حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات: عمران خان نے مطالبات تحریری طور پر دینے کی اجازت دے دی، بیرسٹر گوہر

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ مذاکرات کسی ڈیل کے لیے نہیں ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات میں پیش کیے گئے مطالبات میں عمران خان سمیت تمام رہنماؤں اور کارکنان کی رہائی اور نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام شامل ہے۔

خلاصہ

  • سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت، آئینی عدالت نے سزا یافتہ قیدیوں کی نقل و حرکت کی رپورٹ طلب کر لی
  • لاس اینجلس میں جنگلات میں لگنے والی آگ کے باعث 30 ہزار افراد کو فوری انخلا کا حکم دیا گیا ہے۔
  • خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے تین مختلف آپریشنز کے دوران 19 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ ان کارروائیوں کے دوران تین فوجی بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔
  • عمران خان تک رسائی نہیں دی جاتی تو مذاکرات کی تیسری نشست کی ضرورت نہیں: شیخ وقاص اکرم
  • کوئٹہ میں مسلح افراد کے حملے میں ایک راہگیر بچہ ہلاک جبکہ تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
  • چین کے زیرِ انتظام تبت میں منگل کے روز آنے والے طاقتور زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 126 ہو گئی ہے جبکہ 190 کے قریب افراد زخمی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. خضدار کے علاقے زہری میں مسلح افراد کا حملہ، سرکاری دفاتر کو نذر آتش کرنے کی کوشش, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل زہری میں نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کرکے بعض سرکاری دفاتر کو نقصان پہنچایا ہے۔

    خضدار میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار 70 سے 80 کے قریب مسلح افراد دن ساڑھے 12بجے زہری ٹاؤن میں داخل ہوئے۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے علاقے میں واقع لیویز فورس کے تھانے، نادرا کے دفتر اور ایک بینک کو نذرآتش کر کے نقصان پہنچایا۔

    اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکری تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے ۔

    جب اس سلسلے میں کمشنر قلات ڈویژن نعیم بازئی سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے تصدیق کی کہ حملہ آوروں نے لیویز فورس کے تھانے، نادرا کے دفتر اور بینک کو نقصان پہنچایا تاہم اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ زہری ایک دشوار گزار پہاڑی علاقے میں واقع ہے جہاں اس نوعیت کے کسی حملے کی اطلاع یا خدشہ نہیں تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز بشمول ایف سی، لیویز فورس اور پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو کلیئر کردیا ہے۔

    زہری ٹاؤن میں مسلح افراد کے حملوں کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز بھی پر گردش کررہی ہیں۔ ان میں سے ایک ویڈیو میں ایک نقاب پوش شخص براہوی زبان میں لوگوں سے خطاب بھی کررہا ہے تاہم حکام کی جانب سے ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

    محل وقوع کی بات کی جائے تو زہری خضدار شہر سے جنوب مشرق میں ضلع جھل مگسی کے ساتھ واقع ہے۔

    یہ بلوچستان کا ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے جس کی آبادی کی غالب اکثریت زہری قبیلے پر مشتمل ہے۔

    اگرچہ ضلع خضدار شہر اور اس کے بعض دیگر علاقے عسکریت پسند تنظیموں کی کارروائی سے متاثر رہے ہیں لیکن اس علاقے میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

  2. ہنرہ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف چھ روز سے جاری دھرنا ختم: ’فروری کے اختتام تک روزانہ پانچ، چھ گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی‘, محمد زبیر خان، صحافی

    ہنزہ

    ،تصویر کا ذریعہWAJAHAT ALI

    حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کے بعد پاکستان کے زیر انتظام گگلت بلستان کے علاقے ہنزہ میں چھ روز سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف جاری دھرنا ختم کردیا گیا ہے۔

    گلگت بلتستان کی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کا کہنا ہے کہ حکومت نے وفاق کے تعاون سے فیصلہ کیا ہے کہ فروری کے اختتام تک تھرمل پاور جنریشن کے زریعے علاقے کو روزانہ پانچ، چھ گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر آج وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ کی صدارت میں ایک اجلاس ہوا جس میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان گلبر خان نے بھی شرکت کی۔

    حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے وفاق کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا جس کے بعد وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا کہ گلگت بلتستان میں جہاں جہاں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ شدید ہے وہاں تھرمل ذرائع سے بجلی بنانے کے لیے وفاق گلگت بلتستان کی حکومت کو فنڈز فراہم کرے گی۔

    فیض اللہ فراق کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کی حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے وہ خود تھرمل کے زریعے بجلی کی قلت کو پورا کرسکے۔

    انھوں نے بتایا کہ وفاق کی جانب سے فنڈز کی فراہمی کے وعدے کے بعد مظاہرین کو یقین دہانی کروا دی گئی ہے کہ اب تھرمل ذرائع سے بجلی کے بحران پر قابو پا لیا جائے گا۔

    حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر وفاق کی طرف سے ملنے والی گرانٹ کم ہوئی تو گلگت بلتستان حکومت اپنے بجٹ سے اس میں حصہ ڈالے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے طویل مدتی منصوبوں پر بھی کام جاری رہے گا۔

    عوامی ایکشن کمیٹی کے صدر بابا جان نے مذاکرات کامیاب ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے اعلیٰ افسران کا وفد آیا تھا جس نے عوام کو تھرمل ذرائع سے بجلی فراہمی کے ساتھ ساتھ طویل مدتی منصوبے وقت پر مکمل کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر فی الفور بجلی فراہمی کے وعدے پورے نہ ہوئے تو ہمارے پاس احتجاج کا آپشن کھلا رہے گا۔

    گلگت بلتستان کے سابق ممبر اسمبلی جاوید حسین کا کہنا تھا کہ دھرنا ختم ہونے کے بعد ٹریفک کی آمد ورفت شروع ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں پھنسے سیاح وہاں سے نکلنا شروع ہوچکے ہیں جبکہ بین الاقوامی تجارت بھی بحال ہو گئی ہے۔

  3. غزہ میں اسرائیلی حملوں میں آٹھ بچوں سمیت 19 افراد ہلاک

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہreu

    غزہ کی وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ اسرائیلی حملوں میں آٹھ بچوں سمیت کم از کم 19 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    المواسی میں پناہ گزینوں کے ایک کیمپ پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ایک ماں اور اس کے چار بچے ہلاک ہو گئے جبکہ خان یونس میں اسرائیلی حملے میں ایک جوڑا اور ان کے بچے مارے گئے۔

    وسطی اور شمالی غزہ میں بھی اسرائیلی حملوں کی اطلاعات ہیں۔

    غزہ کے سول ڈیفنس کے حکام کا کہنا ہے کہ غزہ شہر میں اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والے دو گھروں کے ملبے سے ایک نوزائیدہ بچے سمیت چھ افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

    دیر البلاح کے مرکزی قصبے میں ہونے والے اسرائیلی حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ قریبی بوریج پناہ گزین کیمپ میں بھی ایک نوزائیدہ بچہ مارا گیا ہے۔

    تاحال اسرائیل کی فوج کی جانب سے ہلاکتوں کے بارے میں کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

    تاہم اس سے قبل اسرائیلی فوج کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس نے سات اکتوبر 2023 میں ملوث حماس کے جنگجوؤں پر متعدد حملے کیے ہیں۔

    دوسری جانب غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں غزہ میں 51 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

  4. جی ایچ کیو حملہ کیس: عدالت نے عمران خان کے طبی معائنے اور بیٹوں سے بات کروانے کی درخواست منظور کر لی

    راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت نے سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے طبی معائنے اور بیٹوں سے بات کروانے کی درخواست منظور کر لی۔

    بدھ کے روز جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں انسداد دہشگردی کی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔

    اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے توہین عدالت کے نوٹس کے جواب میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی ان کے بیٹوں سے مستقل بنیادوں پر بات نہیں کروائی جاسکتی۔

    سماعت کے دوران جی ایچ کیو حملہ کیس میں نامزد ایک اور ملزم شہیر سکندر پر فرد جرم عائد کی گئی۔ اس کیس میں کل 119 ملزمان نامزد ہیں جن میں سے اب تک 118 پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔

    بدھ کے روز مقدمے میں نامزد پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب نے کیس کا ریکارڈ فراہم کرنے کی درخواست دائر کی جبکہ دیگر دو ملزمان اجمل صابر اور ملک انصر کی جانب سے کیس سے بریت کی درخواستیں دائر کی گئیں۔

    ان تینوں درخواستوں پر آئندہ سماعت پر دلائل دیے جائیں گے۔

    دوسری جانب پراسیکیوشن نے استدعا کی کہ 13 جنوری کے بعد مقدمے کو روزانہ کی بنیاد پر سنا جائے جسے عدالت نے منظور کر لیا۔

    جج امجد علی شاہ نے عمران خان کے طبی معائنے اور بیٹوں سے ملاقات کرانے کی درخواست بھی منظور کرتے ہوئے سماعت 13 جنوری تک ملتوی کر دی۔

  5. حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات: عمران خان نے مطالبات تحریری طور پر دینے کی اجازت دے دی، بیرسٹر گوہر

    بیرسٹر گوہر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے مذاکراتی کمیٹی کو پی ٹی آئی کے دونوں مطالبات تحریری طور پر حکومت کے حوالے کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

    وہ بدھ کے روز عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کر رہے تھے۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے جو دو مطالبات پیش کیے گئے ہیں ان میں عمران خان سمیت تمام رہنماؤں اور کارکنان کی رہائی اور نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے سینیئر ججز پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کا قیام شامل ہے۔

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ حکومتی وزرا کی جانب سے ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پی ٹی آئی حکومت سے این آر او مانگ رہی ہے اور جب تک مطالبات تحریری طور پر نہیں دیے جاتے تب تک مذکرات آگے نہیں بڑھیں گے، تو بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ہمیں اپنے مطالبات تحریری طور پر دینے کی اجازت دے دی ہے۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا ’حالانکہ ہمیں نہیں لگتا کہ ہمیں اپنے دو مطالبات ان کو تحریری طور پر دینے کی ضرورت ہے لیکن ہم نہیں چاہتے کہ وہ اس کو جواز بنائیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک ڈیل کا تعلق ہے تو اس کی ہم پہلے بھی تردید کر چکے ہیں کہ ’یہ مذاکرات کسی ڈیل کے لیے نہیں ہیں۔‘

    پی ٹی آئی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات کے محدود مقاصد ہیں اور وہ ہیں جوڈیشل کمیشن کا قیام اور اسیران کی رہائی۔

    جب ان سے علیمہ خان کے اس بیان کے بارے میں سوال کیا گیا جس میں انھوں نے دعوی کیا تھا کہ وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے ذریعے عمران خان کو ہاؤس اریسٹ پر بنی گالہ منتقل کرنے کی آفر کی گئی تھی تو بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں گنڈاپور کی جانب سے کبھی ایسا کوئی پیغام نہیں آیاا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے جب بھی مذاکرات ہوئے تو ہم اکٹھے تھے۔ ان کے مطابق یہ مذاکرات ابتدائی تھے اور وہ کسی بھی سٹیج پر کسی بھی آفر کی طرف بڑھے ہی نہیں۔

    رانا ثنا اللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اندازہ ہو رہا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے مطالبات تحریری طور پر نہیں دے گی: رانا ثنااللہ

    وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے بیانات سے ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے مطالبات تحریری طور پر جمع نہیں کروائیں گے۔

    پی ٹی آئی کے ساتھ جاری مذاکرات پر بات کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ہم مذاکرات کو اچھے انداز سے آگے بڑھنا چاہتے تھے۔ ’ہم چاہتے تھے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک نیشنل ڈائیلاگ ہو، اسی لیے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جو [مذاکراتی] کمیٹی بنائی اس میں اتحادی جماعتوں کے ارکان بھی شامل ہیں۔‘

    بدھ کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلی ہی ملاقات میں پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی سے مطالبات تحریری طور پر جمع کروانے کا کہا تھا تاکہ اس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مذاکرات کو آگے لے جایا جا سکے۔

    وزیر اعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم کی جانب سے کہا گیا کہ پہلے ہماری پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقات کروائیں پھر ہم لکھ کر دیں گے۔

    رانا ثنااللہ نے دعویٰ کیا کہ ’ہم نے ملاقات کروائی، تو انھوں نے کہا کہ ہماری ملاقات ٹھیک نہیں ہوئی، ہماری صحیح طرح کی ملاقات کروائیں پھر ہم لکھ کر دیں گے۔‘

    ان کے مطابق اس کے بعد حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ سپیکر ایاز صادق کو ایمرجنسی میں بیرونِ ملک جانا پڑا جس کی وجہ سے مذاکراتی عمل میں تعطل آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی ایاز صادق وطن لوٹیں گے تو ان کی دوسری ملاقات بھی ہو جائے گی۔

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ہماری پی ٹی آئی سے توقع تو یہ ہے کہ وہ سنجیدہ طریقے سے مطالبات کو لے کر آئیں گے۔ ’لیکن ان کے بیانات اور خاص طور پر عمران خان کے سوشل میڈیا اکاونٹ سے ایک روز پہلے جو بیان جاری کیا گیا ہے اس سے لگتا ہے کہ ایسا مشکل ہی ہے کہ وہ کوئی سیدھی بات کریں اور اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ لکھ کر نہیں دیں گے۔‘

    علیمہ خان کے بیان جس میں انھوں نے دعوی کیا تھا کہ وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے ذریعے عمران خان کو ہاؤس اریسٹ کی آفر کی گئی تھی پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’تین روز قبل انھوں نے کہا تھا کہ عمران کا کہنا ہے کہ ان کا کسی سے رابطہ نہیں ہے تو اب یہ کونسے رابطے ہیں جو انھیں آفر کر رہے ہیں۔‘

    رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ’اگر علی امین گنڈاپور ان کو جا کر کوئی بات بتا رہے ہیں تو میرا خیال ہے کہ علی امین گنڈاپور خود سے اپنی طرف سے بات بنا کر بتا رہے ہوں گے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ علی امین گنڈاپور کے رابطے دونوں نہیں چاروں طرف ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کہ اطلاعات کے مطابق اس قسم کی کوئی آفر حکومت کی طرف سے نہیں کی گئی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ ان کے اندازے کے مطابق نہ ہی اسٹبلشمنٹ کی جانب سے ایسی کوئی بات کی گئی ہے۔

  6. کوئٹہ میں مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف جے یو آئی کا احتجاج، شہر کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی سڑکیں بند, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    جے یو آئی

    بلوچستان میں مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف جمیعت علمائے اسلام (ف) کی اپیل پر بدھ کو پہیہ جام ہڑتال کی گئی۔

    جے یو آئی کا دعوی ہے کہ کوئٹہ سے بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی۔45 کے 15پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ انتخاب کے دوران دھاندلی کے ذریعے ان کے امیدوار کو ہروایا گیا ہے۔

    بدھ کے روز جی یو آئی کے کارکنان نے کوئٹہ کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی شاہراہوں کو احتجاجاً بند کر دیا۔

    احتجاج کے باعث جو شاہراہیں بند رہیں ان میں کوئٹہ کراچی ہائی وے، کوئٹہ تفتان ہائی وے، کوئٹہ جیکب آباد شاہراہ، کوئٹہ چمن شاہراہ، کوئٹہ کو ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈیرہ غازی خان سے ملانے والی شاہراہیں شامل ہیں۔

