فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس: کسی بھی قانون کی خلاف ورزی ریاستی مفاد کے خلاف ہے، جسٹس جمال مندو خیل کے ریمارکس

سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں زیر سماعت فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کے دوران سات رکنی بینچ میں شامل جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ کسی بھی قانون کی خلاف ورزی ریاستی مفاد کے خلاف ہوتی ہے اور تمام جرائم ریاستی مفاد کے خلاف ہوتے ہیں۔

خلاصہ

  • ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدے کے لیے براہِ راست مذاکرات سنیچر کے روز ہوں گے
  • اسحاق ڈار کا امریکی وزیرِ خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، افغانستان میں امریکی اسلحے اور پاکستانی معدنیات سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کو متنبہ کیا ہے کہ اگر بیجنگ نے 34 فیصد جوابی ٹیرف واپس نہ لیا تو امریکہ مزید ٹیرف نافذ کرے گا

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    آٹھ اپریل کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. امریکہ کا منگل کی رات سے چند چینی مصنوعات پر 104 فیصد ٹیکس نافذ کرنے کا فیصلہ: وائٹ ہاؤس

    AFP

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    اب سے کچھ دیر قبل وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کی پریس بریفنگ کا خلاصہ یہ ہے:

    • لیویٹ نے تصدیق کی کہ منگل کا دن ختم ہونے پر رات 12:01 بجے سے امریکہ کی جانب سے چند چینی مصنوعات پر 104 فیصد ٹیکس لاگو ہو جائے گا۔ یہ اقدام چین کی جانب سے جوابی ٹیکس واپس نہ لینے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ چین معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
    • لیویٹ نے بتایا کہ تقریباً 70 ممالک نے امریکہ سے ٹیرف کے حوالے سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر معاہدے میں امریکی کارکنوں کے مفاد کو مدنظر رکھا جائے گا اور ہر ملک کے لیے علیحدہ حکمتِ عملی اپنائی جائے گی۔
    • لیویٹ نے واضح کیا کہ ٹیرف پر نہ تو کوئی تاخیر ہوگی اور نہ ہی توسیع دی جائے گی۔ بریفنگ سے پہلے اُن کی صدر ٹرمپ سے بات ہوئی جنھوں نے کہا کہ وہ توقع کر رہے ہیں کہ یہ ٹیرف 9 اپریل سے لاگو ہو جائیں گے۔
  3. بلوچستان: نوشکی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایف سی اہلکار ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان کے افغانستان سے متصل ضلع نوشکی کے ہیڈکوارٹر میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے فرنٹیئر کور کے ایک اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    نوشکی پولیس کے ڈی ایس پی شریف بلوچ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے اہلکار عید کی چھٹیوں پر نوشکی آئے تھے۔

    ایف سی کے ہلاک ہونے والے اہلکار کی شناخت محمد ظاہر کے نام سے ہوئی جو کہ ژوب میں تعینات تھے۔

    ڈی ایس پی شریف بلوچ نے بتایا کہ منگل کے روز ایف سی اہلکار قادر آباد سے ایک رکشے میں شہر کی جانب جا رہے تھے کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے رکشے میں بیٹھے ان پر گولی چلائی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایف سی اہلکار گولی لگنے سے موقع پر ہو گئے۔

    تاحال اس واقعے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

    پولیس آفیسر نے بتایا کہ واقعے کے محرکات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

    نوشکی کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں طویل عرصے سے سنگین بدامنی کے واقعات کمی و بیشی کے ساتھ پیش آرہے ہیں۔

  4. پشتون قوم پرست جماعتوں کا افغان مہاجرین کے جبری انخلا پر تشویش کا اظہار

    چار پشتون قوم پرست جماعتوں پر مشتمل اتحاد نے پاکستان میں دہائیوں سے آباد افغان مہاجرین کے جبری انخلا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر انسانی رویہ قرار دیا ہے۔

    کوئٹہ عوامی نیشنل پارٹی، پشتون تحفظ موومنٹ اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنماؤں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پشتونخوا نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ زیرے نے کہا کہ ان جماعتوں کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں افغان مہاجرین کے جبری انخلا کی مذمت کی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ پشتون علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے چاروں جماعتوں کے رہنماؤں پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کے اراکین میں ان کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، رشید خان ناصر، پشتون تحففظ موومنٹ کے رہنما ملک مجید کاکڑ اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی صدر احمد جان کاکڑ شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی افغان مہاجرین کے انخلا سے متعلق افغانوں اور حکومت سے رابطے میں رہے گی۔

    چاروں جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پشتون علاقوں میں دہشت گردی عروج پر ہے اور حکومتی رٹ کہیں نظر نہیں آرہی جبکہ پشتونوں کو ان کی اپنی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پشتون علاقوں میں اراضی کی جعلی اور بوگس الاٹمنٹ کسی صورت قبول نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پشتون سیاسی و جمہوری جماعتوں کے رہنمائوں کی گرفتاری باعث تشویش ہے۔ پی ٹی ایم کے خلاف غیر آئینی و غیر قانونی کریک ڈاون و پابندی ختم کیا جائے۔

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ پشتون اور بلوچ علاقوں سے لاپتہ ہونیوالے سیاسی کارکنوں کو فوری بازیاب کیا جائے۔

  5. کسی بھی قانون کی خلاف ورزی ریاستی مفاد کے خلاف ہوتی ہے، فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت میں ریمارکس

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں زیر سماعت فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کے دوران سات رکنی بینچ میں شامل جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ کسی بھی قانون کی خلاف ورزی ریاستی مفاد کے خلاف ہوتی ہے اور تمام جرائم ریاستی مفاد کے خلاف ہوتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ مسلح افواج کا بنیادی کام دفاع پاکستان ہے، جس پر وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے موقف اپنایا کہ مسلح افواج دفاع کیسے کریں گی جب پیچھے سے ٹانگیں کھینچی جائیں؟

    سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی۔

    دوران سماعت سانحہ جعفر ایکسپریس کا تذکرہ بھی ہوا۔ جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ کیا بولان میں ہونے والا ٹرین کا واقعہ ریاستی مفاد کے خلاف نہیں تھا؟ آرمڈ فورسز کا بنیادی کام دفاع پاکستان ہے۔

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے یہ کوئی جذباتی ہونے کا نہیں بلکہ ملکی سکیورٹی کا معاملہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ایک پولیس والے کی ڈیوٹی ہماری عدالت کے دروازے کے باہر ہو، اس پولیس والے کی ڈیوٹی ہوگی کہ کوئی اسلحے سے لیس شخص عدالت داخل نہ ہو مگر وہ پولیس والا پانچ منٹ کے لیے ادھر ادھر ہو جائے تو اس نے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی، کیا یہ سکیورٹی آف سٹیٹ نہیں؟ ایک سازش جو ابھی ہوئی نہیں، اس پر قانون کا اطلاق کیسے ہو گا؟

