آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

امریکہ کے شہر منیپولس میں امیگریشن اہلکار کی فائرنگ سے خاتون کی ہلاکت کے بعد مظاہروں کا سلسلہ جاری

امریکی ریاست مینیسوٹا کے شہر منیاپولس کی سڑکوں پر ایک امریکی امیگریشن افسر نے خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جس کے بعد شہر میں رات بھر احتجاجی مظاہرے جاری رہے۔

خلاصہ

  • وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے تاہم اس کے خاتمے تک چین سے نہيں بیٹھیں گے۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسے بل کی حمایت کی ہے جو روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک ٹیرف (محصولات) عائد کر سکتا ہے۔
  • تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ دہشت گردی پر سیاست نہ کرنے کے حوالے سے شروع سے موقف واضح ہے کہ دہشتگردی کو ہرحال میں جڑ سے اکھاڑنا قومی فریضہ ہے۔
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ افواج پاکستان ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی استحکام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔

لائیو کوریج

  1. بلوچستان میں سیکورٹی فورسز نے گذشتہ سال 90 ہزار انٹیلیجنس آپریشنز کیے: سرکاری حکام کا دعویٰ, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    بلوچستان کے سرکاری حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے گذشتہ سال کے دوران بلوچستان میں 90 ہزار انٹیلیجینس بیسڈ آپریشنز کیے۔

    ‎بلوچستان کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ کے ہمراہ کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان آپریشنز میں مبینہ طور پر کالعدم عسکریت پسند اور شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے سات سو سے زائد افراد مارے گئے۔

    یہ پریس کانفرنس انھوں نے بدھ کے روز آئی جی پولیس کے دفتر میں کی لیکن اسے اس وقت آن ایئر نہیں کیا گیا بلکہ اسے جمعرات کو سہہ پہر پاکستانی نیوز چینلز نے اس وقت آن ایئر کیا جب وزیر اعظم میاں شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ میں موجود تھے۔

    پریس کانفرنس میں شریک صحافیوں نے بتایا کہ پرائیویٹ میڈیا کے کیمرہ مینوں کو اس پریس کانفرنس کی ریکارڈنگ کی اجازت نہیں دی گئی۔

    بلوچستان میں سابق آمر پرویز مشرف کے دور میں حالات کی خرابی کے بعد سے ایک سال کے دوران بلوچستان میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کی یہ سب سے بڑی تعداد تھی جو کہ روزانہ کے حساب سے 246 بنتے ہیں۔

    ‎سیکریٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال چار سو سکیورٹی اہلکار اور شہری مارے گئے۔ ‎ان کا کہنا تھا کہ 2025 کے آخری تین ماہ میں شدت پسندوں کے حملوں میں کمی آئی۔

    ‎انھوں بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے ایک کاروائی میں ایک اہم عسکریت پسند ساجد عرف شاویز کو گرفتار کیا۔ ‎ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے ساجد کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے اسلام آباد کی اسلامک یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور وہ تربت یونیورسٹی میں استاد بھی رہے۔ ‎

    ان کا کہنا تھا کہ ساجد پنجگور سے ایک گاڑی میں تربت اسلحہ لے جارہے تھے جن میں جدید اسلحہ کے علاوہ خود کش جیکٹ اور گولہ بارود برآمد شامل تھے۔

    ‎انھوں نے دعویٰ کیا کہ ساجد تربت میں کالعدم تنظیم کے لیے ریکی اور دیگر سہولت کاری میں ملوث تھے اور وہ ‎افغانستان میں کالعدم تنظیم کے ایک کمانڈر دوستین سے بھی جا کر ملے۔ ‎

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ چھوٹی عمر کے لوگ دہشت گردوں کے لیے پیسہ اور ادویات کی رسد کا کام کرتے ہیں۔

    ‎ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سرکاری ہسپتالوں کے سرجیکل آلات اور ادویات بھی دہشت گردوں تک پہنچ رہی ہیں۔ ‎

    انھوں نے کہا کہ خاران اور دیگر علاقوں سے بعض دیگر نوجوانوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے ۔ اس پریس کانفرنس میں بی وائی سی پر کالعدم عسکریت پسندوں کے لیے سہولت کاری کے سنگین الزامات عائد کیے گئے جن کو بی وائی سی مسترد کرتی رہی ہے۔

  2. امریکہ کے شہر منیپولس میں امیگریشن اہلکار کی فائرنگ سے خاتون کی ہلاکت، مظاہروں کا سلسلہ جاری

    امریکی ریاست مینیسوٹا کے شہر منیاپولس کی سڑکوں پر ایک امریکی امیگریشن افسر نے خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جس کے بعد شہر میں رات بھر احتجاجی مظاہرے جاری رہے۔

    مقامی میڈیا میں 37 سالہ رینی نکول گڈ کے نام سے شناخت کی جانے والی خاتون کو بالکل قریب سے (پوائنٹ بلینک رینج) اس وقت گولی ماری گئی جب وہ بظاہر ان ایجنٹوں سے گاڑی بھگا کر دور جانے کی کوشش کر رہی تھیں جنھوں نے اس کی کار کو گھیر رکھا تھا۔

    واقعہ بدھ کی صبح مقامی وقت کے مطابق 10:25 بجے پیش آیا۔

    واقعے کی فوٹیج میں ایک نقاب پوش امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) ایجنٹ کو ہونڈا ایس یو وی میں تین بار گولیاں چلاتے ہوئے دیکھا گیا جس کے بعد گاڑی بے قابو ہو کر کھڑی گاڑیوں سے ٹکراتی دیکھی گئی جبکہ خوفزدہ عینی شاہدین وفاقی افسران کو ٹوکتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    ویڈیو میں مظاہرین سڑک کے کنارے موجود ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گاڑیاں قریب دکھائی دیتی ہیں۔

    اس واقعے کے بعد سے شہر بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ شہر کے ڈیموکریٹک میئر جیکب فری نے امیگریشن اہلکاروں سے شہر چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔

    دوسری جانب منیپولس پولیس چیف برائن او’ہارا کا کہنا تھا کہ خاتون ڈرائیور اپنی گاڑی میں موجود تھی اور سڑک پر رکاوٹ کا سبب بن رہی تھی۔ ایک وفاقی اہلکار پیدل اس کے قریب آیا، جس پر خاتون نے گاڑی آگے بڑھانے کی اور انھیں مارنےکی کوشش کی۔

    امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی سیکریٹری کرسٹی نوم نے کہا ہے کہ رینی نیکول گوڈ دن بھر امیگریشن اہلکاروں کا پیچھا کرتی رہیں اور رکاوٹ ڈالتی رہیں اور اپنی گاڑی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ایک اہلکار کو کچلنے کی کوشش کی، جسے انھوں نے ڈومیسٹک ٹیررازم قرار دیا۔

