اسرائیل کا ایران میں میزائل حملہ: ’امریکہ کسی بھی جارحانہ فوجی کارروائی میں ملوث نہیں‘ بلنکن

امریکی وزیرِ خارجہ انتھونی بلنکن نے اٹلی میں ہونے والے جی 7 مُمالک کے اہم اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کسی بھی جارحانہ فوجی کارروائی میں ’ملوث نہیں تھا‘ اور وہ کشیدگی میں کمی کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ دوسری جانب ایرانی آرمی چیف نے ایرانی میڈیا پر اپنے ایک حالیہ خطاب میں عوام کو یقین دلایا ہے کہ کوئی نقصان نہیں ہوا۔‘

خلاصہ

  • امریکی وزیرِ خارجہ انتھونی بلنکن نے اٹلی میں ہونے والی جی 7 مُمالک کے اہم اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ کسی بھی جارحانہ فوجی کارروائی میں ’ملوث نہیں۔‘
  • دو امریکی حکام نے بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز کو تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے ایران پر میزائل داغا ہے۔
  • ایران نے ملک کے کسی بھی حصے میں اسرائیلی میزائل حملے کی تردید کی ہے
  • جمعہ کی صبح سویرے اصفہان شہر کے ارد گرد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایرانی میڈیا نے بتایا کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام کو فعال کرنے کے بعد تین ڈرون تباہ کر دیے گئے
  • اصفہان میں ایرانی فضائی اڈہ ہے اور اس صوبے میں کئی فوجی تنصیبات ہیں۔ ابھی تک ایسی کوئی اطلاعات نہیں ہیں کہ کس چیز کو نشانہ بنایا گیا ہے تاہم ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ تمام جوہری تنصیبات محفوظ ہیں
  • دریں اثنا ٹریکنگ سائٹس سے پتہ چلتا ہے کئی پروازوں کو ایران کی فضائی حدود کے گرد موڑ دیا گیا ہے

لائیو کوریج

  1. نقصان کے دعوے ’ہار سے فتح حاصل کرنے‘ کی کوشش ہیں: ایرانی وزیر خارجہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اصفہان پر رات گئے حملے میں نہ تو کوئی زخمی ہوا اور نہ ہی کسی تنصیب کو کوئی نقصان پہنچا ہے۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے میڈیا میں اسرائیل کے حامیوں کو ’اپنی شکست سے فتح‘ حاصل کرنے کی ’مایوس کُن کوش‘ قرار دیا۔

    انھوں نے اپنے تازہ ترین بیان میں بھی میزائلوں کا کوئی ذکر نہیں کیا، جو کہ امریکی حکام کے مطابق اسرائیل کی جانب سے ایران پر داغے گئے ہیں۔ اس کے بجائے انھوں نے ان ’مِنی ڈرونز‘ کا تذکرہ ضرور کیا جنھیں ان کے مطابق تباہ کر دیا گیا تھا۔

  2. جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ’افسوسناک‘ عمل ہے: سربراہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی

    انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی ملک ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کرے۔

    یاد رہے کہ جمعہ کی صبح ایران کے جس شہر، اصفہان، پر حملہ ہوا ہے اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں ملک کی متعدد جوہری تنصیبات موجود ہیں۔

    عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے ’بی بی سی ریڈیو 4‘ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اس وقت ’سکھ کا سانس‘ لیا جب انھیں معلوم ہوا کہ حملے کے نتیجے میں کوئی جوہری تنصیب متاثر نہیں ہوئی ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم نے صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے رات جاگ کر گزاری۔

    گروسی کا کہنا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ ایک ’خوفناک‘ اقدام ہوتا جس کے نتائج ہوتے۔

    انھوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں مختلف ممالک میں ایک دوسرے کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا چلن عام ہوا ہے جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔

  3. اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیب ’نتنز‘ کے قریب فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا: امریکی اہلکار

    ایک سینیئر امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے شہر اصفہان میں نتنز جوہری تنصیب کی حفاظت کی غرض سے نصب ایک فضائی دفاعی ریڈار سسٹم کو نشانہ بنایا ہے۔

    ’اے بی سی‘ کی رپورٹ میں امریکی اہلکار کا نام ظاہر کرتے ہوئے اس مبینہ حملے کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔

    اہلکار کا مزید کہنا ہے کہ جمعہ کی صبح ایک اسرائیلی طیارے نے ایران کے فضائی حدود کے باہر رہتے ہوئے تین میزائل داغے تھے اور ابتدائی تفصیلات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اس حملے کے نتیجے میں ریڈار سائٹ (دفاعی نظام) تباہ ہو گیا ہے۔

