یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
18 نومبر کی خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کو روس میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی ساختہ لانگ رینج میزائلوں کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔
یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
18 نومبر کی خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کو روس میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی ساختہ لانگ رینج میزائلوں کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔
بی بی سی کی امریکہ میں پارٹنر سی بی ایس نیوز کو اعلیٰ امریکی اہلکاروں کی جانب سے اس حوالے سے تصدیق کی گئی ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی امریکہ کی جانب سے دور تک مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال پر پابندی ہٹانے کے بارے میں کئی ماہ سے کوششیں کر رہے تھے تاکہ یوکرین کو روس میں اہداف کو نشانہ بنانے کا موقع مل سکے۔
خیال رہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے ماضی میں مغربی ممالک کو اس حوالے سے پابندی ہٹانے کے بارے میں خبردار کیا جاتا رہا ہے۔
انھوں نے رواں برس ستمبر میں کہا تھا کہ روس اسے نیٹو کی اس جنگ میں براہِ راست مداخلت کے طور پر دیکھے گا۔
پوتن نے کہا تھا کہ ’اس کا مطلب یہ ہو گا کہ نیٹو ممالک، امریکہ اور یورپی ممالک روس کے خلاف لڑ رہے ہیں۔‘
یہ لانگ رینج میزائل اے ٹی اے سی ایم ایس ہیں جو دراصل امریکہ کی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کی جانب سے بنائے جاتے ہیں۔
ان میزائلوں کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ یہ 300 کلومیٹر تک مار کر سکتے ہیں اور انھیں ان کی رفتار کی وجہ سے تباہ کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے۔
امریکہ کی جانب سے یہ ہتھیار یوکرین کو سپورٹ پیکج کے طور پر دیے جاتے رہے ہیں اور یہ اس پہلے یوکرین نے کرائمیا میں استعمال کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
مسیحی کیتھولک فرقے کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے یہ تجویز دی ہے کہ بین الاقوامی برادری اس پر تحقیق کرے کہ آیا جو اسرائیلی فوج نے غزہ میں کیا ہے وہ فلسطینی عوام کے نسل کشی کے مترادف تو نہیں ہے؟ یہ پوپ کی طرف سے اسرائیل کی غزہ میں ایک برس سے جاری جنگ پر سب سے سخت تنقید بھی ہے۔
ایک جلد شائع ہونے والی کتاب کے اتوار کو اٹلی کی ایک اخبار ’ڈیلی لا سٹامپا‘ میں شائع ہونے والے چند اقتباسات میں کچھ بین الاقوامی ماہرین کی یہ رائے سامنے آئی ہے کہ اسرائیلی نے جو کچھ غزہ میں کیا ہے وہ فوجی مہم نسل کشی کی تعریف پر پورا اترتی ہے۔
اس پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے پوپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس پر احتیاط سے تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا جو کچھ اسرائیل نے غزہ میں کیا ہے یہ نسل کشی کی اس تکنیکی تعریف پر پورا اترتا ہے جو بین الاقوامی ماہرین اور اداروں نے کر رکھی ہے۔ اسرائیل نے ابھی تک پوپ کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
گذشتہ دسمبر میں جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں ایک مقدمہ دائر کیا تھا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ اسرائیل نے مبینہ طور پر نسل کشی سے متعلق کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے۔
جنوری میں اپنے فیصلے میں عالمی عدالت انصاف کے ججز نے اسرائیل کو ہدایت کی کہ وہ یہ یقینی بنائے کہ اس کے فوجی فلسطین میں نسل کشی میں ملوث نہ ہوں۔ تاہم عدالت نے ابھی تک اس نکتے پر فیصلہ نہیں سنایا کہ جو کچھ اسرائیلی فوجیوں نے غزہ میں جو کیا ہے کیا وہ نسل کشی ہے؟
ایک اعشاریہ چار ارب کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا عام طور پر عالمی تنازعات میں کسی فریق کی حمایت یا مخالفت سے گریز کرتے ہیں اور جنگ کے خاتمے پر زور دیتے ہیں۔
تاہم انھوں نے اسرائیل کی غزہ میں فوجی کارروائیوں پر کھل کر تنقید کی ہے۔ ستمبر میں انھوں اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں مارے جانے والے فلسطینی بچوں سے متعلق آواز اٹھائی۔ انھوں نے اسرائیل کے لبنان پر حملے کو بھی اخلاقیات کے عاری قرار دیا تھا۔