    نوم کے مطابق وفاقی اہلکار نے دفاع کے طور پر فائرنگ کی اور خود بھی زخمی ہوا، تاہم اسے مقامی سپتال میں علاج کے بعد فارغ کر دیا گیا۔

  3. شدت پسندوں کو ہمسایہ ممالک سے سپورٹ حاصل ہے، وزیر اعظم کی کوئٹہ میں گفتگو

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے۔ اس شدت پسندی کے پیچھے خوارجی ہیں جنھیں ہمسایہ ملکوں کی سپورٹ حاصل ہے تاہم اس کے خاتمے تک چین سے نہيں بیٹھیں گے۔

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اپنے دورے کے بعد اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ آج بھی جاری ہے۔ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، استحکام اور عوامی فلاح کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم آج ایک روزہ دورے پر کوئٹہ گئے تھے۔ دورہ کوئٹہ کے موقع پر گورنر بلوچستان جعفر مندوخیل اور وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی سے ملاقات کی۔

    وزیر اعظم نے اس دوران اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کو درپیش مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لیے تمام وسائل استعمال میں لائیں گے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان حکومت کی جانب سے صوبے میں ترقی کے فروغ، امن و امان کے قیام، سیاسی ہم آہنگی کے استحکام اور وزیر اعظم کمپلینٹ سیل پر درج عوامی شکایات کے مؤثر ازالے کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔

    ان کا کہنا تھا کہ تمام چیلینجز کے باوجود بلوچستان کی کابینہ عوامی خدمت میں مصروف عمل ہے۔

    اس سے قبل چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے وزیر اعظم کو صوبے میں مختلف شعبہ جات میں کی جانے والی اصلاحات، ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت، اور بالخصوص تعلیم، صحت، گورننس اور عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

  4. ٹرمپ کا انڈیا سمیت روسی تیل خریدنے والے ممالک پر ’500 فیصد تک ٹیرف‘ لگانے کا منصوبہ زیر غور

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسے بل کی حمایت کی ہے جو روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک ٹیرف (محصولات) عائد کر سکتا ہے۔

    یہ بل وائٹ ہاؤس کو انڈیا اور چین جیسے ممالک پر دباؤ ڈالنے کا موقع دے گا تاکہ وہ روس سے سستا تیل خریدنا بند کر دیں۔

    یاد رہے کہ انڈیا پر ٹیکس ٹرمپ نے انڈیا پر 50 فیصد ٹیرف لگا رکھا ہے، اس میں روسی تیل کی خریداری پر عائد ہونے والا 25 فیصد محصول بھی شامل ہے۔

    سینیٹر لنڈسے گراہم اور رچرڈ بلیومینتھال نے روس پر پابندیوں کا قانون 2025 متعارف کرایا ہے جو ان ممالک پر محصولات اور پابندیاں عائد کرے گا جو 'یوکرین پر روس کی ظالمانہ جنگ کو مالی مدد دے رہے ہیں۔'

    یہ بل روس سے تیل خریدنے اور اسے آگے بیچنے پر 500 فیصد محصول عائد کرنے کی تجویز دیتا ہے۔

    سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے تقریباً ہر رکن نے ہی اس کی حمایت کی ہے۔

    لنڈسے گراہم اور رچرڈ بلیومینتھال نے گزشتہ سال اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ’روس یوکرین خوں ریزی روکنے کے لیے صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے ایک نیا جرات مندانہ قدم اٹھایا ہے۔ تاہم اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے حتمی حل یہی ہے کہ چین، انڈیا اور برازیل پر ٹیکس لگایا جائے کیوں کہ روس سے سستا تیل اور گیس خرید کر یہ ملک پوتن کی جنگ کی حمایت کر رہے ہیں۔‘

    اس ہفتے کے آغاز میں لنڈسے گراہم نے امریکہ میں انڈین سفیر ونے موہن کواترا سے ہوئی اپنی گفتگو کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔

    لنڈسے گراہم کے مطابق ونے موہن نے انھیں بتایا کہ انڈیا نے روسی تیل کی خریداری کم کر دی ہے اور ان کے ذریعے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ پیغام بھجوایا ہے کہ وہ انڈیا پر عائد محصولات میں نرمی کریں۔

    اتوار کے روز ٹرمپ کے ساتھ ان کے صدارتی طیارے ائیرفورس ون میں سفر کرتے ہوئے سینیٹر لنڈسے گراہم نے بل کے بارے میں بات کی۔

    انھوں نے کہا کہ روس یوکرین تنازع ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے کلائنٹس پر دباؤ ڈالا جائے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ پابندیاں روس کو بہت نقصان پہنچا رہی ہیں اور پھر انھوں نے انڈیا کا ذکر کیا۔ انڈیا کے سفیر سے ملاقات س کے بعد گراہم نے کہا کہ امریکہ نے روس سے تیل خریدنے پر انڈیا پر 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ’ایک ماہ پہلے میں انڈین سفیر کے گھر تھا اور وہ صرف یہ بات کرنا چاہتے تھے کہ انڈیا روس سے کم تیل خرید رہا ہے۔‘

    لنڈسے گراہم کے مطابق اس وقت انڈین سفیر نے ان سے پوچھا کہ ’کیا آپ ٹیرف میں استثنیٰ دینے کے لیے صدر سے درخواست کریں گے؟‘

    امریکی سینیٹر نے بتایا کہ ’یہ حکمت عملی کارآمد ہے۔ لیکن اگر آپ سستا روسی تیل خرید کر پوتن کی جنگی مشین کو چالو رکھ رہے ہیں تو ہم صدر کو یہ اختیار دینا چاہتے ہیں کہ وہ ٹیرف کے ذریعے ان ممالک کے لیے مشکل پیدا کر سکیں۔ میرا ماننا ہے کہ ٹرمپ نے انڈیا کے ساتھ جو کیا اسی وجہ سے انڈیا روس سے کہیں کم تیل خرید رہا ہے۔‘

    امریکہ میں انڈین سفیر ونے کواترا نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر گزشتہ ماہ کئی امریکی سینیٹرز کی میزبانی کی۔ ان میں گراہم، بلیومینتھال، شیلڈن وائٹ ہاؤس، پیٹر ویلچ، ڈین سلیوان اور مارک وین ملن شامل تھے۔

    انڈین سفیر نے ایکس پر لکھا ’توانائی، دفاعی تعاون سے لے کر تجارت اور اہم عالمی امور تک ہم نے انڈیا امریکہ شراکت داری پر مفید گفتگو کی۔ میں مضبوط انڈیا امریکہ تعلقات کی حمایت کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘

  5. سندھ میں ریلوے کے چھ روٹس کی بحالی کے لیے صوبائی حکومت کا جدید ٹرینیں خریدنے کا فیصلہ, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام،کراچی

    پاکستان ریلوے نے صوبہ سندھ میں چھ اہم روٹس کی بحالی کا فیصلہ کیا ہے جس میں کوٹڑی سے دادو، دادو سے لاڑکانہ، حیدرآباد سے میرپور خاص، روہڑی سے جیکب آباد اور حیدرآباد تا بدین سمیت دیگر روٹس شامل ہیں۔

    یہ فیصلہ کراچی میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کے درمیان ملاقات میں کیا گیا۔

    اجلاس میں صوبے میں 858 کلومیٹر طویل ریلوے نیٹ ورک کو جدید بنانے پر بھی اتفاق ہوا۔ وزیر اعلیٰ ہاوس کے ترجمان کے مطابق وزیر اعلیٰ نے وفاقی وزیر کو یقین دہانی کرائی کہ سندھ حکومت ریلوے کے 858 کلومیٹر طویل نیٹ ورک کی بحالی کے لیے فنڈنگ فراہم کرنے پر غور کرے گی۔

    اعلامیے کے مطابق اجلاس میں سندھ میں بغیر پھاٹک والے 100 ریلوے کراسنگ کو محفوظ بنانے کے لیے چھ ارب روپے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا۔

    وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے ریلوے منصوبوں کے لیے 6.6 ارب روپے دینے کی منظوری دے دی اور کہا کہ سندھ حکومت وفاق سے مل کر سندھ کے عوام کے لیے ریلوے کے جدید منصوبوں کا آغاز کر رہی ہے۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر ریلوے نے بتایا کہ روہڑی ریلوے سٹیشن کی عالمی معیار کے مطابق تزئین و آرائش کے لیے ایک ارب روپے مختص کیا ہے۔

    وزیر اعلی نے انھیں بتایا کہ سندھ حکومت چھ جدید ترین ’ڈی ایم یو‘ٹرین خریدنے پر غور کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے ان جدید ٹرینیوں کی تمام تفصیلات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

  6. ہم پر پریس کانفرنس کے ذریعے الزام تراشی نہ کی جائے، پی ٹی آئی نے ہمیشہ دہشتگردی کی مذمت کی ہے: بیرسٹر گوہر

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ دہشت گردی پر سیاست نہ کرنے کے حوالے سے شروع سے موقف واضح ہے کہ دہشتگردی کو ہرحال میں جڑ سے اکھاڑنا قومی فریضہ ہے۔

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت گڈ گورننس میں اعلیٰ مقام رکھتی ہے، آج کی پریس کانفرس میں کچھ باتوں پر وضاحت ضروری ہے۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ ضروری ہے، نیشل ایکشن پلان پر عمل درآمد کروایا جائے۔ دہشت گردوں کا کوئی مذہب کوئی جماعت نہیں، یہ کہنا کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں تعاون نہیں کر رہی، یہ مناسب نہیں اور حقیقت کے برعکس بات ہے۔‘

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران بیرسٹر گوہر نے کہا دہشت گردی کا کوئی بھی نشانہ بنے پی ٹی آئی اس کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔ ہمیشہ سے صف اول میں کھڑے ہو کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی اور نشانہ بنے۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’مذاکرات کا گرین سگنل سپیکر کو ملا ہو گا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کا اختیار محمود اچکزئی کے پاس ہے۔ وہ پہلے ہی مذاکرات کے لیے تیار ہونے کا کہہ چکے لیکن حکمران بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہماری ملاقات نہیں کروا رہے۔‘

    ان کے مطابق ’عمران خان سے بہنوں کی اور بشریٰ بی بی سے ان کی فیملی کی ملاقات کروائیں ۔ بانی پی ٹی آئی جو کہیں گے ویسا ہی کیا جائے گا۔‘

    اس موقع پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آئندہ پانچ سے 10 سال چلنے والی قومی پالیسی بنانا چاہتے ہیں۔

    پی ٹی آئی پر تہمت لگانا مناسب نہیں: سلمان اکرم راجہ

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہم دہشتگردی کے خلاف کھڑے ہیں، لوگوں کو بے گھر نہیں دیکھنا چاہتے، ہمارا پیغام یکجہتی کا پیغام ہے، ہم پاکستان کے امن کے ساتھ کھڑے ہیں، پی ٹی آئی پر تہمت لگانا مناسب نہیں، ہمارے ساتھ بیٹھ کر لائحہ عمل تیار کریں، ایک دوسرے سے سیکھیں۔‘

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمیں پالیسی بنانے کے عمل میں شامل رکھا جائے، پی ٹی آئی عوام اوراداروں کے درمیان خلیج کو ختم کرسکتی ہے۔

    اداروں اور عوام کے درمیان ہم آہنگی ہونی چاہیے: اسد قیصر

    اس موقع پر پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے کہا کہ پورے خیبرپختونخوا کے عوام نے مطالبہ کیا کہ ہم ہر قسم کی دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں، وفاقی حکومت صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لے کر فیصلہ کرے، دہشت گردی کے خلاف مزید سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم قائد اعظم کا پاکستان چاہتے ہیں جہاں آئین و قانون کی عمل داری ہو، قبائلی علاقوں کو فنڈز نہیں دیے گئے، وہاں غربت میں اضافہ ہوا،صوبے کے نوجوانوں کو امید دیں اور روزگار فراہم کریں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اداروں اور عوام کے درمیان ہم آہنگی ہونی چاہیے، ہمیں جلسے کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، ہماری جماعت پُرامن ہے۔‘

  7. افواج پاکستان ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی استحکام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر

    فیلڈ مارشل عاصم منیر نے لاہور گیریژن کے دورے کے موقع پر کہا ہے کہ مسلح افواج ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی استحکام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔

    پاکستان کے سرکاری ٹیلیویژن پی ٹی وی کے مطابق آرمی چیف نے لاہور گیریژن کا دورہ کیا جہاں کور کمانڈر لاہور نے چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا استقبال کیا۔

    اس موقع پر آرمی چیف کو فارمیشن کی آپریشنل تیاری، تربیتی معیار اور جنگی صلاحیت بڑھانے سے متعلق اہم اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    پی ٹی وی کے مطابق آئی ایس پی آر کے مطابق دورے کے دوران چیف آف ڈیفنس فورسز نے خصوصی فیلڈ ٹریننگ مشق کا مشاہدہ کیا جس میں جدید ترین ٹیکنالوجیز کے استعمال کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔

    یاد رہے کہ یہ مشق مستقبل کے جنگی ماحول سے ہم آہنگی، جدت اور لچک پر پاک فوج کی بھرپور اور مؤثر توجہ کو اجاگر کرتی ہے۔افسران سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف ڈیفنس فورسز نے قومی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے کے خلاف پاکستان کی فوج کی زیرو ٹالرنس پالیسی پر زور دیا۔

    انھوں نے کثیرالجہتی چیلنجز کا بھرپور عزم، پیشہ ورانہ مہارت اور یکسوئی سے مقابلہ کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

    فیلڈ مارشل نے پاکستان کی فوج کے بنیادی مشن کو دہراتے ہوئے کہا کہ ’مسلح افواج ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی استحکام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں جہاں بہترین کارکردگی، نظم و ضبط اور بے لوث قومی خدمت کی روایت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔‘

    اس موقع پر انھوں نے فوجی جوانوں کے لیے فراہم کی جانے والی کھیلوں اور تفریحی سہولیات کا بھی معائنہ کیا اور جسمانی فٹنس، حوصلے اور مجموعی فلاح و بہبود کے اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سی ایم ایچ لاہور کے ہائی کیئر سینٹر کا بھی دورہ کیا، جہاں انھوں نے مکمل طور پر جدید سہولیات سے آراستہ طبی مرکز کے قیام پر عملے اور انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا۔

  8. کوئٹہ میں نومولود بچوں کی نجی نرسری میں بچے کی تبدیلی کا معاملہ: ’ہماری خوشی کو اذیت میں بدل دیا گیا‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    ’ہمارے پہلے بچے کی پیدائش کی خوشی کو نجی نرسری کے عملے نے پریشانی اور اذیت میں بندل دیا۔‘

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے نظام الدین نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’ہمارے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی لیکن نجی بے بی کِئیر سینٹر یا نرسری والوں نے مبینہ طور پر ہمارے بچے کو غائب کر کے ہمیں ایک بچی حوالے کرنے کی کوشش کی۔‘

    محکمہ صحت بلوچستان نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ہیلتھ کیئر کمیشن کو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

    پولیس نے مبینہ طور بچے کو تبدیل کرنے کے الزام میں بے بی کئیر سینٹر کے عملے خلاف مقدمہ درج کرکے دو افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

    ’بچے کی بجائے بچی حوالے کرنے کی کوشش‘

    بچے کے والد نظام الدین کے مطابق وہ تین جنوری کو اپنی اہلیہ کو بچے کی پیدائش سے قبل سول ہسپتال کوئٹہ لے گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’جب بچے کی پیدائش ہوئی تو کمزور ہونے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ ان کو انکیوبیٹر میں رکھا جائے۔

    ’ڈاکٹروں کے مشورے پر بچے کو جب سول ہسپتال کوئٹہ میں واقع بچوں کے خصوصی نگہداشت کے مرکز لے جایا گیا تو وہاں گنجائش نہ ہونے کے باعث بچے کو جناح روڈ پر واقع ایک نجی بے بی کیئر سینٹر لے جایا گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ بے بی کیئر سینٹر کے عملے نے بچے کو داخل کرکے علاج شروع کیا جہاں بچے کی حالت کافی حد تک بہتر ہوئی۔

    انھوں نے بتایا کہ ’جب سینٹر کے عملے کی جانب سے بچے کو لے جانے کی کال آئی تو میں اپنی والدہ کے ساتھ سینٹر پہنچا تو ہمیں اس بات سے شدید صدمے پہنچا کہ جب ہمیں اپنے بیٹے کی بجائے ایک بیٹی دینے کی کوشش کی گئی۔‘

    ’ریکارڈ میں بھی تبدیلی کی گئی‘

    نظام الدین نے دعویٰ کیا کہ ’بے بی کیئر سینٹر کے عملے نے نہ صرف ہمیں بچے کی بجائے بچی دینے کی کوشش کی بلکہ مبینہ طور پر ریکارڈ میں بھی تبدیلی کی۔‘

    ان کے مطابق اس حوالے سے ہمیں جو دستاویز فراہم کی گئی اس میں یہ واضح طور پر یہ نظر آرہا ہے کہ جنس کے خانے میں میل کے لیے ایم کو ایف یعنی فیمیل کردیا گیا ہے۔

    نظام الدین نے الزام لگایا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ بے بی کیئر سینٹر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو غائب کردیا گیا ہے کیونکہ ہمارے شدید اسرار اور احتجاج کے باوجود وہ ہمیں نہیں دکھائی گئی۔‘

    نظام الدین کے بڑے بھائی اصل دین دعوی کیا کہ ’بے بی کیئر سینٹر میں سندھی بولنے والے بعض لوگوں سے ہماری ملاقات ہوئی جنھوں نے ہمیں بتایا کہ سینٹر والوں نے ہمیں دو روز قبل ایک مردہ بچہ حوالے کیا جس کی تدفین سریاب میں کی گئی۔‘

    مبینہ طور پر اصل دین کے مطابق ’ان سندھی بولنے والوں کا بھی یہ دعویٰ تھا کہ جو بچہ ان کے حوالے کیا گیا وہ ان کا نہیں تھا۔‘

    بچے کے مبینہ تبدیلی کے الزام کے حوالے سے بے بی کیئر سینٹر کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن یہ بتایا گیا کہ اس کے انچارج ہی اس حوالے سے بات کریں گے لیکن وہ اس وقت پولیس تھانے میں ہیں۔

    نظام الدین کا کہنا تھا کہ ’جمعرات کے روز ہمیں ڈی این اے ٹیسٹ کا کہا گیا ہے اور سرکاری حکام نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے گا۔‘

    انھوں نے بتایا کہ اس واقعے کا مقدمہ سٹی پولیس سٹیشن میں درج کیا گیا ہے۔

    سٹی پولیس سٹیشن کے ڈی ایس پی انور علی نے بتایا کہ اس سلسلے میں بے بی کیئر سینٹر کے عملے کے دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے تفتیشں جاری ہے۔

    دوسری جانب وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ہیلتھ کیئر کمیشن کو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

    وزیر صحت کا کہنا ہے کہ معاملے کی ہر پہلو سے مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ ہیلتھ کیئر کمیشن 24 گھنٹے میں واقعہ سے متعلق رپورٹ پیش کرے گا۔

    انھوں نے کہا کہ تحقیقات کا عمل میرٹ پر مکمل کیا جائے گا اور کسی کے ساتھ بھی ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔

    وزیر صحت کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد جہاں بھی غیر قانونی عمل سامنے آیا ملوث عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔

  9. پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق: ترجمان پاکستان فضائیہ