    قبل ازیں روئٹرز نے ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کے حوالے سے کہا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے کیے گئے اس حملے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔

  4. روس اور اردن کو علاقائی کشیدگی بڑھنے کا خدشہ

    روس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    روس نے کہا ہے کہ اس نے اسرائیل اور اپنے اتحادی ایران سے رابطہ قائم کیا ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ روس نے ’اسرائیل کو واضح طور پر بتایا ہے کہ ایران کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا۔‘

    اردن کی اسرائیل کے ساتھ سرحد ہے اور اس نے گذشتہ ہفتے اسرائیل کی طرف داغے گئے ایرانی میزائل حملے کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اردن کا کہنا ہے کہ کشیدگی میں اضافے سے علاقائی عدم استحکام اور سلامتی کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

    اردن کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ہم ایسے تمام اقدامات کی مذمت کرتے ہیں جو خطے کو جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔‘

    متحدہ عرب امارات نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں تنازعات اور بحران کا ٹھوس حل تلاش کرنا ہوگا۔ اس کی وزارت خارجہ نے کہا کہ تنازعات کا حل بات چیت اور سفارتی ذرائع سے نکالا جانا چاہیے۔

  5. ایران کے ایئر ڈیفنس سسٹم نے حملہ روکا: ایرانی کمانڈر

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہWANA via Reuters

    اصفہان میں ایئر ڈیفنس سسٹم کے کمانڈر نے سرکاری ایرانی ٹی وی کو بتایا ہے کہ آج ایک حملے کو روکا گیا ہے۔

    سياوش مہاندوست نے کہا کہ ’اصفہان میں آج صبح جو آواز سنی گئی وہ کوئی دھماکہ نہیں تھا۔ طاقتوار ایئر ڈیفنس سسٹم نے (فضا میں) ایک چیز پر راکٹ کا حملہ کیا۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔

    ایران نے ملک میں میزائل حملے کی اطلاعات کو بڑھا چڑھا کر ظاہر نہیں کیا۔ ایرانی کمانڈر نے کہا کہ ایران کا فضائی دفاعی نظام دشمن عناصر سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

  6. ایران کے دارالحکومت تہران میں اسرائیل مخالف مظاہرہ

    ایران کے دارالحکومت تہران میں اسرائیل مخالف مظاہرہ کیا گیا ہے۔

    جمعے کے روز تہران کی سڑکوں پر سیکڑوں افراد جمع ہوئے، مظاہرین نے اسرائیل کی مخالفت میں بینرز اٹھا رکھے تھے اور ایرانی اور فلسطینی پرچم تھامے ہوئے تھے۔

    احتجاج میں شامل لوگوں نے ہاتھوں میں ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے پیشرو روح اللہ خمینی کی تصاویر بھی دیکھائی دیں۔

    جمعے کے روز ایران میں ہونے والے اسرائیل مخالف مظاہرے کی چند تصاویر:

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  7. ’ایران پر حالیہ حملے میں کوئی نقصان نہیں ہوا‘ ایرانی آرمی چیف

    ایرانی ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں ایرانی فوج کے کمانڈر انچیف میجر جنرل سید عبدالرحیم موسوی نے اصفہان میں ہونے والے دھماکے سے سے متعلق خطاب کیا۔

    انھوں نے دھماکوں کی آواز کو طیارہ شکن دفاعی نظام کی جانب سے متعدد مشکوک اشیاء سے منسوب کرتے ہوئے عوام کو یقین دلایا کہ کوئی نقصان نہیں ہوا۔

    ایرانی حکام نے اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور عوام کو مناسب وقت پر تازہ ترین معلومات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    تاہم ایران کی زمینی افواج کے کمانڈر کیومرس حیدری نے متنبہ کیا ہے کہ اگر سرحد پار سے کوئی بھی ایرانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے شواہد ملے تو فوری طور پر ان پر ردِعمل ظاہر کیا جائے گا۔

    ایران کی فضائی حدود کی حفاظت خاتم الانبیا دفاعی اڈے کے ذریعے کی جاتی ہے، جس کی نگرانی فوج کا جوائنٹ سٹاف کرتا ہے۔

    یہ اڈہ اپنے مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک کے ذریعے ایران کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    تاہم تل ابیب میں بی بی سی فارسی کی نامہ نگار کسرا ناجی نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل میں حالات معمول کے مطابق دکھائی دے رہے ہیں۔

