26ویں آئینی ترمیم کی منظوری موخر: ’سیاسی جماعتوں سے مشاورت میں بلاول بھٹو کردار ادا کریں گے‘

حکومتی جماعتوں کی جانب سے بظاہر 26ویں آئینی ترمیم کے لیے پارلیمانی اکثریت کے حصول میں ناکامی کے بعد آئینی ترامیم کی منظوری کا معاملہ موخر کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے لیے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کو کردار ادا کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

خلاصہ

  • لبنان کے وزیر صحت کے مطابق پورے مُلک میں ’پیجرز‘ کے پھٹنے سے اب تک 9 افراد ہلاک جبکہ 2750 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
  • لبنان کے نشریاتی ادارے المنار کے مطابق ملک کے وزیر اطلاعات زیاد مکاری نے پیجر دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’اسرائیلی جارحیت‘ قرار دیا ہے۔
  • اسرائیل کی جانب سے تاحال ان حملوں کے بارے میں کوئی تبصرہ یا وضاحت جاری نہیں کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    18 ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. ہمیں اب تک کیا معلوم ہے؟

    ،ویڈیو کیپشنلبنان کی سپر مارکیٹ میں پیجر پھٹنے سے دھماکہ
    • لبنان میں حزب اللہ کے زیرِ استعمال پیجرز پھٹنے سے قریب تین ہزار لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ – جس پر امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک میں پابندی – کا کہنا ہے کہ اس کی تحقیقات جاری ہیں۔
    • حزب اللہ کا کہنا ہے کہ پیجرز کے ایک ساتھ پھٹنے سے دو جنگجو اور ایک آٹھ سالہ لڑکی کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ لبنان کی وزارت صحت کے مطابق آٹھ لوگ ہلاک جبکہ کم از کم 2750 زخمی ہوئے ہیں۔ لبنان میں ایران کے سفیر مجتبیٰ امانی بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔
    • حزب اللہ نے اس کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل ’شہریوں کے خلاف مجرمانہ جارحیت کا ذمہ دار ہے۔‘ اس نے اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
    • لبنان کے حکام نے بھی اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے وزیر اطلاعات زیاد مکاری نے پیجر دھماکوں کو ’اسرائیلی جارحیت‘ سے تشبیہ دی ہے۔
    • اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’ملک کی اندرونی کمانڈ کی دفاعی ہدایات میں کوئی تبدیلی نہیں۔‘ اسرائیلی فوج نے شہریوں کو الرٹ رہنے کا کہا ہے۔
    • لبنان کے پڑوسی ملک شام میں بھی پیجرز کے پھٹنے سے لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ برطانیہ میں قائم مانیٹرنگ گروپ سریئن ابزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ دمشق میں 14 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
  3. مُلک میں پیجرز کے پھٹنے اور ہلاکتوں کا ذمہ دار اسرائیل ہے: لبنان

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لبنان کے نشریاتی ادارے المنار کے مطابق ملک کے وزیر اطلاعات زیاد مکاری نے پیجر دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’اسرائیلی جارحیت‘ قرار دیا ہے۔

    تاہم اسرائیل کی جانب سے تاحال ان حملوں کے بارے میں کوئی تبصرہ یا وضاحت جاری نہیں کی ہے۔

    دوسری جانب حزب اللہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اس جارحیت کا ذمہ دار سمجھتے ہیں جس میں عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس جارحیت کا جواب اسرائیل کو ضرور دیا جائے گا۔‘

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے حزب اللہ کے ایک سینئر اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان دھماکوں میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار پال ایڈمز کا کہنا ہے کہ حزب اللہ رابطے کے لیے پیجرز پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔ موبائل فونز کے استعمال کو حزب اللہ کی جانب سے کافی عرصہ قبل اُس وقت چھوڑ دیا گیا تھا کہ جب اُن کے گروہ کے ایک اہم رُکن یحییٰ آئیش کو اسرائیل کی جانب سے 1996 میں قتل کر دیا گیا تھا۔

    اُن کا مزید کہنا ہے کہ ’حزب اللہ کے ارکان کو سپر مارکیٹس، سڑکوں، گاڑیوں، گھروں اور یہاں تک کہ حجام کی دکانوں میں بھی دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے۔ بیروت سے لے کر وادی بیکا تک پورے لبنان سے پیجرز کے پھٹنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ ہمسایہ ملک شام سے بھی۔‘

  4. ہم ’پیجر‘ کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

    pager

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پیجرز چھوٹے وائرلیس آلات ہیں جو عام طور پر سیل فون کے بہت زیادہ عام ہونے سے پہلے مختصر ٹیکسٹ میسجز یا الرٹس بھیجنے اور وصول کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ ان کا کام وائرلیس نیٹ ورکس پر سگنل بھیجنے پر منحصر ہے، اور یہ بنیادی طور پر ہسپتالوں، اور دیگر جگہوں پر رابطے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

    پیجرز کی دو اقسام ہیں:

    ایک وہ پیجرز کہ جو صرف پیغامات وصول کر سکتے ہیں اور دوسرے وہ کہ جو پیغامات وصول بھی کر سکتے ہیں اور بھیج بھی سکتے ہیں۔ تاہم پیجرز کی یہ دونوں اقسام آج کل کے دور میں پائے جانے والے سمارٹ فونز کے مقاملے میں بہت محدود ہوتے ہیں۔

    تاریخی طور پر، پیجرز کو ہنگامی صورتحال میں رابطے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا یا ایسے حالات میں کہ جہاں لوگ براہ راست کالز کا جواب نہیں دے سکتے تھے، سمارٹ فونز کے آجانے کے بعد ان کے استعمال میں کمی واقع تو ہوئی، لیکن اب بھی کچھ صنعتوں یا شعبوں میں پیجرز کا استعمال ہوتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پیجرز میں ہمیشہ طاقتور سگنل آتا ہے۔ ہسپتالوں کے چند کمروں کو ایکس ریز کے لیے ڈیزائن کیا جاتا ہے جہاں پر فون کے سگنل بلاک ہو جاتے ہیں۔ مگر پیجر کے ریڈیو سگنلز سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ یہ تیز بھی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ایمرجنسی سروسز میں فائدہ مند ہوتے ہیں۔

    تاہم الیکٹرانک ماہرین نے اس بات کی تصدیق کی کہ اسمارٹ فونز کے لیے گرمی سے حفاظتی نظام کی موجودگی کی وجہ سے ان کی بیٹریوں کا پھٹنا مشکل ہوتا ہے، جو روایتی پیجرز کے برعکس ایسے حادثات کو ہونے سے روکتا ہے۔

