 لڑاکا طیاروں کی لائسنس یافتہ مینوفیکچرر ہے۔
ٹی اے آئی ترک فوج کے استعمال کے لیے پرانے طیاروں کو جدید بنانے میں بھی کردار ادا کرتی ہے۔
یہ فرم ترکی کی مسلح افواج اور ترک حکومت کے دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے ایک ادارے کے ماتحت ہے۔
ٹی اے آئی کا ہیڈکوارٹر انقرہ کے شمال مغرب میں 17 میل (28 کلومیٹر) کے فاصلے پر کہرامانکازان کے علاقے میں واقع ہے۔
کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق ٹی اے آئی کا ہیڈکوارٹر تقریباً چار مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط ہے۔
فی الحال یہ واضح نہیں کہ ہیڈکوارٹر میں کہاں یا کس چیز پر حملہ ہوا ہے۔
کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کیا ہے؟
،تصویر کا ذریعہAFP
کردستان ورکرز پارٹی یعنی پی کے
کے کئی دہائیوں سے ترکی کے لیے مُشکلات اور مسائل کا باعث بنی ہوئی ہے۔
پی کے کے کی بنیاد 1970 کی دہائی
کے اواخر میں رکھی گئی تھی اور اس نے 1984 میں ترک حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کا
آغاز کیا اور ترکی کے اندر ایک آزاد کرد ریاست کا مطالبہ کیا تھا۔
جولائی سنہ 2015 میں دو سال سے
جاری جنگ بندی ختم ہونے کے جھڑپوں کا ایک مرتبہ پھر آغاز ہوا۔ پھر جولائی سنہ 2016
میں ترک حکام کی جانب سے صدر رجب طیب اردوغان کے خلاف بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد پی
کے کے کے خلاف ایک بڑی کارروائی کا آغاز ہوا تھا۔
،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/Shutterstock
پی کے کے کو ہی عراق اور شام میں بدامنی کا ذمہ دار قرار دیا جاتا رہا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ اور یورپی یونین نے پی کے کے کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔
انقرہ حملے میں ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہو گئی، کُرد علیحدگی پسند تنظیم پی کے کے کا ہاتھ ہو سکتا ہے: ترک وزیرِ داخلہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترکی کے وزیر داخلہ علی یرلیکایا
کا کہنا ہے کہ ’انقرہ میں دہشت گرد حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ ہو گئی
ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارا
اندازہ ہے کہ ایرو سپیس انڈسٹریز کے ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملے میں کُرد علیحدگی
پسند تنظیم پی کے کے کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔‘
ترک وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ ’پی
کے کے، کے اس حملے میں ملوث ہونے کا قوی امکان ضرور ہے مگر ابھی یہ واضح نہیں لیکن اس
حملے سے متعلق تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور بہت جلد حملہ آوروں سے متعلق
مزید تفصیلات سامنے لائیں گے۔‘
واضح رہے کہ ترک وزیرِ داخلہ سے قبل مُلک کے
وزیرِ دفاع نے بھی اس حملے کے ذمہ داری کُرد علیحدگی پسند تنظیم پی کے کے پر ہی
عائد کی تھی۔
اردوغان کی انقرہ حملے کی مذمت، ’کوئی دہشت گرد تنظیم اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی‘
،تصویر کا ذریعہBRICS-RUSSIA2024.RU/Reuters
ترک صدر رجب طیب اردوغان نے دارالحکومت
انقرہ میں ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمارے چار لوگ ہلاک اور 14
زخمی ہوئے ہیں۔ میں اس گھناؤنے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتا ہوں اور ہلاک ہونے
والوں کے لیے دُعا گو ہوں۔‘
واضح رہے کہ ترک صدر برکس سربراہی
اجلاس میں شرکت کے لیے روس میں ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر والادیمیر پوتن نے انقرہ کے قریب جنگی سازوسامان
بنانے والی سرکاری کمپنی کے ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملے کی مذمت کی اور ہلاک ہو جانے
والوں کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔
ترک صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا
ہے کہ ایرو سپیس انڈسٹریز کے ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ ’ہمارے
ملک کی بقا اور سلامتی کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔‘
حال ہی میں ایکس پر شیئر کیے گئے
