یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
20 اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیمی بِل میں ’اختلافی اجزا تحلیل ہوچکے ہیں‘ تاہم پی ٹی آئی نے مسودے پر مشاورت کے لیے اتوار تک کا وقت مانگا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اتوار کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں بِل پر ووٹنگ کروائیں گے۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
20 اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
پاکستان کے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بِل کے مسودے میں تبدیلیاں کی گئی ہیں اور اس میں مولانا فضل الرحمان کی تجاویز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
سنیچر کی رات کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیرِ قانون اعظم تارڑ کا کہنا تھا کہ ’کابینہ کو بِل کے مسودے پر بریفنگ دی ہے۔ کابینہ نے اتوار کی دوپہر ڈھائی بجے تک کا وقت لیا ہے تاکہ اراکین اس پر اپنی رائے قائم کر سکیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اتوار کو کابینہ کے اجلاس میں آئینی ترمیمی بِل کے مسودے کی منظوری لی جائے گی۔
وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق ’کابینہ اور اتحادی جماعتوں نے کہا ہے کہ اب اس معاملے کو ہر صورت میں سمیٹنا ہے۔ اتوار کو جو (قومی اسمبلی اور سینیٹ کے) اجلاس ہوں گے اس میں بِل متعارف کروائیں گے اور اس پر ووٹنگ کروائی جائے گی۔‘
خیال رہے پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس اتوار کی دوپہر تین بجے تک ملتوی کیے گئے ہیں۔
اس سے قبل اسلام آباد میں بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام اور پی پی پی نے 26ویں آئینی ترمیمی بِل کا حتمی مسودہ تیار کر لیا ہے تاہم پاکستان تحریکِ انصاف پی ٹی آئی نے اس معاملے پر مشاورت کے لیے کل (اتوار) تک کا وقت مانگا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’آئینی بل کا مسودہ جب ہماری طرف سے مکمل ہوا اور ہم نے اس کا حتمی ڈرافت تیار کرلیا تو پی ٹی آئی نے خواہش ظاہر کی کہ وہ عمران خان صاحب سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کی تائید اور منظوری حاصل ہوسکے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی سینچر کو دوپہر میں عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے اور انھوں اس کی تفصیلات اپنی پریس کانفرنس میں بھی بتادی ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ ’میرے پاس جو بانی پی ٹی آئی کا پیغام پہنچایا گیا ہے اس میں ایک مثبت لہجے اور رویے کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس بات کی ضرورت پی ٹی آئی کو تھی کہ وہ اس معاملے پر سینیئر اراکینِ پارلیمنٹ اور پارٹی کے اعلیٰ ذمہ داران سے بھی مشاورت کریں۔ انھوں نے مشاورت کے لیے کل کا دن مانگا اور ہم نے ان کی خواہش کا احترام کیا ہے۔‘
’مجھے کل ان کا جواب موصول ہوگا، ہم کل تک کا انتظار کریں گے اور جو صورتحال سامنے آئے گی اس سے ہم قوم کو بھی آگاہ کریں گے۔‘
صحافیوں سے گفتگو کے دوران مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ آئینی ترمیمی بِل کے ابتدائی مسودے کے جن حصوں کو انھوں نے مسترد کیا تھا اب ’حکومت اس بل کے ان حصوں سے دستبردار ہو چکی ہے اور تب جا کر اتفاق رائے قائم ہوا ہے۔‘
’اکثر اختلافی اجزا اب تحلیل ہوچکے ہیں اور اس حوالے سے ہم نے مسلسل پورے ایک مہینے میں پی ٹی آئی کو بھی اعتماد میں لیے رکھا، مشاورت جاری رہی اور حکومت کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت سے پی ٹی آئی کو بھی آگاہ رکھا گیا۔‘
اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیمی بِل کا مسودہ اتفاقِ رائے سے بنایا گیا ہے اور انھیں امید ہے کہ تمام جماعتیں اس کی توثیق کریں گی۔
بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ’میری امید یہی ہے کہ جیسے ہی ان (پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور مولانا فضل الرحمان ) کی ملاقات کل ختم ہوگی، ہمارے پارلیمان کا اجلاس ہوگا تو مولانا صاحب ہماری درخواست مانیں گے اور وہ بِل جے یو آئی خود پیش کرے گی۔‘
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے 26ویں آئینی ترمیمی بِل کا حتمی مسودہ تیار کر لیا ہے تاہم پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے اس معاملے پر مشاورت کے لیے کل تک کا وقت مانگا ہے۔
سنیچر کی رات کو اپنی رہائش گاہ کے باہر بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’آئینی بل کا مسودہ جب ہماری طرف سے مکمل ہوا اور ہم نے اس کا حتمی ڈرافت تیار کرلیا تو پی ٹی آئی نے خواہش ظاہر کی کہ وہ عمران خان صاحب سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کی تائید اور منظوری حاصل ہوسکے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی سینچر کو دوپہر میں عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے اور انھوں اس کی تفصیلات اپنی پریس کانفرنس میں بھی بتادی ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ ’میرے پاس جو بانی پی ٹی آئی کا پیغام پہنچایا گیا ہے اس میں ایک مثبت لہجے اور رویے کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس بات کی ضرورت پی ٹی آئی کو تھی کہ وہ اس معاملے پر سینیئر اراکینِ پارلیمنٹ اور پارٹی کے اعلیٰ ذمہ داران سے بھی مشاورت کریں۔ انھوں نے مشاورت کے لیے کل کا دن مانگا اور ہم نے ان کی خواہش کا احترام کیا ہے۔‘
’مجھے کل ان کا جواب موصول ہوگا، ہم کل تک کا انتظار کریں گے اور جو صورتحال سامنے آئے گی اس سے ہم قوم کو بھی آگاہ کریں گے۔‘
خیال رہے پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس اتوار کو دوپہر 3 بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کے دوران مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ آئینی ترمیمی بِل کے ابتدائی مسودے کے جن حصوں کو انھوں نے مسترد کیا تھا اب ’حکومت اس بل کے ان حصوں سے دستبردار ہو چکی ہے اور تب جا کر اتفاق رائے قائم ہوا ہے۔‘
’اکثر اختلافی اجزا اب تحلیل ہوچکے ہیں اور اس حوالے سے ہم نے مسلسل پورے ایک مہینے میں پی ٹی آئی کو بھی اعتماد میں لیے رکھا، مشاورت جاری رہی اور حکومت کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت سے پی ٹی آئی کو بھی آگاہ رکھا گیا۔‘
اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیمی بِل کا مسودہ اتفاقِ رائے سے بنایا گیا ہے اور انھیں امید ہے کہ تمام جماعتیں اس کی توثیق کریں گی۔
بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ’میری امید یہی ہے کہ جیسے ہی ان (پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور مولانا فضل الرحمان ) کی ملاقات کل ختم ہوگی، ہمارے پارلیمان کا اجلاس ہوگا تو مولانا صاحب ہماری درخواست مانیں گے اور وہ بِل جے یو آئی خود پیش کرے گی۔‘
پاکستانی حکومت کی جانب سے آئینی ترمیم پر اتفاقِ رائے کے لیے حکومت کی کوششیں جاری ہیں اور اس سب کے دوران جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ مشاورت کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف کے وفد کی مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے بعد بلاول، محسن نقوی، اسحاق ڈار اور اعظم نذیر تارڑ بھی مولانا کی رہائش گاہ پر موجود ہیں۔
سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سیدال خان ناصر کی صدارت میں رات 11 بجے شروع ہوا اور پھر رات 12:30 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ دوسری جانب قومی اسمبلی کا اجلاس رات 12 بجے سے کچھ منٹ پہلے شروع ہوا اور پھر اسے اتوار کی صبح 11:30 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