    دفاعی حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے روزمرہ کے معمولات جاری رکھیں اور اسرائیل نے مبینہ حملے کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔

  8. پیرس میں ایرانی قونصل خانے کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    paris

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پیرس سے میں پیش آنے والے ایک حالیہ واقعے میں کہا جا رہا ہے کہ پولیس کی اطلاعات کے مطابق ایک ایسے شخص کو حراست میں لیا گیا ہے کہ جسے پیرس کے ایفل ٹاور سے کچھ ہی فاصلے پر ایرانی قونصل خانے میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

    فرانسیسی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایک عینی شاہد نے ایک مشکوک شخص کو قونصل خانے میں داخل ہوتے دیکھا جس پر متعلقہ انتظامیہ کو اطلاع دی گئی جس پر فرانس کے بی آر آئی بریگیڈ کے ایلیٹ افسران نے عمارت کو گھیر ے میں لے لیا۔ عینی شاہدین نے اس شخص کو بظاہر دستی بم یا دھماکہ خیز مواد سے بھری جیکٹ لے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔

    فرانسیسی حکام کی اطلاعات کے مطابق مشتبہ شخص عمارت سے نکل گیا اور کچھ ہی دیر بعد اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے بعد بی آر آئی افسران نے اس کی تلاشی لی تاہم اس شخص سے کسی بھی قسم کا دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔

    تاہم اس واقعے کے مان بعد پیرس میں امریکی سفارت خانے نے ایکس پر سکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیرس کے حکام نے لوگوں سے درخواست کی ہے کہ وہ جاری سیکیورٹی آپریشن کے پیش نظر پیرس میں ایرانی سفارتی مشن سے دور رہیں۔

  9. ’جوابی کارروائی اور بدلے کے خطرناک امکانات کو روکنے کی اشد ضرورت ہے‘ انتونیو گوتریس

    انتونیو

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ ’مشرق وسطیٰ میں جوابی کارروائی اور بدلے کے خطرناک امکانات کو روکنے کا یہ بہترین وقت ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ سیکریٹری جنرل گوتریس کسی بھی انتقامی کارروائی کی مذمت کرتے ہیں اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مزید کسی بھی پیش رفت کو روکنے کے لیے مل کر کام کریں جو پورے خطے اور اس سے آگے کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

  10. ایران اسرائیل تنازع: اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے ایران پر مُمکنہ میزائل حملے کے بعد اب تک کی صورتحال:

    • دو امریکی حکام نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار خبر رساں ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ایک اسرائیلی میزائل نے ایران کو نشانہ بنایا ہے۔
    • تہران کے سرکاری میڈیا نے وسطی صوبے اصفہان میں ہونے والے دھماکوں کی رپورٹیں شیئر کیں، یہ ایرانی شہر مُلکی ایئربیس کا گھر تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم ایران نے حملے کے دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔
    • بی بی سی فارسی کی جانب سے رات گئے اصفہان کی فضاؤں میں نارنجی رنگ کی چمک اور طیارہ شکن توپوں کی آوازوں اور فضا میں نظر آنے والے شعولوں کی فوٹیج شیئر کی
    • اسرائیل نے سرکاری طور پر اس صورتحال پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
    • اٹلی کے شہر کیپری میں جی 7 رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ اینتھونی بلنکن نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ آیا امریکہ کو اس حملے کا پہلے سے علم تھا اور کہا کہ امریکہ ان حملوں میں ملوث نہیں۔
    • برطانیہ، چین اور مصر سمیت دنیا بھر کے ممالک نے دونوں مُمالک پر ’پرسکون‘ رہنے کی اپیل کی ہے۔
  11. اسرائیل کا ایران میں میزائل حملہ: ’امریکہ کسی بھی جارحانہ فوجی کارروائی میں ملوث نہیں‘ بلنکن

    بلنکن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی وزیرِ خارجہ انتھونی بلنکن نے اٹلی میں ہونے والی جی 7 مُمالک کے اہم اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کی۔ اس موقع پر بی بی سی کی نامہ نگار جیسیکا پارکر نے سوال کیا کہ وہ ایران پر اسرائیل کے مبینہ حملے اور اس کارروائی پر بات کرنے سے کیوں انکار کر رہے ہیں؟

    یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ وہ ’ناقابل یقین حد تک اس بات کے اُکتا گئے ہے‘، بلنکن نے ایک بار پھر ایران پر اسرائیل کے مبینہ حملے کے بارے میں بات کرنے سے انکار کر دیا۔