  5. لبنان میں ’پیجرز‘ کے پھٹنے سے 9 افراد ہلاک، ہزاروں زخمی

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    لبنان کے وزیر صحت کے مطابق پورے مُلک میں ’پیجرز‘ کے پھٹنے سے اب تک 9 افراد ہلاک جبکہ 2750 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    لبنان میں تعینات ایرانی سفیر ان سینکڑوں افراد میں شامل ہیں جو منگل کے روز جنوبی بیروت اور لبنان کے کئی دیگر علاقوں میں ہونے والے ’پیجرز کے پراسرار‘ دھماکوں میں مبینہ طور پر زخمی ہوئے ہیں۔

    لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق بیروت کے جنوبی مضافات اور کئی دیگر علاقوں میں پیجرز میں دھماکے ہوئے ہیں۔ حزب اللہ کے المنار ٹی وی نے بھی زخمی ہونے والوں کی شناخت ظاہر کیے بغیر کہا ہے کہ بہت سے پیجرز کے پھٹ جانے کی وجہ سے اُن کے متعدد جنگجو بھی زخمی ہوئے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زخمی افراد زمین پر بیٹھے یا لیٹے ہوئے ہیں تاہم کُچھ کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ غیر مصدقہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دکانوں میں ہونے والے دھماکے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

    حزب اللہ کے ایک عہدے دار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ غزہ جنگ کے متوازی 11 ماہ قبل اسرائیل کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد یہ ’اب تک کی سب سے بڑی سکیورٹی کی خلاف ورزی‘ ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ پیجرز کے پھٹنے سے زخمی ہونے والے افراد میں ڈاکٹر، مسلح افواج، حزب اللہ کے جنگجو اور عام شہری بھی شامل ہیں۔

    لبنان کی وزارت صحت نے ’پیجر‘ رکھنے اور ان کا استعمال کرنے والے افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ ان سے دور رہیں۔

    اسرائیل کی جانب سے اب تک اس صورتحال پر کسی بھی قسم کا کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

    تاہم اسرائیل بارہا متنبہ کر چُکا ہے کہ وہ حزب اللہ کو سرحد سے دور کرنے کے لیے فوجی آپریشن شروع کر سکتا ہے۔

  6. عالمی بینک کا بنگلہ دیش کو معاشی استحکام کے لیے دو ارب ڈالر دینے کا وعدہ

    بنگلہ دیش

    ،تصویر کا ذریعہBangladesh Government/Chief Advisor

    عالمی بینک کی جانب سے عبوری حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کی حمایت کے لیے رواں مالی سال میں بنگلہ دیش کو دو ارب ڈالر کا قرض دینے کا وعدہ کیا ہے۔

    بنگلہ دیش میں ورلڈ بینک کے سربراہ عبدولے سیک نے منگل کو ڈھاکہ میں پرنسپل ایڈوائزر یا عبوری حکومت کے نگران سربراہ پروفیسر محمد یونس کے ساتھ ملاقات کے دوران اس مالی امداد کا اعلان کیا۔

    عبدولے سیک کا کہنا تھا کہ عالمی بینک اس مالی سال میں بنگلہ دیش میں اہم اصلاحاتی پروگرامز، سیلاب کے بعد متاثرین تک امداد کی فراہمی اور صحت کے شعبے کے لیے تقریباً 2 ارب ڈالر کی نئی مالی معاونت فراہم کر سکتا ہے۔

    عبدولے سیک نے کہا کہ ’ہم جلد سے جلد اور زیادہ سے زیادہ آپ کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’اس اضافی قرض کے نتیجے میں رواں مالی سال میں بنگلہ دیش کے لیے ورلڈ بینک کے قرضوں اور دیگر گرانٹس کی کل رقم تقریباً تین ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔‘

    پرنسپل ایڈوائزر پروفیسر یونس نے ورلڈ بنک کے کنٹری ڈائریکٹر کو بتایا کہ ورلڈ بنک کو بنگلہ دیش سیاسی ماحول میں آنے والی تبدیلی اور گزشتہ پندرہ سالوں کی بدانتظامی کے خاتمے کے سفر میں مدد کے لیے نرمی اور لچک کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔

    چیف ایڈوائزر محمد یونس شیخ حسینہ کی حکومت کے دوران بیرون ملک منتقل کی جانے والی رقوم کی وطن واپسی کے لیے بھی عالمی بینک کی مدد چاہتے ہیں۔ ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے کہا کہ منی لانڈرنگ کی واپسی کے لیے معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔

  7. انڈیا بنگلہ دیش کو مستحکم دیکھنا چاہتا ہے، وہاں کے سیاسی معاملات اُن کا ’اندرونی معاملہ‘ ہے: جے شنکر

    India

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’بنگلہ دیش کی سیاست میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ملک کا ’اندرونی معاملہ‘ ہے لیکن انڈیا بنگلہ دیش کے ساتھ مستحکم تعلقات پر یقین رکھتا ہے۔‘

    منگل کے روز این ڈی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جے شنکر نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’پڑوسی ممالک کا ’انحصار ایک دوسرے‘ پر ہوتا ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’بنگلہ دیش میں سیاسی طور پر جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ ان کا اندرونی معاملہ ہے۔ بنگلہ دیش ہمارا پڑوسی ملک ہے۔ ہماری بس یہی کوشش ہے کہ ہم مستحکم تعلقات کو برقرار رکھیں۔ ہمارے لوگوں کے آپس میں اچھے تعلقات ہیں اور دونوں مُمالک کے درمیان تجارت بھی ایک اچھے اور سازگار ماحول میں ہو رہی ہے۔‘

    انڈیا کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کا کہنا تھا کہ ’میں دونوں مُمالک کے درمیان رشتے کو اسی طرح دیکھنا چاہتا ہوں۔‘

    یاد رہے کہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے 5 اگست کو عوامی احتجاج کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا اور وہ اُس کے بعد انڈیا فرار ہو گئیں تھیں اور اُس کے بعد سے اب تک وہ انڈیا میں ہی موجود ہیں۔

    تاہم ستمبر کے اوائل میں دہلی میں ایک کتاب کی رونمائی تقریب میں، وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے یہ بھی کہا تھا کہ سنہ 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد سے، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے، تاہم دہلی نے بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھے اور ’یہ اُتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے۔‘