پوپ فرانسز نے اس سے قبل کبھی غزہ کی صورتحال کو سرعام نسل کشی سے تعبیر نہیں کیا ہے۔ تاہم گذشتہ برس ویٹی کن میں فلسطینیوں کے ایک گروپ کے ساتھ ملاقات کے بعد وہ تنازع کی زد میں آ گئے تھے جب انھوں نے کہا کہ انھوں نے راز میں فلسطینی گروپ سے بات کی ہے جبکہ ویٹی کن نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس گروپ سے پوپ نے کوئی بات نہیں کی ہے۔ ویٹی کن نے پوپ کے تازہ ترین بیان پر ابھی کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔
تاہم ویٹی کن کی ویب سائٹ پر اس کتاب کے اقتباسات شائع کیے گئے ہیں جن میں اسرائیل کے خلاف ماہرین نے نسل کشی کی رائے دی ہے۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے دس سالہ سکول کے ایک طالب علم کے اغوا کے خلاف احتجاج کا سلسلہ اتوار کو تیسرے روز بھی جاری رہا۔ دس برس کے بچے کو جمعہ کے روز سکول جاتے ہوئے وین سے نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا۔
مغوی بچہ شہر کے ایک معروف تاجر کا بیٹا ہے۔ بچے کے اغوا کے فوراً بعد بڑے پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو کہ تاحال جاری ہے۔ احتجاج کے تیسرے روز بلوچستان اسمبلی اور ہائیکورٹ کے ساتھ یونٹی چوک جاری دھرنے میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے بچے کے لواحقین اور دیگر مقررین نے حکومت سے بچے کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔
گذشتہ روز بلوچستان ہائیکورٹ میں چیف جسٹس محمد ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں ایک خصوصی بینچ نے بچے کے اغوا کے خلاف درخواست کی سماعت کی تھی۔ عدالت میں پیش ہو کر آئی جی پولیس بلوچستان معظم جاہ انصاری اور سیکریٹری داخلہ شہاب علی نے یقین دہانی کرائی کہ وہ بچے کی بازیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’جیو فینسنگ کے علاوہ تمام وسائل کو بروئے کار لائے جائیں گے۔‘

حکومت پاکستان کی جانب سے مجوزہ تھل کینال منصوبے اور کارپوریٹ فارمنگ کے خلاف کراچی سمیت سندھ کے متعدد شہروں میں اتوار کو احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔
کراچی میں سندھیانی تحریک اور عوامی تحریک کی جانب سے ریگل چوک سے پریس کلب تک مارچ کیا گیا جس میں خواتین کی ایک بڑی تعداد شریک تھی جو سندھ کے مختلف شہروں سے آئی تھیں، ان خواتین نے ہاتھوں میں تھل کینال، کارپوریٹ فارمنگ اور کارونجھر کی کٹائی کے خلاف بینر اٹھا رکھے تھے۔
عوامی تحریک کے سربراہ وسند تھری کا کہنا تھا کہ تھل کینال دراصل چولستان کی زمینوں کو آباد کرنے کے لیے نکالا جارہا ہے جہاں عسکری اداروں کو زمینیں الاٹ کی گئی ہیں بقول ان کے ان کینال کے لیے دریائے سندھ سے صوبہ سندھ کے حصے کا پانی لیا جا رہا ہے وہ سمجھتے ہیں یہ منصوبہ سندھ کی تباہی کا منصوبہ ہے جس کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

سندھیانی تحریک کی رہنما سندھو منگہنار کا کہنا تھا کہ ٹھٹہ، سجاول، بدین اضلاع سمندری پانی کے کٹاؤ کی وجہ سے متاثر ہیں کیونکہ وہاں دریائے سندھ کا پانی نہیں پہنچ رہا ہے۔ عمرکوٹ، سانگھڑ سمیت متعدد اضلاع میں بھی پینے کا پانی دستیاب نہیں اس صورتحال میں عسکری ادارے زمین آباد کرکے لوگوں کا معاشی قتل کر رہے ہیں۔
عائشہ دہاریجو کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان کہتا ہے کہ دو صوبوں میں تنازع کی صورت میں مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری لی جائے گی لیکن وفاقی حکومت نے ایسا نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ فیصلے ایوان صدر سے ہو رہے ہیں جبکہ بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ وہ 26ویں آئینی ترمیم میں مصروف تھے، اس وجہ سے انھیں اس کا پتا نہیں چلا۔ انھوں نے کہا کہ ’اب پیپلز پارٹی بتائے کہ اس کی اصل پالیسی ہے کیا؟‘
سندھ یونائیٹیڈ پارٹی کی جانب سے سکرنڈ سے حیدرآباد تک ریلی نکالی گئی۔ زین شاہ کے زیر سربراہی اس ریلی نے حیدرآباد کے علاقے قاسم آباد پہنچ کر جلسے کی شکل اختیار کرلی۔