    بلنکن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ کسی بھی جارحانہ فوجی کارروائی میں ’ملوث نہیں‘ تھا اور وہ کشیدگی میں کمی کے لئے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

    اسی دوران ایک اور سوال کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کی موجودہ صورت حال کو کس طرح بیان کریں گے، امریکی وزیرِ خارجہ انتھونی بلنکن کا کہنا تھا کہ ’ہم مستقل بنیادوں پر ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں اور حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم اسرائیل کو اپنے دفاع میں مدد دینے اور اس کے دفاع میں ضرورت کے مطابق حصہ لینے کے لئے پرعزم ہیں، جیسا کہ آپ نے کچھ دن پہلے دیکھا تھا۔‘

  12. ’اسرائیل نے پیغام بھیجنا ضروری سمجھا کہ وہ اصفہان میں جوہری پروگرام کے قریب حملہ کر سکتا ہے اور اگلی بار زیادہ طاقت کے ساتھ‘, فرینک گارڈنر، سکیورٹی کے نامہ نگار

    آج جمعہ ہے، پوری مسلم دنیا میں مسلمان جمعے کی نماز ادا کر رہے ہیں۔

    ایران میں اکثر اس دن سخت لہجے والی تقاریر سننے کو ملتی ہیں جن میں اسرائیل جیسے ’صیہونی دشمن‘ امریکہ اور دیگر کے خلاف عبرتناک ضرب لگانے کا عزم ظاہر کیا جاتا ہے۔

    اس کے باوجود اس کی سرزمین پر آج صبح کے محدود اسرائیلی حملوں کے بارے میں ایران کا ردعمل خاموش دکھائی دے رہا ہے، یہاں تک کہ کچھ حکام یہ تک کہہ رہے ہیں کہ ایسا کوئی حملہ ہوا ہی نہیں۔

    ایک ایرانی اہلکار نے مذاق اڑاتے ہوئے اسے ’ایک ناکام حملہ‘ کہا جس میں صرف ’چند کواڈ کوپٹرز‘ شامل تھے۔

    ایران کی قیادت جسے اندرون ملک سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ خود کو فاتح کے طور پر پیش کرے۔

    گذشتہ ہفتے کے آخر میں اسرائیل کے خلاف بڑے پیمانے پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملے کو دشمن کو سبق سکھانے کے طور پر پیش کیا گیا ہے، حالانکہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایران کی طرف سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کی بڑی اکثریت کو اسرائیل کی حدود میں پہنچنے سے قبل ہی ’ایرو ایریئل‘ نامی فضائی دفاعی نظام اور خطے میں موجود اتحادیوں کی مدد سے ناکام بنا دیا ہے۔

    اس سب کا مقصد اپنی برتری دکھانا اور طاقتور نظر آنا ہے۔ لیکن اس میں اہم بات محتاط ردِعمل ہے۔

    اسرائیل کی کابینہ میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو آج ایران پر اس سے بڑا حملہ دیکھنا چاہیں گے۔

    لیکن اسرائیل کے دوستوں نے واضح کیا کہ ایسا کرنا خطرناک ہو گا اور یہ ایک ایسی وسیع جنگ کا باعث بن سکتا ہے جس میں امریکہ کو گھسیٹا جائے جس کے بعد توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ہزاروں افراد ہجرت پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

    ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل نے اس مشورے پر عمل کیا ہے لیکن پھر بھی ایک پیغام بھیجنا ضروری سمجھا: کہ وہ صوبہ اصفہان میں ایران کے جوہری پروگرام کے قریب حملہ کر سکتا ہے اور اگلی بار یہ حملہ اس سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ ہو سکتا ہے۔

  13. تہران میں لوگوں کے معمولاتِ زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑا

    ایرانی ذرائع ابلاغ اور حکام نے وسطی شہر اصفہان اور شمال مغربی شہر تبریز کے مقامات پر حملے کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔

    ملک کے نیشنل سینٹر آف سائبر سپیس اور ایران سپیس ایجنسی کے ترجمان حسین دلیرین نے ایکس پر کسی بھی حملے کی تردید کرتے ہوئے لکھا ’بیرونی سرحدوں سے اصفہان یا ملک کے دیگر کسی حصے پر کوئی فضائی حملہ نہیں ہوا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اسرائیل نے ’کواڈ کاپٹرز (ڈرون) اڑانے کی صرف ایک ناکام کوشش کی تھی اور کواڈ کاپٹروں کو بھی مار گرایا گیا ہے۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  14. یورپی کمیشن کی صدر کا فریقین سے ’تحمل‘ اور مزید کارروائی نہ کرنے کا مطالبہ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے ایران، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ مزید کشیدگی سے گریز کریں۔