    پاکستان فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے سعودی عرب کے سرکاری دورے کے دوران رائل سعودی ایئر فورس کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ترکی بن بندر بن عبدالعزیز اور چیف آف جنرل سٹاف، جنرل فیاض بن حمید الرویلی سے ملاقات کی۔

    پاکستان فضائیہ کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستانی فضائیہ کے سربراہ کی آمد پر انھیں رائل سعودی ایئر فورس کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ ملاقاتوں کے دوران دوطرفہ تعاون، علاقائی سلامتی کی موجودہ صورتحال اور مستقبل میں دفاعی اشتراک کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان کے مطابق دونوں ممالک کے فضائی سربراہان نے موجودہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تربیت، آپریشنل اشتراک اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے تبادلے کے ذریعے باہمی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے امر پر زور دیا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کو باہمی اعتماد اور پائیدار برادرانہ تعلقات کی واضح توثیق کا عملی نمونہ قرار دیا گیا۔ دونوں فریقین نے دفاعی تعاون کے نئے امکانات تلاش کرتے ہوئے اشتراکِ عمل کے دائرۂ کار کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا۔

    پاکستان فضائیہ کے ترجمان نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر کے دورہ سعودی عرب کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’دفاعی قیادت نے دونوں ممالک کے مابین مضبوط تعلق کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کی فضائی افواج کے مابین قائم قریبی اور دیرینہ روابط پر اطمینان کا اظہار کیا۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عسکری قیادت نے پاکستانی فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل برتری اور تیاریوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ہوا بازی اور ایرو سپیس صنعت میں اسکی بڑھتی ہوئی مقامی صلاحیتوں کا بھی اعتراف کیا۔

    ترجمان کے مطابق سربراہ پاکستان فضائیہ کا سعودی عرب کا یہ دورہ دفاع اور ہوا بازی کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا عکاس ہے۔

  10. روسی حملوں سے یوکرین کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل

    روس کی جانب سے یوکرین کے جنوب مشرقی علاقے کو نشانہ بنایا گیا ہے، ان حملوں سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے اور بیشتر علاقے تاریکی میں ڈوب گئے ہیں۔

    یوکرین کی وزارتِ توانائی کے مطابق بدھ کی شب روسی حملوں کے نتیجے میں ڈنیپروپیٹروسک اور زاپوریژیا کے علاقے تقریباً مکمل طور پر بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔

    وزارت نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا کہ اہم تنصیبات ’ریزرو پاور‘ پر چل رہی ہیں، جبکہ حکام کے مطابق پانی کی فراہمی اور انٹرنیٹ بھی متاثر ہوا ہے۔

    روس نے حالیہ دنوں میں یوکرین کے توانائی سے متعلق اہم ڈھانچے پر حملے تیز کر دیے ہیں، جن کا مقصد سخت سردیوں میں بجلی کی فراہمی کو مفلوج اور حالات کو مزی دمُشکل کرنا ہے۔

    یوکرین کی وزیرِاعظم یولیا سویریدینکو نے ٹیلیگرام پر لکھا کہ ’یوکرین کا پاور سسٹم روزانہ کی بنیاد پر دشمن کے حملوں کی زد میں ہے اور اس شعبے کے کارکن انتہائی مشکل حالات میں عوام کو بجلی اور حرارت فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    یوکرین کی وزیرِاعظم نے کہا کہ ’بگڑتے ہوئے موسمی حالات اہم تنصیبات پر مزید دباؤ ڈال رہے ہیں۔‘ بجلی کی فراہمی میں رکاوٹیں اس وقت سامنے آئی ہیں جب درجہ حرارت تیزی سے گر رہا ہے۔

    ریاستی توانائی کمپنی اوکرینرگو نے ٹیلیگرام پر اعلان کیا کہ حملے سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کام کا آغاز سکیورٹی صورتحال کے بہتر ہوتے ہی شروع کر دیا جائے گا۔

    ڈنیپرو شہر کے میئر بورس فیلاٹوف نے بتایا کہ شہر کے تمام ہسپتال مکمل طور پر جنریٹروں پر منتقل کر دیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’پانی کی ضروری فراہمی موجود ہے علاج کے عمل میں کسی بھی قسم کی مُشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔‘

    بجلی کی بندش کے باعث تعلیمی اداروں میں تعطیلات نو جنوری تک بڑھا دی گئی ہیں۔

  11. شامی حکومت اور کرد جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں ہزاروں افراد بے گھر، 12 افراد ہلاک

    شمالی شہر حلب میں شامی حکومت اور کرد جنگجوؤں کے درمیان دو روزہ شدید جھڑپوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ہزاروں شہری بھی کرد اکثریتی علاقوں شیخ مقصود اور اشرفیہ سے نقل مکانی کر گئے ہیں۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ان علاقوں میں مسلح گروہوں کے حملوں کے جواب میں کی گئی اور اس کا مقصد صرف ’سکیورٹی قائم رکھنا‘ ہے۔

    کرد قیادت والے شامی ڈیموکریٹک فورسز کے اتحاد نے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کی حلب میں کوئی فوجی موجودگی نہیں ہے اس کارروائی کو شہریوں کو زبردستی بے دخل کرنے کی ’مجرمانہ کوشش‘ قرار دیا ہے۔

    ایک حلب کے رہائشی نے بدھ کے روز بی بی سی کو بتایا کہ صورتحال ’انتہائی خوفناک اور ناقابلِ برداشت‘ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’میرے تمام دوست دوسرے شہروں کو جا چکے ہیں۔ کبھی سکون ہوتا ہے اور اچانک جنگ دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔‘

    اشرفیہ سے بے گھر ہونے والے شخص سمر عیسیٰ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ وہ اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ ایک مسجد میں موجود ہیں جسے عاضی پناہ گاہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’گولہ باری شدید ہو گئی تھی۔ ہم اس لیے نکل آئے کیونکہ ہمارے بچے مزید دھماکوں اور گولہ باری کو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔‘ انھوں نے اس صورتحال کو ’دل دہلا دینے والا‘ قرار دیا۔

  12. جموں میں مسلح عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن جاری، ایک پولیس اہلکار زخمی, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں پولیس کا کہنا ہے کہ جنوبی صوبہ جموں میں ’بھِلاور‘ قصبے کے جنگلات میں وسیع پیمانے کا فوجی آپریشن جاری ہے۔

    جموں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ آپریشن کالعدم جیش محمد گروہ سے تعلق رکھنے والے تین مسلح عسکریت پسندوں کی اس علاقے میں موجودگی پر شروع کیا گیا ہے۔

    جموں کے انسپکٹر جنرل بھیم سین طُوطی کے مطابق بدھ کی شب گھیرے میں لیے گئے ان تین عسکریت پسندوں نے فورسز پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا۔