سید زین شاہ کا کہنا تھا کہ گرین پاکستان انٹیشٹیٹو پروگرام ایک علاقے کو ہرا بھر کرے گا لیکن اس سے سندھ کے ڈیڑھ کروڑ عوام شدید متاثر ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہمارے سالوں سے بہنے والے دریائے سندھ کے وارث ابھی زندہ ہیں اور ہم اس کی نیلامی کسی صورت میں برداشت نہیں کریں گے۔‘
دوسری جانب حکومت سندھ کے ترجمان بیرسٹر ارسلان شیخ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چولستان میں خوشحالی چاہتے ہیں لیکن سندھ کے پانی کی تقسیم پر ہرگز نہیں چاہتے۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے وزیر اعلیٰ سندھ کو اپنی شکایت ریکارڈ کرا دی ہے اگر مسئلہ حل نہیں ہوتا تو کسی بھی عدالتی فورم اور عوامی عدالت تک جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’دریائے سندھ کے پانی کے اوپر کسی صورت سودے بازی نہیں ہوسکتی ہے۔‘
اطلاعات کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے تجویز کردہ ’چولستان کینال اینڈ سسٹمز فیز ون‘ کے منصوبے کی لاگت کا تخمینہ 211 ارب 34 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔
ایک عہدیدار نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ مجوزہ منصوبہ گرین پاکستان انیشییٹو کا حصہ ہے اور اسے وفاقی حکومت، محکمہ آبپاشی پنجاب، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) اور پنجاب بورڈ آف ریونیو کی حمایت حاصل ہے تاکہ کارپوریٹ فارمنگ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے چولستان خطے میں زراعت میں مدد ملے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی ریاست منی پور میں گذشتہ سال مئی میں ہونے والے پرتشدد نسلی فسادات کے نتیجے میں 200 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے تاہم ایک سال گزرنے کے بعد بھی وہاں اب تک زندگی دوبارہ معمول پر نہیں آ سکی ہے۔
جمعے کو منی پور اور آسام کی سرحد پر ندی میں ایک خاتون سمیت دو بچوں کی لاشیں ملیں، جس سے یہاں پھر تشدد بھڑک اٹھا۔ ایک بار پھر اس ریاست میں تشدد پھوٹ پڑا ہے۔ لوگوں نے یہاں وزرا اور ارکان اسمبلی کے گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگائی ہے۔
وادی امپھال میں سنیچر کو کئی ایم ایل اے اور وزرا کے گھروں پر مظاہرین گھس گئے۔ مشتعل ہجوم نے کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ امپھال ویسٹ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ میگھ چندرا نے کہا کہ فسادیوں نے وادی امپھال میں تشدد کی کارروائیاں کیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کے مطابق ’ہم نے ضلع میں حالات کو ہاتھ سے نکلنے سے روکنے کے لیے پیشگی اقدامات کے تحت کرفیو نافذ کیا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہم نے حساس علاقوں میں سکیورٹی سخت کر دی ہے۔
اس علاقے کے بشنو پور اضلاع میں 23 لوگوں کو گرفتار کیا گیا جو گھروں کو جلانے اور لوٹ مار جیسے واقعات میں ملوث تھے۔ پولیس کے دعوے کے مطابق ان مظاہرین سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔
یہاں انٹرنیٹ اور موبائل سروس دو دن تک معطل کی گئی تھیں۔
حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے کہا ہے کہ منی پور میں تازہ ترین تشدد اور خونریزی گہری تشویشناک ہے۔ انھوں نے تجویز دی کہ ’میں وزیر اعظم نریندر مودی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ایک بار پھر منی پور کا دورہ کریں اور امن و امان کی بحالی کے لیے کام کریں۔‘

،تصویر کا ذریعہ@rajnathsingh
نئی دہلی نے بڑے پیمانے پر مار کرنے والے ہائپر سونک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جس سے انڈین فوج اب جدید اسلحہ رکھنے والی افواج کی صف میں شامل ہو گئی ہے۔ یہ انڈیا کا خود ساختہ میزائل ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سنیچر کے روز انڈیا نے یہ تجربہ اوڈیشہ میں کیا ہے۔
انڈیا سے قبل ہائپر سونک میزائل بنانے والے ممالک میں چین، روس اور امریکہ شامل ہیں، جنھوں نے بڑے پیمانے پر مار کرنے والے جدید ترین میزائل تیار کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ@rajnathsingh
انڈین حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ میزائل ان کے سرکاری ادارے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن نے انڈسٹری پارٹنرز سے مل کر بنایا ہے۔ اس میزائل کو اس طرح تیار کیا گیا کہ اس سے فوج 1500 کلو میٹر سے زائد فاصلے تک پے لوڈ کے ساتھ کسی ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انڈیا نے فلائیٹ ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اس میزائل کا ایک کامیاب تجربہ تھا۔
ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اس تجربے کو ایک تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس تجربے نے انڈیا کو ان مخصوص ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا ہے جن کے پاس یہ انتہائی اہمیت کی حامل اور جدید ترین ٹیکنالوجی ہے۔

،تصویر کا ذریعہState Emergency Service Of Ukraine
گذشتہ رات کو روس نے یوکرین کے مختلف علاقوں پر ڈرونز اور میزائلوں سے حملہ کیا ہے، جس کے بعد یوکرین میں سائرن بجنا شروع ہو گئے۔ اس جاری جنگ کے دوران یوکرین پر روس کی طرف سے حملے جاری رہے مگر یہ تازہ ترین حملہ ستمبر کے اوائل میں ہونے والے حملے کے بعد بہت بڑا منظم حملہ تھا۔ ان حملوں کے بعد یوکرین کے دارالحکومت میں لوگوں کی بڑی تعداد زیر زمین ٹرین سٹیشنز پر پناہ لے لی۔ ان جگہوں پر وہ سردی سے بچنے کے لیے کمبل اور ضروری سامان تک بھی ساتھ لے کر آئے۔
یوکرینی حکام کے مطابق روس کے ان حملوں میں کل سات ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ایک بار پھر یوکرین کا انرجی انفراسٹرکچر، جنریٹرز اور ٹرانسمیشن سٹیشنز بظاہر ہدف بنائے گئے ہیں۔ یوکرین میں اس وقت شدید سردی ہے اور اس موسم کی پہلی برف باری بھی ہوئی ہے۔ حکام کے اندازے کے مطابق اس بار پھر یوکرین کے لیے ایک اور مشکل موسم سرما ثابت ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
جنوب میں واقع میکولائیو شہر میں ان حملوں سے سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے۔ ان حملوں میں یہاں کم از کم دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ روسی حملوں سے یوکرین کے جنوب میں اوڈیسہ پورٹ شہر میں بجلی کا نظام معطل ہو گیا۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس نے ان کے ملک کے تمام خطوں پر ایک منظم حملے میں 120 کے قریب میزائل داغے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
ٹیلیگرام پر اپنی پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ ماسکو نے ان کے ملک کی انرجی انفراسٹرکچر کو ہدف بنایا ہے۔
انھوں نے اس خبر کی تصدیق کی ہے کہ ملک کے کچھ حصوں میں بجلی معطل ہو گئی ہے اور اس وقت کی بحالی پر کام ہو رہا ہے۔ یوکرینی صدر نے کہا کہ ان کی افواج نے 140 سے زائد اہداف کو تباہ کیا ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان کے 46 سے زیادہ ارکان نے صدر جو بائیڈن سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی حکومت اڈیالہ جیل میں قید سابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کی حمایت کرے۔ تاہم پاکستانی دفتر خارجہ نے ایک اخبار میں ترجمان سے منسوب تبصرے کو مسترد کیا ہے۔
امریکہ میں قائم تنظیم پاکستانی-امریکی پبلک افیئرز کمیٹی نے 15 نومبر 2024 کا یہ خط شیئر کیا ہے۔ اس خط میں صدر بائیڈن کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ پاکستان میں فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد سے انسانی حقوق کی خلاف سنگین ورزیاں ہوئی ہیں۔
اس خط میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’امریکی حکومت سابق وزیر اعظم خان سمیت تمام پاکستان میں تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کی وکالت کرے۔۔۔ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی حکومت عملی میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔‘
خیال رہے کہ اکتوبر میں بھی امریکہ کے ایوان نمائندگان کے 60 سے زیادہ ارکان نے صدر بائیڈن سے عمران خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
اگرچہ پہلے خط کو صرف ڈیموکریٹ پارٹی کے ارکان کی حمایت حاصل ہوئی تھی تاہم اس دوسرے خط پر ڈیموکریٹ اور رپبلکن دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کئی ارکان نے دستخط کیے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف، جو نے 24 نومبر کو دارالحکومت اسلام آباد کی طرف مارچ کی تیاریاں کر رہی ہے، نے بھی اس خط کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کیا ہے۔