  8. 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری موخر: ’سیاسی جماعتوں سے مشاورت میں بلاول بھٹو کردار ادا کریں گے‘

    بلاول بھٹو، شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہPM Office

    حکومتی جماعتوں کی جانب سے بظاہر 26ویں آئینی ترمیم کے لیے پارلیمانی اکثریت کے حصول میں ناکامی کے بعد آئینی ترامیم کی منظوری کا معاملہ موخر کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے لیے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کو کردار ادا کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    یہ پیشرفت گزشتہ رات وزیر اعظم شہباز شریف اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آئی۔

    وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے ملاقات کی جس میں سید خورشید احمد شاہ، سید نوید قمر اور مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب بھی شامل تھے۔

    اعلامیے کے مطابق ملاقات میں مجوزہ آئینی ترمیم پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور مشاورت کو وسیع کرنے پر اتفاق کے ساتھ ساتھ یہ فیصلہ بھی لیا گیا کہ چئیر مین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دیگر سینیئر رہنما بھی مشاورت میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

    اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’آئین میں ترمیم اور قانون سازی پارلیمنٹ کا اختیار ہے اور پارلیمنٹ بالادست ادارہ ہے۔‘

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’مجوزہ آئینی ترمیم کا مقصد عوام کو انصاف کی فوری اور موثر فراہمی ہے اور آئینی ترمیم پر تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا۔‘

    دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں اعلامیے کے مطابق، اتفاق کیا گیا کہ ’آنے والے دنوں میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ مزید بات چیت اور مشاورت سے کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔‘

    آئینی ترمیم میں کیا ہے؟

    واضح رہے کہ کئی روز سے ملک میں یہ چہ مگوئیاں کی جا رہی ہیں کہ حکومت عدالتی اصلاحات کا ارادہ رکھتی ہے۔

    ان میں ملک کے موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت اعلی عدلیہ کے ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کی تجویز شامل ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ اعلی عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن اور ججز کی تعیناتی سے متعلق پارلیمانی کمیشن کی ازسرنو تشکیل بھی زیر غور ہے۔

    تاحال سرکاری سطح پر ان ترامیم کا مسودہ جاری نہیں کیا گیا تاہم حکومتی ذرائع کی جانب سے بی بی سی کے ساتھ آئینی ترمیمی بِل کا مسودہ شیئر کیا گیا، جس میں مجموعی طور پر 54 تجاویز شامل کی گئی ہیں۔

    اس بِل میں آئین کے آرٹیکل 63 اے میں بھی ترمیم کی تجویر دی گئی، جس کے مطابق پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کے خلاف کسی بھی قانون سازی یا بِل پر ووٹ دینے والے رُکن پارلیمان کا ووٹ گنتی میں شمار کیا جائے گا۔

    اس کے علاوہ آئینی عدالت بنانے کا بھی ذکر کیا گیا، جس میں صرف آئینی معاملات ہی بھیجے جائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ سپریم جوڈیشل کونسل اور ججز کی تعیناتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی فارمیشن تبدیل کرنے کی تجویز بھی لائی جا رہی ہے۔

    آئینی بِل میں تجویز دی گئی کہ آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کی تقرری وزیراعظم کی سفارش پر صدرِ پاکستان کریں گے۔ اس کے بعد مستقبل میں وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی تقرری کے لیے تین ججوں کے نام قومی اسمبلی کی کمیٹی تین سینیئر ججوں کے نام چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے سات دن پہلے وزیرِ اعظم بھیجے گی۔

  9. قانون سازی ہمارا حق ہے اور اس سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا: خورشید شاہ

    خورشید شاہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری پیر کے روز جمیعت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچے اور ان سے آئینی ترمیم سے متعلق بات کی۔ مولانا فضل الرحمان نے بلاول بھٹو زرداری کا وفد کے ہمراہ استقبال کیا۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے سنئیر رہنما خورشید شاہ نے اسلام آباد میں جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کل سے ایک بل سے متعلق بات ہو رہی ہے آج کی مُلاقات کے بعد اُس بل میں سے کُچھ چیزیں ہٹائی گئیں ہیں تبدیلی کی بات ہوئی ہے۔ ہم نے مولانا کو اعتماد میں لیا ہے۔‘

    واضح رہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے جانے والے وفد میں خورشید شاہ، نوید قمر، مرتضیٰ وہاب اور دیگر شامل تھے۔

    تاہم جے یو آئی کی جانب سے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا عبدالواسع اور مولانا اسعد محمود ملاقات میں موجود تھے۔

    خورشید شاہ کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم مولانا صاحب کے پاس آتے رہتے ہیں اور ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں اور ہوتی رہیں گی۔ دونوں جماعتیں اس بات پر راضی ہوئی ہیں کہ ایک ڈرافٹ ہم لائیں گے اور ایک جے یو آئی ف کی جانب سے لایا جائے گا۔ مل جُل کر بات چیت کی مدد سے معاملات کو تہہ کریں گے۔‘

    Meeting

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab

    خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ’دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ ہم اپنی اپنی تجاویز پر مل کر بیٹھ جاتے ہیں اور بات کر لیتے ہیں، تمام دیگر اتحادیوں اور حکومت سے بات کر لیتے ہیں اور مل کر ایک مسودے کو بل کی صورت میں پارلیمان میں لے آئیں گے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری کوشش ہے کہ پاکستان کی عوام، قانون، آئین، مُلک اور پارلیمان کی بالادستی کے مطابق ہم قانون سازی کریں۔ قانون سازی ہمارا حق ہے اور اس سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔‘

  10. عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کے دوسرے کیس کی پہلی سماعت کا احوال, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیراعظم عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے قوانین کے تحت ٹرائل شروع کردیا گیا ہے۔

    توشہ خانہ ٹو کیس کی پہلی سماعت پیر کے روز اڈیالہ جیل میں سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کی۔

    عدالت کی جانب سے پہلی سماعت کے دوران تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر تفتیشی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 23 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

    تاہم ملزمان کی جانب سے سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ایف ائی اے کے سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی اور نیب پراسیکیوٹر عمیر مجید عدالت میں پیش ہوئے۔

    دوران سماعت ایف آئی اے پراسیکیوٹر کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا کہ نیب ترامیم کے بعد یہ پہلا کیس ہے جو وفاقی تحقیقاتی ادارے کو منتقل ہوا ہے، اس لیے کیس کو ایف آئی اے کے قوانین کے تحت دیکھنا ضروری ہے۔

