آج جمعہ ہے، پوری مسلم دنیا میں مسلمان جمعے کی نماز ادا کر رہے ہیں۔
ایران میں اکثر اس دن سخت لہجے والی تقاریر سننے کو ملتی ہیں جن میں اسرائیل جیسے ’صیہونی دشمن‘ امریکہ اور دیگر کے خلاف عبرتناک ضرب لگانے کا عزم ظاہر کیا جاتا ہے۔
اس کے باوجود اس کی سرزمین پر آج صبح کے محدود اسرائیلی حملوں کے بارے میں ایران کا ردعمل خاموش دکھائی دے رہا ہے، یہاں تک کہ کچھ حکام یہ تک کہہ رہے ہیں کہ ایسا کوئی حملہ ہوا ہی نہیں۔
ایک ایرانی اہلکار نے مذاق اڑاتے ہوئے اسے ’ایک ناکام حملہ‘ کہا جس میں صرف ’چند کواڈ کوپٹرز‘ شامل تھے۔
ایران کی قیادت جسے اندرون ملک سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ خود کو فاتح کے طور پر پیش کرے۔
گذشتہ ہفتے کے آخر میں اسرائیل کے خلاف بڑے پیمانے پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملے کو دشمن کو سبق سکھانے کے طور پر پیش کیا گیا ہے، حالانکہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایران کی طرف سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کی بڑی اکثریت کو اسرائیل کی حدود میں پہنچنے سے قبل ہی ’ایرو ایریئل‘ نامی فضائی دفاعی نظام اور خطے میں موجود اتحادیوں کی مدد سے ناکام بنا دیا ہے۔
اس سب کا مقصد اپنی برتری دکھانا اور طاقتور نظر آنا ہے۔ لیکن اس میں اہم بات محتاط ردِعمل ہے۔
اسرائیل کی کابینہ میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو آج ایران پر اس سے بڑا حملہ دیکھنا چاہیں گے۔
لیکن اسرائیل کے دوستوں نے واضح کیا کہ ایسا کرنا خطرناک ہو گا اور یہ ایک ایسی وسیع جنگ کا باعث بن سکتا ہے جس میں امریکہ کو گھسیٹا جائے جس کے بعد توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ہزاروں افراد ہجرت پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل نے اس مشورے پر عمل کیا ہے لیکن پھر بھی ایک پیغام بھیجنا ضروری سمجھا: کہ وہ صوبہ اصفہان میں ایران کے جوہری پروگرام کے قریب حملہ کر سکتا ہے اور اگلی بار یہ حملہ اس سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ ہو سکتا ہے۔