ان اجلاسوں میں آج بھی 26 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بِل پیش نہیں کیا گیا۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کے ڈپٹی رجسٹرار مجاہد محمود، اسسٹنٹ رجسٹرار شاہد حبیب اور ویب ماسٹر عاصم جاوید سے مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ کے آٹھ ججوں کی جانب سے دوسری وضاحت کے معاملے پر وضاحت طلب کر لی ہے۔
واضح رہے کہ جسٹس منصور علی شاہ اور دیگر سات ججز نے مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے بارہ جولائی کے فیصلے پر جمعے کو دوسری وضاحت جاری کی تھی جس میں الیکشن کمیشن کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر بلاتاخیر عمل درآمد کرے۔
اس سے پہلے بھی چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ان آٹھ ججز کی طرف سے 14 ستمبر کو جاری کی گئی پہلی وضاحت جاری ہونے پر سپریم کورٹ کے رجسڑار سے وضاحت طلب کی تھی۔
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کی انتظامیہ نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو جیل میں درپیش مبینہ مشکلات پر پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس میں لگائے گئے الزامات پر وضاحت جاری کی ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کی جانب سے عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد متعدد الزامات عائد کیے گئے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ عمران خان کے سیل میں بجلی گذشتہ پانچ روز سے نہیں تھی، انھیں غیر معیاری کھانا دیا جا رہا تھا جس کے باعث انھیں بدہضمی کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے کمرے میں ٹی وی اور اخبار کی رسائی بھی نہیں تھی۔
جیل انتظامیہ کے مطابق عمران خان کو جیل میں قانون کے مطابق بی کلاس کی تمام سہولتیں میسر ہیں اور ان کی خوراک، صحت، مطالعہ سمیت ورزش کا خاص خیال رکھا جاتا ہے، ان کے احاطے میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی جاری ہے۔
جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اپنا کھانا تیار کرنے کے لیے ایک قیدی کُک دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق جیل کے ڈاکٹرز عمران خان کا دن میں تین مرتبہ معائنہ کرتے ہیں، ان کو کسی قسم کی بیماری نہیں، وہ مکمل صحت مند ہیں، دو روز پہلے پمز کے ماہر ڈاکٹرز نے ان کا طبی معائنہ کیا اور پمز کے ڈاکٹرز نے عمران خان کے صحت مند ہونے کی رپورٹ دی۔
جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کو پڑھنے کے لیے روزانہ اخبار دیا جاتا ہے، روزانہ دو گھنٹے ورزش کرتے ہیں اور ان سے متعلق پھیلائی گئی باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام ف میں 26ویں آئینی ترمیم پر 100 فیصد اتفاق ہو چکا ہے اور امید ہے کہ مولانا کے ڈرافٹ پر پی ٹی آئی بھی مان جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل سے متعلق بھی بل میں تبدیلیاں ہیں۔ مولانا فضل الرحمان جو مجلس شوریٰ میں چیزیں شامل کریں گے اس پر اتفاق کریں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی نے آج عمران خان سے مشاورت کی اور شکر ہے کہ یہ ملاقات ہو گئی۔ امید ہے کہ مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی کو بھی قائل کر لیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’مولانا فضل الرحمان سے میری آئینی ترمیم پر بات جاری ہے۔ مولانا فضل الرحمان جیسا ڈرافٹ چاہتے تھے ویسا ہی ہے۔ میری خواہش ہے کہ مولانا فضل الرحمان خود مسودہ پیش کریں، یہ مسودہ جتنا پیپلز پارٹی کا ہے اتنا ہی جے یو آئی کا بھی ہے۔‘
بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ’مولانا فضل الرحمان کے ڈرافٹ کو پی ٹی آئی ووٹ دے سکتی ہے۔ پی ٹی آئی کو مولانا فضل الرحمان کے مسودے پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔‘
چیئرمین پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو ثابت کرنا ہو گا کہ آپ سیاسی جماعت ہو۔ سیاست نام ہے اتفاق رائے ڈھونڈنے کا، سمجھوتے کا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم سے جو ممکن تھا وہ ہم نے کر لیا، پی ٹی آئی ثابت کرے کہ وہ سنجیدہ ہے۔ پی ٹی آئی آج تک ایک ڈرافٹ بھی سامنے نہیں لائی۔ اگر اتفاق رائے نہ ہوا تو تاریخ میں پہلی بار اکثریت کے باوجود آئین سازی نہیں ہو گی اور پی ٹی آئی ذمہ دار ہو گی۔‘
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں، تحریک انصاف کو جوڈیشل ریفارمز لانا چاہیے تھیں۔ میں چاہتا ہوں حکومت آئینی ترمیم کو لیڈ نہ کرے۔
’حکومت کا ڈرافٹ اپنی جگہ لیکن مولانا فضل الرحمان اپنا ڈرافٹ لائیں۔‘
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان آئینی ترمیم پر ہونے والی پیش رفت سے قطعی لاعلم تھے اور انھوں نے ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان کے کردار کی تعریف کی ہے۔
اسلام آباد میں عمران خان سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے عمران خان سے مولانا کے ساتھ بات چیت کا ذکر کیا لیکن ہماری مکمل نہیں ہو سکی۔ انھوں نے کہا ہمیں ملاقات کے لیے ڈیڑھ گھنٹے کا وقت بتایا گیا تھا لیکن 45 منٹ بعد ملاقات ختم کروا دی گئی۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم مولانا سے مشاورت جاری رکھیں، آئینی ترمیم ایک سنجیدہ معاملہ ہے اس لیے اسے جلدبازی میں نہ کیا جائے۔‘
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’عمران خان نے پہلی مرتبہ جیل اور جیل سیل کی حالت بتائی ہے۔ انھوں نے کہا ان کے پاس دو ہفتوں سے ٹی وی اور اخبار کی سہولت نہیں، بانی پی ٹی آئی کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ہائی سپرٹ میں ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’عمران خان کے سیل میں پانچ دن بجلی نہیں تھی، ایکسرسائز نہیں کر سکے، ابھی ہماری 45 منٹ کی ملاقات ہوئی کہ پولیس نے کہا کہ ٹائم ختم ہو گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ عمران خان نے کہا کہ ’عمر ایوب، شبلی فراز، احمد بچھر اور علی امین مزید مشاورت کےلیے آئیں۔‘
وزیردفاع اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اگر نہ بھی مانے تو آئینی ترمیم کے لیے حکومت کے پاس نمبر پورے ہیں مگر اتفاق رائے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جب بھی آئینی ترامیم ہوئی ہیں اس طرح کی مشکلات آتی ہیں اور تمام پارٹیوں کو منانے کی کوشش کی جاتی ہے جو اس وقت بھی ہو رہی ہے۔
وزیردفاع نے مزید کہا کہ ’نمبر پورے ہیں کوشش ہے کہ مولانا فضل الرحمان مان جائیں اور اگر وہ نہ بھی مانے تو نمبر پورے ہیں۔
یاد رہے کہ پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی نے گذشتہ روز آئینی ترمیم کے مسودے کو منظور کر لیا تھا جس کے بعد فوراً وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کیا گیا تھا تاہم وہ کل کے بعد آج بھی متعدد مواقعوں پر مؤخر ہوتا رہا ہے۔ یہی صورتحال سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس کی بھی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ’کہا جارہا ہے کچھ لوگ اغوا ہوئے، بتایا جائے کون اغوا ہوا ہے۔ جھوٹا بیانیہ بنایا جا رہا ہے کہ لوگ اغوا کیے جا رہے ہیں۔‘
ایک صحافی کی جانب سے خواجہ آصف سے سوال کیا گیا کہ کیا سینیئر جج منصور علی شاہ ہی اگلے چیف جسٹس ہوں گے؟ جس کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا کہ یہ تو ترمیم بتائے گی کہ کون چیف جسٹس ہو گا۔
حزب اللہ نے اسرائیل کی جانب سے حماس کے سربراہ یحییٰ السنوار کی ہلاکت کے بعد اسرائیل کے ساتھ لڑائی میں مزید شدت لانے کا اعادہ کیا ہے۔