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ضابطہ فوجداری میں بھی قتل اور اقدام قتل کی الگ الگ شقیں ہیں۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے ایک کنفیوژن ہے جس پر ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں، پریس والے بیٹھے ہیں، نہ جانے میری آبزرویشن کو کیا سے کیا بنا دیں، اپیل کا حق بھی نہیں، کیا عام قانون سازی کر کے شہریوں سے بنیادی حقوق لیے جا سکتے ہیں؟ کیا آئینی ترمیم کرکے سویلین کا ملٹری ٹرائل نہیں ہونا چاہیے تھا؟

    دوران سماعت وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق کورٹ مارشل عدالتیں ہائیکورٹ کے ماتحت نہیں ہوتیں۔ انھوں نے کہا کہ آئین میں پرویژن موجود ہے جو کورٹ مارشل کی حمایت کرتی ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے ویسے اپیل کی حد تک تو اٹارنی جنرل نے عدالت میں گزارشات پیش کی تھیں، اٹارنی جنرل کی گزارشات عدالتی کارروائی کے حکمناموں میں موجود ہے۔

    جسٹس امین الدین خان نے ہدایت کی کہ وزارت دفاع کے وکیل کے دلائل مکمل کرنے کے بعد اٹارنی جنرل خود پیش ہوں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ بنیادی حقوق ملنے یا نہ ملنے کا معاملہ یا اپیل کا معاملہ ہمارے سامنے ہے ہی نہیں۔

    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ جب آرٹیکل آٹھ کی شق تین اے کے تحت معاملہ عدالت آ ہی نہیں سکتا تو پھر بات ختم، پھر کیسی اپیل؟

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے میں کسی کو اپیل کا حق نہیں دے رہا، بین الاقوامی طور اپیل کا حق دینے کی دلیل دی گئی۔

    بعد ازاں عدالت نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کل تک ملتوی کردی۔ خواجہ حارث کل بھی جواب الجواب دلائل جاری رکھیں گے۔

  6. آرمی چیف کا پاکستان منرل انویسٹمنٹ فورم سے خطاب: ’پاکستانی فوج سرمایہ کاروں کے مفادات کے لیے مضبوط سکیورٹی فریم ورک کو یقینی بنائے گی‘

    آرمی چیف

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستان کے آرمی جنرل چیف عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستانی عوام کے پیروں کے نیچے وسیع معدنی ذخائر، ہاتھوں میں مہارت اور شفاف معدنی پالیسی کے ہوتے ہوئے مایوسی اور بے عملی کی کوئی گنجائش نہیں اور پختہ یقین ہے کہ پاکستان عالمی معدنی معیشت میں ایک رہنما کے طور پر ابھرنے کے لیے تیار ہے۔

    اسلام آباد میں پاکستان منرل انویسٹمنٹ فورم 2025 سے خطاب میں آرمی چیف نے کہا کہ ہم بین الاقوامی اداروں کو خوش آمدید کہتے ہیں کہ وہ اپنی مہارت سے پاکستان کو روشناس کرائیں، سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کریں اور وسائل کی وسیع صلاحیت کی ترقی میں ہمارے ساتھ شراکت داری کریں۔

    واضح رہے کہ پاکستان کی میزبانی میں پاکستان منرل انویسٹمنٹ فورم کا آغاز آج اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں ہوا۔ اس فورم میں امریکہ کے اعلی سطحی وفد کے علاوہ متعدد غیر ملکی مندوبین بھی شامل ہیں۔

    امریکہ کے وفد کی قیادت ایرک میئر کر رہے ہیں جو امریکی محکمہ خارجہ میں ’بیورو آف ساؤتھ اینڈ سینٹرل ایشین افیئرز‘ میں اعلی عہدے پر فائز ہیں۔

    فورم سے خطاب میں آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان میں موجود معدنیات کی دولت کو اخذ کرنے کے لیے انجینیئر، ماہر ارضیات اور بہت سے ماہر کان کن درکار ہیں اور اسی لیے ہم اس شعبے کی ترقی کے لیے طلبا کو بیرون ملک تربیت کے لیے بھی بھیج رہے ہیں۔

    آرمی چیف نے بتایا کہ اس وقت بلوچستان کے 27 پاکستانی طلبا، زیمبیا اور ارجنٹینا میں منرل ایکسپلوریشن میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستانی فوج اپنے شراکت داروں اور سرمایہ کاروں کے مفادات اور اعتماد کے تحفظ کے لیے مضبوط سکیورٹی فریم ورک اور فعال اقدامات کو یقینی بنائے گی۔‘

    آرمی چیف نے کہا کہ ’ہم پاکستانی بیک آواز شراکت داروں اور سرمایہ کاروں کو یقین دلاتے ہیں کہ کاروبار اور معدنی دولت سے استفادہ کرنے کے کے لیے آپ کی مہارت سے مستفید ہونا ہماری اجتماعی قومی خواہش ہے۔ آپ پاکستان پر پُر اعتماد پارٹنر کے طور پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔‘

    اپنے خطاب میں آرمی چیف نے یہ بھی کہا کہ وہ بلوچ قبائلی عمائدین کی کاوشوں کے بھی معترف ہیں، جنھوں نے کان کنی کو فروغ دینے اور بلوچستان کی ترقی و پیشرفت میں اہم کردار ادا کیا۔

  7. بی این پی کا دھرنا: وڈھ میں فائرنگ کے ذمہ داران کیخلاف مقدمے کی یقین دہانی پر مظاہرین نے شاہراہ کھول دی

    بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے وڈھ سے کوئٹہ کراچی شاہراہ کو مذاکرات کے بعد مظاہرین نے منگل کے روز کھول دیا۔

    وڈھ میں گزشتہ روز شاہراہ کو کلیئر کرنے کے دوران چار افراد زخمی ہوئے تھے جس کے بعد مظاہرین نے فائرنگ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

    خیال رہے کہ بی این پی کے زیر اہتمام دھرنے کے شرکا کو کوئٹہ کی جانب مارچ سے روکنے کے لیے اتوار کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شاہرائوں کو بند کیا گیا تھا۔

    دیگر علاقوں میں اتوار کی شام شاہراہوں کو کھول دیا گیا تھا لیکن وڈھ کے مقام سے کوئٹہ کراچی شاہراہ بند رہی جسے کھولنے کے لیے پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے پیر کے روز کارروائی کی جس کے دوران چار مظاہرین زخمی ہوئے۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ یہ لوگ سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے زخمی ہوئے تھے اور ان کا یہ مطالبہ تھا کہ فائرنگ کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

    بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے منگل کو مذاکرات میں مظاہرین کو یہ یقین دہانی کرائی کہ فائرنگ کے ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا جس پر مظاہرین نے شاہراہ کو کھول دیا۔

    اس سلسلے میں خضدار پولیس کے سربراہ سے فون پر رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا تاہم وڈھ میں پولیس کے ایک سینِئر اہلکار نے اس بات کی تصدیق کی کہ مظاہرین کو مقدمہ درج کروانے کی یقین دہانی کرائی گئی تاہم ابھی تک مقدمہ درج نہیں ہوا۔

    پولیس اہلکار نے بتایا کہ مذاکرات کے نتیجے میں دو روز بعد وڈھ کے علاقے سے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ٹریفک بحال ہو گئی۔

    لکپاس کے علاقے میں دھرنا جاری

    ادھر لکپاس کے علاقے میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام دھرنا منگل کو 12ویں روز بھی جاری رہا۔ یہ دھرنا بلوچ یکجہتی کمیٹی کی گرفتار خواتین کی رہائی کے لیے دیا جا رہا ہے جس کی حمایت اکثر سیاسی جماعتوں کے علاوہ قبائلی عماٰدین نے کی ہے۔

    دھرنے کے شرکا کو کوئٹہ آنے سے روکنے کے لیے مستونگ اور کوئٹہ کے اضلاع کی انتظامیہ کی جانب سے جو رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں ان کے باعث گاڑیوں کی آمدو رفت معطل ہے۔

    شاہراہ کی بندش سے نہ صرف لوگوں کو سفر کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے بلکہ مختلف مقامات پر مال بردار گاڑیوں کے پھنسنے کی وجہ سے تاجروں اور ٹرانسپورٹوں کو نقصان ہو رہا پے۔

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد علاقوں میں گزشتہ کئی روز سے موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس بھی بند تھی لیکن گزشتہ شب انٹرنیٹ سروس بحال کر دی گئی۔

    بی وائی سی کا ایک اور خاتون رہنما کی گرفتاری کا دعویٰ

    بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ ان کی ایک اور خاتون رہنما کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے وکیل عمران بلوچ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ گلزادی بلوچ کو گزشتہ شب ساڑھے 8 بجے کے قریب کوئٹہ سے گرفتار کیا گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ تاحال سرکاری حکام کی جانب سے یہ نہیں بتایا جا رہا کہ ان کو کہاں رکھا گیا ہے۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے ایکس پر بیان میں گلزادی کی گرفتاری کو حقوق انسانی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکام لوگوں کی تشویش کو ختم کرنے کی بجائے ان کی آواز بند کر کے معلوم نہیں کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔

    اگرچہ بی وائی سی اور دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے گلزادی کی گرفتاری کا دعویٰ کیا جارہا ہے لیکن تاحال سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

    عمران بلوچ کے مطابق اب تک بی وائی سی کی جن خواتین رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا، ان میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ اور گلزادی شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اتوار کے روز کوئٹہ سے احتجاج کے دوران بلوچستان نیشنل پارٹی کے کارکنوں سمیت مجموعی طور پر 80 لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔

  8. تاریخی مندی کے بعد پاکستان سمیت ایشیا اور یورپ کی متعدد سٹاک مارکیٹس میں بہتری، پی ایس ایکس میں 1600 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ

    سوموار کے روز پاکستان سٹاک ایکسچینج میں چھ ہزار پوائنٹس سے زائد کی تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنسوموار کے روز پاکستان سٹاک ایکسچینج میں چھ ہزار پوائنٹس سے زائد کی تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

    سوموار کے روز پاکستان سٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ہونے والی تاریخی مندی کے بعد جب منگل کو پی ایس ایکس میں کاروبار کا آغاز ہوا تو مارکیٹ قدرے سنبھلی ہوئی نظر آئی۔

    دوپہر تک کے ایس سی 100 انڈیکس تقریباً 1628 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 116538 پر کھڑی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے متعدد ممالک پر اضافی ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے دنیا بھر کے بازارِ حصص میں بھونچال کی سی کیفیت پیدا کر دی تھی اور پاکستان سمیت ایشیا اور یورپ کی متعدد مارکیٹس میں شدید مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا۔

    سوموار کو کاروبار کے آغاز کے کچھ ہی دیر بعد کے ایس ای 100 انڈیکس میں 6287 پوائنٹس کی تاریخی کمی کے بعد کاروبار کو عارضی طور پر معطل کرنا پڑا۔

    تاہم دن کے اختتام تک مارکیٹ میں بہتری کے کچھ آثار دیکھنے میں آئے اور 100 انڈیکس گذشتہ کاروباری دن کے مقابلے میں تقریباً 3900 پوائنٹس کی مجموعی کمی کے بعد 114909 پر بند ہوا۔

    منگل کے روز پاکستان سمیت ایشیا اور یورپ کی متعدد مارکیٹوں میں صورتحال میں قدرے بہتر نظر آ رہی ہے۔

    صبح سے لے کر اب تک کے ایس سی 100 انڈیکس میں تقریباً 1628 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے اور مارکیٹ اس وقت 116538 پوائنٹس پر کھڑی ہے۔ یہ تقریباً 1.42 فیصد کا اضافہ ہے۔

    یورپ کی متعدد مارکیٹوں میں بھی کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا ہے۔

    برطانیہ کی فنانشل ٹائمز سٹاک ایکسچینج میں 1.1 فیصد کا اضآفہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ جرمنی کا حصص بازار ڈیکس 0.6 فیصد اوپر گیا ہے۔ فرانس کی سٹاک مارکیٹ کیک 40 میں 1.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    یورپی مارکیٹ پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار اس صورتحال کو خوش آئند تو قرار دیتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔

    ہارگریس لانس ڈاؤن سے منسلک سینئر ایکویٹی تجزیہ کار میٹ برٹزمین کہتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ مشکلات ختم ہو گئی ہیں۔ خاص طور پر جب دیکھا جا سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ تجارتی عدم توازن کے متعلق اپنے مؤقف پر اب بھی قائم ہیں اور چین پر دباؤ پر بڑھا رہے ہیں۔

    تاہم برٹزمین کہتے ہیں امریکہ اور جاپان کے مابین تجارتی معاملات پر ہونے والے مذاکرات سے امید کی ایک کرن پیدا ہوئی ہے۔