    توشہ خانہ ٹو کیس کی پہلی سماعت کے بعد سابق وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی درخواستِ ضمانت پر سماعت بھی آئندہ پیشی تک ملتوی کر دی گئی۔

    یاد رہے کہ نیب ترامیم کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد احتساب عدالت نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور اُن کی اہلیہ اور سابق خاتونِ اوّل بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو ریفرنس نیب سے ایف آئی اے کو منتقل کردیا تھا۔

    توشہ خانہ سے جڑا یہ نیا کیس دراصل نیب کی ایک انکوائری رپورٹ ہے جس میں احتساب کے ادارے کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ نے ’دس قیمتی تحائف خلاف قانون اپنے پاس رکھے اور فروخت کیے۔‘

  11. آئینی ترامیم کا مقصد مُجھے جیل میں رکھنا ہے، ان ترامیم سے مُلک تباہ ہو جائے گا: عمران خان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کہا کہ ’آئینی عدالت کا قیام اس لیے عمل میں لایا جا رہا ہے کیونکہ یہ سپریم کورٹ سے ڈرے ہوئے ہیں۔ نئی ترامیم سے ملک کا مستقبل تباہ ہو جائے گا۔‘

    بانی پاکستان تحریکِ انصاف کا کہنا تھا کہ ’آئینی ترمیم کا مقصد صرف مجھے جیل میں رکھنا ہے۔ حکمرانوں نے عدلیہ کا بیڑا غرق کرنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ الیکشن فراڈ چھپانے کے لیے یہ سب کچھ کیا جارہا ہے۔ یہ ڈرے ہوئے ہیں کہ اگر الیکشن کھل گیا تو سب کچھ ریورس ہو جائے گا۔‘

    190 ملین پاؤنڈ کیس سے متعلق راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں پیر کے روز ہونے والی سماعت کے بعد کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’رول آف لا کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اس سے بڑا ظلم ملک پر نہیں ہو سکتا۔ نیب ترامیم میں انھوں نے اپنے اربوں روپے معاف کروا کر اپنی چوری کو تحفظ دیا۔ یہ سب کچھ ملکی مفاد کے خلاف ہو رہا ہے ججز کو دھمکیاں، لوگوں کو اغوا کرنا، ایک سیاسی جماعت کو ختم کرنے سے سیاسی عدم استحکام بڑھے گا۔‘

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’ترمیم لانے والوں کے پیسے باہر پڑے ہوئے ہیں۔ حکومت میں بیٹھے لوگ عدلیہ کو آزاد نہیں دیکھنا چاہتے۔ اشرافیہ کا مفاد اور ملکی مفاد آپس میں متضاد ہیں۔ 6 ماہ میں 4 ہزار پاکستانی کمپنیاں دبئی میں رجسٹرڈ ہوئیں۔ اب ہم قرضے لیکر ملک چلا رہے ہیں اسی لئے مہنگائی پر قابو پانے میں مُشکلات کا سامنا ہے۔‘

    انھوں نے جیل میں صحافیوں سے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کو تو فرق نہیں پڑنا ان کا پیسہ اور جائیدادیں باہر ہیں۔ عوام کو اپنے حقوق اور عدلیہ کو بچانے کے کئے کھڑا ہونا پڑے گا۔ میں ججز اور صحافیوں کے ساتھ کھڑا ہوں۔‘

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی وزیر داخلہ اور چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ دونوں پر تنقید کی اُنھوں نے کہا کہ ’محسن نقوی کی اہلیہ کی 500 ملین ڈالر کی پراپرٹی دبئی لیکس میں سامنے آئی۔ اب حکومت قاضی فائز کو دوبارہ لا کر عدلیہ کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں ہم اس کے خلاف خاموش رہیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو ہم اس کے خلاف بھرپور احتجاج کریں گے۔‘

    بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہ ’لاہور میں 21 تاریخ کو پرامن جلسہ اور تاریخی احتجاج کریں گے۔ یہ ہمارے ملک کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔‘

  12. تحریک انصاف کے گرفتار ارکان قومی اسمبلی ضمانتیں منظور ہونے کے بعد رہا, شہزاد ملک/بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے تحریک انصاف کے تمام گرفتار ارکان قومی اسمبلی کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت نے رواں ماہ سنگجانی جلسے کے این او سی کی خلاف ورزی اور پولیس اہلکاروں پر حملے سے متعلق کیسز میں دائر ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا ہے۔

    پی ٹی آئی کے گرفتار ارکان کی درخواست ضمانت پر سماعت اے ٹی سی جج ابو الحسنات ذولقرنین نے کی۔ ملزمان شیر افضل مروت، وقاص اکرم و دیگر کی جانب سے وکلا صفائی عدالت پیش ہوئے۔

    سماعت کے دوران مقدمے کا ریکارڈ عدالت پیش نہ کیا جا سکا جس پر جج ابو الحسنات نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ’دس منٹ انتظار کروں گا۔ اگر تفتیشی افسر نہیں آیا تو میں دلائل سن لوں گا۔‘

    تفتیشی افسر پیش نہ ہوا جس پر سماعت دوربارہ شروع ہوئی تو پراسکیوٹر راجہ نوید نے بتایا کہ ایم این اے احمد چٹھہ مقدمے میں نامزد ہیں۔ ’مقدمے میں جو دفعات لگائی گئی ہیں ان کی سزا کم سے کم تین سال ہے، ضمانت منظور نہ کی جائے۔‘

    جج ابو الحسنات محمد ذولقرنین نے کہا کہ ’شیر افضل مروت، احمد چٹھہ اور دیگر ایم این ایز سے کچھ برآمد ہوا ہے؟‘ جس پر پراسکیوٹر نے بتایا کہ ’نہیں کچھ بھی برآمد نہیں ہوا ہے۔‘

    عدالت نے تمام مقدمات میں پی ٹی آئی ایم این ایز کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی۔

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی 30, 30 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانتیں منظور ہوئی تھیں جس کے بعد انھیں پیر کے روز رہا کر دیا گیا۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے ایم این ایز پر تھانہ سنگجانی، ترنول، نون اور تھانہ سنبل میں دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج ہوئے تھے۔

    گرفتار ایم این ایز میں شیر افضل مروت، شیخ وقاص، زین قریشی، احمد چٹھہ، عامر ڈوگر، یوسف خان، نعیم علی شاہ اور دیگر شامل تھے۔

  13. بحث اُن آئینی ترامیم پر ہو رہی ہیں کہ جن کا مسودہ ابھی بن کر کابینہ میں پیش نہیں ہوا: اعظم نذیر تارڑ

