بلوچستان
کے ضلع واشک میں مسافر بس کو پیش آنے والے حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں
تربت یونیورسٹی کے دو پروفیسرز کے علاوہ مکران میڈیکل کالج کے دو طالب علم بھی
شامل تھے۔
ہلاک ہونے
مکران میڈیکل کالج کے طالب علم چراغ اسلم کی کزن نمرا اسد نے بتایا کہ ’ڈاکٹر بننا
چراغ کی زندگی کا سب سے بڑا خواب تھا جسے حاصل کرنے کے لیے انھوں نے بھرپور محنت
بھی کی لیکن زندگی نے ان کے ساتھ وفا نہیں کی۔‘
سرکاری
حکام کے کہنا ہے کہ ’حادثے کے دو مزید زخمیوں کے دم توڑنے کے باعث ہلاک ہونے والے
افراد کی مجموعی تعداد 28 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 27 ہے جن میں سے بعض کی
حالت تشیوش ناک ہے۔‘
بیسیمیہ سے
تعلق رکھنے والے صحافی اسماعیل عاصم کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بچے اور خواتین
بھی شامل ہیں۔ یہ حادثہ بدھ کو علی الصبح ضلع کی تحصیل بیسیمہ میں پیش آیا تھا۔
حادثے کی
وجوہات کے بارے میں تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے تاہم سرکاری حکام کے مطابق ابتدائی
تحقیقات میں حادثہ بس کا ٹائر پھٹنے کی وجہ سے پیش آیا۔
حادثہ
کہاں اور کیسے پیش آیا؟
حادثے سے
دوچار ہونے والی بس نجی کمپنی کی تھی جو کہ منگل کی شب ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر سے
تربت سے کوئٹہ کے لیے روانہ ہوئی تھی۔
اسسٹنٹ
کمشنر بیسیمہ محمد اسماعیل مینگل نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ بس کو علی الصبح
قلغلی کے علاقے میں حادثہ پیش آیا۔ یہ علاقہ بیسیمہ سے اندازاً 25 کلومیٹر کے
فاصلے پر واقع ہے۔
انھوں نے
بتایا کہ حادثے کی وجہ سے بس ایک پل سے نیچے گر گئی تھی۔
بس میں
سوار ایک مسافر نے بیسیمہ ہسپتال میں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ وہ ایک دفتری
کام کے سلسلے میں کوئٹہ سے تربت جارہا تھا۔
ان کا
کہنا تھا کہ جب بس حادثے سے دوچار ہوئی تو وہ اس وقت نیند میں تھے۔
انھوں نے
کہا کہ یہ صبح ساڑھے تین یا چار بجے کا وقت تھا جب وہ اس حادثے کی وجہ سے نیند سے
بیدار ہوئے۔ سامنے ایک پل تھا لوگوں نے بتایا کہ ٹائر پھٹنے کی وجہ سے یہ حادثہ پیش
آیا۔
زخمی
مسافر کے بقول قلغی میں الٹنے سے پہلے راستے میں بھی بس کا ایک پچھلا ٹائر پھٹ گیا
تھا۔ شاید ٹائروں کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔
ضلعی
انتظامیہ، پاکستان فوج اور محکمۂ صحت کے اہلکاروں نے زخمیوں کو بیسیمہ ہسپتال
پہنچایا۔
حادثے میں ہلاک ہونے والے یونیورسٹی کے ٹیچرز اور میڈیکل کالج کے طلبا کون تھے؟
ہلاک ہونے والے میڈیکل کے طالب علموں میں چراغ اسلم اور شاہ فیصل شامل تھے وہ بس میں تربت سے کوئٹہ کے لیے سفر کر رہے تھے۔
چراغ اسلم کا تعلق ضلع آواران کے علاقے مشکے سے تھا جبکہ شاہ فیصل ایران سے متصل سرحدی ضلع پنجگور سے تھے۔ وہ دونوں مکران میڈیکل کالج تربت میں فرسٹ ایئر کے طالب علم تھے۔
18 سالہ چراغ کی
کزن نمرا اسد جو کہ خود بھی بولان میڈیکل کالج کوئٹہ میں تھرڈ ایئر کی طالبہ ہیں
فون پر بی بی سی کو بتایا کہ چراغ نے ڈاکٹر بننے کے لیے بہت محنت کی تھی لیکن اس المناک واقعے نے انھیں ہمیشی ہمیشہ کے لیے ہم سے چھین لیا۔
اس سانحے میں ہلاک ہونے والے تربت یونیورسٹی کے اساتذہ میں ڈاکٹر نعمت اللہ اور ڈاکٹر عامر زیب شامل تھے ۔وہ دونوں یونیورسٹی میں نیچرل اینڈ بیسک سائنسز کے ٹیچر تھے۔