اسرائیل وزیرِ اعظم کے گھر کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانا اسی حکمتِ عملی کی ایک کڑی ہو سکتی ہے۔ حزب اللہ نے تاحال یہ تسلیم نہیں کیا کہ اس حملے کے پیچھے اسی کا ہاتھ تھا لیکن اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ یہ حملہ کسی اور تنظیم نے کیا ہے۔
حملے کے وقت نتن یاہو اپنے گھر پر موجود نہیں تھے اور اس دوران کوئی ہلاکتیں بھی رپورٹ نہیں ہوئیں۔ لیکن اسرائیل کے ردِعمل کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے گا کہ وہ اس واقعے کو میڈیا میں کیسے فریم کرتے ہیں۔
وہ اسے ایک ناکام قاتلانہ حملہ قرار دے سکتے ہیں اور اس حوالے سے ایران پر الزام عائد کر سکتے ہیں جسے حزب اللہ کا سپانسر قرار دیا جاتا ہے۔
یہ ممکن ہے کہ اسرائیل کا ردِ عمل تہران کی جانب سے گذشتہ ماہ کیے گئے بیلسٹک میزائل حملوں میں ممکنہ جوابی کارروائی کی شدت میں دکھائی دے۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نیتن یاہو کے گھر پر لبنان سے ڈرون حملہ کیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ گھر پر موجود نہیں تھے اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں۔
نتن یاہو کی نجی رہائش گاہ شمالی اسرائیل کے علاقے قیصریہ میں واقع ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ سنیچر کی صبح ساحلی شہر کی جانب تین ڈرون لانچ کیے گئے تھے جن میں سے ایک نے عمارت کو نشانہ بنایا جب کہ دو کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔ اس وقت یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ ڈرون کس عمارت کو آ کر لگا ہے۔
اسرائیل کی ایمبولینس سروس اور پولیس کے مطابق قیصریہ کے علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ہیں۔
بی بی سی عربی سروس نے اسرائیل کے مقامی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ تل ابیب کے شمال میں واقع شہر قیصریہ کے آسمان پر جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر نظر آ رہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی پولیس کے بڑے دستے حملے کے مقام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ لبنان سے شمالی اسرائیل پر گذشتہ ایک گھنٹے میں تقریباً 55 میزائل داغے گئے جس کے بعد بالائی، مغربی اور وسطی گلیلی کے علاقوں کے کئی شہروں اور قصبوں میں سائرن بجنے لگے۔
فوج نے مزید کہا کہ کچھ میزائلوں کو فضا میں روک کر تباہ کر دیا گیا جبکہ دیگر ایسے مقامات پر گرے جہاں آبادی نہیں تھی تاہم ان حملوں میں حیفا کے قریب دو افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستان کے شہر کراچی کی رہائشی عمارت کے ایک فلیٹ سے چار خواتین کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
پولیس کے مطابق خواتین کے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں اور چاروں کا گلا بھی کاٹا گیا تھا۔
پولیس نے لاشیں ہسپتال منتقل کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
پولیس کے مطابق کراچی کے علاقے کی مارکیٹ کی ایک رہائشی عمارت سے ملنے والی مقتولین کی عمریں تقریباً 51، 30، 19اور 13سال ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ’قتل کا واقعہ رہائشی عمارت کی ساتویں منزل پر واقع فلیٹ میں پیش آیا، چاروں لاشیں الگ الگ کمروں سے ملیں، چاروں خواتین کو تشدد کے بعد قتل کیا گیا۔‘
ایس ایچ او ارشد علی رند نے بتایا کہ موقعے سے کوئی آلہِ قتل نہیں ملا تاہم پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔
گھر کے سربراہ محمد فاروق کا کہنا تھا کہ واردات کے وقت وہ اور ان کے دونوں بیٹے گھر پر موجود نہیں تھے، گھر کی خواتین کو کس نے قتل کیا ہے اس بارے میں انھیں کسی پر شک نہیں ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ حماس اپنے رہنما یحییٰ سنوار کی موت کے باوجود زندہ ہے اور زندہ رہے گی۔