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مجوزہ آئینی ترمیم پر بحث کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ جبکہ وزیر قانون کے مطابق یہ بل تاحال کابینہ میں بھی پیش نہیں کیا گیا۔

    پیر کے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وضاحت دی کہ ’قومی اسمبلی میں اس آئینی ترامیم پر تقاریر ہو رہی ہیں کہ جس کا مسودہ بن کر کابینہ نہیں گیا تو اس کو ایوان میں کیسا لایا جا سکتا؟

    ’ہم نے اتحادیوں سے بل پر مشاورت کی تھی، اپوزیشن کا کام حکومتی بل پر تنقید کر کے اس میں سے چیزیں نکلوانا ہے لیکن جب ہمارا کام پورا ہو گا تو ہی ہم آپ تک مسودہ پہنچائیں گے۔‘

    واضح رہے کہ جن آئینی ترامیم پر قومی اسمبلی میں تقاریر ہوئیں اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر تنقید کی گئی اُن آئینی ترمیم کا مسودہ ابھی تک قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔

    قومی اسمبلی اور سینٹ کے پیر کے روز ہونے والے اجلاسات غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دیے گئے۔

    ہماری تجاویز پارلیمان کو مضبوط کرنے والی ہیں‘

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنے خطاب میں مجوزہ آئینی ترمیم پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترمیم ادارے کی بہتری کے لیے کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس ترمیم کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 63 اے کو اس کی اصلی حالت میں لانا ہے جس میں یہ ایک عدالتی فیصلے میں کہہ دیا گیا کہ ووٹ گنا نہیں جائے گا۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ ’ہم آئین کو اس حالت میں لے کر آئیں گے جو اس ایوان کی دانشمندی اور چارٹر آف ڈیموکریسی سے تعلق رکھتا ہو۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’جو نکات یا تجاویز میں نے اس ترمیم سے متعلق پیش کی ہیں حزبِ اختلاف کی جانب سے بتایا جائے کہ اُن میں کون سی تجاویز ایسی ہیں کہ جو ہماری حکومت (پاکستان مُسلم لیگ ن)کے حق میں ہیں، یہ سب کی سب اس ایوان اور پارلیمان کی مضبوطی کے لیے ہیں۔‘

    ’پہلے ترامیم لائیں پھر بحث کریں، یہ تو بنیادی شہری حقوق کو بھی سلب کرنا چاہتے ہیں‘

    وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے پارلیمان میں خطاب کے بعد قومی اسمبلی میں مجوزہ آئینی ترمیم پر اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے اگر متنازع آئینی ترمیم منظور کروائی جاتی ہے تو پھر ان کی جماعت عوامی اسمبلی کے ذریعے ہر محاذ پر اس کے خلاف مزاحمت کرے گی۔

    اسد قیصر کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ تو بنیادی شہری حقوق کو بھی سلب کرنا چاہتے ہیں۔ کیا ہم اس ملک کے دشمن ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ عدالتی اصلاحات آئیں۔ ترامیم لائیں، بحث کریں اور پھر یہ سب کریں۔‘

    Asad Qasir

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسد قیصر کا مزید کہنا تھا کہ ’اس کو چوری کہا جاتا ہے قانون سازی نہیں کہا جا سکتا ہے۔ یہ بالکل ڈاکہ زنی تھی۔ یہ ہر ایک کو مختلف مسودے دیتے تھے۔ ان کا ایک دوسرے پر بھی اعتماد نہیں تھا۔ یہ تاریخی جھوٹ تھا۔‘

    اسد قیصر نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا ’ہمارے پانچ نکات ہیں اگر اس پر قانون سازی چاہتے ہیں تو خوش آمدید۔ یہ نکات آئین کی بالادستی، آزاد عدلیہ، پارلیمنٹ کی مضبوطی اور قانون کی حکمرانی شامل ہے۔‘

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ’پارلیمنٹ کا اختیار ہے کہ آئینی ڈھانچے میں رہتے ہوئے قانون سازی کرے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اسد قیصر میرے محترم ہیں، سپیکر کی کرسی پر براجمان رہے ہیں، مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ ڈرافٹ تو تب سامنے لایا جائے جب بل ایوان میں پیش کیا جائے، کابینہ میں معاملہ آتا ہے آس کے بعد کابینہ کی خصوصی کمیٹی اس کو جانچتی ہے، کابینہ اور خصوصی کمیٹی کے بعد پارلیمنٹ میں بل آتا ہے، ابھی یہ بل مسودہ بن کر کابینہ نہیں گیا تو اس کو ایوان میں کیسا لایا جا سکتا، ہم نے اتحادیوں سے بل پر مشاورت کی تھی، اپوزیشن کا کام حکومتی بل پر تنقید کر کے اس میں سے چیزیں نکلوانا ہے لیکن جب ہمارا کام پورا ہو گا تو ہی ہم آپ تک مسودہ پہنچائیں گے۔‘

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ’آپ نے ملک کی ڈائریکشن طے کرنی ہے اور بتانا ہے کہ ملک کیسے چلنا ہے، چیف جسٹس نے چینی کا ریٹ طے نہیں کرنا ہے، چیف جسٹس نے بجلی کے کھمبے لگانے کا حکم نہیں دینا، چیف جسٹس نے نہیں بتانا کہ کون سی سیاسی جماعت نے کیسے چلنا ہے، منشور اس ایوان میں بیٹھے لوگوں نے دینا ہے۔‘

  14. 190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی نے بریت کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں بریت کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ احتساب عدالت سے بریت کی درخواست مسترد کیے جانے کے خلاف اپیل دائر کی گئی۔

    بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری نے درخواست دائر کی جس میں احتساب عدالت کا 9 ستمبر کا فیصلہ چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ میرٹ پہ بریت بنتی تھی جو احتساب عدالت نے نہیں دی اور ایسے کوئی شواہد یا مواد نہیں جس کی بنا پر سزا سنائی جا سکے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت، احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اس مقدمے سے بری کرے۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے کیس کا ٹرائل روکنے کی بھی استدعا کرتے ہوئے حکم امتناع کی متفرق درخواست بھی دائر کر دی۔

    دائر کی جانے والی متفرق درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بریت کی درخواست پر فیصلے تک احتساب عدالت میں ٹرائل روکا جائے۔