    ان شاہراہوں کی بندش سے کوئٹہ کا رابطہ نہ صرف بلوچستان کے دیگر شہروں بلکہ دوسرے صوبوں سے بھی منقطع رہا ۔

    کوئٹہ احتجاج

    جے یو آئی کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کے امیدوار 2024 کے عام انتخابات میں بھی اس نشست سے کامیاب ہوئے تھے لیکن فارم 47 میں ان کی کامیابی کو شکست میں تبدیل کر دیا گیا۔

    سوموار کے روز جے یو آئی بلوچستان کے امیر مولانا عبدالواسع نے دعویٰ کیا تھا کہ ’اتوار کو جب اس حلقے کے 15 پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ انتخاب ہوا تو فارم 45 کے مطابق ان کے امیدوار نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیا لیکن فارم 47 میں ان کو دوبارہ ہروایا گیا۔‘

    پیپلز پارٹی دھاندلی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے اس کو مخالفین کی جانب سے ایک جھوٹا پروپیگنڈہ قرار دیتی ہے۔

    خیال رہے کہ 2024 کے عام انتخابات میں اس نشست سے پیپلزپارٹی کے امیدوار علی مدد جتک کو کامیاب قرار دیا گیا تھا۔

    تاہم بلوچستان ہائی کورٹ کے جج پر مشتمل ایک الیکشن ٹریبونل نے حلقے کے 15پولنگ سٹیشنوں پر دھاندلی کے باعث علی مدد جتک کو نااہل قرار دے کر ان پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد اتوار کے روز ان 15 سٹیشنوں پر دوبارہ انتخاب ہوا تھا۔

  7. سویلینز کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل اے پی ایس جیسے مجرمان کے ٹرائل کے لیے تھا: جسٹس مسرت ہلالی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    عدالت

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کی رکن جسٹس مسرت ہلالی نے کہا ہے کہ عام شہریوں کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل اے پی ایس جیسے مجرمان کے خلاف ٹرائل کے لیے تھا، کیا تمام عام شہریوں کے ساتھ وہی برتاؤ کیا جاسکتا ہے جیسے آرمی پبلک سکول سانحہ میں کیا گیا؟ کیا جب آرمی ایکٹ لاگو ہوتا ہے تو کیا سارے بنیادی حقوق معطل ہو جاتے ہیں؟ پاکستان کا آئین معطل نہیں ہے۔

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

    وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ عدالتی فیصلے کی بنیاد آرٹیکل آٹھ، پانچ اور آٹھ، تین ہےجو مختلف ہیں، ان کو یکجا نہیں کیا جا سکتا۔

    بدھ کو سپریم کورٹ میں عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران خواجہ حارث نے دلائل میں کہا کہ آرٹیکل 233 کے دو حصے ہیں، ایک آرمڈ فورسز کا اور دوسرا سویلینز کا۔

    خواجہ حارث نے سویلین کا ملٹری ٹرائل کالعدم قرار دینے والا فیصلہ پڑھا اور موقف اپنایا کہ ایف بی علی کیس میں طے پا چکا تھا کہ عام شہری کا بھی فوجی عدالت میں ٹرائل ہو سکتا ہے، اکثریتی فیصلے میں آرٹیکل آٹھ تین اور آٹھ پانچ کی غلط تشریح کی گئی۔

    اس موقع پر جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ دیکھتے ہیں، اس پر ہم آپ سے اتفاق کریں یا نہ کریں۔ خواجہ حارث نے کہا کہ غلط تشریح کی بنیاد پر کہہ دیا گیا ایف بی علی کیس الگ نوعیت کا تھا، ایف بی علی پر ریٹائرمنٹ کے بعد ٹرائل چلایا گیا تھا جب وہ سویلین تھے، فیصلے میں کہا گیا جرم سرزد ہوتے وقت وہ ریٹائر نہیں تھے، اس لیے ان کا کیس الگ ہے۔

    جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیے موجودہ کیس میں نو مئی والے ملزمان تو آرمڈ فورسز سے تعلق نہیں رکھتے۔ آرمی ایکٹ میں سیویلنز کا ٹرائل کیا جا سکتا ہے یا نہیں یا کیا یہ صرف مخصوص شہریوں کے لیے تھا؟

    خواجہ حارث نے کہا عام تاثر اس سے مختلف ہے۔

    خواجہ حارث نے کہا کہ بنیادی حقوق رہتے ہیں جس کے بارے میں عدالتی فیصلے موجود ہیں۔

    دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے پوچھا اس میں بین الاقوامی پریکٹس کیا ہے؟ کیا آپ کے پاس اس کی کوئی مثال ہے؟ خواجہ حارث نے جواب دیا میرے پاس مثالیں موجود ہیں، آگے چل کر اس پر بھی بات کروں گا۔

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ کا اختیار بلاشبہ ہے، وہ قانون بنائے کہ کیا کیا چیز جرم ہے۔ پارلیمنٹ چاہے تو کل قانون بنا دے ترچھی آنکھ سے دیکھنا جرم ہے۔ اس جرم کا ٹرائل کہاں ہو گا وہ عدالت قائم کرنا بھی پارلیمنٹ کی آئینی ذمے داری ہے۔ آئین پاکستان پارلیمنٹ کو یہ اختیار اور ذمہ داری دیتا ہے، کہا جاتا ہے پارلیمنٹ سپریم ہے، میرے خیال میں آئین سپریم ہے۔

    آئینی عدالت نے پنجاب حکومت سے سزا یافتہ قیدیوں کی نقل و حرکت کی آزادی پر مبنی رپورٹ سے متعلق معلومات کے لیے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو روسٹرم پر بلایا جنھوں نے عدالت میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ نو مئی کے 27 مجرمان تھے جن میں سے دو رہا ہو چکے، پنجاب کی جیلوں میں اب 25 مجرمان ہیں، تمام مجرمان کو یکساں حقوق فراہم کیے جارہے ہیں۔

    ان کی جانب سےپیش کردہ رپورٹ میں عدالت کو بتایا گیا کہ 10 روز میں دو بار اہل خانہ کی مجرمان سے ملاقات کرائی جاچکی ہے، مجرمان کو گھر سے کھانا بھی مل رہا ہے۔

    اس موقع پر سزا پانے والے عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی نے عدالت کے روبرو کہا کہ کہا کہ ملاقات کرائی گئی ہے مگر ماں، باپ اور بہن بھائی کے علاوہ کسی سے نہیں ملنے دیا گیا۔ ان قیدیوں کو عام قیدیوں کی طرح باہر نہیں نکلنے دیا جاتا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے آپ خود تسلیم کر رہے ہیں کہ ملاقات بھی ہورہی گھر کا کھانا بھی مل رہا ہے، آپ اور کیا چاہتے ہیں؟ باتوں کو اتنا بڑھا چڑھا کر کیوں پیش کیا؟

    جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیے میں خود بھی 14 روز جیل میں رہا ہوں، صبح نماز کے بعد باہر چھوڑ دیا کرتے تھے، کچھ قیدی کھیل وغیرہ بھی کھیلتے تھے، جسٹس محمد علی مظہر نے جسٹس جمال خان مندو خیل سے کہا صرف آپ کے لیے خصوصی رعایت دیتے ہوں گے۔

    ایڈینشل ایڈووکیٹ جنرل نے موقف اپنایا جیل میں تمام قیدیوں کو حقوق ملتے ہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ قیدیوں کو باہر نکلنے دیں، دھوپ لگوانے دیں، اس میں کیا مسئلہ ہے؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہاکہ باہر بھی نکلنے دیں گے، تمام قیدیوں کا خیال بھی رکھا جائے گا۔

    عدالت نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کی ٹرائل کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔

  8. عمران خان کو جیل میں سہولیات دینے سے متعلق درخواست دائر، عدالتوں سے ریلیف ملنے کی امید ہے: شبلی فراز, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اڈیالہ جیل