سنوار نے گذشتہ برس سات اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے حملوں میں اہم کردار ادا کیا تھا اور رواں ہفتے کے اوائل میں اسرائیلی فوجیوں نے رفح میں ایک عمارت پر حملے کے دوران انھیں ہلاک کر دیا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے ایک بیان میں کہا کہ ’ سنوار کی موت بلاشبہ مزاحمتی محور کے لیے تکلیف دہ ہے لیکن یہ اہم شخصیات کی شہادت سے اس محاذ کی پیش رفت نہیں رکتی۔ ‘
ایران کی حمایت یافتہ مزاحمت میں حماس، لبنانی عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کے دیگر مسلح گروہ شامل ہیں جنھوں نے اسرائیل پر حملے کیے ہیں۔
خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ’وہ (سنوار) مزاحمت اور جدوجہد کا چمکتا ہوا چہرہ تھے۔ ایک فولادی عزم کے ساتھ وہ جابر اور جارح دشمن کے خلاف کھڑے ہوئے۔‘
غزہ کی پٹی میں حماس کے زیر انتظام حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز شمالی غزہ کے جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 33 افراد ہلاک اور 85 زخمی ہو گئے ہیں۔
غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاکتوں کی حتمی تعداد 50 تک پہنچ سکتی ہے کیونکہ لوگ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے اس حملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
اسرائیلی افواج کئی ہفتوں سے گنجان آباد کیمپ کا محاصرہ کر رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہاں اس کی کارروائی کا مقصد حماس کے جنگجوؤں کو مزید حملوں کے لیے دوبارہ منظّم ہونے سے روکنا ہے۔
تقریبا چار لاکھ افراد کیمپ کے اندر دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سے خوراک یا پانی کی کمی کے ساتھ محصور ہیں۔
لبنان میں بھی لڑائی جاری ہے جہاں اسرائیل حزب اللہ کے خلاف زمینی حملے کر رہا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے فضائی حملے میں حزب اللہ کے تقریبا 60 جنگجوؤں کو ہلاک کیا اور ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے علاقائی کمانڈ سینٹر کو تباہ کر دیاہے۔
جبکہ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیلی شہر حیفہ اور اس کے شمال میں واقع علاقوں پر راکٹ داغے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے نجی کالج کے خلاف احتجاج کرنے والے 150 طلبا کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
یہ مقدمہ تھانہ کوہسار میں نجی کالج کے پرنسپل کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
مقدمے میں گرفتار 17 طلبا نامزد گیا گیا ہے۔
مقدمے میں توڑ پھوڑ ، پولیس اہلکار کی وردی پھاڑنے ، تشدد سمیت دیگر دفعات شامل کی گئیں۔
دو روز قبل سٹوڈنٹس نے اسلام آباد بلیو ایریا نجی کالج کے باہر احتجاج کیا تھا۔
اس سے پہلے پنجاب پولیس کے مطابق سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا اور پُرتشدد احتجاج پر مختلف مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔
حکومتِ پنجاب نے صوبے بھر میں 18 اکتوبر سے سنیچر 19 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کی تھی۔ اس دوران پنجاب میں ہر قسم کے احتجاج، جلسے جلوس جیسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا تھا کہ سکیورٹی خطرات کے پیش نظر کوئی بھی عوامی جلوس دہشت گردوں کے لیے سافٹ ٹارگٹ ہو سکتا ہے لہٰذا امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔
حکومت پنجاب نے صوبہ بھر کے تعلیمی اداروں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سفارش کی روشنی میں جمعے کو چھٹی دی تھی۔
پاکستان میں چھبیسویں آئینی ترمیم کا مسودہ منظوری کے لیے آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اجلاس آج سہ پہر تین بجے منعقد ہوگا۔ اس سے پہلے کابینہ اپنے اجلاس میں اس کی منظورتی دے گی۔