  15. بلوچستان سے پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی کے نااہل ہونے کے بعد صوبائی اسمبلی کی کُل چار نشستیں خالی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان میں ایک الیکشن ٹریبونل نے کوئٹہ شہر سے پیپلز پارٹی کے رکن بلوچستان اسمبلی علی مددجتک کو نااہل قرار دے دیا ہے۔

    پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی علی مددجتک کی نااہلی کے ساتھ جہاں بلوچستان اسمبلی کی چار نشستیں خالی ہوگئیں ہیں وہیں اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی دو نشستیں بھی کم ہوگئی ہیں۔

    علی مدد جتک 2024 کے عام انتخابات میں کوئٹہ سے بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 45 سے کامیاب قرار دیئے گئے تھے۔

    انھیں پیپلز پارٹی کے اہم رہنما ہونے کے ناطے کابینہ میں شامل کرکے زراعت کا قلمدان سونپا گیا تھا۔ اس نشست سے علی مدد جتک کے مخالف امیدواروں نے بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے۔

    اس حلقے سے علی مدد جتک کی کامیابی کو جمیعت العلما اسلام کے امیدوار محمد عثمان پرکانی نے الیکشن ٹریبونل میں چیلنج کیا تھا۔

    ہائیکورٹ کے جج عبداللہ بلوچ پر مشتمل ٹریبونل نے اس پر فیصلہ سناتے ہوئے علی مدد جتک کی کامیابی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حلقے کے 15 پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا۔

    جہاں پیر کے روز علی مدد جتک کو ایک الیکشن ٹریبونل نے نااہل قرار دیا وہاں اس فیصلے سے چند گھنٹے قبل سبّی سے بلوچستان اسمبلی کی نشست سے پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی اور وزیر بلدیات سردار سرفراز چاکر ڈومکی وفات پا گئے تھے۔

    علی مدد جتک کی نااہلی اور سردار سرفراز ڈومکی کی وفات کے باعث بلوچستان اسمبلی کی مجموعی طور پرچار نشستیں خالی ہوگئی ہیں۔

    الیکشن ٹریبونل نے اس سے قبل قلات سے بلوچستان اسمبلی کی نشست سے بلوچستان عوامی پارٹی کے رکن اور وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کی کامیابی کو کالعدم قرار دیکر اس حلقے کے 7پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا تھا۔ جبکہ ضلع حب سے بلوچستان اسمبلی کی نشست کے 30 سے زائد پولنگ سٹیشنوں پر بھی دوبارہ انتخاب ہونا ہے۔

  16. عمران خان کی ممکنہ ملٹری ٹرائل روکنے کی درخواست: عدالت کو واضح جواب نہیں دیا جا رہا، اسلام آباد ہائیکورٹ

    FACEBOOK/IMRAN KHAN

    ،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/IMRAN KHAN

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل سے متعلق وفاقی حکومت سے واضح مؤقف طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ عدالت کو واضح جواب نہیں دیا جا رہا۔

    عمران خان کے ممکنہ ملٹری ٹرائل اور فوج کی حراست میں دیے جانے سے روکنے کی درخواست پر پیر کے دن سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی۔

    دوران سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ سیاست دانوں اور فوجی افسر کے بیانات کی خبریں ریکارڈ پر لائی گئی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ اگر بیانات کسی افسر کی طرف سے آئیں تو وہ سنجیدہ ہیں۔ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت دفاع کے پاس آج کے دن تک سابق وزیر اعظم کے ملٹری ٹرائل کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وزارت دفاع کی طرف سے بیان دے رہا ہوں کہ ایسی کوئی چیز ابھی نہیں آئی، اگر کوئی درخواست آتی ہے تو پھر بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے بیان کے بعد جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سابق وزیر اعظم کے وکیل سے مخاطب ہوتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ کو نہیں لگتا کہ آپ کی درخواست قبل از وقت ہے؟

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ کی درخواست پر میں نے نوٹس جاری نہیں کیا بلکہ بیان طلب کیا تھا، اگر جواب آتا کہ ہاں ملٹری ٹرائل ہونے جا رہا ہے تو پھر بات آگے بڑھتی۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ ہم آج ایک الگ دور میں ہیں، آج کے دور میں الفاظ کی جنگ ہوتی ہے، عدالت آپ کی بے چینی سمجھتی ہے، ہماری حدود کو بھی سمجھیں، میرے پاس اس کیس میں آگے بڑھنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔

    نمائندہ وزارت دفاع سے عدالت نے سماعت کے دوران سوال کیا کہ آپ کیسے سویلین کوملٹری کورٹس میں لے جاتے ہیں؟ اس پر متعلقہ نمائندے نے بتایا کہ متعلقہ مجسٹریٹ کو ملٹری اتھارٹی آگاہ کرتی ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج نے سوال کیا کہ سویلین کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل کا طریقہ کار کیا ہے؟ آپ مجھے اس حوالے سے طریقہ کار فراہم کر دیں۔ جج نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو ملٹری کورٹ میں ٹرائل سے متعلق واضح جواب نہیں دیا جارہا۔

    وزارت دفاع کے نمائندے نے کہا کہ اس حوالے سے ہمارا بڑا صاف طریقہ کار ہے، ہم بھی قانون شہادت پر چلتے ہیں۔ جسٹس گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ نیب کے قانون کو سپریم کورٹ نے ڈریکونین قرار دیا لیکن اس میں بھی طریقہ کار موجود ہے۔ طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے سول عدالت چارج فریم کرے گی، ٹرائل کورٹ اگر کہے کہ کیس ملٹری کورٹ کو بھیجنا ہے تو پھر نوٹس دے کر بھیجا جا سکتا ہے۔

    عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل سے متعلق حکومت سے واضح مؤقف طلب کر لیا جس پر وزارت دفاع نے وقت مانگ لیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس حوالے سے آئندہ سماعت پر واضح مؤقف دینے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کر دی۔

  17. ایکس پر پابندی کا ’بیان واپس‘: ’چیئرمین پی ٹی اے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کر سکتے ہیں‘, ریاض سہیل، بی بی سی اردو

    ایکس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سندھ ہائی کورٹ نے ایکس، سابقہ ٹوئٹر، کی بندش کے معاملے پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کی واپسی کے بیان پر نظر ثانی اپیل کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے پی ٹی اے کی جانب سے موقف تبدیل کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایکس پر پابندی کے معاملے پر چیئرمین پی ٹی اے کو طلب کر کے توہین عدالت کی کارروائی کر سکتے ہیں۔