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو جیل میں قانون کے مطابق سہولتیں فراہم کرنے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی ہے جس پر آج (بدھ کے روز) اڈیالہ جیل میں سماعت ہو گی۔

    ایڈوووکیٹ فیصل چوہدری کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان کے معاملے میں عدالتی احکامات کی صریحاً خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

    سابق وزیراعظم کی اپنے بیٹوں سے بات نہیں کرائی جا رہی اور نہ ہی سابق وزیر اعظم کو اخبارات، کتابیں وغیرہ فراہم کی جا رہی ہیں۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج کو ان کا چیک اپ کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ۔ عدالت اپنے احکامات پہ عملدرآمد کروائے اور سابق وزیراعظم کو قانون کے مطابق سہولتیں فراہم کرنے کی جائیں۔

    اس وقت ہم کس سے مذاکرات کریں: شبلی فراز رہنما پی ٹی آئی

    دوسری جانب رہنما پی ٹی آئی شبلی فراز نے حکومت کے ساتھ تحریک انصاف کے مزاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ ’ان کے پاس اختیار ہے توٹھیک ورنہ ہمیں بتائیں کہ ہمارے پاس اختیارنہیں۔ اس وقت ہم کس سے مذاکرات کریں؟

    انسداد دہشت عدالت راولپنڈی کے باہرمیڈیا سے گفتگو میں شبلی فراز نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کٹھ پتلی حکومت ہے۔ ہم سب سے بڑی سیاسی جماعت ہیں ہمارے مینڈیٹ کوچرایا گیا، ملک پہلے سے ہی عدم استحکام کا شکار ہے۔ اس لیے ضروری ہے جوکردار ہم ادا کر رہے ہیں وہی کریں۔‘

    شبلی فراز نے دعوی کیا کہ ’ہمارا کردار سیاسی ہو یا پارلیمانی ہووہ کردار ہم ادا کر رہے ہیں۔ اگرہمیں انصاف نہیں ملے گا مگر پھر بھی ہم عدالتوں کا سامنا کریں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہمیں عدالت سے ریلیف ملے گا۔‘

  9. لاس اینجلس میں جنگلات کی آگ کے باعث ایمرجنسی نافذ، 30 ہزار افراد کو فوری انخلا کا حکم

    امریکی ریاست لاس اینجلس کے مضافات میں جنگلات میں لگی آگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی ریاست لاس اینجلس کے مضافات میں جنگلات میں لگی آگ کے باعث ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ اس آگ نے اب تک 2900 ایکڑ سے زائد کا رقبہ اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور تیز ہواؤں کے باعث آگ کے مزید پھیلنے کا خدشہ قرار ہے۔

    فائر چیف کرسٹین کرولی کا کہنا ہے کہ آگ کے 30 ہزار افراد کو انخلا کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں جبکہ اس آگ کے پھیلاؤ کے باعث 13 ہزار سے زائد عمارتوں کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

    سانتا مونیکا کے ساحل سے نظر آنے والی آگ کے دھویں کے سیاہ بادل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنسانتا مونیکا کے ساحل سے نظر آنے والی آگ کے دھویں کے سیاہ بادل

    حکام کے مطابق تقریبا 46000 سے زائد گھروں اور بزنس کی بجلی منقطع ہو چکی ہے۔ ہائی وے سمیت متاثرہ علاقوں میں دھویں کے گہرے بادل دیکھے گئے۔ افراتفری کے باعث سڑکیں جام ہوگئیں جس سے لوگوں کے انخلا میں مشکلات پیش آئیں۔

    لاس اینجلس کے شہر سانتا مونیکا میں حکام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں شہریوں کو فوری انخلا کا حکم دیتے ہوئے کھا ہے کہ وہ جان کے خطرات کے پیش نظر ان کو انحلا کے فوری احکامات دیے جاتے ہیں۔

    سوشل میڈیا کی فوٹیجز کے مطابق کئی افراد گاڑیاں سڑکوں پر چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب روانہ ہوتے دکھائی گئے۔

  10. سکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں 19 شدت پسند ہلاک، تین فوجی جوان بھی مارے گئے: آئی ایس پی آر

    خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے تین مختلف آپریشنز کے دوران 19 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ ان کارروائیوں کے دوران تین فوجی جوان بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پشاور کے علاقے متنی میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا گیا، جس میں کارروائی کے دوران آٹھ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ضلع مہمند کے علاقے بازئی میں بھی انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا جس میں آٹھ شدت پسند مارے گئے جبکہ ضلع کرک میں سکیورٹی فورسز اور خوارج کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں مزید تین شت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع کرک میں جھڑپ کے دوران تین سکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔

    پاک فوج کے مطابق مارے جانے والوں میں لانس حوالدار عباس علی، نائیک محمد نذیر، اور نائیک محمد عثمان شامل ہیں۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں ممکنہ شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

  11. عمران خان تک رسائی نہیں دی جاتی تو مذاکرات کی تیسری نشست کی ضرورت نہیں: شیخ وقاص اکرم

    پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکراتی عمل ناممکن ہے اور ان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات غیر ضروری ہیں۔

    پی ٹی آئی کے کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’ہماری مذاکراتی ٹیم کو عمران خان سے ملاقات نہیں کروائی جارہی۔ مذاکراتی کمیٹی کی میٹنگ واضح بتا دیا تھا خان سے ملاقات ضروری ہے اور ان سے ہدایات لیے بغیر مذاکرات میں پیشرفت ممکن نہیں‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اتفاق رائے کے باوجود خان سے ملاقات نہیں کرائی جارہی۔ سپیکر آفس سے بھی بارہا رابطہ کر چکے ہیں لیکن مثبت جواب نہیں مل رہا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کی کیا حیثیت اور کتنا عمل دخل ہے۔ حکومتی سنجیدگی اور اختیار کا اندازہ بھی اس سے ہورہا ہے۔‘

    یاد رہے اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تصدیق کر چکے ہیں کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار ہے کیونکہ انھیں جیل میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان تک رسائی نہیں دی گئی ہے۔

    ویڈیو پیغام میں شیخ وقاص اکرم نے مطالبہ کیا کہ عمران خان تک رسائی نہیں دی جاتی تو مذاکرات کی تیسری نشست کی ضرورت نہیں ہے۔ سپیکر اور حکومت کو واضح پیغام ہے کہ عمران خان سے ملاقات یقینی بنائی جائے۔’ہم آپ سے اضافی فائدہ نہیں مانگ رہے بلکہ یہ ہمارا قانونی حق ہے۔‘

  12. کوئٹہ میں مسلح افراد کے حملے ایک راہگیر بچہ ہلاک، تین پولیس اہلکار زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں تین پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ ایک راہگیر بچہ ہلاک ہوگیا ہے۔

    اس واقعے کے حوالے سے ایس پی سریاب احمد ولی طلحہ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے سریاب کے علاقے شریف آباد میں پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کے علاوہ کوئی دھماکہ خیز مواد بھی پھینکا۔

    انھوں نے کہا کہ اس حملے میں تین پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ اس دوران ایک راہگیر بچہ ہلاک ہوا۔

    ایس پی سریاب احمد ولی طلحہ کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے جوابی کارروائی کی گئی تاہم حملہ آور فرار ہوگئے۔

    انھوں نے بتایا کہ زخمی اہلکاروں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

  13. تبت میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 126 سے زائد، ریسکیو آپریشن تاحال جاری

    چین کے زیرِ انتظام تبت میں منگل کے روز آنے والے طاقتور زلزلے میں 126 ہلاکتیں

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    چین کے زیرِ انتظام تبت میں منگل کے روز آنے والے طاقتور زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر اب تک کم از کم 126 ہو گئی ہے جبکہ 190 کے قریب افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    زلزلے کی شدت سے 3000 سے زائد عمارتوں کو نقصان بھی پہنچا ہے جبکہ امدادی کارکنان نے رات بھر زندہ بچ جانے والے افراد کی تلاش کا کام جاری رکھا۔