    دوسری جانب تین دن سے جاری حصص کی فروخت کے رجحان کے بعد جاپان کی نکئی 225 انڈیکس میں آج کاروبار کا آغاز چھ فیصد اضافے کے ساتھ ہوا۔

    گذشتہ روز 13 فیصد کمی کے بعد آج ہانگ کانگ کے ہانگ سینگ میں دو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    جنوبی کوریا اور آسٹریلیا کے بازاروں میں بھی تیزی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ تائیوان اور سنگاپور میں نقصانات کا رجحان جاری رہا۔

    چین کی شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس میں کاروبار کا آغاز فلیٹ رہا۔

    ایک تاجر نے ایشیا بھر کی مارکیٹوں میں آنے والی بہتری کو سوموار کے روز کی ’مصیبت‘ کے بعد مارکیٹ فطری ردِ عمل ہے۔

  9. اسلام آباد: بہن کا مبینہ قاتل بھائی گرفتار

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے مبینہ طور پر اپنی ہی بہن کو قتل کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

    اسلام آباد کے تھانہ بنی گالہ میں پولیس کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق سوموار کے روز پولیس کو ایک گھر کے مالک کی جانب سے اطلاع دی گئی کہ اُن کے گھر میں کام کرنے والی خاتون اقرا کوثر کو اُس کا ملزم بھائی شام 7 بجے کے قریب اپنے ساتھ لے گیا۔

    اطلاع دینے والے نے پولیس کو بتایا کہ ملزم نے اپنی بہن گھر کی پچھلی جانب مویشیوں کے باڑے میں لے جا کر گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

    پولیس ترجمان کے مطابق ملزم نے اپنی 28 سالہ بہن کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش گھر کے باہر دفن کر دی تھی۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ پولیس نے ملزم کی نشاندہی پر لاش برآمد کر لی ہے جبکہ ملزم سے قتل میں استعمال ہونے والا پسٹل بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

  10. نو مئی کے ملزمان کی ضمانت منسوخی کیس: سپریم کورٹ کا ٹرائل کورٹ کو چار ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم

    عدالت نے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کو حکم دیا کہ وہ ہر دو ہفتے کے بعد ان مقدمات کی عدالتی سماعت میں ہونے والی پیش رفت کے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا آگاہ کریں گے۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنعدالت نے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کو حکم دیا کہ وہ ہر دو ہفتے کے بعد ان مقدمات کی عدالتی سماعت میں ہونے والی پیش رفت کے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا آگاہ کریں گے۔

    سپریم کورٹ میں نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کی ضمانتوں کی منسوخی سے متعلق پنجاب حکومت کی اپیلوں پر سماعت کے دوران حکم دیا ہے کہ ٹرائل کورٹس چار ماہ میں تمام کیسز کو سُن کر فیصلہ دیں۔

    منگل کے روز چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی۔ یاد رہے کہ نو مئی کے کیسز میں نامزد متعدد ملزمان عدالت سے ضمانتیں حاصل کر کے رہائی پا چکے ہیں اور اس کے خلاف پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

    منگل کے روز سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران ضمانت پر رہائی پانے والی تحریک انصاف کی کارکن خدیجہ شاہ کے وکیل نے استدعا کی کہ اُن کی موکلہ کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

    چیف جسٹس نے خدیجہ شاہ کے وکیل سے کہا کہ وہ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں پر اعتماد کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون واضح ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر ہو گا۔

    پنجاب حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ تین ماہ میں ملزمان کا ٹرائل مکمل کر لیا جائے گا۔ جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تین نہیں چار ماہ میں ٹرائل کورٹ کو کاروائی مکمل کرنے کا کہیں گے۔

    عدالت نے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کو حکم دیا کہ وہ ہر دو ہفتے کے بعد ان مقدمات کی عدالتی سماعت میں ہونے والی پیش رفت کے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا آگاہ کریں گے۔

  11. کیا دنیا واقعی کساد بازاری کی جانب بڑھ رہی ہے؟, سائمن جیک، بزنس ایڈِٹر، نیو یارک

    سٹاک مارکیٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لگائے جانے والے ٹیرف کے نتیجے میں دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ لیکن کیا اس کا یہ مطلب نکالا جا سکتا ہے کہ دنیا کساد بازاری کی جانب بڑھ رہی ہے؟

    سب سے پہلے تو یہ بات واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ سٹاک مارکیٹیں کسی ملک کی معیشت کی بہترین عکاس نہیں۔ اگر سٹاک مارکیٹ میں حصص کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا ہرگز یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ آنے والے دنوں میں معاشی مشکلات بڑھنے والی ہیں۔

    لیکن کبھی کبھار شیئر مارکیٹ آنے والی معاشی مشکلات کی جانب اشارہ بھی دیتی ہیں۔

    سٹاک مارکیٹوں کی قدر میں جیسی گراوٹ حالیہ دنوں میں دیکھنے میں آئی ہے یہ اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ دنیا کی بڑی کمپنیاں اپنے مستقبل کے منافعوں کا ازسرِنو جائزہ لے رہی ہیں۔

    کمپنیوں کو خدشہ ہے کہ ان محصولات کے نتیجے میں ان کی لاگت میں اضافہ ہوگا جبکہ منافع میں کمی واقع ہو گی۔

    لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کساد بازاری کا خطرہ اٹل ہے۔ بس اب کساد بازاری کا امکان پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔

    کسی بھی معیشت کو اس وقت کساد بازاری کا شکار کہا جاتا ہے جب عوام اور حکومت کی جانب سے کیا جانے والا خرچ یا برآمدات میں مسلسل دو سہ ماہی تک کمی کا رجحان دیکھنے میں آءے۔

    پچھلے سال اکتوبر اور دسمبر کے درمیان برطانیہ کی معیشت میں 0.1 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا اور تازہ ترین ماہانہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوری میں اسی تناسب سے کمی واقع ہوئی ہے۔

    فروری میں برطانوی معیشت کی کارکردگی کا پہلا تخمینہ آنے والے جمعے کو جاری کیا جائے گا۔

    تاہم، سٹاک مارکیٹوں میں ہونے والی حالیہ تباہی میں کچھ خاص تشویشناک نشانیاں پائی جاتی ہیں۔

    بینکوں کو اکثر معیشتوں کا عکاس سمجھا جاتا ہے۔ آج مارکیٹ پر نظر رکھنے والے ایک تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ ان کے لیے سب سے بڑی تشویش کا باعث بینکوں کے حصص کی قدر میں کمی ہے۔

    ایچ ایس بی سی اور سٹینڈرڈ چارٹرڈ کے حصص کی قدر میں 10 فیصد سے زائد کی کمی دیکھی گئی تھی۔ تاہم اب ان کی قیمت میں قدرے بہتری دیکھی جا رہی ہے۔