    گذشتہ سماعت پر پی ٹی اے کے ایک وکیل کی طرف سے عدالت میں ایکس پر پابندی ہٹانے سے متعلق بیان دیا تھا مگر اب سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ بیان غلط فہمی کے نتیجے میں دیا گیا تھا جبکہ پی ٹی اے ی طرف سے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

    چیف جسٹس نے پوچھا کہ ’یہ پروفیشنل مس کنڈکٹ ہے یا غلط بیانی؟ آپ کو یہ ہدایات کس نے دیں، نام بتائیں۔‘ اس کے بعد چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ہمیں یقین ہے کہ ہدایات جاری ہوئی ہوں گی۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل بھی اس موقع پر خاموش رہے جبکہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ جس پر ہم چیئرمین پی ٹی اے کو طلب کرسکتے ہیں اور پھر اس پر ہم توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔

    لانسر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سرکاری وکیل نے کہا کہ یہ غیر ارادی طور پر غلطی ہوئی ہے اور کیسز کے دباؤ کے باعث غلط فہمی پیدا ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ایکس پر پابندی ہٹانے سے متعلق بیان دینے کے لیے کوئی ہدایات نہیں ملی تھیں مگر عدالت میں ایک بیان دے دیا گیا کہ اب یہ پابندی ہٹائی جا رہی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ یہ انسانی غلطی نہیں ہے۔ پی ٹی اے کے وکیل خاموش رہ سکتے تھے، عدالت کسی نے آپ سے پوچھا نہیں تھا، یہ بیان آپ نے ازخود دیا ہے۔ پی ٹی اے کے دوسرے وکیل کہہ بھی رہے تھے کہ ایسی کوئی ہدایات نہیں ملیں، اس کے باوجود آپ اپنے بیان پر قائم رہے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ عدالت سے حکم نامے پر نظر ثانی چاہتے ہیں؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ اگر یہ درخواست نظر ثانی کی ہے تو وہی بینچ سنے گا جس نے آرڈر کیا۔

    ڈپٹی اٹارنی جنرل یعنی سرکاری وکیل نے کہا کہ یہ درخواست حکمنامہ واپس لینے یا ترمیم کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ’ہم ابھی نا حکم نامہ واپس لے رہے ہیں نا ترمیم کررہے ہیں۔‘ عدالت نے پی ٹی اے کی درخواست کو دیگر درخواستوں کے ساتھ یکجا کر کے مزید سماعت 24 ستمبر تک ملتوی کردی۔

  18. عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس پر ایف آئی اے سے جواب طلب, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    imran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی۔ وکیل سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ 9 ستمبر کو احتساب عدالت نے کیس منتقلی کا آرڈر کیا اور پھر اگلے ہی دن یعنی 10 ستمبر کو پیش ہوئے تو سپیشل جج سنٹرل ایک ہفتے کے لیے چھٹی پر چلے گئے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ کیس آج سپیشل جج سنٹرل شاہ رخ ارجمند کی عدالت میں سماعت کے لیے مقرر ہے۔ سلمان صفدر نے کہا کہ جج شاہ رخ ارجمند پہلے بھی عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف عدت کیس سننے سے معذرت کی تھی۔

    انھوں نے درخواست کی کہ عدالت سپیشل جج سنٹرل کو جلد سماعت کرکے فیصلہ کی ہدایت کرے۔ وکیل نے کہا کہ بشریٰ بی بی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر نوٹس ہو چکے تھے پھر بھی گرفتاری ہو گئی۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ’اب ضمانت بعد از گرفتاری کا معاملہ بھی اسی طرح لٹکا ہوا ہے۔‘ عدالت نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر کے 18 ستمبر کو جواب طلب کر لیا ہے۔

  19. اتوار کی رات پاکستان کی قومی اسمبلی میں کیا ہوا؟

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہscreengrab

    اتوار کے روز غیرمعمولی طور پر عدلیہ سے متعلق ایک آئینی ترمیم کے لے کوششیں جاری رہیں۔ متعدد بار قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کے اوقات میں تبدیلی کی جاتی رہی اور اس دوران مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں سے مشاورت کا عمل بھی جاری رہا۔ رات کو سپیکر نے قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اسے پیر یعنی آج دن ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کر دیا۔ حکومت نے مشاورتی عمل کو عدلیہ میں اصلاحات کے لیے کی جانے والی قانون سازی میں تاخیر کی وجہ قرار دیا۔ حکومتی ترجمان عطااللہ تارڑ نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال ہے، یہ کوئی آن آف کا بٹن تو ہے نہیں کہ ادھر ترمیم آن کردی، ادھر ترمیم آف کردی۔

    حکومت کو اس آئینی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومتی اتحاد کے پاس اس وقت بظاہر آئینی ترمیم کے لیے اکثریت نہیں ہے۔

    بلاول بھٹو

    ،تصویر کا ذریعہscreengrab

    آئینی ترمیم کی منظوری اور عدم منظوری کے حوالے سے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے اور اسی سلسلے میں گزشتہ روز رات گئے بلاول بھٹو اور محسن نقوی نے فضل الرحمن سے طویل ملاقات میں آئینی ترمیم پرمشاورت کی تھی۔

    قومی اسمبلی میں ایسی ہی ایک ملاقات کے بعد چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے صحافیوں کو بتایا کہ آئینی ترمیم سے متعلق ’کافی کچھ اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ اب مزید بھی ضرورت ہے۔ جمہوریت کی خوبصورتی ہی یہی ہے کہ جب آپ قانون سازی کرتے ہیں تو پھر کسی حد تک اتفاق رائے ضروری ہوتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی کوشش یہی ہے کہ یہ اٹھارویں ترمیم کی طرح متفقہ آئینی ترمیم ہو۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ایک جماعت نے چیف جسٹس اور آرمی چیف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

    مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر حکومتی وفد کی ملاقات کے بعد پی ٹی آئی وفد بھی پہنچا جس کی قیادت چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کی جبکہ وفد میں اسد قیصر، عمر ایوب، شبلی فراز اور صاحبزاہ حامد رضا شامل تھے۔ بیرسٹر گوہر نے صحافیوں کو بتایا کہ مولانا فضل الرحمن حکومت کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں اور وہ اپنے اصولوں پر قائم ہیں۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے نمبر پورے نہیں تھے اس لیے اجلاس ملتوی ہوا۔ انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ قومی اسمبلی میں ہونے کی وجہ سے ’مجھے مولانا فضل الرحمٰن سے متعلق کوئی علم نہیں ہے۔‘