    امریکی جیالوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق کی7.1 کی شدت سے آنے والے زلزلے کا مرکز تبت کا شہر شگاتزا تھا۔

    یو ایس جی ایس کے مطابق زلزلے کے بعد علاقے میں کئی آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے۔ زلزلے کے جھٹکے نیپال، بھارت اور بھوٹان میں بھی محسوس کیے گئے تھے۔

    چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً نو بجے ہمالیہ کے دامن میں آنے والے زلزلے کے بعد مزید 188 افراد زخمی ہوئے۔ زلزلے کی تباہ کاریوں کے بعد بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تھا۔

    دوسری جانب رات کے وقت درجہ حرارت منفی 16 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے کی پیش گوئی اور پانی و بجلی کا سپلائی منقطع ہونے سے متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔ چین کی فضائیہ نے زلزلے کے فوری بعد ہی متاثرہ علاقے میں امدادی سرگرمیاں شروع کر دی تھیں۔

    یاد رہے کہ فالٹ لائن پر واقع ہونے کے باعث اس خطے میں زلزلے آنا معمول کا حصہ ہیں تاہم حالیہ برسوں میں منگل کا زلزلہ چین کے مہلک ترین واقعات میں سے ایک تھا۔

    امریکی جیولوجیکل سروے کے اعداد و شمار کے مطابق 10 کلومیٹر (چھ میل) کی گہرائی میں آنے والے 7.1 کی شدت کا زلزلے کے جھٹکے پڑوی ملک نیپال اور انڈیا کے کچھ حصوں میں بھی محسوس کیے گئے تھے۔

    چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کی طرف سے شائع ہونے والی ویڈیوز میں تبت میں تباہ شدہ مکانات اور عمارتوں کو گراتے ہوئے دکھایا گیا ہے، امدادی کارکن ملبے میں سے گزر رہے ہیں اور مقامی لوگوں کو سردی سے بچاؤ کے لیے گرم کمبل دے رہے ہیں۔

  14. ہنزہ میں پانچ روز سے دھرنا اور شاہراہ قراقرم بند: مظاہرین کیا چاہتے ہیں؟, محمد زبیر خان، صحافی

    GB

    ،تصویر کا ذریعہWAJAHAT ALI

    پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان کے علاقے ہنرہ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف دھرنا مسلسل پانچ روز سے جاری ہے۔

    یہ دھرنا ہنزہ کے مرکزی مقام علی آباد میں شاہراہ قراقرم پر دیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے یہ شاہراہ ٹریفک کے لیے بلاک ہے۔

    چمبر آف کامرس گلگت بلتستان کے مطابق پاکستان اور چین کے سرحدی علاقے میں شاہراہ قراقرم پر دھرنے کی وجہ سے پاکستان اور چین کے بارڈر پر اس وقت کم از کم 350 کنٹنیر اور ان کنیٹنر سے مال اتار کر ملک کے مختلف علاقوں میں پہچانے والے سات سو پچاس ٹرک پھنس چکے ہیں۔

    چمبر آف کامرس گللگت بلتستان کے چئیرمین اشفاق احمد کہتے ہیں کہ میرا بھی مال پھنسا ہوا ہے اور ہمیں نقصان ہورہا ہے مگر یہ دھرنا پورے گلگت بلتستان میں ہونا چاہیے تاکہ بجلی کی شدید ترین لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوسکے۔

    اشفاق احمد کا کہنا تھا کہ کنٹینرز کھڑے ہونے کی وجہ سے ہمیں روزانہ پچاس ہزار روپیہ نقصان ہورہا ہے۔

    گلگت بلتستان اسمبلی کے سابق ممبراور چمبر آف کامرس گلگت بلتستان کے سابق صدر جاوید حسین کے مطابق اب لوگ تنگ ہوچکے ہیں۔ ’محسوس ہو رہا ہے کہ اگر ہنزہ کا معاملہ حل نہ ہوا تو یہ دھرنا پورے گلگت بلتستان میں پھیل جائے گا۔‘

    ان کا دعوی تھا کہ ہنزہ میں مارچ تک تھرمل پاور کے ذریعے بجلی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے صرف تین کروڑ روپے چاہیں۔ تاہم انھوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت معاملہ حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

    عوامی ایکشن کمیٹی ہنزہ کے صدر کامریڈ بابا جان کا کہنا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی مختلف نظریات کی سیاسی پارٹیوں کے علاوہ سول اور تاجر تنظیمیوں پر مشتمل ایکشن کمیٹی ہے جو کہ گگلت بلتستان میں سول رائیٹس، آئین کی حکمرانی، گلگت بلتستان کے حقوق اور مسائل کے حوالے سے کام کرتی ہے اور ضرورت پڑتی ہے تو احتجاج بھی کیا جاتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے احتجاج میں کوئی سیاسی مقاصد نہیں ہے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ بجلی کا یہ معاملہ ہمیشہ کے لیے اب حل ہونا چاہیے۔

    ’ گھروں میں بجلی نہیں اور درجہ حرارت منفی سے بھی نیچے ہے۔ ایسے میں چوک میں بیٹھیں یا گھروں میں ہمارے لیے حالات ایک جیسے ہی ہیں۔ اگر حکومت چاہیے تو وہ بہت کچھ کرسکتی ہے۔ اگر حکومت اپنے کچھ خرچے ہی کم کردیے تو چیزیں بہت زیادہ بہتر ہوسکتی ہیں مگر وہ ایسا نہیں کررہے ہیں۔‘

    GB

    ،تصویر کا ذریعہwajahat ali

    حکومت بجلی فراہم کرنے میں ناکام کیوں ہے؟

    گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں سردیوں میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ آج کا نہیں بلکہ سالوں پرانا ہے۔ گلگت بلتستان میں بجلی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے جتنے بھی پاور ہاوسز وغیرہ لگے ہوئے ہیں وہ سارے کے سارے ندی، نالیوں پر لگے ہوئے ہیں جہاں پر گرمیوں میں پانی ہوتا ہے مگر سردیوں میں پانی کی قلت پیدا ہوتی ہے جس بنا پر بجلی کی پیدوار کم ہوجاتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب سردیوں میں بجلی کا مسئلہ چند دونوں میں حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے وقت کی ضرورت ہے۔

    ’گلگت بلتستان کی حکومت اس کے لیے نئے پراجیکٹ شروع کررہی ہے کچھ منصوبوں کا افتتاح ہوچکا ہے اور کچھ پر کام جاری ہے۔ جب ان پر کام مکمل ہوگا تو کافی حد تک بہتری آجائے گی۔ ‘

    فیض اللہ فراق کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی حکومت گرانٹ پر چلتی ہے اس کو این ایف سی میں کوئی ایوارڈ نہیں ملتا ہے۔ ان محدود وسائل کو لے کر گلگت بلتستان کی حکومت جو کچھ کرسکتی ہے کررہی ہے تمام وسائل کو خرچ کررہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ تھرمل پاور کے ذریعے سے بجلی بہت مہنگی پیدا ہوتی ہے اور گلگت بلتستان کی حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ ہم 20 یا کچھ اور دن تک تھرمل پاور کے ذریعے بجلی فراہم کردیں مگر یہ سلسلہ مارچ تک نہیں چل سکتا ہے۔ گلگت بلتستان حکومت کے لیے یہ ممکن نہیں ہے۔