    یاد رہے کہ بھِلاور قصبہ جموں کے ہندو اکثریتی ضلع کٹھوعہ میں واقع ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ چند برسوں میں پیرپنجال کے ہمالیائی سلسلے کی دونوں جانب پونچھ، راجوری، ڈوڈہ، کشتواڑ، کٹھوعہ اور اُدھم پور کے جنگلاتی علاقوں میں مسلح عسکریت پسندوں سے متعدد مسلح جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں انڈین فورسز کے کئی افسر اور اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

    انڈین فوج کا دعویٰ ہے کہ (انڈیا کے زیر انتظام) کشمیر میں سنہ 2025 کے دوران مختلف فوجی آپریشنز میں لگ بھگ 46 عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

    انڈین فوج اور حکومتی وزرا متعدد بار یہ الزام عائد کر چکے ہیں کہ مارے گئے ان عسکریت پسندوں میں سے اکثریت پاکستان سے تعلق رکھتی ہے۔

    کٹھوعہ میں یہ تازہ جھڑپ ایسے وقت ہوئی ہے کہ جب انڈیا کے وزیرِ داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو نئی دلی میں جموں کشمیر کی سکیورٹی صورتحال پر ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جس میں فوج، نیم فوجی اداروں، پولیس اور خفیہ اداروں کے سربراہان شرکت کررہے ہیں۔

    تصادم کے بعد بھلاور کے وسیع جنگلات کا محاصرہ کیا گیا جس میں فوج، نیم فوجی سی آر پی ایف اور پولیس کا سپیشل آپریشن گروپ شامل ہے۔

    اس دوران پورے جموں صوبے میں سکیورٹی مزید سخت کی گئی اور اہم شاہراہوں پر مسافروں اور گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔

  13. ورلڈ کپ کھیلنا چاہتے ہیں لیکن ملک کی عزت و وقار کو داؤ پر لگا کر نہیں: بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ

    بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ساتھ اجلاس کے بعد کھیلوں کے مشیر ڈاکٹر آصف نذرول نے بدھ کے روز کہا کہ ’بنگلہ دیش ورلڈ کپ میں کھیلنا چاہتا ہے لیکن ملک کی عزت و وقار کو داؤ پر لگا کر نہیں۔‘

    بی بی سی بنگلہ کے مطابق انھوں نے خبردار کیا کہ کھلاڑیوں کی حفاظت اور بنگلہ دیش کی قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

    صحافیوں سے گفتگو میں آصف نذرول نے کہا کہ ’آئی سی سی کے خط کو پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ انڈیا میں موجود سکیورٹی خطرات کو سمجھ نہیں پائے ہیں۔ انڈیا میں کھیلنے کے لیے ماحول محفوظ نہیں ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’بنگلہ دیش دوسرے میزبان ملک سری لنکا میں کھیلنا چاہتا ہے۔‘

    بعد میں بی سی بی کے صدر امین الاسلام نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایک جائز وجہ کے بارے میں بات کر رہے ہیں یا اس معاملے کو اٹھا رہے ہیں۔ ہم نے اتنے ورلڈ کپ کھیلے ہیں اور کبھی ایسی بات نہیں کی۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر آئی سی سی کی جانب سے انڈیا میں کھیلنے کے لیے کہا جائے تو کیا بنگلہ دیش اپنا فیصلہ بدل دے گا؟ تو ای کے جواب میں امین الاسلام نے کہا کہ ’آئی سی سی مان جائے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہائبرڈ ورلڈ کپ منعقد کرنے کی اصل وجہ سکیورٹی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہم اپنے دلائل کو سمجھانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مثال کے طور پر، مصطفیض الرحمان کو سکیورٹی انتظامات میں مشکلات کی وجہ سے ٹیم سے باہر رکھا گیا ہے۔ پھر بنگلہ دیش سے ایک ٹیم اور شائقین کا گروہ میچ دیکھنے جائے گا، یہ ایک بڑی بات ہے۔ ہم ہر چیز کی تیاری کر رہے ہیں۔‘

    امین الاسلام نے کہا کہ ’جب چیمپئنز ٹرافی ہوئی تھی تو انڈیا پاکستان نہیں گیا تھا۔ پچھلے کچھ ورلڈ کپ میں بھی پاکستان انڈیا میں کھیلنے نہیں آیا تھا۔ اس لیے ہم بھی درست جواب ملنے کی امید رکھتے ہیں۔‘

    اس سے پہلے بدھ کے روز بی سی بی نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اس سال ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیشی ٹیم کی بلا رکاوٹ مکمل شمولیت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    بی سی بی نے ان میڈیا رپورٹس کی بھی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ بورڈ کو اس معاملے میں کوئی الٹی میٹم دیا گیا ہے۔

  14. وینزویلا کی عبوری صدر نے مادورو کی حفاظت پر معمور گارڈز کے کمانڈر کو برطرف کر دیا

    وینزویلا کی عبوری صدر نے صدارتی اعزازی گارڈ کے سربراہ جنرل خاویر مارکانو تاباتا کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب چند روز قبل امریکی فورسز نے کاراکاس میں کارروائی کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا، جہاں ان پر منشیات سے متعلق دہشت گردی کے الزامات کا مقدمہ چلایا جائے گا۔

    صدارتی اعزازی گارڈ یہ وہ فوجی دستہ ہے جو صدرِ مملکت کی حفاظت پر معمور باڈی گارڈز فراہم کرتا ہے۔

    تاہم گزشتہ روز یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ وینزویلا اور کیوبا کی حکومتوں نے اعلان کیا ہے کہ سنیچر کی شب امریکی کارروائی میں دونوں ممالک کی افواج کے 55 اہلکار ہلاک ہوئے، جس کے نتیجے میں صدر مادورو کو گرفتار کیا گیا۔ کیوبا کی حکومت نے اپنے 32 فوجیوں کے نام جاری کیے ہیں جو اس کارروائی میں ہلاک ہوئے۔

    جنرل مارکانو تاباتا کو برطرف کرنے کا حکم وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے جاری کیا۔

    روڈریگیز نے پیر کے روز نیشنل اسمبلی میں حلف اٹھایا تھا۔ وہ مادورو کی نائب صدر رہ چکی ہیں اور قید میں موجود صدر کی قریبی اتحادی سمجھی جاتی ہیں۔

    تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مادورو کی گرفتاری کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکہ وینزویلا کو ’چلائے گا‘ اور اس حوالے سے روڈریگیز سے بات چیت کر رہا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ ’اگر وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز امریکی مطالبات، خصوصاً تیل سے متعلق شرائط، پر عمل نہ کریں تو انھیں ’مادورو سے بھی بدتر انجام‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