ایک طویل بیان میں اردوغان کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی دہشت گرد تنظیم ہماری سلامتی
کو نشانہ بنانے اور اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی گی۔‘
روس میں برکس سربراہی اجلاس کے
موقع پر روسی صدر والادیمیر پوتن سے ملاقات کے بعد صدر کا کہنا ہے کہ وہ ایرو سپیس انڈسٹریز کے ملازمین کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ ’ہماری دفاعی صنعت کے لیے فخر کا باعث
ہیں۔‘
انقرہ میں ایرو سپیس انڈسٹریز پر حملے کی تصدیق شدہ ویڈیو میں کیا ہے؟
،تصویر کا ذریعہbbc
بی بی سی ویریفائی نے سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو کی تصدیق کی ہے جو ایرو سپیس انڈسٹریز (ٹی اے آئی) کے باہر کار پارکنگ کی ہے۔
ویڈیو شروع ہونے کے کچھ سیکنڈز بعد عمارت کے ایک حصے میں دھماکہ ہوتے ہوئے دیکھا اور سنا جا سکتا ہے جس سے اس مقام کی تصدیق کر پائے ہیں۔
تقریباً 16 سیکنڈ کے بعد ایک مسلح شخص کو ایک بڑی بندوق پکڑے اور ایک تھیلا اٹھائے ہوئے کیمرے کے سامنے آتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
وہ پہلے آگے بڑھتا ہے اور پلٹ جاتا ہے۔ ویڈیو کی خراب کوالٹی اور کافی دور سے فلمائے جانے کے باعث یقین کے ساتھ یہ کہنا ممکن نہیں کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والا شخص حملہ آوروں میں سے ایک ہے۔
ترکی کے شہر انقرہ میں جائے وقوعہ کے کچھ مناظر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ اس حملے میں کل کتنے حملہ آور ملوث تھے, پال ایڈیمز، سفارتی نامہ نگار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشننقرہ میں ایرو سپیس انڈسٹریز پر حملے میں استعمال ہونے والی ٹیکسی
ترک وزیر داخلہ کا یہ دعویٰ کہ دو حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس حملے میں صرف دو ہی حملہ آور ملوث تھے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں ہتھیاروں سے لیس دو حملہ آوروں کو بھاری بھرکم بیگ لیے ہیڈ کوارٹر کے دروازے پر دیکھا جاسکتا ہے۔
بظاہر دونوں حملہ آور ایک پیلی ٹیکسی میں وہاں پہنچے تھے۔
انقرہ حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے؟, فرینک گارڈنر، سکیورٹی امور کے نامہ نگار
ترکی میں دہشت گردانہ حملے کوئی نئی بات نہیں ہے۔
ترکی ماضی میں ہونے والے اکثر حملوں کا الزام کرد علیحدگی پسندوں پر لگایا آیا ہے۔
ترک فضائیہ شمالی شام اور خطے کے دیگر علاقوں میں ان علیحدگی پسندوں کے کیمپوں کو نشانہ بناتی آئی ہے۔
تاہم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی ترکی میں موجودگی بھی ایک اٹل حقیقت ہے۔
اس کے علاوہ ٹی اے آئی کی اپنی اہمیت ہے جس کے تیار کردہ ڈرونز نے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ کا رخ مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔
روس کے حملے بعد یوکرین نے روسی ٹینکوں کو نشانہ بنانے کے لیے ترک ساختہ بیراکتر آقنجی ڈرونز کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا۔ بعد ازاں یوکرین نے مقامی طور پر بڑے پیمانے پر ڈرونز تیار کرنے شروع کر دیے۔
بریکنگ, انقرہ حملہ: تین افراد ہلاک اور 14 زخمی، دو حملہ آوروں کے مارے جانے کی بھی اطلاعات
،تصویر کا ذریعہEPA
ترکی کے وزیرِداخلہ کا کہنا ہے کہ انقرہ کے قریب کہرامانکازان میں قائم ترکش ایرو سپیس انڈسٹریز انکارپوریشن (ٹی یو ایس اے ایس) پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں ’دو دہشت گردوں کو ہلاک‘ کر دیا گیا ہے۔
ایکس پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے اس حملے میں دیگر تین افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے ہیں۔
انھوں نے اس دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم تب تک نہیں رکیں گے جب تک ہم آخری دہشت گرد کو ہلاک نہ کر لیں۔‘
ترکی میں جنگی سازوسامان، ایف 16 اور ایروسپیس ٹیکنالوجی کمپنی کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترکش ایروسپیس انڈسٹریز (ٹی اے آئی) ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے قریب قائم ایک سرکاری ادارہ ہے۔
یہ ادارہ سویلین اور فوجی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ڈرونز بھی بناتا ہے۔ جو نہ صرف ترک فوج استعمال کرتی ہے بلکہ دنیا بھر میں فروخت بھی کیے جاتے ہیں۔