    مشرقی فن لینڈ میں لاپینرانتا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ضروری ہے کہ اس خطے میں استحکام رہے اور تمام فریق مزید کارروائی سے باز رہیں۔

  15. ’ایران کا اسرائیل کے خلاف فوری جوابی کارروائی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے‘

    ایرانی شہر اصفہان پر حملے کے چند گھنٹے بعد’ ایک سینئر ایرانی اہلکار نے خبر رساں ایجنسی رؤئٹرز کو بتایا ہے کہ ’ایران کا اسرائیل کے خلاف فوری جوابی کارروائی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔‘

    دو امریکی حکام نے ایران پر اسرائیلی میزائل حملے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم اسرائیل نے ابھی تک اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

    ایرانی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’ہمیں پر کوئی بیرونی حملہ نہیں ہوا ہے۔‘

    اب سے کچھ دیر قبل ایک ایرانی تجزیہ کار نے ایران کے سرکاری ٹی وی پر دعویٰ کیا کہ ’اصفہان میں فضائی دفاع کے ذریعے مار گرائے گئے منی ڈرون ایران کے اندر سے ہی اڑائے گئے تھے۔

    انھوں نے اس رپورٹ کو مسترد کیا کہ اسرائیل نے کوئی حملہ کیا تھا۔

  16. ایران کی جوہری تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا: آئی اے ای اے

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

    جمعہ کو ایک ایکس پوسٹ میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فوجی تنازعات کے دوران جوہری تنصیبات کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔

    اس سے قبل ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے خبر دی تھی کہ اصفہان میں اس کی جوہری سائٹ مکمل طور پر محفوظ ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. خلیج میں جہازوں کو چوکس رہنے کی تنبیہ

    خلیج میں جہازوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ چوکس رہیں۔

    برطانوی سیکیورٹی فرم ایمبرے کا کہنا ہے کہ ایران کے وسطی شہر اصفہان پر اسرائیلی حملے کے بعد خطے میں ڈرون کی سرگرمیوں میں اضافے کے مدِنظر ’خلیج عرب اور مغربی بحر ہند سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو الرٹ رہنے کا کہا گیا ہے۔‘

    گذشتہ ہفتے ایران نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کرنے سے چند گھنٹے قبل، اس کی فوج نے آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے ایک اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک تجارتی بحری جہاز کو قبضے میں لے لیا ہے۔

  18. ’ایران اسرائیل دشمنی اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جس کے متعلق کوئی نہیں جانتا کہ آگے کیا ہو گا‘, لیز ڈوسٹ - بین الاقوامی امور کی نامہ نگار

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے بے مثال حملوں کے بعد اسرائیلی جوابی حملے نے ایک نئے سوال کو جنم دیا ہے: ایران آگے کیا کرے گا؟

    ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ اسرائیل کی طرف سے ’سب سے چھوٹے حملے‘ کا بھی ’بڑے پیمانے پر اور سخت‘ جواب دیا جائے گا۔

    دونوں دشمن ریاستوں کے درمیان شیڈو وار اور خفیہ حملوں کی ایک مشکل تاریخ رہی ہے مگر یہ دشمنی اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جس کے متعلق کوئی نہیں جانتا کہ آگے کیا ہو گا۔

    یکم اپریل کو دمشق میں ایران کے سفارتی کمپاؤنڈ پر اسرائیل کے فضائی حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ افسران سمیت سات اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد سے ایران کے فوجی سربراہوں نے ایک "نئی مساوات" کی بات کی ہے، جس میں خطے میں اس کے سب سے سینئر کمانڈر بھی شامل ہیں۔

    تہران کا کہنا ہے کہ اس کی پرانی سٹریٹجک صبر کی پالیسی جس کے تحت وہ اپنے اثاثوں اور اہکاروں پر حملے برداشت کرتا تھا، اب وہ صبر کا پیمانہ ہو چکا ہے۔

    اب وہ خود پر ہوئے حملوں کی صورت میں فوری جوابی کارروائی کرے گا۔

    ایرانی حکام کسی براہ راست حملے یا کسی نقصان کی تردید کر رہے ہیں۔ مگر ان کا اگلا اقدام اس بات پر منحصر ہو سکتا ہے کہ وہ اس تازہ ترین حملے کے بعد اگلے مرحلے میں کیا کرتے ہیں؟

