یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
24 مارچ کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس امن کے لیے ایک اور موقع ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ اس سے قبل انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران سے ’تعمیری بات چیت‘ ہوئی ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات اور بات چیت کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی رابطہ نہیں۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
24 مارچ کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
سلووینیا یورپی یونین کا پہلا رکن ملک بن گیا ہے جس نے ایران پر امریکی-اسرائیلی حملوں اور ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کے خلاف جوابی کارروائیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی ایندھن کی قلت سے نمٹنے کے لیے ایندھن کا کوٹہ مقرر کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی ممالک عالمی توانائی کی منڈیوں میں سب سے بڑے کھلاڑی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث کئی ممالک میں ایندھن کی قیمتوں میں خاطر خوا اضافہ ہوا ہے۔
اس کے نتیجے میں سلووینیا میں نام نہاد ’ایندھن کی سیاحت‘ شروع ہو گئی تھی۔ کئی ہمسایہ ممالک خصوصاً آسٹریا کے ڈرائیورز سلووینیا میں فیول کی کم قیمتوں کا فائدہ اٹھا رہے تھے۔
حکومت کی جانب سے لاگو کیے گئے نئے اقدامات کے تحت اب سلووینیا میں نجی گاڑی چلانے والوں کو روزانہ زیادہ سے زیادہ 50 لیٹر ایندھن خریدنے کی اجازت ہوگی جبکہ مختلف کاروبار اور کسان 200 لیٹر تک ایندھن خرید سکیں گے۔
امریکہ سے آنے والی ایک خبر کے مطابق اتوار کی رات مذاکرات ہوئے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پسندیدہ ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔
ایک اور خبر یہ ہے کہ ان مذاکرات میں مصر، ترکی اور پاکستان بطور ثالث شامل تھے۔ میرے خیال میں یہ بہت مستند رپورٹ ہے۔
گذشتہ ہفتے ریاض میں جمع ہونے والے عرب اور مسلم اکثریتی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس جنگ کے دوران ایرانی اقدامات کی مذمت کی۔ تاہم اس اجلاس میں اسرائیل کے اقدامات خاص طور پر جنوبی پارس گیس کی تنصیب پر حملے کی بھی مذمت کی گئی۔
اس جنگ کے بڑھتے دائرہ کار اور فوجی اڈوں سے ہٹ کر اب اقتصادی اہداف پر حملے نے حقیقتاً اس خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
خیال رہے کہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت ہوئی ہے تاہم ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے ان ’جعلی خبروں‘ کو تیل کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
سعودی عرب کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے ایک مشرقی صوبے میں چار ڈرون مار گرائے ہیں۔
وزارت دفاع نے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی تاہم ان کا کہنا ہے کہ چاروں ڈرونز کو مار گرایا گیا ہے۔
بی بی سی فارسی کی سینیئر نامہ نگار غنچے حبیبی آزاد کا کہنا ہے کہ انھیں تین ذرائع نے بتایا ہے کہ تہران پر ایک بار پھر حملے شروع ہو گئے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ایرانی دارالحکومت میں فضائی دفاع نظام کو فعال کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر نے ایران کے ساتھ ’تعمیری مذاکرات‘ کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات پر حملوں کو پانچ روز کے لیے مؤخر کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خیال میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ آپریشن کی ’زبردست کامیابیوں سے فائدہ اٹھا کر‘ ایران کے ساتھ معاہدہ کے ژرےعی ’جنگ کے اہداف کو حاصل‘ کیا جا سکتا ہے۔
نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ان کی آج ڈونلڈ ٹرمپ سے بات ہوئی تھی۔
اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ’ہمارے اہم مفادات کا تحفظ کرے گا۔‘
نیتن یاہو کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیل کی فوج ایران اور لبنان دونوں میں مسلسل حملے کر رہی ہے، تہران کے جوہری پروگرام کو ’تباہ‘ کر رہی ہے اور حزب اللہ کو ’بھاری نقصان‘ پہنچا رہی ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ صرف چند دن روز قبل ہم نے دو اور جوہری سائنسدانوں کو ہلاک کیا ہے اور مزید ایسی کارروائیاں ہونا باقی ہے۔ ’ہم کسی بھی صورت اپنے مفادات کا تحفظ کریں گے۔‘
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سوموار کے روز پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے حالیہ علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق بات چیت کے دوران اسحاق ڈار نے خطے اور اس سے باہر امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔
دونوں فریقوں نے بدلتی ہوئی صورتحال پر قریبی رابطے قائم رکھنے پر اتفاق کیا۔
اس سے قبل وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سوموار کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی جس میں انھوں نے جاری کشیدگی کے تناظر میں بہادر ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار کیا اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کیا۔
