ایران کی مجلس شوریٰ میں قومی سلامتی کمیٹی کے نائب چیئرمین
علاؤالدین بروجردی نے کہا ہے کہ جنگ میں ایران کا پلڑہ بھاری ہے اور ’ہم نے ابھی
اپنے نئے پتے نہیں کھیلے۔‘
اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں علاؤ الدین کا کہنا تھا کہ’باب
المندب کی اہمیت آبنائے ہرمز سے کم نہیں اور یمنی اِس انتظار میں ہیں کہ وہ اس
آبنائے کو بند کریں اور امریکہ کو ایک اور ضرب لگائیں۔‘
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ اور ایران دونوں
آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہای کی عدم موجودگی میں ایران
میں سینیئر حکام کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات
آ رہے ہیں اور اسی تناظر میں یہ بحث جاری ہے کہ آیا مجتبیٰ خامنہ ای امریکہ کے
ساتھ مذاکرات کے حق میں ہیں یا مخالفت میں۔
علاؤالدین بروجردی کا کہنا تھا کہ ایران ’رہبر اعلیٰ کے حکم
پر‘ مذاکرات میں شریک ہوا تھا۔
گذشتہ ہفتے ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن علی خضریان نے
کہا تھا کہ ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای، امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں توسیع
کے ’مخالف‘ تھے۔ علی خضریان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا: ’ہماری اطلاعات کے
مطابق وہ (خامنہ ای) اس طرح کے حالات میں مذاکرات میں کسی بھی قسم کی توسیع کے سخت
مخالف ہیں۔‘
یاد رہے کہ ایران کے سابق رہبر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد
مجتبیٰ خامنہ ای کی کوئی ویڈیو یا آڈیو سامنے نہیں آئی اور ایرانی میڈیا میں صرف
ان سے منسوب تحریری پیغامات شائع ہوئے ہیں۔
آبنائے باب المندب: 36 کلومیٹر چوڑے مگر مصروف ترین تجارتی
راستے کی ممکنہ بندش دنیا کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟
ایران ماضی قریب میں یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ جنگ میں ’دیگر محاذ‘ کھول سکتا ہے۔
اس سے قبل پاسدارانِ انقلاب سے منسلک تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک ایرانی فوجی ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’آبنائے باب المندب دنیا کی سٹریٹجک آبناؤں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے، اور ایران کے پاس اس حوالے سے ایک مکمل اور قابلِ اعتبار خطرہ پیدا کرنے کی خواہش اور صلاحیت دونوں موجود ہیں۔‘
آبنائے باب المندب یمن کے ساتھ بحیرہ احمر کے کنارے پر اور جبوتی و اریٹیریا کے ساتھ افریقی کنارے پر واقع ہے۔
بحرِ ہند اور خلیج عدن سے آنے والی بحری ٹریفک کو نہر سویز تک رسائی کے لیے لازمی طور پر اس آبنائے سے گزرنا پڑتا ہے۔
115 کلومیٹر لمبی اور 36 کلومیٹر چوڑی یہ آبنائے سنہ 1869 میں نہر سویز کی تعمیر کے بعد عالمی تجارت میں ایک ایسی ناگزیر کڑی بن گئی تھی، جس نے یورپ اور ایشیا کے درمیان سب سے مختصر سمندری راستہ فراہم کیا۔
بحیرہ احمر میں موجود یہ آبنائے اب دنیا کے مصروف ترین راستوں میں سے ایک ہے، اور تقریباً ایک چوتھائی عالمی بحری ٹریفک اسی راستے سے گزرتی ہے۔
آبنائے ہرمز سے دنیا کو سپلائی ہونے والے تیل کا 20 فیصد حصہ گزرتا ہے جبکہ اندازوں کے مطابق آبنائے باب المندب کی ممکنہ بندش مزید 12 فیصد عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کرے گی۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، روزانہ تقریباً 50 لاکھ بیرل تیل، جو مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائی ممالک سے آتا ہے اور مغرب کی جانب جاتا ہے، اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔
مزید یہ کہ عالمی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی آٹھ فیصد ترسیل بھی اس آبنائے سے ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز کے مؤثر طور پر بند ہونے کے بعد، بحیرہ احمر نے عالمی تجارت میں مزید اہمیت حاصل کر لی ہے۔
سعودی عرب نے باب المندب کو یَنبُع بندرگاہ سے سعودی تیل کی ترسیل کے لیے ایک گزرگاہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
ریاض اپنی مشرقی آئل فیلڈز سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل وہاں ایک پائپ لائن کے ذریعے بھیجتا ہے۔
خام تیل اور گیس کے علاوہ، باب المندب مشرق اور مغرب کے درمیان مرکزی تجارتی رابطے کا حصہ بھی ہے، جہاں سے روزانہ درجنوں کارگو جہاز گزرتے ہیں۔