    جے یو آئی کے ہی ایک رہنما حافظ حمداللہ نے اس آئینی ترمیم سے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کس قسم کی ترامیم ہیں جو کابینہ، وزرا اور اتحادیوں اور اپوزیشن سے بھی چھپائی جاتی ہیں جبکہ پوری حکومت مولانا کی ہاں یا نہ پر کھڑی ہے۔‘

    ’میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں‘

    JUI

    ،تصویر کا ذریعہJUI-F

    اجلاس سے قبل سربراہ جے یو آئی نے پارلیمنٹ آمد کے موقع پر صحافی نے سوال کیا تھا کہ آئینی ترمیم کا مسودہ اب تک آپ کو نہیں دیا گیا، کیا حکومت کو آپ پر اعتماد نہیں؟ جس پر مولانا فضل الرحمٰن نے جواب دیا کہ یہ سوال آپ حکومت سے پوچھیں۔ صحافی نے سوال کیا تھا کہ آپ کے جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں تو مولانا فضل الرحمٰن نے جواب دیا کہ ’میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں۔‘

    قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم پر درکار ووٹوں کے حصول کے لیے حکومت اور اپوزیشن دونوں مولانا فضل الرحمٰن کو منانے کے لیے کوشاں رہیں۔ حکومتی وفد میں ڈپٹی وزیراعظم اسحٰق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڈ شامل تھے۔ حکومتی وفد کے بعد پی ٹی آئی کے وفد نے ان سے ملاقات کی۔

    حکومتی جماعت مسلم لیگ ن اور اس کی اتحادی جماعتوں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے اپنے اراکین کو وفاقی دارالحکومت میں ہی رہنے کی ہدایت کر رکھی ہیں تا کہ قانون سازی کے لیے دونوں ایوانوں میں ان کی موجودگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    ’آئینی ترمیم پر مشاورت کا سلسلہ جاری ہے‘

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ حکومتی جماعتوں اور اپوزیشن کے درمیان آئینی ترمیم پر مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور آئینی ترمیم ایک سنجیدہ معاملہ ہے تو جب تک وسیع تر سیاسی مشاورت مکمل نہیں ہو جاتی ہے تو اس پر آگے بڑھنے میں تھوڑی تاخیر ہو جاتی ہے۔

    آئینی ترمیم کے حوالے سے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ یہ آئینی ترمیم کا معاملہ ہے اور جب آئین پاکستان میں ترمیم کی جاتی ہے تو بہت سنجیدگی سے ایک ایک شق اور لفظ پر غور کیا جاتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس پر ’باقاعدہ بحث مباحثہ بھی ہوتا ہے اور قانونی ماہرین سے ایک ایک نکتے پر رائے طلب کی جاتی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس میں تمام جماعتوں کے آئینی ماہرین بھی موجود ہیں تاکہ جو بھی آئینی ترامیم لائی جائیں اس کے مسودے میں مزید بہتری لانے کے حوالے سے بھی مشاورت ہو رہی ہے اور قانونی ماہرین کی رائے اس لیے اہم ہے کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا اہم موڑ ہے جس میں ترمیم ہونے جا رہی ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ آئینی ترمیم پارلیمنٹ کا استحقاق ہے۔

    govt

    ،تصویر کا ذریعہPID

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ تاخیر کی وجہ مشاورت اور مشاورت کا دائرہ کار وسیع کرنا ہے اور پارلیمنٹ کی تمام جماعتوں کو اس کا حصہ بنانا ہے، اگر آج ایوان میں آج اسے پیش کیا جاتا ہے تو اسے شق در شق پڑھا جائے گا اور اسی طرح ووٹنگ ہو گی۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلسل التوا کے سوال پر وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ کوئی بچوں کا کھیل تو ہے نہیں، اس میں تاخیر ہو سکتی ہے کیونکہ جب آئین میں ترمیم ہوتی ہے تو ایک ایک نکتے پر، ایک ایک لائن پر بات چیت ہوتی ہے، تو اچھا ہے کہ مشاورت کے نتیجے میں اتفاق رائے کی صورتحال پیدا ہو جائے۔

    اجلاس بلا کر مسلسل ملتوی کرنے کے حوالے سے ایک اور سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ کوئی آن آف کا بٹن تو ہے نہیں کہ ادھر ترمیم آن کردی، ادھر ترمیم آف کردی۔ یہ لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال ہے، ہم پرامید ہیں تو جمہوری معاشروں میں ایسا ہی ہوتا ہے۔

    اتوار کو آئینی ترمیم سے متعلق مشاورت کے لیے قومی اسمبلی کی پارلیمانی امور سے متعلق خصوصی کمیٹی کا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوا جس میں جمعیت علمائے اسلام، جے یو آئی، کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن آئینی ترمیم پر فیصلے سے قبل مزید مشاورت کی تجویز دی۔ چارٹر آف پارلیمنٹ کے لیے تشکیل کردہ حکومت اور اپوزیشن رہنماؤں پر مشتمل قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین خورشید شاہ کی زیرصدارت ہوا۔ کمیٹی کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی بھی پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں شریک تھے جہاں اٹارنی جنرل منصور عثمان نے کمیٹی کو مجوزہ آئینی ترمیم پر بریفنگ دی۔ سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن، وزیر قانون اعظم تارڑ، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، چیئرمین پی ٹی آئی گوہر خان بھی کمیٹی اجلاس میں شریک رہے۔

    خورشید شاہ نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ابھی کچھ طے نہیں ہوا، جب تک کابینہ منظوری نہیں دے گی مسودہ نہیں دے سکتے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ابھی تک کابینہ میں مسودہ نہیں گیا، کابینہ کی منظوری کے بعد ہی مسودہ آئے گا۔‘

  20. پیٹرول کی قیمت میں دس روپے کی کمی کر دی گئی

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں کمی کا اعلان کردیا ہے۔ قیمتوں کا اعلان آئندہ 15 روز کے لیے کیا گیا ہے جس کا اطلاق گذشتہ رات 12 بجے سے کر دیا گیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جبکہ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 12 روپے 12 پیسے کی کمی کی گئی ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 13روپے چھ پیسے فی لیٹر کمی کردی گئی ہے۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں 11روپے 15 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے اعلامیے کے مطابق عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے پیش نظر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کی ہے۔

    بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرول کی اوسط قیمت 81 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 76 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آ گئی جب کہ گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 88.5 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر تقریباً 83 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

    @Financegovpk

    ،تصویر کا ذریعہ@Financegovpk