  19. امریکی حکام کا ایران پر اسرائیلی میزائل داغنے کا دعویٰ جس سے تیل اور سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا

    reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی حکام کی جانب سے ایران پر اسرائیلی میزائل حملے کے دعوے کے بعد تیل اور سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    برینٹ کروڈ، بین الاقوامی بینچ مارک، 1.8 فیصد اضافے کے ساتھ 88 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا جبکہ سونے کی قیمت میں مختصر وقت کے لیے ریکارڈ اضافہ ہوا۔

    اس سے پہلے وہ تقریباً 2400 ڈالر فی اونس تک گر گیا تھا۔

    گذشتہ ہفتے کے آخر میں ایران کے براہ راست ڈرون اور میزائل حملے کے بعد سے سرمایہ کاروں کی نظریں اسرائیل کے ردعمل پر ہیں۔

    ایسے خدشات ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں بگڑتی صورتحال تیل کی سپلائی میں خلل ڈال سکتی ہے۔

    تیل کی قیمتوں میں ابتدائی طور پر 3.5 فیصد تک اضافہ ہوا تھا۔ تاہم ایران کے سرکاری میڈیا کے دعویٰ کے بعد کہ ’اصفہان میں کوئی نقصان نہیں ہوا‘ قیمتوں میں کمی آئی ہے۔

    خطے کی صورتحال کے باعث ایشیا کی سٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھی گئی۔ جاپان کا نکی 225 انڈیکس 2.7 فیصد گرا جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 1.2 فیصد گرا۔ جنوبی کوریا میں کوسپی تقریباً 1.7 فیصد تک گر گیا۔

  20. اسرائیل اور ایران میں سے عسکری اعتبار سے زیادہ طاقتور کون ہے؟

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہbbc

    ایران اور اسرائیل کے درمیان تقریباً 2152 کلومیٹر کا زمینی فاصلہ ہے اور ایران نے وہاں تک اپنے میزائل پہنچا کر یہ تو ثابت کر دیا ہے کہ جس میزائل پروگرام پر وہ کافی عرصے سے کام کر رہا ہے اس میں کافی ترقی ہوئی ہے۔

    ایران کے میزائل پروگرام کو مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا اور متنوع سمجھا جاتا ہے ہے۔ سنہ 2022 میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے جنرل کینتھ میکنزی نے کہا تھا کہ ایران کے پاس '3000 سے زیادہ' بیلسٹک میزائل ہیں۔

    دوسری جانب اس بات کی کوئی حتمی تصدیق نہیں کہ اسرائیل کے پاس کتنے میزائل ہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اگر کسی ملک کے پاس جدید ترین میزائلوں کا ذخیرہ ہے تو وہ اسرائیل ہے۔ میزائلوں کا یہ ذخیرہ اس نے گذشتہ چھ دہائیوں میں امریکہ سمیت دیگر دوست ممالک کے ساتھ اپنے اشتراک یا اپنے طور پر ملک ہی میں تیار کیے ہیں۔ سی ایس آئی ایس میزائل ڈیفنس پراجیکٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل کئی ملکوں کو میزائل برآمد بھی کرتا ہے۔

    اسرائیل کے مشہور میزائیلوں میں ڈیلائلا، جبریئل، ہارپون، چریکو 1، جریکو 2، جریکو 3، لورا اور پوپیئی شامل ہیں۔ لیکن اسرائیل کے دفاع کی ریڑھ کی ہڈی اس کا آئرن ڈوم سسٹم ہے جو کہ کسی بھی قسم کے میزائل یا ڈرون حملے کو بروقت روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ غزہ سے حماس اور لبنان سے حزب اللہ کے راکٹوں کو متواتر فضا میں ہی تباہ کر کے وہ آج تک اپنا لوہا منواتا رہا ہے۔

    اسرائیلی میزائیل ڈیفنس انجینیئر اوزی روبن نے بی بی سی کو بتایا کہ آئرن ڈون کی طرح کا دنیا میں کوئی اور دفاعی نظام نہیں ہے اور یہ بہت کارآمد شارٹ رینج میزائل ڈیفنس سسٹم ہے۔

    دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران، اسرائیل سے بہت زیادہ بڑا ملک ہے اور اس کی آبادی اسرائیل سے دس گنا زیادہ ہے۔ مزید پڑھیے>>