    کساد بازاری کی دیگر کچھ نشانیاں کموڈٹی ایکسچینجز میں دیکھی جا سکتی ہیں جہاں تانبے اور تیل کی قیمتوں میں 15 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔

    دنیا میں عالمی کساد بازاری کی زیادہ مثالیں نہیں ملتیں۔

    1930 کی دہائی کی کساد بازاری، عظیم مالیاتی بحران اور کووڈ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشی صورتحال اس کی تین نادر مثالیں ہیں۔

    تاہم ابھی اتنے بڑے پیمانے پر ایسا کچھ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

    لیکن زیادہ تر معاشی تجزیہ کاروں کے خیال میں امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین میں کساد بازاری کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ گئے ہیں۔

  12. امریکہ اور چین کے درمیان ٹیرف کی جنگ: ’ایسا سوچنا بھی غلط ہو گا کہ چین پیچھے ہٹ جائے گا‘, اینابیل لیانگ، بی بی سی سنگاپور

    چین ٹیرف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کی وزارت تجارت نے آخری دم تک مقابلہ کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکہ کی ’بلیک میلنگ‘ کبھی قبول نہیں کرے گا۔

    چینی حکام نے امریکی صدر ڈدونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی اشیا پر 50 فیصد اضافی ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی کو ’غلطی پر غلطی‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ٹیرف عائد کرنے کے تمام منصوبوں کو روکا جائے اور اختلافات کو دور کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ اپنایا جائے۔

    امریکہ میں درآمد کی جانے والی چینی مصنوعات پر پہلے ہی 54 فیصد ٹیرف عائد ہے۔ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر چین نے جوابی محصولات عائد کیے تو اس ٹیرف کو بڑھا کر دو گنا کر دیا جائے گا۔

    اگرچہ امریکہ کی جانب سے لگائے جانے والے ٹیرف کے نتیجے میں چین کی برآمدت پر واضح اثر پڑے گا، اس کے باوجود ماہرین کے خیال میں اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ بیجنگ اپنے موقف سے پیچھے ہٹَے۔

    یوریشیا گروپ کنسلٹنسی کے دین وانگ کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں چین واقعتاً آخری دم تک مقابلے کرنے کے لیے تیار ہے۔ ’یہ جیسے کو تیسا والی صورتحال ہو گی، اگر امریکہ دوبارہ محصولات میں اضافہ کرتا ہے تو چین بھی جواباً ایسا ہی کرے گا۔‘

    اس بات سے قطع نظر کہ مجوزہ ٹیرف کے نتیجے میں چین کے ایکسپورٹ سیکٹر کے منافع کا مارجن ختم ہو جائے گا۔

    تھنک ٹینک دی کانفرنس بورڈ سے تعلق رکھنے والے الفریڈو مونٹفر ہی لو کا کہنا ہے کہ ایسا سوچنا بھی غلط ہو گا کہ چین پیچھے ہٹ جائے گا کیونکہ چین کبھی کمزور دکھنا نہیں چاہے گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ بد قسمتی سے ہم ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ ساریی صورتحال طویل مدتی معاشی مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔

  13. امریکہ کی ایران سے ممکنہ جوہری ڈیل پر براہ راست مذاکرات کی تصدیق: ’اگر مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوئے تو یہ ایران کے لیے بہت بُرا ہو گا‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوئے تو یہ ’ایران کے لےی بہت برا دن‘ ثابت ہوگا۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوئے تو یہ ’ایران کے لےی بہت برا دن‘ ثابت ہوگا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدے کے لیے براہِ راست مذاکرات سنیچر کے روز ہوں گے۔

    ایران کی جانب سے بھی اس کی تصدیق کی گئی ہے۔ تاہم ایرانی حکام کے مطابق یہ بات چیت جتنا بڑا موقع ہے اتنا ہی بڑا امتحان بھی۔

    سوموار کے روز امریکی صدر نے بتایا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات ’انتہائی اعلیٰ سطح‘ پر ہوں گے۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات کے بعد کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکا تو یہ ’ایران کے لیے بہت برا دن‘ ثابت ہو گا۔

    خیال رہے کہ گذشتہ ماہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے براہِ راست مذاکرات کی امریکی پیشکش ٹھکرائے جانے کے بعد ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کا ذکر کیا تھا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے مارچ میں متحدہ عرب امارات کے ایک ثالث کے ذریعے ایران کے رہنما کو ایک خط بھیج کر مذاکرات کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کی تھی۔

    ایران نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا، حالانکہ اس کی قیادت نے کسی تیسرے فریق کے ذریعے امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر بات کرنے پر آمادگی کا اشارہ دیا تھا۔

    امریکی صدر نے ایران سے براہِ راست بات چیت کے متعلق انکشاف اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامن نتن یاہو سے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے بعد کیا۔ نتن یاہو اس سے قبل ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے اس پر حملہ کرنے کی تجویز پیش کر چکے ہیں۔

    اوول آفس میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا: ’سنیچر کو [ایران کے ساتھ] ہماری ایک بہت بڑی میٹنگ ہے، اور ہم ان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کر رہے ہیں... اور ہو سکتا ہے کہ کسی معاہدے پر پہنچ سکیں، جو کہ بہت اچھا ہو گا۔‘

    وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے نتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر پائے۔

    ’اگر یہ کام سفارتی طور پر کیا جا سکتا ہے، جس طرح لیبیا میں کیا گیا تھا، تو میرے خیال میں یہ ایک اچھی بات ہوگی۔‘

    ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات کے ناکام ہونے کی صورت میں ایران ’بڑے خطرے‘ سے دوچار ہو سکتا ہے۔

    ’ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہییں، اور اگر بات چیت کامیاب نہ ہوئی تو، مجھے لگتا ہے کہ یہ ایران کے لیے بہت برا دن ہو گا۔‘

    تاہم ان کی جانب سے اس بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں کہ مذاکرات کس مرحلے پر ہیں یا ان میں کون سے عہدیدار شامل ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات 12 اپریل کو عمان میں ہوں گے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات جتنا بڑا موقع ہے اتنا ہی بڑا امتحان بھی۔ ’گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے۔‘

  14. اسحاق ڈار کا امریکی وزیرِ خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، افغانستان میں امریکی اسلحے اور پاکستانی معدنیات سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال

    امریکی وزیرِ خارجہ نے پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے مختلف شعبوں بالخصوص معدنیات میں تعاون کی خواہش کا اظہار کیا۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی وزیرِ خارجہ نے پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے مختلف شعبوں بالخصوص معدنیات میں تعاون کی خواہش کا اظہار کیا۔

    پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کا سوموار کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی اور اقتصادی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

    وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نائب وزیرِ اعظم نے امریکہ کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری اور انسداد دہشت گردی جیسے شعبوں میں تعاون کو بہتر بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

    دورانِ گفتگو، امریکی وزیرِ خارجہ نے پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے مختلف شعبوں بالخصوص معدنیات میں تعاون کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق، مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ معیشت اور تجارت میں تعاون دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کے تعلقات کی پہچان ہو گا۔

    امریکی وزیر خارجہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور انسداد دہشت گردی میں تعاون کے فروغ کی امریکی خواہش کا اظہار کیا۔

    دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ مارکو روبیو نے افغانستان سے انخلا کے وقت امریکی فوج کی جانب سے پیچھے چھوڑے گئے فوجی سازوسامان کے مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے امریکہ اور پاکستان کے مشترکہ مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔

    رواں سال جنوری میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر کا امریکی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پاکستان اور امریکہ کے درمیان وزرائے خارجہ کی سطح پر ہونے والا یہ پہلا ٹیلیفونک رابطہ ہے۔

    دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ کی جانب سے پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک پر ٹیرف عائد کر دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے عالمی معیشت اور سٹاک مارکیٹوں کو نقصان پہنچا ہے۔

  15. بلوچستان میں سیاسی ڈیڈلاک برقرار: بی این پی کا سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کا الزام, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کا الزام ہے کہ ضلع خضدار کے علاقے وڈھ میں سکیورٹی فورسز کی مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجے میں پارٹی کے چار کارکن زخمی ہوئے ہیں۔

    پیر کی شب کوئٹہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے الزام عائد کیا کہ پرامن مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی گئی۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کی عدم رہائی اور لکپاس کے مقام پر دھرنے کے شرکا کو کوئٹہ جانے کی اجازت نہ ملنے کے خلاف بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی جبکہ ضلع مستونگ میں لکپاس کے مقام پر دھرنا بھی مسلسل جاری رہا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت مسائل کا سیاسی حل چاہتی ہے تاہم بی این پی کی جانب سے مثبت جواب نہ ملنے کے باعث ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

    خضدار میں شاہراہ سے مظاہرین کو ہٹانے کے لیے کارروائی

    اتوار کے روز دھرنے کے شرکا کو کوئٹہ کی جانب مارچ کی اجازت نہ ملنے کے خلاف بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شاہراہیں بند کر دی گئی تھیں۔ شام تک اکثر علاقوں میں راستے کھول دیے گئے تاہم خضدار اور وڈھ میں کوئٹہ کراچی شاہراہ پیر کو بھی بند رہی۔

    پیر کے روز خضدار شہر اور وڈھ میں پولیس، لیویز اور ایف سی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

    وڈھ شہر کے حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایسی ویڈیوز بھی گردش کرتی رہیں جن کے متعلق دعویٰ کیا گیا کہ ان میں فاِئرنگ کی بھی آوازیں آرہی ہیں۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ یہ ویڈیوز مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی ہیں تاہم سرکاری سطح پر ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

    بی بی سی بھی ان ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق کرنے سے قاصر ہے۔

    کوئٹہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی این پی کے رہنما ساجد ترین ایڈووکیٹ نے الزام عائد کیا کہ وڈھ میں مظاہرین پر سیکورٹی اہلکاروں کی جانب سے مبینہ طور پر براہ راست فائرنگ کی گئی جس میں چار کارکن زخمی ہوئے۔

    اس حوالے سے حکومت کا موقف لینے کے لیے بی بی سی نے حکومت بلوچستان کے ترجمان اور خضدار پولیس کے ایس ایس پی سے فون پر رابطے کرنے کے علاوہ انھیں واٹس ایپ پر پیغام بھی بھیجا ہے تاہم تادمِ تحریر ہمیں کوئی جواب نہیں ملا۔

    اگرچہ سیکورٹی اہلکاروں کی کارروائی کے نتیجے میں وڈھ سے کوئٹہ کراچی ہائی وے پر ٹریفک کچھ دیر کے لیے بحال ہوئی تاہم بعد میں مظاہرین نے دوبارہ اس کو بند کر دیا۔

    وڈھ شہر میں ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ یہاں سے کوئٹہ کراچی ہائی وے تاحال بند ہے جبکہ خضدار شہر میں پولیس کنٹرول کے اہلکار نے بتایا کہ شہر کی حدود میں شاہراہ پر کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

    بی این پی کی کال پر شٹر ڈاؤن ہڑتال

    بی وائی سی کی خواتین رہنماؤں کی عدم رہائی اور لکپاس کے علاقے سے دھرنا کے شرکا کو کوئٹہ کی جانب مارچ کی اجازت نہ دینے کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کی کال پر پیر بلوچستان کے اکثر علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی۔

    پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران ساجد ترین ایڈووکیٹ نے دعویٰ کیا کہ ہڑتال کامیاب رہی، انھوں نے اس پر تاجر تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا۔

    تاہم محکمہ تعلقات عامہ بلوچستان نے ہڑتال کو ناکام قرار دیا ہے۔

    ہڑتال کے ساتھ ساتھ لکپاس کے علاقے میں دھرنا پیر کو دسویں روز بھی جاری رہا۔ دھرنے کے شرکا کو کوئٹہ آنے سے روکنے کے لیے کوئٹہ اور مستونگ کی ضلعی انتظامیہ نے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر لکپاس اور کوئٹہ شہر کے درمیان مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں جس کے باعث کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر شہروں کے درمیان اس اہم شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت دس روز سے معطل ہے۔

    ڈیڈلاک کی وجہ سے کشیدہ صورتحال اور لوگوں کو درپیش مشکلات کے لیے بلوچستان نیشنل پارٹی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے۔ تاہم حکومت بلوچستان کا کہنا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    بلوچستان کی قبائلی اور سیاسی شخصیات میر اسراراللہ زہری اور سردار کمال خان بنگلزئی سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ سردار اختر مینگل کے ساتھ بات چیت کے تین دور ہوچکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے ان کی جانب سے پیش کیے گئے تین مطالبات میں سے ایک مطالبہ تسلیم کیا ہے، حکومت نے مسئلے کے سیاسی حل کی سنجیدہ کوشش کی لیکن دوسری جانب سے مثبت جواب نہیں آیا جس کی وجہ سے ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

  16. اگر چین نے جوابی ٹیرف واپس نہ لیا تو امریکہ مزید 50 فیصد ٹیرف عائد کرے گا: ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کو متنبہ کیا ہے کہ اگر بیجنگ نے 34 فیصد جوابی ٹیرف واپس نہ لیا تو امریکہ مزید ٹیرف نافذ کرے گا۔