ٹی اے آئی کی ویب سائٹ کے مطابق اس ادارے کے قیام کا مقصد ایروسپیس ٹیکنالوجی کے حوالے سے ترکی کی دفاعی درآمدات میں کمی لانا تھا۔
یہ کمپنی ترکی میں امریکی ڈیزائن کردہ ایف 16 لڑاکا طیاروں کی لائسنس یافتہ مینوفیکچرر ہے۔
ٹی اے آئی ترک فوج کے استعمال کے لیے پرانے طیاروں کو جدید بنانے میں بھی کردار ادا کرتی ہے۔
یہ فرم ترکی کی مسلح افواج اور ترک حکومت کے دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے ایک ادارے کے ماتحت ہے۔
ٹی اے آئی کا ہیڈکوارٹر انقرہ کے شمال مغرب میں 17 میل (28 کلومیٹر) کے فاصلے پر کہرامانکازان کے علاقے میں واقع ہے۔
کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق ٹی اے آئی کا ہیڈکوارٹر تقریباً چار مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط ہے۔
فی الحال یہ واضح نہیں کہ ہیڈکوارٹر میں کہاں یا کس چیز پر حملہ ہوا ہے۔
بریکنگ, انقرہ حملے میں تین افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں: میئر سیلم کرپان
انقرہ کے مقامی میئر کے مطابق ترکی کی سرکاری ایوی ایشن کمپنی کے ہیڈ کوارٹر پر حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کہرامانکازان صوبے کے میئر سیلم کرپان اوغلو نے ترک ٹی وی چینل ٹیلی ون کو بتایا کہ اس حملے میں پانچ افراد زخمی بھی ہیں۔
ترکی میں ہوئے حملے کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انقرہ کے قریب ترکش ایرو سپیس انڈسٹریز (ٹی اے آئی) کے ہیڈکوارٹر کے باہر دھماکے اور فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔
یہ سرکاری کمپنی جنگی سازوسامان اور ایروسپیس ٹیکنالوجی بنانے کے حوالے سے شہرت رکھتی ہے۔
ترکی کے وزیر داخلہ علی یرلیکیا نے ایکس پر اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’اس دہشت گرد حملے میں بدقسمتی سے ہمارے کئی لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ یہ حملہ ترکی کے دارالحکومت سے 25 کلومیٹر دور انقرہ ضلع میں واقع کہرامانکازان میں کمپنی کے ہیڈکواٹر پر ہوا۔
فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، مقامی میڈیا کی طرف سے دکھائی گئی فوٹیج میں جائے وقوعہ پر بڑے پیمانے پر دھواں اور آگ لگی دیکھی جا سکتی ہے۔
ہمیں ابھی تک ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے تفصیلات معلوم نہیں ہیں۔
بریکنگ, ترکی میں فضائی کمپنی پر حملہ: ’اس دہشت گرد حملے میں کئی لوگ ہلاک اور زخمی ہیں‘
،تصویر کا ذریعہgettyimages
ترکی میں حکام کا کہنا ہے کہ انقرہ کے قریب ایک سرکاری فضائی کمپنی کے ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملے میں دھماکے کی اطلاعات ہیں۔
ترکی کے وزیر داخلہ علی یرلیکیا نے ایکس پر اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’اس دہشت گرد حملے میں بدقسمتی سے ہمارے کئی لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔‘
این ٹی وی چینل کی نشر کردہ فوٹیج میں ترکش ایروسپیس انڈسٹریز (ٹی اے آئی) کے سامنے بڑے پیمانے پر دھواں دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ مقام دارالحکومت انقرہ سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق دھماکے کے ساتھ ساتھ گولیاں چلنے کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔
مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ شفٹ میں تبدیلی کے وقت ہوا اور عملے کو فوراًشیلٹرز میں بھجنا پڑا۔
فائر فائٹرز اور میڈیکل ٹیمیں جائے وقوعہ کی جانب روانہ کردی گئی ہیں۔
انقرہ کے میٹروپولیٹن میئر منصور یاواس نے ایک بیان میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس خبر سے ’بہت غمزدہ‘ ہیں۔
لاہور میں فضائی آلودگی کے باعث سکولوں کے اوقات کار تبدیل، آتش بازی پر پابندی عائد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
لاہور میں فضائی
آلودگی کے باعث پنجاب حکومت نے ضلع بھر میں سکولوں کے اوقات کار تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ سموگ کے اثرات میں کمی لانے کے لیے ایڈوائزری بھی جاری کر دی گئی ہے۔
پنجاب حکومت کی
جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق لاہور میں تمام سکول صبح آٹھ بج کر 45 منٹ پر
کھلیں گے۔ اس کے لیے علاوہ
شہر میں ہر قسم کی آتش بازی پر مکمل پابندی ہوگی۔
ان پابندیوں کا اطلاق
28 نومبر، 2024 سے 31 جنوری، 2025 تک ہوگا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ لاہور میں مسلسل دو دن سے فضائی آلودگی کا اشاریہ 150 سے تجاوز کر رہا ہے جب کہ اگلے تین
روز آلودگی کی سطح بر قرار رہنے کی توقع ہے۔
تحفظِ ماحولیات
کے ادارے کی جانب سے جاری ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ فضائی آلودگی بچوں، بوڑھوں
اور بیمار افراد کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ایڈوائزری میں آلودگی
کے اثرات سے بچنے کے لیے شہریوں کو باہر جاتے وقت ماسک پہننے اور غیر ضروری سفر سے
اجتناب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسرائیل کے لبنان کے تاریخی شہر تائر پر فضائی حملے, ڈیوڈ گرٹن، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہReuters
لبنان کی سرکاری
خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے لبنان کے تاریخی شہر تائر پر کم از کم چار
فضائی حملے کیے ہیں۔
حملے کے بعد کی ویڈیوز
میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل سائٹ سے محض چند سو میٹر کے
فاصلے سے دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں۔
فی الحال ان حملوں
میں ہلاکتوں کی اطلاعات نہیں ہیں۔
اس سے قبل
اسرائیل ڈیفینس فورس کی جانب سے شہریوں کو علاقہ چھوڑ دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔
اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ وہ حزب اللہ کے خلاف بھرپور حملہ کرنے جا رہی ہے۔
ہزاروں افراد
پہلے ہی اسرائیلی حملوں کے پیشِ نظر علاقے سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔
لبنانی ہنگامی
امداد کے ادارے کے ترجمان بلال کشمر نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ
تقریباً پورا شہر خالی کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بیشتر لوگ شہر کے مضافاتی
علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔
لبنانی میڈیا کے
مطابق گذشتہ شب اسرائیل نے بیروت، مشرقی لبنان اور وادی بیکا میں متعدد حملے کیے
تھے۔
اسرائیلی فوج کا
کہنا ہے کہ بیروت حملوں کا نشانہ حزب اللہ کے ہتھیاروں کے ذخائر اور فیکٹریاں تھیں۔
دوسری جانب حزب
اللہ نے تل ابیب کے شمال میں آئی ڈی ایف کے اڈے کو راکٹوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ
کیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور کرلی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی
توشہ خانہ کیس میں ضمانت منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ کسی اور مقدمے میں
مطلوب نہیں تو انھیں رہا کر دیا جائے۔
عدالت نے بشریٰ بی بی کے وکیل کو دس، دس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے
کا حکم دیا ہے۔بشری بی بی اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔
یہ حکم اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس میں گل حسن اورنگزیب نے ملزمہ کی جانب
سے اس مقدمے میں دائر کی گئی ضمانت کی درخواست پر سنایا ہے۔
واضح رہے کہ توشہ خانہ کے ایک اور مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ سابق وزیر
اعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کو دی جانے والی سزائیں پہلے ہی معطل کرچکی ہے۔
اس سے قبل بشریٰ بی بی کو عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں بھی بری کردیا گیا
تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ عمران خان کی اہلیہ دہشت
گردی کے متعدد مقدمات میں بھی بری ہوچکی ہیں اور اب ان کے خلاف کوئی ایسا مقدمہ نہیں
ہے جس میں وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب ہوں۔
بشری بی بی کے وکیل سلمان صفدر نے ضمانت کے حق میں دلائل منگل کے روز ہی مکمل
کرلیے تھے۔
ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر عمر مجید نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مختلف
ادوار کے توشہ خانہ رولز عدالت میں پیش کیے
تھے۔