اس خط کے منظر عام پر آنے کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے خود سے منسوب کیے گئے ایک بیان کو مسترد کیا ہے۔ اخبار دی نیوز کی خبر میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ دفتر خارجہ نے اس خط کو پاکستان کے مقامی معاملات میں غیر ملکی مداخلت قرار دیا ہے تاہم دفتر خارجہ نے اس خبر کو مسترد کیا ہے۔
خیال رہے کہ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے گذشتہ روز لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران تحریک انصاف پر یہ الزام لگایا کہ اس کی طرف سے ’بیرونی مداخلت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔‘
جبکہ پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ امریکی ارکان کانگریس کا خط پاکستان کے داخلی معاملات میں واضح مداخلت ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو یقین ہے کہ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی پر روس کے خلاف جنگ ’جلد ختم ہوجائے گی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ امریکی الیکشن کے بعد انھوں نے ٹرمپ سے فون پر ’مثبت بات چیت‘ کی ہے۔
زیلنسکی نے یہ نہیں بتایا کہ آیا ٹرمپ نے روس سے ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے کوئی مطالبہ کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ انھیں ایسی کوئی بات نہیں کہی گئی جو یوکرین کے موقف سے اختلاف رکھتی ہو۔
ٹرمپ نے بارہا واضح کیا ہے کہ وہ یوکرین جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ وہ ’ایک دن میں‘ جنگ رُکوا سکتے ہیں تاہم یہ کیسے ممکن ہوگا، اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔ فروری 2022 کے دوران روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
ایرانی ’فتح‘ میزائل اور ’شاہد‘ ڈرونز سمیت وہ غیر ملکی ہتھیار جن کی بدولت روس کی عسکری صلاحیت بڑھ گئی
ٹرمپ کا خیال ہے کہ یوکرین جنگ کی وجہ سے امریکی وسائل پر اضافی بوجھ پڑا ہے۔ رواں سال امریکی ایوان نمائندگان نے یوکرین کی فوجی امداد کے لیے 61 ارب ڈالر کی منظوری دی تھی۔
یوکرینی میڈیا کو دیے ایک انٹرویو میں زیلنسکی نے کہا ہے کہ ’وائٹ ہاؤس کی نئی ٹیم کی قیادت میں جنگ جلد ختم ہوجائے گی۔ یہ ان کی حکمت عملی ہے اور اپنے شہریوں سے کیا گیا ان کا وعدہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کو ’ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ یہ جنگ سفارتی کوششوں کے ذریعے اگلے سال ختم ہوجائے۔‘ خیال رہے کہ روسی افواج یوکرین میں مزید پیش قدمی کر رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ قیصریہ میں وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کی رہائش گاہ پر دو فلیش بم پھینکے گئے جو ان کے باغ میں جا گرے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ جب وہاں دو فلیش بم پھینکے گئے تو اس وقت نتن یاہو اور ان کا خاندان گھر پر موجود نہیں تھے اور اس واقعے سے کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے اتوار کو اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’تمام سرخ لکیریں عبور کر دی گئی ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اسرائیل کے وزیر اعظم کو ایران اور اس کے پراکسی گروہوں کی طرف سے دھمکیوں کا سامنا ہے اور وہ انھیں قتل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ ملک کے اندر سے بھی انھیں ایسی ہی دھمکیاں دی جائیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے سکیورٹی حکام اور عدلیہ سے ضروری اقدام کا مطالبہ کیا۔
اسرائیل کے صدر اسحاق ہرتزوگ نے ایکس پر واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔
اسرائیل میں قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے کہا ہے کہ ’وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کو اکسانے کا یہ واقعہ تمام حدیں پار کرتا ہے۔ ان کے گھر فلیش بم پھینکنے سے ایک اور سرخ لکیر عبور ہوئی ہے۔‘
خیال رہے کہ اکتوبر کے دوران قیصریہ میں نتن یاہو کے گھر کی طرف ایک ڈرون داغا گیا تھا تاہم اس واقعے میں کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔
اکتوبر 2023 سے اسرائیلی فوج اور لبنانی گروہ حزب اللہ کے درمیان شمال میں جھڑپیں جاری ہیں۔ سنیچر کے واقعے پر تاحال کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مشرقی چین میں ایک کالج کے باہر چاقو بردار شخص کے حملے میں آٹھ افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوگئے ہیں۔
پولیس کے ایک بیان کے مطابق چین کے شہر ووشی میں واقع وکیشنل اینڈ ٹیکنیکل کالج سے ایک 21 سالہ نوجوان کو حراست میں لیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نوجوان 2024 میں کالج سے گریجویٹ ہوا تھا اور اس نے وہاں حملہ اس لیے کیا کیونکہ ’خراب امتحانی نتائج کے سبب اسے ڈپلومہ کی ڈگری نہیں ملی تھی‘ اور وہ دورانِ انٹرنشپ ملنے والی تخواہ سے بھی خوش نہیں تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے نوجوان نے ’بِلا جھجک‘ اپنے جُرم کا اعتراف کر لیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان سے متعلق لکھے گئے برطانوی ارکان اسمبلی کے خط کے جواب میں لکھا کہ انھوں نے عام شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں کے ممکنہ استعمال پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تاہم پاکستانی حکام سے عمران خان کے فوجی ٹرائل سے متعلق ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں۔
واضح رہے کہ 20 کے قریب برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے 16 اکتوبر کو عمران خان کے خلاف ممکنہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف برطانوی حکومت کو خط لکھ کر اسے رکوانے کا مطالبہ کیا تھا۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ نے جوابی خط میں ان ارکان پارلیمنٹ سے کہا کہ میں آپ کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ ہم باقاعدگی سے اعلی سطح کے پاکستانی حکام سے اس طرح کے امور سے متعلق رابطے میں ہیں۔
ڈیوڈ لیمی نے کہا کہ آپ کی طرح مجھے بھی پاکستان میں آزادی اظہار رائے اور خصوصاً حزب اختلاف کے اجتماعات پر پابندی پر تشویش ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ پاکستانی حکام سے ہونے والی ملاقاتوں میں بغیر سینسرشپ، تعطل اور رکاوٹ کے آزادی اظہار جمہوریت کی بنیاد ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ انھوں نے اپنے ایک وزیر سے بھی یہ کہا ہے جو پاکستان کے امور دیکھتے ہیں کہ ان معاملات پر دورہ پاکستان کے دوران بات کریں۔ ڈیوڈ لیمی کے مطابق پاکستان کے دورے کے بعد وہ اپنے اس وزیر سے کہیں گے کہ وہ آپ کو بھی اپنے دورے سے متعلق پاکستانی حکام سے ہونے والی ملاقاتوں کا احوال بتائیں۔
ڈیوڈ لیمی نے کہا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری پاکستان کی پارلیمنٹ نے دی ہے جو کہ پاکستان کا اپنا ایک معاملہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اس نکتے پر بہت واضح ہیں کہ آزاد عدلیہ ہی جمہوریت میں دیگر اداروں کا احتساب کر سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہZulfi Bukhari
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بلوچستان کے ’چند علاقوں‘ میں موبائل انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی ہیں۔
سنیچر کو پی ٹی اے نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ ’مجاز اداروں کی ہدایات پر بلوچستان کے چند علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروسز عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔‘
’واضح رہے کہ یہ اقدام ان علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اُٹھایا گیا ہے۔‘
خیال رہے گذشتہ رات بلوچستان کے ضلع قلات میں نامعلوم مسلح افراد کے ایک حملے میں سات سکیورٹی اہلکار ہلاک اور 10 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ایک سینیئر اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ حملہ گذشتہ شب کیا گیا۔ اہلکار نے بتایا کہ شاہ مردان کے علاقے میں یہ حملہ فرنٹیئر کور کی ایک پوسٹ پر کیا گیا۔ حملے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک نائیک، دو لانس نائیک اور پانچ سپاہی شامل ہیں۔
اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان کے ضلع قلات میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں سکیورٹی فورسز کے سات اہلکار ہلاک اور 10 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ایک سینیئر اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ حملہ گذشتہ شب کیا گیا۔ اہلکار نے بتایا کہ شاہ مردان کے علاقے میں یہ حملہ فرنٹیئر کور کی ایک پوسٹ پر کیا گیا۔ حملے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک نائیک، دو لانس نائیک اور پانچ سپاہی شامل ہیں۔
زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کیا گیا۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔
قلات کہاں واقعہ ہے؟
قلات بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب میں واقع ہے۔ اس ضلع کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔ بلوچستان میں سنہ 2000 کے بعد حالات کی خرابی کے بعد سے اس ضلع میں بھی بدامنی کے بڑے واقعات پیش آرہے ہیں۔
رواں برس 26 اگست کو یہاں مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں کے علاوہ اس ضلعے کے علاقے ہڑبوئی میں بھی سکیورٹی فورسز کے کیمپوں پر حملے ہوئے تھے۔
بلوچستان کے کسی علاقے میں 72 گھنٹوں میں یہ دوسرا بڑا حملہ تھا۔
اس سے قبل جمعرات کو ضلع زیارت اور ہرنائی کے سرحدی علاقے مانگی میں بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں سکیورٹی فورسز کے ایک میجر سمیت دو اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ اس علاقے سے دو افراد کی لاشیں بھی برآمد کی گئی تھیں جن کو اغوا کے بعد ہلاک کیا گیا تھا۔ زیارت اور ہرنائی بلوچستان کے پشتون آبادی والے اضلاع ہیں۔ اس واقعے کے بعد دونوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو معطل کیا گیا ہے۔
دو الگ الگ نوٹیفیکیشنز میں ڈپٹی کمشنروں کی معطلی کی وجہ فرائض کی بجا آوری میں غفلت بتائی گئی ہے۔ اس سے قبل اس علاقے میں کوئلے سے لدے ٹرکوں کو نذر آتش کرنے کے واقعے کے علاوہ ایس پی ہرنائی کی گاڑی پر بھی حملہ ہوا تھا جس میں وہ محفوظ رہے تھے تاہم اس حملے میں ان کے ایک ذاتی محافظ ہلاک ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہX/@PTI_News
انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے ایک ہسپتال میں آتشزدگی کے باعث 10 نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔
جھانسی شہر کے مہالکشمی بائی میڈیکل کالج میں آگ بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ (این آئی سی یو) میں لگی تھی۔ ضلعی مجسٹریٹ نے 10 نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ نے سنیچر کی صبح ہسپتال کا دورہ بھی کیا ہے۔
یہ واقعہ کیسے رونما ہوا؟
جھانسی کے چیف میڈیکل سپرنٹینڈنٹ سچن موہر نے کہا کہ واقعہ آکسیجن کنسنٹریٹر کے باعث ہوا۔
وہ کہتے ہیں کہ این آئی سی یو وارڈ میں 54 بچے داخل تھے۔ ’اچانک آکسیجن کنسنٹریٹر میں آگ لگ گئی اور اسے بجھانے کی کوششیں ہونے لگیں۔ چونکہ اس کمرے میں آکسیجن کی وافر مقدار تھی، اس لیے آگ تیزی سے پھیلی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’جہاں تک ممکن ہوا، ہم نے بچوں کو نکالنے کی کوشش کی۔ اکثر بچوں کو باحفاظت نکال لیا گیا تھا۔ 10 بچوں کی موت ہوئی ہے۔‘

ادھر جھانسی کے ضلعی مجسٹریٹ کا کہنا ہے کہ جمعے کی رات شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگی تھی۔
کمشنر اور ڈی آئی جی کی نگرانی میں ایک انکوائری کمیٹی وزیر اعلیٰ کو رپورٹ درج کرائے گی۔
عینی شاہدین اور وزیر اعلیٰ نے کیا کہا؟
عینی شاہدین میں سے ایک کرپال سنگھ راجپوت کہتے ہیں کہ ’میں اندر بچے کے لیے فیڈ دینے گیا تو میڈم (نرس) بھاگتی ہوئی میری طرف آئیں اور ان کی ٹانگ پر آگ لگی ہوئی تھی۔ ہم نے 20 بچوں کو باحفاظت نکالا اور نرسوں کے حوالے کیا۔‘
یہ بھی پڑھیے
وہ کہتے ہیں کہ ’کچھ بچے آکسیجن پر تھے اور کچھ ہی حالت تشویشناک تھی۔ ہم نے بچے اٹھائے اور ہسپتال انتظامیہ کے حوالے کیے تاکہ انھیں بچایا جاسکے۔ آگ کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی گئی ہے مگر مشینیں اوورہیٹ ہوچکی تھیں۔‘
عینی شاہد ریشبھ یادیو نے بتایا کہ وارڈ میں قریب 50 بچے تھے اور آگ لگنے پر ہسپتال میں افراتفری شروع ہو گئی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگ اپنے بچوں کے ہمراہ دوڑتے ہوئے ایمرجنسی وارڈ جا رہے تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ کچھ خاندانوں کو یہ تک معلوم نہیں کہ ان کے بچے کہاں ہیں اور انتظامیہ کو اس حوالے سے آگاہ کرنا چاہیے۔