کابینہ کا اجلاس 12 بجے ہوگا۔ گذشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی آئینی ترمیم پر کسی فیصلے کے بغیر ختم ہوگیا تھا۔
پارلیمان کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جمعے کے روز آئینی ترمیم کا مسودہ متقفہ طور پر منظور کیا گیا تھا۔ خصوصی کمیٹی کے سربراہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما خورشید شاہ نے کہا تھا کہ ’کمیٹی نے متفقہ منظور کیے گئے مسودے کی اب منظوری کابینہ دے گی۔‘
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے کہا تھا کہ سمندر پار پاکستانیوں کے الیکشن لڑنے کی تجویز پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’آئینی عدالت کا ہمارا مطالبہ ماننا پڑے گا اور آئینی عدالت بنانی پڑے گی، مگر آج بھی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک امتحان ہے، ہماری کوشش ہے کہ ہم یہ متفقہ طور پر 18 ویں ترمیم کی طرح یہ آئین سازی کریں۔‘
پاکستان کے شہر لاہور میں نجی کالج کی طالبہ سے مبینہ ریپ کی افواہ اور مظاہروں کے معاملے پر بنائی گئی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی نے واقعے کو بے بنیاد قرار دے کر کہا کہ کالج انتظامیہ معاملے کو بروقت سنبھالنے میں ناکام رہی۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق طالبہ کے ساتھ مبینہ ریپ جیسا کوئی وقعہ پیش نہیں آیا اور سوشل میڈیا پر واقعہ بیان کرنے والی طالبہ نے بھی ایسے کسی واقعے کے پیش آنے سے انکار کیا ہے۔
اس کے علاوہ ہسپتال انتظامیہ اور ریسکیو حکام نے بھی کسی طالبہ کے ساتھ ریپ کی تصدیق نہیں کی۔
کمیٹی کے ارکان نے تحقیقات کے دوران طالبہ، اہل خانہ، کالج انتظامیہ، ہسپتال اور ریسکیو حکام سے بات کی تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کالج انتظامیہ کے کردار کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے جس میں معلوم ہوا کہ ’اس طرح کے حساس معاملے سے نمٹنے کے دوران کالج کی انتظامیہ، خاص طور پر کیمپس 10 کی انتظامیہ کی جانب سے مناسب احتیاط نہیں برتی گئی ہے۔ کیمپس 10 کی پرنسپل نے اعتراف کیا کہ یہ معاملہ سنیچر 12 اکتوبر کو کچھ طلبہ کے ذریعے ان کے علم میں لایا گیا تھا۔ طالبات نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے کالج میں مبینہ ریپ کے واقعے کے بارے میں خبر سنی تھی لیکن پرنسپل نے صرف اس کی تردید کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا۔‘
انکوائری رپورٹ کے مطابق ’ اگر انھوں (پرنسپل) نے ذمہ داری سے کام لیتے ہوئے طالب علموں کو آزادانہ انکوائری کے دوران شامل کیا ہوتا تو اس معاملے کو بگڑنے سے روکا جاسکتا تھا۔ ‘
رپورٹ کے مطابق ’یہاں تک کہ جب طلبہ نے کالج کے احاطے کے اندر اور باہر احتجاج شروع کیا تو انتظامیہ نے طالبات کو اپنے تدریسی عملے کے ذریعے زبردستی باہر جانے سے روکنے کی کوشش کی جس سے مظاہرین کو مزید حوصلہ ملا۔‘
انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر متعدد اکاؤنٹس کے ذریعے غلط معلومات پھیلا کر بد امنی پھیلائی گئی۔
یہ بھی پڑھیے
رپورٹ کے مطابق مبینہ ریپ کی گواہ قرار دیے جانے والی استانی کے بیان کے مطابق انھوں نے ایسا کوئی واقعہ نہیں دیکھا اور وہ تو وہاں طلبہ کو احتجاج سے روکنے گئی تھیں۔ ان کے مطابق بیشتر طلبہ کو اس وقت احتجاج کی وجہ تک معلوم نہیں تھی۔
رپورٹ کے مطابق ’ایک جعلی خبر کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔‘
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی لاہور میں ایک نیوز کانفرنس میں طالبہ کے ریپ کے کے الزام کو پروپیگنڈا قرار دے کر اس کا الزام تحریک انصاف پر عائد کیا تھا۔ مریم نواز نے سوشل میڈیا پوسٹ میں ریپ کے پروپیگنڈے میں ملوث ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
یاد رہے کہ مبینہ ریپ سے متعلق کسی طالبہ یا اس کے خاندان کی جانب سے پولیس میں کوئی درخواست جمع نہہیں کروائی گئی۔