انھوں نے کہا کہ توشہ خانہ کے حوالے سے تمام ایس او پیز اور قواعد وزیراعظم کے
دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور توشہ خانہ کے حوالہ سے پالیسی کو کہیں اور کبھی بھی
چیلنج نہیں کیا گیا ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے استفسار کیا کہ توشہ خانہ کے رولز کس بنیاد پر
بنائے جاتے ہیں اور کیا کسی بھی پالیسی کی بنیاد کسی قانون پر ہوتی ہے؟
اس پر ایف آئی اے کے وکیل نے جواب دیا
کہ ریاست کو ملنے والا گفٹ جمع کرانا اور ڈیکلیئر کرنا ہوتا ہے۔ جب تک اسے قانونی
طریقے سے خرید نا لیا جائے یہ تحفہ ریاست کی ہی ملکیت ہوتا ہے۔
ایف آئی اے کے پراسیکوٹر کا کہنا تھا کہ ایک طریقہ کار طے ہے جس کے تحت قیمت
کا تخمینہ لگنے کے بعد چار ماہ میں تحفہ خریدا جا سکتا ہے اور یہ کیس ایسے ہی تحفے
سے متعلق ہے جو جمع ہی نہیں کرایا گیا۔
انھوں نے کہا کہ ریاست کی ملکیت تحفے کو خریدنے سے قبل اپنے پاس نہیں رکھا جا
سکتا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے استفسار کیا کہ اگر بشریٰ بی بی نے تحائف جمع
نہیں کرائے تو بانی پی ٹی آئی کو ملزم کیوں بنایا گیا؟ جس پر ایف ائی اے کے پراسیکوٹر نے جواب دیا کہ
کیونکہ عمران خان پبلک آفس ہولڈر تھے۔
بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو پھر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس
قاضی فائز عیسٰی کی طرح کا کیس ہے اور اُس کیس میں بھی شوہر کو بیوی کے کیے کا ذمہ
دار ٹھہرایا گیا تھا۔
تاہم ایف ائی اے کے پراسیکوٹر نے اس سے اختلاف کیا اور کہا کہ یہ کیس اُس سے
تھوڑا مختلف ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توشہ خانہ کی تحفے کی قیمت کا درست تخمینہ آکشن
کے ذریعے ہی لگایا جا سکتا ہے۔
انھوں نے ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر سے پوچھا کہ آپ کسی دُکان سے گھڑی لے کر
نکلیں اور بعد میں اس کی قیمت لگوائیں تو کیا قیمت لگے گی؟
عمر مجید کا کہنا تھا کہ کوئی جیولری جب تک توشہ خانہ میں دستیاب نہ ہو مارکیٹ
میں اس کی قدر کا کا تعین ہی نہیں کیا جا سکتا۔
انھوں نے کہا کہ ملزمہ کے پاس جو جیولری سیٹ تھا اسے کبھی توشہ خانہ میں جمع ہی
نہیں کروایا گیا اور انھوں نے اسے اپنی ملکیت میں رکھ کر اس کی قیمت قیمت لگوائی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ریاست کو اس جیولری سیٹ کا درست تخمینہ لگوانے کا موقع ہی نہیں
دیا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اگر اب بشریٰ بی بی بلغاری کا جیولری سیٹ واپس کر دیں
تو کیا ہو گا؟ تو ایف آئی اے کے پراسیکوٹر کا کہنا تھا کہ نیب قانون میں تو پلی
بارگین ہے لیکن اس قانون میں تحفہ واپس ملنے سے متعلق کوئی شق نہیں ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ برطانوی وزیراعظم بھی
تحائف اپنے ساتھ گھر لے گئے تھے۔ جب وہاں پر لوگوں نے سوالات کیے تو وزیر اعظم نے
کہا کہ انھوں نے یہ تحفے رولز کے مطابق لیے ہیں۔
عدالت نے ایف ائی اے کے پراسیکوٹر سے استفسار کیا کہ کیا انھیں بشریٰ بی بی سے
تفتیش کی ضرورت پڑی ہے اور جب سے یہ کیس ایف
آئی اے کو منتقل ہوا ہے انھوں نے کوئی تفتیش کی؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ ایف آئی اے کو اس ضمن میں ملزمہ سے تفتیش کرنے
کی ضرورت نہیں پڑی۔
اس کے بعد عدالت نے ضمانت کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے بشریٰ بی بی کو
ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
پہلے اس مقدمے کی تحقیقات قومی احتساب بیورو یعنی نیب کر رہا تھا، تاہم نیب
ارڈیننس میں ترامیم کے بعد یہ مقدمہ ایف ائی
اے کو منتقل کردیا گیا تھا۔
پی ٹی آئی رہنما اور سابق وفاقی وزیر زلفی بخاری کا کہنا ہے
کہ بشریٰ بی بی کی رہائی کے لیے ضمانتی مچلکے جمع کروا دیے گئے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائت ایکس پر انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جس
جج نے بشریٰ بی بی کی رہائی کے روبکار جاری کرنے تھے وہ اپنی عدالت کو تالا لگا کر
چلے گئے ہیں جس کی وجہ سے تاحال روبکار جاری نہیں ہو سکے ہیں۔
زلفی بخاری نے الزام لگایا کہ بشریٰ بی بی کو قید میں رکھنے
کے لیے غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