وزیراعظم نے ایرانی صدر کو عیدالفطر اور نوروز کی مبارکباد پیش کی۔
وزیراعظم نے خطے میں جاری خطرناک صورتحال پر اپنی گہری تشویش کا بھی اظہار کیا۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر انھوں نے تمام ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارتکاری کی طرف واپسی کی فوری ضرورت پر زور دیا تاکہ اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔
جب آج کے دن کا آغاز ہوا تو امکان تھا کہ امریکہ شاید ایران کی توانائی کی تنصیبات پر حملہ کر دے گا اور اس سے تنازع میں مزید شدت آئے گی۔ تاہم دن کے اختتام تک حالات مذاکرات کی طرف جاتے نظر آ رہے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ’تعمیری بات چیت‘ ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ایران کے پاس ایک اور موقع ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے اپنی دھمکیاں ختم کر دے۔‘
’ہمیں امید ہے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔‘
ٹرمپ کی رجائیت پسندی اس حوصلہ افزا لہجے کا تسلسل تھی جس کا مظاہرہ انھوں نے ٹروتھ سوشل پر صبح سویرے کی ایک پوسٹ میں کیا تھا۔ اور پھر فلوریڈا سے ٹینیسی روانگی سے قبل اپنے ہمراہ سفر کر رہے صحافیوں سے بات چیت کے دوران بھی وہ کافی پرامید دکھائی دیے۔
تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کتنے جامع ہوں گے۔ لیکن صدر ٹرمپ نے اشارہ کیا ہے کہ ان مذاکرات میں یہ یقین دہانیاں شامل ہیں کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو آگے نہیں بڑھائے گا۔
بات چیت کا محض امکان ہی امریکی سٹاک مارکیٹ میں اضافے اور تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے کافی ہے۔
جو ابتدا میں دنیا کی بڑی معیشتوں کے لیے ایک مایوس کن دن لگ رہا تھا اب وہ امید کی کرن لایا ہے۔
تاہم ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ ٹرمپ کے ٹروتھ سوشل سوشل پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ ایرانی دھمکیوں سے ڈر کر پیچھے ہٹ رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز اب بھی بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے بڑی حد تک بند ہے اور صدر ٹرمپ نے ایران کو آبی گزرگاہ کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے اپنی ڈیڈ لائن میں صرف پانچ دن کی توسیع کی ہے۔
ہو سکتا ہے آج ہونے والی تمام پیش رفت کسی حقیقی پیش رفت کی جانب پہلا اشارہ ہو۔ لیکن یہ ایک ایسے صدر کا اقدام بھی ہو سکتا ہے جنھوں نے خود کو ایک مشکل صورتحال میں پھنسا لیا تھا اور یہ اب ان کی محض مزید وقت حاصل کرنے کی کوشش ہو۔
لبنان کی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی حملوں کے آغاز سے اب تک لبنان میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 1,039 ہو گئی ہے۔
وزارت صحت کا کہنا ہے کہ پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران مزید 90 افراد زخمی ہوئے ہیں جس کے بعد کل زخمیوں کی تعداد 2,876 ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ اتوار کے روز اسرائیلی فوجی حکام نے ایک بیان میں کہا تھا کہ حزب اللہ کے خلاف زمینی اور فضائی حملوں میں توسیع کے منصوبے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد شمالی اسرائیل کے شہریوں کو حزب اللہ کے حملوں سے بچانا ہے۔
تاہم فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے رہنماؤں کی طرف سے ایک مشترکہ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اسرائیلی جانب سے زمینی کارروائی کے لبنان میں ’تباہ کن انسانی نتائج‘ ہو سکتے ہیں۔
بی بی سی ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران پر حملوں کے دوران ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے مرکزی سکیورٹی ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کا ہیڈکوارٹر فوجیوں کی سرگرمیوں کو ہم آہنگ کرنے اور حالات کا جائزہ لینے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ ’یہاں سے بسیج بٹالینز کو بھی ہدایات دی جاتی تھیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ: ’حملے سے قبل شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے تھے جن میں پریسیشن گولہ بارود کا استعمال، فضائی نگرانی، اور اضافی انٹیلی جنس شامل ہیں۔‘
برطانیہ کے وزیر دفاع جان ہیلی نے سوموار کے روز اراکین پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران نے جمعہ کے روز بحر ہند میں برطانیہ اور امریکہ کے مشترکہ فوجی اڈے ڈیاگو گارشیا پر دو میزائل داغے تھے۔
انھوں نے پارلیمان کو بتایا کہ ’جمعہ کی صبح سویرے، ڈیاگو گارشیا کی جانب دو ایرانی میزائل داغے گئے تھے۔‘
’ایک اپنے ہدف تک پہنچے سے پہلے ہی گر گیا تھا، دوسرے کو ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی مار گرایا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ دونوں میزائل ڈیاگو گارشیا کے نزدیک بھی نہیں پہنچ سکے۔
وزیرِ دفاع کا مزید کہنا تھا، ’برطانیہ کو کارروائی کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی اور معمول کے مطابق آپریشنز جاری ہیں۔‘
ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل میں مختلف مقامات اور تین امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ تسنیم نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں، پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے ڈرونز کی مدد سے اسرائیل کے ’شمالی، وسطی اور جنوبی‘ علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے اس نے تین امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے جن میں: کویت میں واقع علی السالم بیس، سعودی عرب میں الخرج بیس اور متحدہ عرب امارات میں واقع الظفرہ فوجی اڈہ شامل ہے۔
تاحال اسرائیلی فوج، کویت، سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات میں سے کسی نےابھی اب تک پاسدارن انقلاب کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کی ہے۔
برطانیہ میں ایران کے سفیر سید علی موسوی کو برطانوی دفتر خارجہ نے برطانیہ اور بیرون ملک تہران کے ’لاپرواہ اور عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات‘ پر طلب کیا ہے۔
فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکی انٹیلی جنس سروس کو مدد فراہم کرنے کے شبہے میں دو افراد پر فرد جرم عائد کرنے کے فیصلے کے بعد انھیں دفترِ خارجہ طلب کیا گیا۔
40 سالہ نعمت اللہ شاہسوانی اور 22 سالہ علی رضا فراساتی کو اس ماہ کے آغاز میں ایران سے متعلق ایک تفتیش کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ ان دونوں پر الزام ہے کہ انھوں نے برطانیہ میں قدیم ترین یہودی عبادت گاہ سمیت متعدد اہداف کی جاسوسی کی تھی۔
اب سے کچھ دیر قبل برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے بھی تصدیق کی تھی کہ ایران نے جمعہ کے روز برطانیہ-امریکہ کے ڈیاگو گارشیا فوجی اڈے پر دو میزائل داغے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس امن کے لیے ایک اور موقع ہے۔
سوموار کے روز امریکی ریاست ٹینیسی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ فی الحال اس چیز پر کام کر رہا ہے کہ آیا ایران کے ساتھ ایک وسیع تر معاہدے پر پہنچا جا سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’میری پوری زندگی مذاکرات کرتے گزری ہے لیکن ایران کے ساتھ، ہم طویل عرصے سے مذاکرات کر رہے ہیں۔‘
’لیکن اس بار لگ رہا ہے کہ وہ سنجیدہ ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ ایران نے اس بات پر راضی ہو گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھے گا۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ جنگ کے آغاز سے ہی ایران کی قیادت کی ایک بڑی تعداد ماری جا چکی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کے پاس امن کا ’ایک اور موقع‘ ہے۔
تاہم امریکی صدر نے اس بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی کہ امریکہ کس کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔
’ہمیں امید ہے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے‘۔
ٹرمپ کا مزید کہنا ہے کہ ’جو بھی ہو، امریکہ اور پوری دنیا زیادہ محفوظ ہو جائے گی اور [یہ] زیادہ محفوظ دنیا بن جائے گی۔‘
یاد رہے کہ کئی خبر رساں اداروں نے ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف سے رابطہ ہوا ہے۔
تاہم باقر قالیباف کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک پیغام میں کہا گیا ہے امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان ’جعلی خبروں‘ کو تیل کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے پالم بیچ پر ائیر فورس ون کے قریب میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کا معاہدہ ہو گیا تو تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے گر جائیں گی۔‘
جنگ کے آغاز کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایران نے اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار بحری جہازوں کودھمکی دے رکھی ہے اور ان پر حملوں کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔
انھوں نے صحافیوں سے کہا کہ ’ہمارے پاس معاہدے کا ایک بہت سنجیدہ موقع ہے‘، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’یہ کسی چیز کی ضمانت نہیں دیتا، میں یہاں کوئی ضمانت نہیں دے رہا۔‘
امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک جنگ کے خاتمے کے لیے 15 نکات پر بات کر رہے ہیں، جن میں ایران کا جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونا ’پہلا، دوسرا اور تیسرا‘ نکتہ ہے۔
تاہم، ٹرمپ نے کہا کہ وہ ’نظام میں ایک بہت سنجیدہ قسم کی تبدیلی‘ دیکھنا چاہتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پالم بیچ پر اپنے صدارتی طیارہ ایئر فورس ون پر سوار ہونے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کی ہے۔
امریکی صدر کے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے ’مکمل اور جامع حل‘ کے حوالے سے ایران کے ساتھ ’تعمیری بات چیت‘ اور ’ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات پر حملوں کو پانچ روز کے لیے مؤخر کیے جانے کے بیان سے متعلق سوال کیا گیا۔