    ٹرمپ نے بیجنگ پر 50 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔

    چین نے جمعے کو ٹرمپ کے ٹیرف کے جواب میں امریکی مصنوعات پر 34 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا۔

    خیال رہے کہ آج پھر سے امریکی منڈیوں میں مندی کا رجحان جاری ہے۔

    یورپی کمیشن کی سربراہ نے کہا ہے کہ یورپ امریکہ سے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے صنعتی سامان پر ’صفر کے بدلے صفر ٹیرف‘ کی پیشکش کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یورپ ’اچھے معاہدے کے لیے تیار ہے۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ جوابی اقدامات کے لیے بھی تیار ہیں۔

    ٹرمپ نے یورپی یونین کی مصنوعات پر 20 فیصد ٹیرف عائد کیے ہیں جبکہ ایلومینیئم، سٹیل اور دیگر سامان پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیے ہیں۔

  17. دہشت گردی کنٹرول کرنا پارلیمان کا کام ہے، عدالت کا نہیں: جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے رکن جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس میں کہا ہے کہ ’دہشت گردی کنٹرول کرنا پارلیمان کا کام ہے، عدالت کا نہیں اور اگر عدالت یہ سوچنے لگ گئی کہ فیصلے سے دہشتگردی کم ہوگی یا بڑھے گی تو فیصلہ نہیں کر سکے گی۔‘

    سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی۔

    فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے حوالے سے وفاق کی اپیل پر وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کے جواب الجواب دلائل پیر کو مکمل نہ ہوسکے۔

    وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے اور جواب الجواب دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کچھ عدالتی فیصلوں پر دلائل دینا چاہتا ہوں، سابق جج سعید الزماں صدیقی سمیت دیگر کے کچھ فیصلے ہیں، اگر کوئی سویلین کسی فوجی تنصیب کو نقصان پہنچائے، ٹینک چوری کرے تو اس پر آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوگا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’کسی مجرمانہ عمل پر ایف آئی آر کٹتی ہے، سوال ٹرائل کا ہے۔‘

    جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ ’قانون بنانے والوں نے طے کرنا ہے ٹرائل کہاں ہوگا۔‘

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ ’ایف آئی آر کیسے کٹتی ہے، تفتیش کون کرتا ہے، طریقہ کار کیا ہوگا، یہ جاننا چاہتے ہیں۔‘

    خواجہ حارث نے کہا ’آرمی ایکٹ کے تحت آرمڈ فورسز خود بھی سویلین کی گرفتاری کر سکتی ہیں۔‘

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس میں کہا کہ ’گرفتاری سے قبل ایف آئی آر کا ہونا ضروری ہے۔‘

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ ’جب کسی کو گرفتار کریں گے تو متعلقہ مجسٹریٹ کے پاس پیش کرنا ہوتا ہے۔‘

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ ’آرمی ایکٹ کی شق ٹو ڈی کے تحت ملزم تب بنتا ہے جب فرد جرم عائد ہو۔‘

    خواجہ حارث نے موقف اپنایاکہ ’آئین پاکستان نے بذات خود کورٹ مارشل کے لیے منفرد اختیار سماعت دے رکھا ہے۔‘

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کے مطابق فوجی عدالتیں آرٹیکل 175 کے زمرے میں نہیں آتیں، فوجی عدالتیں آئین کی کس شق کے تحت ہیں پھر یہ بتا دیں۔‘

    خواجہ حارث نے کہا کہ ’کورٹ مارشل کے حوالے سے کئی عدالتی فیصلے موجود ہیں۔‘

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ ’عدالتوں نے صرف یہ دیکھنا ہوتا کہ ٹرائل آئین کے مطابق ہے یا نہیں، دہشتگردی کنٹرول کرنا پارلیمان کا کام ہے، عدالت کا نہیں، عدالت یہ سوچنے لگ گئی کہ فیصلے سے دہشتگردی کم ہوگی یا بڑھے گی تو فیصلہ نہیں کر سکے گی۔‘

    عدالت نے فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی جس کے اب وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث منگل کو بھی جواب الجواب جاری رکھیں گے۔

  18. صحافی احمد نورانی کے دونوں بھائی ہماری تحویل میں نہیں: وزارت دفاع, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    AHMED NOORANI

    ،تصویر کا ذریعہAHMED NOORANI

    وزارت دفاع نے 20 روز قبل اسلام آباد سے لاپتہ ہونے والے دو بھائیوں کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ دونوں بھائی ’نہ ہماری کسٹڈی میں ہیں نہ ہم جانتے ہیں۔‘

    دوسری جانب درخواست گزار کی وکیل ایمان مزاری نے کہا ہے کہ یہ ’نیلی وردی کے بس کی بات نہیں یہ خاکی وردی سے پوچھنا ہو گا۔‘

    پیر کو صحافی احمد نورانی کے بھائیوں کی بازیابی کے لیے ہائی کورٹ میں دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست کی سماعت جسٹس انعام امین منہاس نے کی۔

    آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی عدالت کو بتایا ہے کہ لاپتہ نوجوانوں سیف الرحمن حیدر اور محمد علی کی فون سِم ایکٹیویٹی بہاولپور میں دیکھی گئی ہے۔

    صحافی احمد نورانی کی والدہ نے اپنے بیٹوں کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر پیٹیشن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ منگل کی رات ایک بج کر پانچ منٹ پر ان کے دو بیٹوں کو بظاہر ملک کے دو خفیہ اداروں کے نامعلوم اہلکاروں نے اغوا کر لیا ہے۔

    جسٹس انعام منہاس نے آئی جی اسلام آباد سے کہا کہ آپ کو کہا تھا خود تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔

    اس کے جواب میں آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ ’اسپیشل تحقیقاتی ٹیم میں نے بنائی تھی انھوں نے پوری کوشش کی ہے۔

    اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’22 اور 23 مارچ بہاولپور اوچ شریف کی سم کی ایکٹیوٹی ملی ہے، ہماری ٹیم بہاولپور گئی ہم نے آئی جی پنجاب کو بھی بتایا کہ بہاولپور میں سم کی ایکٹیویٹی ملی ہے، اس وقت بھی اسلام آباد پولیس کی ٹیم بہاولپور موجود ہے، سندھ کے آئی جی کو بھی لکھا ہے۔ ایک ٹیم سندھ کی طرف بھی گئی ہے۔ دونوں بھائیوں کا تعلق بہاولپور سے ہے یہ بھی دیکھنا ہے یہ اغوا ہے۔‘

    آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ دونوں فون انہیں کے تھے، 19 سے 21 مارچ تک فون بند رہے ہیں 22 اور 23 مارچ کو سم ایکٹیوٹی رہی ہے۔‘

    عدالت نے سوال کیا کہ الزام یہ ہے کہ دو بھائیوں کو اسلام آباد سے اغوا کیا گیا، ذمہ دار کون ہے، کاغذی رپورٹ نہیں پریکٹیکلی مجھے بتائیں آپ نے کیا کیا ہے؟

    آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ ’اوچ شریف سمیت 4 علاقے ہیں، بہاولپور اور وہاڑی پولیس سے لوکیٹر بھی لیے ہیں، جن ٹیلی فون نمبرز پر رابطے ہوئے ہیں ہم ان کو بھی دیکھ رہے ہیں۔‘

    جواب میں جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ میری ہدایت ہے بندے پیش کریں۔

  19. پیکا ایکٹ کے تحت گرفتار ہونے والے صحافی فرحان ملک کی ضمانت منظور

    FARHAN MALIK

    ،تصویر کا ذریعہRAFTAR

    پیکا ایکٹ کے تحت گرفتار ہونے والے صحافی فرحان ملک کی ضمانت منظور کر لی گئی۔

    کراچی کے سیشن جج شرقی نے پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے فرحان ملک کی ضمانت منظور کی۔

    خیال رہے کہ صحافی فرحان ملک پر ایک مقدمہ پیکا ایکٹ کے تحت درج کیا گیا تھا جبکہ ان پر دوسرا مقدمہ منی لانڈرنگ اور غیر قانونی کال سینٹر چلانے کا درج ہے۔

    صحافی اور نجی ٹی وی چینل کے سابق ڈائریکٹر نیوز اور سوشل میڈیا چینل کے چیئرمین فرحان ملک کو ایف آئی اے کے سائبر سرکل نے 20 مارچ کو گرفتار کیا تھا۔

    ان کے خلاف کاٹی گئی ایف آئی آر میں الزامات میں درج کیا گیا ہے کہ صحافی فرحان ملک اپنے یو ٹیوب چینل، ’رفتار ٹی وی‘ پر مبینہ طور پر ریاست مخالف مواد نشر کرتے ہیں۔

    ان پر یہ بھی الزامات ہیں کہ وہ ایسی ویڈیوز شیئر کرتے ہیں جو فیک نیوز پر مشتمل ہیں اور عوام میں اشتعال پھیلا رہے ہیں۔

    بی بی سی سے گفتگو میں ان کے وکیل عبدالمعیز جعفری نے ان کی ضمانت کی تصدیق کی۔

    فرحان ملک کے خلاف ایف آئی اے کی انکوائریز کا یہ سلسلہ گذشتہ برس نومبر میں شروع ہوا تھا۔

    ایف آئی اے نے انھیں پہلا نوٹس نومبر میں دیا تھا اور ان کے یو ٹیوب چینل کے کچھ لنکس لگا کر کہا گیا تھا کہ آپ ریاست مخالف کام کر رہے ہیں۔

    وکیل عبدالمعیز جعفری کے مطابق فرحان ملک کا نام پہلے ای سی ایل میں بھی ڈالا گیا تھا اور تاحال ان کے خلاف ریاست مخالف بات کیے جانے کے کوئی شواہد پیش نہیں۔

  20. 9 مئی مقدمات:’تین ماہ میں ٹرائل مکمل نہیں ہوگا، ٹرائل عدالتوں میں چالان داخل نہیں ہو سکیں گے‘, شہزاد ملک، بی بی سی، اردو،اسلام آباد

    GHQ

    سپریم کورٹ میں نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کی ضمانتیں منسوخ کرنے سے متعلق پنجاب حکومت کی اپیلوں پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے کہا کہ سات دن میں ملزمان شامل تفتیش ہوں،عدالت چارماہ میں فیصلہ کرے۔‘

    عدالت نے پیر کو سماعت کے موقع پر اپنے ریمارکس میں کہا کہ ضمانت منسوخی اپیلوں پر وکیل پنجاب حکومت کی غور کی ہدایت درست ہے، ضمانت کے فیصلوں میں بعض عدالتی فائنڈنگ درست نہیں۔

    خیال رہے کہ جی ایچ کیو حملہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کی کارکنان عالیہ حمزہ اور خدیجہ شاہ سمیت 20 ملزمان کی ضمانت کی منسوخی کے لیے دائر اپیلوں کی سماعت چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کل کرے گا۔ جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس شکیل احمد بھی اس بینچ کا حصہ ہیں۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے پیر کو ہونے والی سماعت میں کہا کہ ٹرائل کورٹ کو تین ماہ میں ٹرائل کارروائی مکمل کرنے کا کہہ دیتے ہیں، عدالت ہر پندرہ دن کی پراگرس رپورٹ ہائیکورٹ میں پیش کرے گی۔

    پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے ضمانت کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں کیا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کوئی ملزم ضمانت کا غلط استعمال کرے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔

    9 مئی ملزمان ضمانت منسوخی کیس کی وقفے کے بعد سماعت میں وکیل پنجاب حکومت نے عدالتی آپشنز پر نئی ہدایات کیلئے مزید مانگ لیا۔

    عدالت نے وکیل پنجاب حکومت کو کل تک کا وقت دے دیا تاہم یہ استفسار کیا کہ فرض کر لیں ضمانت کا فیصلہ واپس لے لیں پھر کیا ہو گا؟

    وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ 9 مئی کو ایک ادارے پر حملہ کیا گیا۔

    عدالت نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کو تین ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا کہہ دیتے ہیں۔

    تاہم اس موقع پر وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ ضمانت منسوخ کریں تو ٹرائل رہ جائے گا۔

    ’تین ماہ میں ٹرائل مکمل نہیں ہوگا، ٹرائل عدالتوں میں چالان داخل نہیں ہو سکیں گے۔‘

    عدالت نے کہا کہ ’سات دن میں ملزمان شامل تفتیش ہوں، عدالت چارماہ میں فیصلہ کرے۔‘

    اس پر پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا کہ وکیل پنجاب حکومت ’مجھے اس آپشن پر ہدایات کیلئے کل تک کی مہلت دے دیں۔‘

    اسی عدالت نے نو مئی کے واقعات سے متعلق درج مقدمات کو دوسری عدالتوں میں بھیجنے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پرسماعت بھی کی۔

    سپریم کورٹ نے اے ٹی سی راولپنڈی سے مقدمات منتقلی کی اپیلیں نمٹا دیں اور لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو کیا گیا 22 لاکھ روپے جرمانہ برقرار رکھا۔