  15. ٹرمپ کا اقوام متحدہ کے اہم ماحولیاتی معاہدے اور درجنوں بین الاقوامی تنظیموں سے دستبرداری کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں کہ جس کے تحت واشنگٹن 66 بین الاقوامی تنظیموں، کنونشنز اور معاہدوں سے دستبردار ہو جائے گا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ان اداروں میں مسلسل شمولیت کو ملک کے ’مفادات کے منافی‘ قرار دیا گیا ہے۔

    یہ حکم نامہ بدھ کے روز جاری کیا گیا، جس میں 35 غیر اقوامِ متحدہ کی تنظیمیں اور 31 اقوامِ متحدہ سے منسلک ادارے شامل ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ پر امریکی صدر کے اس فیصلے سے متعلق کہا گیا ہے کہ امریکہ جن تمام 66 بین الاقوامی تنظیموں، کنونشنز اور معاہدوں سے دستبردار ہونے جا رہا ہے وہ مُلک کے لیے ’غیر مؤثر، فضول اور نقصان دہ‘ تھیں۔

    ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق یہ ادارے اپنی حدود میں غیر ضروری، ناقص انتظام، فضول خرچی اور کمزور کارکردگی کے حامل ہیں۔ ان اداروں کو ایسے عناصر نے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا جو امریکی ترجیحات کے خلاف ہیں۔

    انتظامیہ نے مزید کہا ہے کہ ’یہ ادارے ملک کی خودمختاری، آزادی اور خوشحالی کے لیے خطرہ ہیں۔‘

    تاہم امریکی صدر نے کہا کہ ’اب یہ قابلِ قبول نہیں کہ امریکی عوام کا پیسہ ان اداروں کو دیا جائے جس کے بدلے میں کچھ حاصل نہ ہو۔‘

    انھوں نے واضح کیا کہ ’امریکی ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر غیر ملکی مفادات کی نذر کرنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔‘

    وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ یہ اقدام انتظامیہ کی ’امریکہ فرسٹ‘ پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔ ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ’آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک صدارتی میمورنڈم پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت امریکہ ان 66 بین الاقوامی تنظیموں سے دستبردار ہو رہا ہے جو اب امریکی مفادات میں نہیں۔‘

    ایگزیکٹو آرڈر کے تحت صدر ٹرمپ نے تمام وفاقی محکموں اور ایجنسیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوری اقدامات کریں تاکہ دستبرداری کے اس فیصلے کو جلد از جلد نافذ کیا جا سکے۔ اقوامِ متحدہ کے اداروں سے دستبرداری کا مطلب شرکت یا فنڈنگ ختم کرنا ہوگا۔

    میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ وزیرِ خارجہ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے جائزے اور کابینہ کے ارکان سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔

  16. ’مشکل اور خطرناک وقت‘: صدر ٹرمپ کا 50 فیصد اضافے کے ساتھ امریکی فوجی بجٹ 1.5 کھرب ڈالر کرنے کا مطالبہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ملک کو ’انتہائی مشکل اور خطرناک حالات‘ کا سامنا ہے، اس لیے دفاعی اخراجات کو سال 2027 تک ایک اعشاریہ پانچ کھرب ڈالر تک کیا جائے۔ یہ بجٹ موجودہ 901 ارب ڈالر سے 50 فیصد زیادہ ہوگا، جسے کانگریس نے دسمبر میں منظور کیا تھا۔

    امریکی صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ ’یہ اضافہ امریکہ کو ’ڈریم ملٹری‘ بنانے کا موقع دے گا جو ہر دشمن کے مقابلے میں ملک کو محفوظ رکھے گی۔‘

    انھوں نے خبردار کیا کہ دفاعی کمپنیوں کے سربراہان اور شیئر ہولڈرز کو کی جانے والی بڑی ادائیگیوں کی کڑی نگرانی بھی کی جائے گی کہ آیا یہ کمپنیاں ہتھیاروں کی ترسیل تیز کرنے کے لیے اپنے وعدے پر پورا اُتر رہی ہیں اور کیا یہ اس کام کے لیے نئے کارخانے قائم کر رہیں ہیں کہ نہیں۔

    ٹرمپ کے اعلان کے بعد امریکی دفاعی سازوسامان بنانے والی بڑی کمپنیوں لاک ہیڈ مارٹن، نارتھروپ گرومن اور ریتھیون کے شیئرز نیویارک میں 5 فیصد سے زیادہ بڑھ گئے ہیں۔

    معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کے اخراجات اور آمدنی کے درمیان فرق خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ تاہم ٹرمپ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ’آسانی سے‘ ایک اعشاریہ پانچ کھرب ڈالر کا بجٹ پورا کر سکتا ہے کیونکہ محصولات یعنی ٹیرِفز سے اضافی آمدنی حاصل ہو رہی ہے۔

    صدر نے کہا کہ فوجی سازوسامان تیزی سے تیار نہیں ہو رہا، اس لیے کمپنیوں کو جدید اور نئے کارخانے بنانے چاہئیں۔ انھوں نے دفاعی کمپنیوں پر الزام لگایا کہ وہ ’بڑے پیمانے پر‘ شیئر ہولڈرز کو ادائیگیاں درست انداز میں نہیں کر رہیں جبکہ ساتھ ہی پیداوار میں سرمایہ کاری نظرانداز کی جا رہی ہے۔

    ٹرمپ نے دفاعی کمپنیوں کے سربراہان کی ’بے حد زیادہ‘ تنخواہوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ’کسی بھی ایگزیکٹو کو پانچ لاکھ ڈالر سے زیادہ کمانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، حالانکہ یہ رقم اس وقت ان کی اصل آمدنی کا ایک چھوٹا حصہ ہے۔‘

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ کرنے کی تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

    بدھ کے روز امریکی فوج نے روسی پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو قبضے میں لیا جس پر امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کا شبہ تھا۔

    اس سے قبل سنیچر کے روز امریکی فورسز نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو کاراکاس سے گرفتار کر کے امریکہ منتقل کیا، جہاں ان پر منشیات سمگلنگ کے الزامات ہیں۔

    تاہم دوسری جانب دسمبر میں چین نے تائیوان کے گرد بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں کیں، جن میں جزیرے کے اہم علاقوں پر قبضے اور ناکہ بندی کی مشق شامل تھی۔

  17. امریکہ نے بحرِ اوقیانوس میں وینزویلا کے تیل کی سپلائی سے منسلک دو بحری جہازوں کو قبضے میں لے لیا

    امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ اس کی فورسز نے وینزویلا کے تیل کی برآمدات سے منسلک دو آئل ٹینکرز کو ’پے در پے‘ آپریشنز میں ضبط کر لیا ہے۔ یہ کارروائیاں شمالی بحرِ اوقیانوس اور کیریبین میں کی گئیں۔

    امریکی فورسز نے روسی پرچم بردار ٹینکر ’مارینیرا‘ کو تقریباً دو ہفتے کے تعاقب کے بعد آئس لینڈ اور سکاٹ لینڈ کے درمیان روک کر قبضے میں لیا۔ اس آپریشن میں امریکی فوج کو برطانوی رائل نیوی نے فضائی اور بحری معاونت فراہم کی۔

    دوسرا ٹینکر ’ایم/ٹی صوفیہ‘ کو امریکہ نے ’غیر قانونی سرگرمیوں‘ میں ملوث قرار دیتے ہوئے کیریبین میں روک کر ضبط کیا۔

    یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ وینزویلا کے خام تیل کی زیادہ تر برآمدات کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چند روز قبل ہی امریکی سپیشل فورسز نے کاراکاس میں ایک کارروائی کے دوران وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور اُن کی اہلیہ کو اُن کی رہائش گاہ سے حراست میں لینے کے بعد امریکہ منتقل کر دیا تھا۔

    یہ پیش رفت خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھانے کا سبب بن رہی ہے۔

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایکس پر لکھا کہ ’وینزویلا کے تیل پر عائد پابندی اور غیر قانونی برآمدات کا محاصرہ دنیا کے کسی بھی خطے میں مکمل طور پر نافذ ہے۔‘

    ماسکو نے امریکی فورسز کی جانب سے روسی پرچم بردار ٹینکر کو ضبط کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔

    روسی حکام نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی فورسز جہاز پر موجود روسی شہریوں کے ساتھ مناسب سلوک کریں اور انھیں جلد از جلد روس واپس جانے کی اجازت دی جائے۔ جبکہ روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ تیل برداد اس بحری جہاز کو ’عارضی طور پر روسی جھنڈے کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی۔

    مزید کہا گیا کہ ’کسی بھی مُلک یا ریاست کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے ممالک کے تحت رجسٹرڈ جہازوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرے۔‘

    واضح رہے کہ بدھ کے روز یہ خبر سامنے آئی تھی کہ روس نےاس تیل بردار بحری جہاز کی حفاظت کے لیے ایک آبدوز روانہ کی تھی، تاہم اس سے قبل ہی امریکی فورسز بغیر کسی مزاحمت کے ٹینکر پر سوار ہونے میں کامیاب ہو گئیں۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس حوالے سے جاری ہونے والے ایک بیان میں ’اس جہاز کو ’وینزویلا کا خفیہ بیڑا‘ قرار دیا جو جعلی پرچم کا استعمال کرتے ہوئے اپنی موجودہ حیثیت سے نکلنے کی کوشش میں تھا اور اس کے خلاف عدالتی حکم موجود تھا۔

  18. امریکی ریاست مینیسوٹا میں امیگریشن اہلکار کی فائرنگ سے خاتون ہلاک

    امریکی ریاست مینیسوٹا میں امریکا کے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ حکام (آئس) کے ایک اہلکار نے ایک خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ ہلاک خاتون کی شناخت 37 سالہ رینی نیکول کے نام سے ہوئی ہے۔

    یہ واقعہ منیاپولس شہر میں اس وقت پیش آیا جب یہاں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف آپریشن کی مخالفت میں احتجاج کیا جا رہا تھا۔

    ہوم لینڈ سکیورٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ خاتون نے گاڑی سے امیگریشن ایجنٹ کو کچلنے کی کوشش کی تھی تاہم منیاپولس شہر کے میئر جیکب فریے کا کہنا ہے کہ امیگریشن افسر نے لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاتون کی جان لے لی اور مطالبہ کیا کہ امیگریشن اہلکار علاقے کو چھوڑ دیں۔

    واضح رہے کہ منیاپولس میں غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کی وجہ سے وہاں تقریباً دو ہزار سے زیادہ امیگریشن اہلکار تعینات ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس واقعے پر رد عمل دیتے ہوئے آئس اہلکار کا دفاع کیا اور کہا کہ ان پر ’جارحانہ‘ انداز میں گاڑی چڑھائی گئی۔

    ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ وہ زندہ بچ گئے تاہم ہسپتال میں ان کا علاج جاری ہے۔‘

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس واقعے کے خلاف منیاپولس میں احتجاج بھی کیا گیا جبکہ ٹرمپ کے مخالفین نے دیگر امریکی شہروں میں بھی مظاہروں کا مطالبہ کیا ہے۔

  19. کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف بڑے آپریشن کا آغاز، پنجاب پولیس سے بھی مدد لینے کا فیصلہ, ریاض سہیل، بی بی سی اردوڈاٹ کام، کراچی

    سندھ حکومت نے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز کردیا ہےجس دوران پنجاب پولیس سے بھی مدد لی جائے گی۔

    وزیر داخلہ سندھ کی زیر صدارت سکھر اور لاڑکانہ رینجز میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس میں ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ سندھ اور پنجاب پولیس کے باہمی تعاون سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری ہیں اور آئندہ بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت اقدامات جاری رہیں گے۔

    اس موقع پر آئی جی سندھ نے اجلاس کو ہدایات دیں کہ میگا آپریشن کے حوالے سے درکار وسائل پر مشمل سفارشات جلد ارسال کی جائیں تاکہ حکومت سندھ کی جانب سے سپورٹ اور توثیقی اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے۔

    اس دوران آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی نے جرائم کے خلاف جاری پولیس اقدامات، آپریشنل پیش رفت اور حاصل کردہ کامیابیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ کچے اور پکے کے علاقوں میں پولیس دستے مکمل طور پر متحرک اور مستعد ہیں، جدید ٹیکنالوجی، ڈرون سرویلنس اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر کا مؤثر تعاقب کیا جا رہا ہے اور کچے کے علاقوں میں پولیس کی مستقل موجودگی سے جرائم کی بیخ کنی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    اجلاس کے دوران وزیر داخلہ سندھ نے آئی جی سندھ کو ہدایات دیں کہ وہ بذات خود آئی جی پنجاب اور آر پی او بہاولپور سے رابطہ کریں اور انھیں اعتماد میں لے کر مشترکہ میگا آپریشن کے حوالے سے بھی ضروری اقدامات کو یقینی بنائیں۔

    انھوں نے کہا کہ صحافی جان محمد مہر کے قاتلوں کو جلد گرفتار کیا جائے گا اور سندھ پولیس اس صلاحیت کی حامل ہے کہ حالات پر مکمل کنٹرول رکھ سکے، فوج کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