جس پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم پانچ دن کا وقفہ کر رہے ہیں اور دیکھیں گے کہ یہ کیسا جاتا ہے۔ اگر یہ ٹھیک رہا تو ہم اس مسئلے کو طے کر لیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اگر معاملات درست سمت کی جانب نہ گئے تو ہم بس اپنی پوری طاقت سے بمباری جاری رکھیں گے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ اپنے طیارہ میں سوار ہونے سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایران کے بارے میں کہا کہ ’وہ واقعی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور ہم بھی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران ممکن ہے کہ امن کے بدلے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو ترک کرنے پر راضی ہو جائے۔
انھوں نے کہا کہ ’کل صبح ہم توقع کر رہے تھے کہ ان کے سب سے بڑے بجلی گھر جو 10 ارب ڈالر سے زیادہ لاگت سے بنے ہیں کو تباہ کریں۔‘
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’وہ اب جوہری ہتھیار نہیں رکھیں گے۔ وہ اس پر راضی ہو رہے ہیں۔ اگر اس میں سے کچھ بھی شامل ہو، تو کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔‘
ٹرمپ نے پالم بیچ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ’اہم متفقہ نکتہ‘ موجود ہے۔
ایئر فورس ون کے قریب گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بات چیت ’بہت مضبوط‘ رہی ہے اور ان کے مشیر سٹیو وٹکوف اور داماد جیریڈ کوشنر بھی اس میں شامل رہے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم دیکھیں گے کہ یہ بات چیت ہمیں کہاں لے جاتی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے درمیان اہم متفقہ نکتہ موجود ہے، میں کہوں گا تقریباً تمام نکات پر اتفاق ہے۔‘
صدر نے بتایا کہ امریکہ نے ’ایک اعلیٰ شخص‘ سے بات کی ہے، لیکن نئے رہبرِ اعلیٰ سے نہیں اور بعد میں کہا کہ ’ہم نہیں جانتے کہ وہ زندہ ہے یا نہیں۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب سے کُچھ دیر قبل خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ایک مختصر فون کال میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’صورتِ حال ایران کے ساتھ بہت اچھی جا رہی ہے۔‘
یہ بیان صدر کے اس پہلے سوشل میڈیا پیغام کے بعد آیا ہے، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور امریکہ ایران کے بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کے معاملے کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر رہا ہے۔
تاہم دوسری جانب امری صدر کے اس بیان کے کُچھ ہی لمحات کے بعد ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس بات کی تردید کی کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی بات چیت ہوئی ہے۔
کیا یہ جنگ کا اختتام ہے؟ شاید نہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں بڑے حروف میں لکھے گئے پیغام میں خاص طور پر یہ کہا کہ انھوں نے ایران کے مرکزی پاور پلانٹ کو آج رات ’تباہ‘ کرنے کی اپنی دھمکی کو مؤخر کر دیا ہے، بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت کو کمزور کرے اور اس اہم آبی گُزر گاہ کو کھول دے۔
امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق جو بھی مذاکرات پسِ پردہ ہو رہے تھے، وہ نتیجہ خیز تھے۔
دوسری جانب، ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اس تاثر کی نفی کر رہی ہے کہ کوئی مذاکرات ہوئے تھے لیکن مجموعی طور پر اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ کم از کم یہ فوری بحران کچھ وقت کے لیے ٹل گیا ہے۔
کیونکہ ایران نے واضح کر دیا تھا کہ وہ اسی نوعیت کا جواب دے گا اور تقریباً یقینی طور پر خلیج کے اس (عرب) حصے میں اہم پاور پلانٹس کو نشانہ بنائے گا۔
تیل کی قیمتوں اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات سے ہٹ کر، انسانی نقصان بھی بہت زیادہ ہوتا، کیونکہ گھروں، ہسپتالوں اور پینے کے پانی کے پلانٹس کو بجلی کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سوموار کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی جس میں انھوں نے جاری کشیدگی کے تناظر میں بہادر ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار کیا اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کیا۔
وزیراعظم نے ایرانی صدر کو عیدالفطر اور نوروز کی مبارکباد پیش کی۔
وزیراعظم نے خطے میں جاری خطرناک صورتحال پر اپنی گہری تشویش کا بھی اظہار کیا۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر انھوں نے تمام ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارتکاری کی طرف واپسی کی فوری ضرورت پر زور دیا تاکہ اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔
اسرائیلی دفاعی افواج کے کُچھ ایسے بیانات سامنے آرہے ہیں کہ جن میں اُن کا کہنا ہے کہ انھوں نے تہران کے مرکز میں فضائی حملے کیے ہیں۔
آئی ڈی ایف کے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اُن کی جانب سے تہران کے مرکز پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