یونیورسٹی کے ترجمان اعجاز احمد نے بتایا کہ ان میں سے ڈاکٹر نعمت اللہ کا تعلق کوئٹہ جبکہ ڈاکٹر عامر زیب کا تعلق خیبرپختونخوا سے تھا۔
انھوں نے یونیورسٹی کے اساتذہ کی المناک موت نے یونیورسٹی کو سوگوار کر دیا ہے ۔
اسسٹنٹ کمشنر بیسیمہ اسماعیل مینگل نے بتایا کہ بس کو پیش آنے والے حادثے کے بارے میں مختلف پہلوئوں سے تحقیقات جاری ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس واقعے کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹائر کے پھٹنے سے یہ حادثہ پیش آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹائر کے پھٹنے سے پہلے بس بے قابو ہو کر پہاڑ سے ٹکرائی اور اس کے بعد پل سے نیچے گر گئی۔
چلتی گاڑیوں کے ٹائروں کے پھٹنے کی بڑی وجوہات کونسی ہیں اور ایسے حادثات سے بچنے کے لیا کیا کرنا چاہیے؟
جب چلتی گاڑیوں کے ٹائروں کے پھٹنے کی وجوہات اور ان کے حوالے سے احتیاطی تدابیر کے بارے میں موٹروے پولیس کے کوئٹہ بیٹ کے چیف پیٹرولنگ آفیسر راضی خان سے رابطہ کیا گیا ہر ایک کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ٹائر ہی ہیں جن کی وجہ سے گاڑیاں چلتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹائروں کے پھٹنے کی ایک بڑی وجہ ان میں موجود ہوا ہوتی ہے اس لیے ہوا کے حوالے سے بہت محتاط رہنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان میں ہوا موسم کے مطابق ہوا۔
انھوں نے بتایا کہ ہوا کو چیک کرنے کے لیے ڈیجیٹل مشینوں کا استعمال کیا جائے کیونکہ عموماً ہوا پنکچر لگانے اور ہوا بھرنے والی دکانوں پر زیادہ تر غیر معیاری مشینوں سے ہوا چیک کی جاتی ہے جو اکثر درست نہیں ہوتی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ گرمیوں میں فرکشن کی وجہ سے ہوا پھیلتی ہے اس لیے گرمیوں میں ٹائروں میں ہوا کو مقررہ حد سے تھوڑا کم رکھا جائے۔
انھوں نے بتایا کہ ٹائروں کی ایک عمر ہوتی ہے لیکن لوگ زیادہ تر لوگ ان کے ایکسپائر ہونے کا خیال نہیں رکھتے ہیں بلکہ جب وہ بالکل ختم ہوتے ہیں تو پھر ان کو تبدیل کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ 'ٹائر ربڑ کے ہیں ۔ ربڑ پڑے پڑے بھی خراب ہوتے ہیں اس لیے ٹائروں کی ایکسپائری کے حوالے سے خصوصی خیال رکھنا چائیے اور ان کو وقت پر ہی تبدیل کرنا چائیے'۔
انھوں نے کہا کہ 'ہمارے ہاں لوگ استعمال شدہ ٹائر بھی استعمال کرتے ہیں ۔ اس کے حوالے سے ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ اس کو فروخت کرنے والے بعض لوگ ٹائر کی ایکسپائری کی تاریخ کو پنچ کرکے تبدیل کرتے ہیں'۔
راضی خان نے بتایا کہ 'گاڑی کی انجن یا اس کے کسی اور حصے کے مقابلے میں انسانوں کی زندگی کا انحصار زیادہ تر ٹائروں پر ہوتا ہے اس لیے ٹائروں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چائیے'۔
انھوں نے بتایا کہ سڑکوں کی خرابی سے ٹائر پھٹتے ہیں۔بالخصوں ریڈیئل ٹائروں میں اسٹیل کا جال ہوتا ہے اور اگر وہ زور کے ساتھ روڈ پر پڑے کھڈے وغیرہ میں لگ جائیں تو اسٹیل کا جال ٹوٹ جانے سے بھی ایسے ٹائر پھٹتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹائروں کے حوالے سے جو بھی مقررہ اسٹینڈرڈز ہیں ان کو کسی بھی حوالے سے نظر انداز نہیں کرنا چائیےبلکہ ان کا ہر طرح سے خاص خیال رکھنا چاہیے۔