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے واقعے پر افسوس ظاہر کیا ہے اور متاثرین کی جلد صحتیابی کی امید ظاہر کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہFinance ministry
پاکستان کی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اگلے 14 روز کے لیے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کوئی رد و بدل نہیں کیا جا رہا۔
اس کے مطابق یہ فیصلہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے حوالے سے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
پیٹرول کی موجودہ قیمت 248.38 روپے فی لیٹر ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت 255.14 روپے ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ ’قواعد و ضوابط کے بغیر آزادی اظہار رائے تمام معاشروں میں اخلاقی قدروں کی تنزلی کا باعث بن رہی ہے۔‘
پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق مارگلہ ڈائیلاگ 2024 کی خصوصی تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے جنرل عاصم منیر نے ’غلط اور گمراہ کُن معلومات‘ کے تیز پھیلاؤ کو ایک چیلنج قرار دیا اور کہا کہ ’جامع قوانین اور قواعد و ضوابط کے بغیر غلط اور گمراہ کُن معلومات اور نفرت انگیز بیانات سیاسی اور سماجی ڈھانچے کو غیر مستحکم کرتے رہیں گے۔‘
پاکستانی فوج کے سربراہ نے اس موقع پر انتہاپسندی کے موضوع پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ پاکستان پڑوسی ملک افغانستان میں عبوری حکومت سے توقع کرتا ہے کہ وہ دہشتگردی کے لیے اپنی سرزمین کو استعمال نہ ہونے دے۔
دورانِ تقریر جنرل عاصم منیر نے انڈیا پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ’انڈیا کے انتہاپسندانہ نظریے کی وجہ سے بیرونِ ملک خاص طور پر امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا میں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلامی نظریاتی کونسل نے وی پی این کے استعمال کو ’غیر شرعی‘ قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ’برائی اور برائی تک پہنچانے والے تمام اقدامات کا انسداد کرے۔‘
جمعے کو اسلامی نظریاتی کونسل سے جاری ایک بیان میں علامہ ڈاکٹر راغب نعیمی کا کہنا تھا کہ ’غیر اخلاقی اور توہین آمیز مواد تک رسائی کو روکنے یا محدود کرنے کے لیے اقدامات کرنا، جن میں وی پی این کی بندش شامل ہے، شریعت سے ہم آہنگ ہے۔‘
’غیرقانونی مواد یا بلاک شدہ ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنے کے لیے وی پی این کا استعمال شرعی لحاظ سے ناجائز ہے۔‘
اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے پی ٹی اے کو خط لکھا ہے کہ غیرقانونی وی پی این بند کیے جائیں۔
پی ٹی اے کو لکھے گئے ایک خط میں وزارتِ داخلہ کا کہنا تھا کہ دہشتگرد اپنی شناخت چھپانے اور مواد پھیلانے کے لیے بھی وی پی این کا استعمال کر رہے ہیں۔
وزارتِ داخلہ نے دعویٰ کیا کہ فحش ویب سائٹس تک رسائی اور توہین آمیز مواد شیئر کرنے کے لیے بھِی وی پی این کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز کاروبار میں تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور کاروبار کے دوران انڈیکس میں ایک ہزار پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا جس کی بعد انڈیکس پہلی بار 95000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا ہے۔
مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں گزشتہ کئی ہفتوں سے تیزی جاری ہے جس کی وجہ ملکی معیشت میں بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔
انڈیکس میں مسلسل تیزی کی ایک بڑی وجہ شرح سود میں کمی ہے جس میں گزشتہ ہفتے ڈھائی فیصد کمی کی گئی تھی۔
تجزیہ کار احسن محنتی کے مطابق سٹاک ایکسچینج میں تیزی کی وجہ ملکی معاشی اشاریوں میں بہتری، آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات میں اطمینان بخش پیش رفت ہے جس کا مارکیٹ میں کاروبار پر مثبت اثر ہوا ہے۔
تجزیہ کار احسن محنتی نے کہا کمپنیوں کی جانب سے اچھے مالیاتی نتائج نے بھی تیزی کو فروغ دیا ہے، جن میں آئل اینڈ گیس کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیاں شامل ہیں۔