    فیض اللہ فراق کا کہنا تھا کہ ’ہم بھی سمجھتے ہیں کہ یہ مسئلہ ہے مگر یہ آج کا مسئلہ نہیں ہے اس کو حل کرنے کے لیے وقت چاہیے ہم نے مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کرکے حکومت کا نقطہ نظر سمجھانے کی کوشش کی ہے مگر اس وقت جذباتی ماحول پیدا کیا گیا ہے۔ ایک پرانے مسئلے کو لے کر جذباتی سیاسی ایشو نہیں بنانا چاہیے۔‘

  15. متحدہ عرب امارات کا پاکستان کے دو ارب امریکی ڈالرز قرض کی ادائیگی مؤخر کرنے کا فیصلہ: وزیراعظم

    PM OFFICE

    ،تصویر کا ذریعہPM OFFICE

    متحدہ عرب امارات نے پاکستان کی جانب سے دو ارب امریکی ڈالرز کی ادائیگی جو کہ اس سال جنوری میں واجب الادا تھی کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    یہ بات پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کو بتائی۔

    وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے یو اے ای کے صدر محمد بن زید آلنہیان نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    وفاقی کابینہ نے ہوا بازی ڈویژن کی سفارش پر بین الاقوامی ائیر لائین فلائی دبئی (Fly Dubai) کی لاہور اور اسلام آباد سے دوبئی اور دوبئی سے لاہور اور اسلام آباد پروازوں کی ہفتہ وار فریکوئینسیز کے عارضی اجازت نامے میں 4 جنوری 2025 سے 3 فروری 2025 تک توسیع کی منظوری دے دی۔

    وفاقی کابینہ کو وزارت بحری امور کی جانب سے 11 وفاقی وزارتوں /ڈویژنز کی گوادر بندرگاہ سے مارچ 2024 سے اب تک کے دوران پبلک سیکٹر درآمدات و برآمدات پر بریفنگ دی گئی- وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ وزارتوں کی رپورٹس کو بریفنگ کا حصہ بنا کر ایک جامع رپورٹ پیش کی جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ درآمدات و برآمدات میں کسی بھی قسم کی تخصیص کے بغیر پبلک سیکٹر کی تمام درآمدات و برآمدات کا 60 فیصد حصہ گوادر بندرگاہ سے کیا جائے۔

    ای-آفس کا نفاذ

    وفاقی کابینہ کو وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشنز کی جانب سے وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز میں ای-آفس کے نفاذ کے حوالے سے پیشرفت پر بریفنگ دی گئی-

    اجلاس کو بتایا گیا کہ پہلی مرتبہ حکومت کی جانب سے ای-آفس کو اس بڑے پیمانے پر نافذ کیا جا رہا ہے۔

    بتایا گیا کہ یکم جنوری 2025 سے تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کے مابین رابطے کے لیے کاغذ کا استعمال ترک کر دیا گیا اور تمام فائلز موومنٹ اور دیگر خط و کتابت صرف ای-آفس استعمال کیا جا رہا ہے۔

    اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ 21 وزارتوں اور ڈویژنز میں ای- آفس کا نفاذ سو فیصد کر دیا گیا ہے۔ ای-آفس کے نفاذ سے نہ صرف وقت کی بچت ہو گی بلکہ اسٹیشنری اور پیٹرول کی مد میں قومی خزانے کو فائدہ بھی پہنچے گا۔ ای-آفس کے نفاذ سے وزیر اعظم آفس میں سمری کی پراسیسنگ کا دورانیہ اب زیادہ سے زیادہ صرف تین دن تک محیط ہو چکا ہے۔

    وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر سکولوں اور کالجوں کے لیے ری فربشڈ کروم بکس کی خریداری اور حصول کو پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی آرڈینینس کے سیکشن 21ـ اے کے تحت استثنیٰ دے دیا- وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ان کروم بکس کی خریداری کا تھرڈ پارٹی آڈٹ لازمی کروایا جائے۔

    کرم حملے کی مذمت

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لوئر کرم میں امن معاہدے کے بعد ڈپٹی کمشنر پر حملہ افسوس ناک ہے، حملے کر کے امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر کا علاج جاری ہے، تمام زخمیوں کی صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں۔

    اس کے علاوہ وفاقی کابینہ کو بتایا گیا کہ حج 2025 کے انتظامات موجودہ 46 منظمین کریں گے اور نئی حج پالیسی بنائی جانے کی سفارش بھی کی گئی۔

    کابینہ نے ہدایت کی کہ پرائیویٹ حج آپریٹرز کے حوالے سے تمام کورٹ کیسز کو منتقی انجام تک پہنچانے کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جائیں۔

  16. پنجاب اور کے پی کے سرحدی علاقے میں پولیس کی کارروائی، دہشت گردوں کے ٹھکانے مسمار: پولیس

    پنجاب پولیس نے صوبہ خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقے میں دہشتگردوں کے دو ٹھکانے مسمار کرکے جلانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ترجمان پنجاب پولیس پنجاب پولیس کے مطابق سی ٹی ڈی ٹیموں نے مشترکہ کاروائی کے دوران ڈیرہ غازی خان میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کے بارے میں ملنے والے خفیہ اطلاع پر بستی جادے والی میں مشترکہ آپریشن کیا۔

    بتایا گیا ہے کہ دہشتگردوں نے بھاری اسلحے سے پولیس پر حملہ کیا۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق پولیس کی جوابی کارروائی کے دوران دہشت گرد پسپا ہو کر جھاڑیوں کی اوٹ لیتے ہوئے پہاڑوں میں بھاگ گئے۔

    پنجاب پولیس کے مطابق سنہ 2024 میں دہشت گردوں کے 18 حملے ناکام بنائے گئے ہیں۔

  17. افغان سفارتخانے کا پاکستان میں سینکڑوں شہریوں کے حراست میں لیے جانے کا دعویٰ, عزیز اللہ خان، نامہ نگار بی بی سی

    پاکستان میں افغان سفارتخانے نے دعویٰ کیا ہے حال ہی میں اسلام آباد میں موجود تقریباً 800 افعان شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    افغان حکام کی جانب سے جاری بیان میں گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر زیرِ حراست افغان شہریوں میں وہ افغان شہری بھی شامل ہیں جن کے پاس تصدیق شدہ ویزا، رجسٹریشن کا تصدیق نامہ پی او آر یا افغان سٹیزن کارڈ یعنی اے سی سی موجود تھے۔

    تاہم پاکستان کی وفاقی انتظامیہ کی طرف سے وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ 183 افغان شہریوں کو دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے اسلام آباد سے بےدخل کیا گیا ہے جبکہ حراستی مرکز میں موجود افغان شہریوں کی تعداد فقط دو بتائی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت نے بغیر دستاویزات پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کو کہا تھا کہ وہ واپس افغانستان چلے جائیں ورنہ یکم جنوری سے ان کے خلاف کارروائی شروع کی جائے گی۔

    افغان سفارتخانے کا کہنا ہے کہ این او سی کے لیے لازمی شرائط اور ان کے جاری کیے جانے کے عمل کے حوالے سے مکمل طور پر وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے افغان شہریوں کی حراست اور ملک بدری کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

    سفارتخانے نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کیسز میں ’137 افغان شہری ایسے ہیں جنھیں پاکستان سے نکال دیا گیا ہے کیونکہ ان کے پاسپورٹ کی مدت ختم ہو چکی تھی، تاہم انھوں نے اس کی معیاد میں اضافے کے لیے درخواستیں دے رکھی تھیں اور ان کے پاس یو این ایچ سی آر یا شارپ کی جانب سے دیے جانے والے عارضی اجازت نامے موجود تھے۔‘

    سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں مبینہ طور پر بغیر کسی وارنٹ کے لوگوں کی حراست، گھروں پر چھاپے اور افغان شہروں سے بھتہ لیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    افغان سفارتخانے نے اپنے بیان میں پاکستانی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس صورتحال کو دیکھے۔

    ایک افغان بزرگ شہری نے پشاور میں بی بی سی کو بتایا کہ کریک ڈاؤن یکم جنوری سے شروع کیا گیا ہے اس میں بڑی تعداد میں افغان شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    gl muhammad