واضح رہے کہ 14 اکتوبر کو لاہور کے نجی کالج کی طالبہ کے ریپ کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد طلبہ و طالبات نے احتجاج کیا اور کالج میں توڑ پھوڑ کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا تھا۔ طلبہ اور پولیس میں تصادم سے 27 طلبہ زخمی بھی ہوئے تھے۔
غزہ میں سات اکتوبر کو ہونے والے حملے پر بحث ایک سال سے جاری ہے، لیکن اسرائیل کی جانب سے حملے کے ماسٹر مائنڈ یحییٰ سنوار کی ہلاکت کے بعد یہ ایک نازک موڑ پر پہنچ گئی۔
اسرائیل پر حملے کے حامیوں نے فوری طور پر حزب اللہ کے سابق سربراہ یحیی سنوار کو ایک بہادر فلسطینی رہنما کے طور پر سراہا جو آخری دم تک لڑا، جب کہ مخالفوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی موت جنگ کے خاتمے میں معاون ثابت ہو گی۔
لینا انونی، جو ایک سال قبل اپنے تین بچوں کے ساتھ غزہ شہر سے نقل مکانی کر کے خان یونس آئیں تھی نے بی بی سی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’موت پر کوئی خوشی کی بات نہیں ہے۔ میں نے اس کی مخالفت اس وقت کی جب وہ زندہ تھا اور اسے اسرائیلی قبضے، میری اور 23 لاکھ فلسطینیوں کی تکلیف میں برابر کا ذمہ دار ٹھہرایا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’ان کے انتقال پر دکھ کا احساس‘ بھی ہے، لیکن اس بات پر زور دیا کہ "اس سب سے بچا جا سکتا تھا اگر سنوار اس طریقے سے جنگ میں جانے کا انتخاب کرنے سے پہلے زیادہ احتیاط سے سوچ لیتے۔‘
اس کے برعکس ایک سماجی کارکن مومین النطور نے اپنے فیس بک پیج پر ایک زیادہ سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے سنوار کی موت پر افسوس نہیں ہے۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’ ان (یحیی سنوار ) کا خون ہمارے بچوں اور عورتوں کے خون سے زیادہ قیمتی نہیں ہے جو ان کے گمراہ کن فیصلوں کی وجہ سے مر چکے ہیں۔
حماس جو ہمارے خون کو ایک حکمت عملی کے نقصان کے طور پر دیکھتی ہے، عوام اس کے زوال کو ایک اسٹریٹجک فائدے کے طور پر دیکھیں گے۔‘
حماس کے حامی یوسف جمال نے بی بی سی کو بتایا کہ سنوار ’اگلے محاذ پر لڑتے ہوئے مارے گئے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’وہ ایک سال تک مسلسل تعاقب اور فوجی دباؤ کے دوران فوجی وردی میں ملبوس اور کیفیہ میں ملبوس اپنی رائفل چلاتے ہوئے فعال طور پر رہنمائی اور مذاکرات کر رہے تھے۔ وہ بے گھر ہونے والوں کے درمیان نہیں چھپے، دشمن کے قیدیوں کے ساتھ پناہ لینے یا سرنگوں میں پیچھے نہیں ہٹے۔‘
حماس کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تنظیم اپنے قواعد و ضوابط کے تحت جلد اپنے نئے سربراہ کا انتخاب کرنے کے لیے اجلاس کرے گی۔
ان کا کہنا ہے ان کے سابق سربراہ یحییٰ السنوار کی ہلاکت سے ان کی تنظیم کے جنگ کے خاتمے اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدہ، امداد اور تعمیر نو کی اجازت کے مطالبے تبدیل نہیں ہوئے۔
اسرائیل فوج کا کہنا ہے کہ جمعہ کو حزب اللہ نے لبنان سے اسرائیل پر 75 میزائل داغے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے لبنان سے اسرائیل کی طرف آنے والے دو ڈرونز کو روکا جب کہ آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ اس نے ان علاقوں سے جو حزب اللہ اسرائیل کے خلاف حملوں کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کرتا تھا ’ ’راکٹ اور اضافی ہتھیاروں کو تباہ کر دیا‘ ہے۔
ایران کے حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ نے ٹیلی گرام پر ایک بیان میں کہا اسرائیل کے علاقے شمالی حیفہ پر’راکٹوں سے حملے‘ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
جبکہ لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے نیشنل نیوز ایجنسی نے دوپہر کے دوران جنوبی قصبوں عنقون، ماروب اور ترایا میں فضائی حملوں کی رپورٹ دی ہے۔