    ’اب تک 183 غیر قانونی افغان شہریوں کو اسلام آباد سے نکالا گیا ہے‘

    اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ ان افغان شہریوں کو سرچ آپریشن کے دوران حراست میں لیا گیا جو اپنی قانونی دستاویزات دکھانے میں ناکام رہے ہیں۔

    انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جن افغان شہریوں کے پاس تصدیق شدہ دستاویزات ہیں جن میں پی او آر کارڈ، اے سی سی کارڈ، ویزہ یا وہ جو تیسرے ملک میں جانے کے لیے منتظر ہیں کو گرفتار نہیں کیا جا رہا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ نئے سال کے ابتدائی ہفتے میں اب تک 183 غیر قانونی افغان شہریوں کو اسلام آباد سے نکالا گیا ہے جبکہ غیر قانونی طور پر یہاں موجود دو افغان شہری حراستی مراکز میں ہیں۔

    خیال رہے کہ اس سے پہلے فروری میں عام انتخابات سے پہلے بھی سال 2023 کے آخری دنوں میں پاکستان حکومت نے ایسے افغان شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا اور انھیں ڈیپورٹ کر دیا گیا تھا جن کے پاس پاکستان میں رہنے کے دستاویزات نہیں تھے۔

    اس کریک ڈاؤن میں سات لاکھ سے زیادہ افغان شہریوں کو واپس افغانستان بھیج دیا گیا تھا ان میں ایسے افغان شامل تھے جو کچھ دہائیوں سے پاکستان میں مقیم تھے۔

    افغان شہری پاکستان میں کیوں مقیم ہیں؟

    بی بی سی سے گفتگو میں چند شہروں میں مقیم افغان شہریوں نے بتایا کہ بڑی تعداد میں افغان شہری اسلام آباد میں دیگر ممالک کو جانے کے لیے اپنے ویزوں کے حصول کے لیے مقیم ہیں۔

    افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد بڑی تعداد میں افغان شہری پاکستان پہنچ گئے تھے اور ہھر اسلام آباد میں وہ دیگر ممالک کا رخ کر رہے ہیں بعض افغان شہریوں کو ویزے کے حصول میں مشکلات پیش آ رہی ہیں جس وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے۔

  18. ’عمران خان تک رسائی کے بغیر تحریری مطالبات نہیں دیں گے‘: پی ٹی آئی کی مذاکرات میں ڈیڈلاک کی تصدیق

    پی ٹی آئی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے تصدیق کی ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار ہے کیونکہ انھیں جیل میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان تک رسائی نہیں دی گئی ہے۔

    بیرسٹر گوہر علی خان، شبلی فراز اور سلمان اکرم راجہ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ’ہم نے بہت واضح کہا ہے کہ ہمیں عمران خان تک رسائی دی جائے، یہ سوالیہ نشان حکومت اور اس کے ارادوں پر ہے۔‘

    ’مذاکرات میں ڈیڈلاک کا سوال حکومت سے پوچھیں۔ حکومت سے ضرور سوال کریں کہ عمران خان سے ہماری ملاقات کیوں نہیں کروائی گئی۔‘

    گذشتہ چند دنوں سے یہ بات بھی کی جا رہی تھی کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات نہیں رکھے ہیں۔

    پریس کانفرنس میں اس متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ’ہم نے واضح طور پر کہا ہے کہ ہماری رسائی عمران خان صاحب تک ہو گی اس کے بعد ہی تحریری مطالبات دیں گے۔‘

    دوسری جانب حکومتی وزیر پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کو ’لاحاصل مشق‘ قرار دے رہے ہیں۔

    ڈان نیوز کے پروگرام میں ایک انٹرویو کے دوران وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے گذشتہ روز عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے کی گئی پوسٹس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ’جو کل بانی پی ٹی آئی عمران خان سے منسوب جو ٹویٹس سامنے آئی ہیں، ان میں جو انھوں نے گفتگو کی ہے اس کے بعد مذاکرات ایک لاحاصل مشق بن گئی ہے۔‘

    ’جب مذاکرات شروع ہوجاتے ہیں تو جس فریق سے آپ مذاکرات کر رہے ہیں ان سے متعلق اگر آپ ایسی زبان استعمال کریں تو پھر میرا خیال ہے کہ آپ مخلص نہیں ہیں۔‘

    خیال رہے گذشتہ روز عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے ایک پوسٹ میں حکومت پر ’فسطائی حربے استعمال‘ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا اور دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومت مذاکرات کے معاملے پر سنجیدہ نہیں ہے۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت سے مذاکرات کے لیے ہمارے مطالبات نو مئی اور 26 نومبر پر عدالتی کمیشن اور قیدیوں کی رہائی ہیں۔

    ’عمران خان کہتے ہیں کہ جب تک 26 نومبر کو بہنے والے خون کا حساب نہیں ہو گا بات نہیں ہو گی۔‘

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان سے آزادانہ ماحول میں ملاقات کی اجازت دی جائے۔

    اس دوران شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت چاہتی ہے کہ میرٹ پر عمران خان اور دیگر اسیران کو رہائی دی جائے۔

    ’عمران خان واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ انھیں کوئی ڈیل نہیں چاہیے۔‘

  19. پاکستان کی وفاقی حکومت نے اخراجات میں کمی کے لیے اداروں اور وزارتوں سے ڈیڑھ لاکھ نوکریاں ختم کر دیں

    MUHAMMAD AURANGZAIB

    ،تصویر کا ذریعہRADIO PAKISTAN

    وفاقی حکومت نے اخراجات میں کمی لانے کے لیے اپنے اداروں اور ذیلی وزارتوں میں رائٹ سائزنگ کے ذریعے ڈیڑھ لاکھ خالی آسامیوں کو ختم کر دیا ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ وفاقی وزارتوں اور اداروں میں ایسی خالی آسامیاں جن پر ابھی بھرتیاں نہیں ہوئی تھیں، ان میں سے 60 فیصد کو ختم کر دیا گیا، جن کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ بنتی ہے۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ اب ان خالی آسامیوں پربھرتیاں نہیں کی جائیں گی۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت سے پوچھا جاتا ہے کے آپ ہمارے سے اتنے ٹیکس لیتے ہیں تو آپ خود کیا کرتے ہیں اپنے اخراجات کو کم کرنے کے لیے؟

    یہ بہت اچھا سوال ہے، اسی سلسلے میں وزیراعظم نے اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی بنائی تھی جس کا مقصد فیڈرل گورنمنٹ کی رائٹ سائزنگ کرنی ہے۔ اور حکومتی اخراجات میں کمی کے اقدامات کو 30 جون تک مکمل کر لیا جائے گا۔

    فیڈرل حکومت کی رائٹ سائزنگ کیسے کی جا رہی ہے؟

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ اس کمیٹی میں حکومت، اتحادی جماعتوں، سرکاری افسران اور بزنس کمیونٹی کے نمائندے شامل ہیں، کمیٹی کے ٹی او آرز طے کرلیے گئے تھے، جن کے مطابق بنیادی مقصد حکومتی اخراجات میں کمی لانا تھا۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق کہ کمیٹی نے 43 وزارتوں اور ان کے ذیلی اداروں کو دیکھنا تھا۔ اس مد میں وفاقی حکومت کا خرچہ 900 ارب روپے تھا۔

    وزیر خزانہ کے مطابق حکومت نے ابتدا میں جن چھ وزارتوں کو لیا تھا ان میں کشمیر افیئر، جی بی سیفران، آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام ، انڈسٹریز اینڈ رپروڈکشن، نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کواراڈینیشن، کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن یعنی کیڈ شامل ہیں۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ وفاقی وزارتوں کے 80 اداروں کی تعداد نصف کرکے 40 کردی گئی، ان میں سے کچھ اداروں کو ضم کیا گیا ہے، 2 وزارتوں کو ضم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

    وفاقی حکومت کے مطابق کشمیر افیئر، جی بی اینڈ سیفران کو آپس میں ضم کیا جا رہا ہے اور کیڈ کو ختم کیا جا رہا ہے۔

    صحافیوں کو بتایا گیا کہ آج شام ہی پہلے مرحلے میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کے حوالے سے متعلقہ وزارتوں اور ذیلی اداروں کے حکام کو بلوایا گیا ہے تاکہ پوچھا جائے کہ اس ضمن میں صورتحال کہاں تک پہنچی ہے۔

    وزیر خزانہ کے مطابق دوسرے مرحلے میں وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، کامرس ڈویژن، ہاؤسنگ اینڈ ورکس اور نیشنل فوڈ سکیورٹی ریسرچ کے 60 ذیلی اداروں میں سے 25 اداروں کو ختم کیا جائے گا 20 میں کمی اور 9 کو ضم کیا جائے گا۔

    وزیر خزانہ نے بتایا کہ ہم نے دوسرے مرحلے میں چار وزارتوں کو لیا اور اس کے بعد اب ہم نے پھر سے 5 پانچ وزارتوں کو چنا ہے۔ ان میں فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفینشنل ٹریننگ، انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹنگ، پاور ڈویژن، فنانس ڈویژن اور نیشنل ہیریٹیج اینڈ کلچر شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے حجم کو کم کرنے کے لیے گذشتہ کئی برسوں میں کام ہوا لیکن ’اس میں سقم یہ تھا کہ اگر آپ ہر ممکنہ چیز کو ایک ہی بار میں کرنا چاہیں تو وہ ہو نہیں سکتی اس لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ اس عمل کو بتدریج اور مرحلہ وار کریں۔‘

    ’ایک ہی بار 43 وزارتوں کو ہلا دینے سے کام نہیں ہوتا اس لیے ہم نے پہلے پانچ وزارتوں اور ان کے ذیلی اداروں کو لیا اور ان کے متعلقہ حکام کو بلایا اور ان سے کہا کہ وہ ٹی او آرز کو دیکھتے ہوئے بتائیں کہ ان کی وزارتوں اور اداروں کے کام کو کیسے آگے بڑھایا جائے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ان تفصیلی ملاقاتوں کے بعد رائٹ سائزنگ کے لیے حکمت عملی بنتی ہے، سارے عمل کی نگرانی وزیراعظم خود کر رہے ہیں۔

    ’جن لوگوں کے بارے میں ہم فیصلہ کرنے جا رہے ہیں ان سے بات تو کرنی چاہیے۔ کونسی چیزیں صوبوں کو جا رہی ہیں کونسی چیزوں کو بند کر دیا جائے۔‘

    CURRENCY

    ،تصویر کا ذریعہJEWEL SAMAD

    پچھلے چھ ماہ میں کتنی رائٹ سائزنگ ہوئی کس کس پر اثر پڑے گا؟

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ان فیصلوں کے بارے میں آگاہ کیا جو لیے گئے ہیں۔ وہ درج ذیل ہیں۔

    1) چھ ماہ کے اندر خالی آسامیاں جن پر ابھی بھرتی نہیں ہوئی ان میں سے 60 فیصد کو ختم کر دیا جائے، یہ تعداد ڈیڑھ لاکھ بنتی ہے۔ یہ وہ پوسٹیں ہیں جو بجٹ میں موجود تھیں لیکن اب انھیں ختم کر دیا گیا تھا۔

    2) جنرل نان کور سروسز یعنی صفائی کا کام، پلمبر کا کام اور مالی کا کام اس کو ہم محکموں کے حواالے کر دیں انھیں آؤٹ سورس کر دیں۔ تاکہ ان کی استعداد اچھی کی جا سکے۔

    3) عارضی ملازمتوں کو کس حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

    4) فنانس منسٹری کو تمام حکومتی اداروں کے کیش بیلنس کو دیکھنے کی اجازت ہو گی۔

    ٹائم لائن کیا ہے؟

    وزیرخزانہ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران یعنی چھ ماہ کے اندر رائٹ سائزنگ کا کام مکمل کیا جائے گا۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ جون 2025 تک، رواں مالی سال ختم ہونے سے قبل تمام وزارتوں کی رائٹ سائزنگ کا کام مکمل کرلیا جائے گا۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ ان وزارتوں اور اداروں کے اخراجات کس طرح مزید کم کیے جائیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کا مقصد ہی یہی تھا کہ صوبوں کو جو محکمے یا ادارے منتقل کیے جائیں، ان کے تمام اختیارات اور وسائل بھی دیے جائیں۔

  20. پاڑہ چنار امدادی سامان لے جانے والا قافلہ تاحال ٹل کے مقام پر موجود، کرم میں صبح چھ سے شام چھ تک آمد و رفت پر پابندی

    پاڑہ چنار

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم کے علاقے لوئر کرم میں 93 روز سے مرکزی شاہراہ ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر بند ہے جس کے باعث پاڑہ چنار کے لیے امدادی سامان لے جانے والا قافلہ چار روز سے ٹل کے مقام پر موجود ہے اور آگے بڑھنے کے لیے اجازت نامے کا منتظر ہے۔

    حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے قافلے کو محفوظ راستا فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا ہے کہ راستے کو محفوظ بناکر قافلے کو جلد روانہ کر دیا جائے گا۔

    بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ کرم کی مرکزی شاہراہ پر سکیورٹی مزید سخت کی جارہی ہے۔

    کرم پولیس نے گاڑیوں سے علاقے میں اعلانات کیے ہیں کہ صبح چھ بجے سے شام چھ بجے تک لوگوں کی آمد ورفت پر پابندی ہو گی اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    اسی طرح ضلع کرم میں دو ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جس کے تحت جلسے، جلوس کے علاوہ اسلحہ کی نمائش پر بھی پابندی ہے۔

    ان اقدامات پر عمل درآمد کروانے کے لیے لوئر کرم کے مختلف علاقوں میں پولیس اور ایف سی کی گاڑیاں گشت کر رہی ہیں۔ کئی علاقوں میں پولیس اور ایف سی کی نفری میں اضافہ بھی کر دیا گیا ہے۔

    انتظامیہ کی جانب سے پابندی کے اعلانات اور نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد پاڑہ چنار میں جاری دھرنا معطل کردیا گیا ہے جبکہ بگن کے علاقے میں دھرنا اب مندروی منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ’کیا اب ہم احتجاج بھی نہ کریں؟‘

    بگن کے تاجر رہنما محمد شاہین کا کہنا ہے کہ حکومت نے پابندی کے اعلانات کیے اور اس بارے میں نوٹیفکیشن بھی جاری کیا ہے جبکہ دوسری جانب بگن میں بازار جل چکے ہیں، ہمارے گھر بھی جل چکے ہیں اور ان پر کوئی بات نہیں کرتا۔ ’تو کیا اب ہم احتجاج بھی نہ کریں؟‘

    ان کا کہنا تھا کہ مندوری میں جاری دھرنا مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔

    دوسری جانب کوہاٹ امن معاہدے پر دستخط نہ کرنے والے کم از کم ایک مشر نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انھیں پولیس نے تحویل میں لے لیا ہے۔ حاجی سیف اللہ خان نے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انھیں گذشتہ روز دو بجے کے بعد پولیس نے اپنی تحویل میں لیا۔ اور ’مجھے کچھ بتایا نہیں جا رہا کہ مجھے پولیس کی تحویل میں کیوں رکھا گیا ہے۔‘

    تاہم کرم پولیس نے حاجی سیف اللہ خان سمیت کوہاٹ امن معاہدہ پر دستخط نہ کرنے والے عمائدین کو تحویل میں لیے جانے کی نہ تصدیق کی ہے نا ہی تردید۔