مظفرآباد پولیس نے شاعر احمد فرہاد کی فیملی سے ملاقات کروا دی
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کارِ سرکار میں مداخلت کے الزامات کے تحت گرفتار شاعر احمد فرہاد کو اقدام قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ایک مقدمے میں مظفر آباد پولیس کی تحویل میں ہیں۔
خلاصہ
واشک: پاکستان، ایران سرحدی گزرگاہ کے قریب فائرنگ کے واقعے میں کم از کم چار پاکستانی ہلاک، دو زخمی
17 مئی کو لاپتہ ہونے والے شاعر احمد فرہاد کو اقدام قتل اور انسداد دہشت گردی کے مقدمے میں مظفر آباد پولیس کے حوالے کر دیا گیا
اسلام آباد کی مقامی عدالت کی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف دائر عدت کیس میں فیصلہ سنانے سے معذرت، معاملہ دوسری عدالت کو بھیجنے کی درخواست
آڈیو لیکس کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیلی کام کمپنیوں کو سرویلینس (نگرانی) کے لیے فون کال ڈیٹا کے استعمال سے روک دیا
بلوچستان کے ضلع واشک میں مسافر بس حادثے کا شکار: 26 افراد ہلاک، متعدد زخمی
لائیو کوریج
مظفرآباد پولیس نے شاعر احمد فرہاد کی فیملی سے ملاقات کروا دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہFamily
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں
کارِ سرکار میں مداخلت کے الزامات کے تحت گرفتار شاعر احمد فرہاد کی ملاقات اُن کے
خاندان کے افراد سے کروائی گئی۔
شاعر احمد فرہاد کو اقدام قتل اور
انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ایک مقدمے میں مظفر آباد پولیس کی تحویل میں
ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق احمد فرہاد کی ملاقات اُن کی اہلیہ، بیٹی اور بھائی سے کروائی گئی ہے۔ اس بارے میں احمد فرہاد کی وکیل ایمان مزاری نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُن کی فیملی سے ملاقات کی تصدیق کی ہے۔
اسلام آباد سے 17 مئی کو لاپتہ
ہونے والے شاعر احمد فرہاد کے خلاف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کار سرکار میں
مداخلت کا مقدمہ 29 مئی کو ہی درج کیا گیا تھا جس کے بارے میں گزشتہ روز 29 مئی کو
اسلام آباد ہائیکورٹ کو احمد فرہاد کی اہلیہ کی جانب سے ان کی گمشدگی کے خلاف درخواست
کی سماعت کے دوران آگاہ کیا گیا تھا۔ عدالت نے احمد فرہاد کی وکیل ایمان مزاری کو
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔
ایمان مزاری نے بی بی سی کو بتایا
کہ انھیں احمد فرہاد کی اہلیہ اور اُن کے بھائی نے بتایا ہے کہ گزشتہ شب اُن کی
ملاقات احمد فرہاد سے کروائی گئی۔
خیال رہے کہ احمد فرہاد کے خلاف
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے کوہالہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کے
مطابق احمد فرہاد نے کوہالہ پل پر تفتیش کے دوران پولیس سے تلخ کلامی اور بدتمیزی
کی جس کے بعد ان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ باغ پولیس کی مدعیت میں درج اس مقدمے
میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فرہاد علی شاہ نے کار سرکار میں مزاحم ہو کر جرم کا
ارتکاب کیا ہے۔
یاد رہے احمد فرہاد کی گمشدگی کا
معاملہ سامنے آنے پر شاعر احمد فرہاد کی اہلیہ عین نقوی نے بی بی سی کو بتایا تھا
کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک ہفتہ قبل بجلی اور اّٹے کی قیمتوں کے
معاملے پر ان کے شوہر نے ذمہ داران کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اس کے بعد
17 مئی کو ان کے شوہر کسی کام کے سلسلے میں باہر گئے ہوئے تھے اور جب وہ گھر لوٹے
اور گھنٹی بجائی تو اتنے میں کچھ نامعلوم افراد وہاں پہنچ گئے اور احمد فرہاد کو
زبردستی اٹھا کر لے گئے۔
عین نقوی کے مطابق ان کے شوہر کو
گذشتہ دو سالوں سے سنگین نتائج کی دھمکیاں مل رہی تھیں اور انھیں کہا جا رہا تھا
کہ وہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کے خلاف لکھنا چھوڑ دیں ورنہ ان کے حق میں بہتر
نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ احمد فرہاد کی گمشدگی
کے بعد ان کی اہلیہ کی جانب سے ان کی بازیابی سے متعلق دائر کردہ درخواست پر گذشتہ
ہفتے ہونے والی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکٹر کمانڈر اسلام کے
علاوہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندوں کو بھی آج (بدھ) ہونے والی سماعت میں
پیش ہونے کے احکامات دیے تھے۔ تاہم آج ہونے والی سماعت میں آئی جی اسلام آباد پیش
ہوئے اور عدالت کو آگاہ کیا احمد فرہاد کو باغ پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔
بلوچستان کے ضلع واشک میں ٹریفک حادثہ: ’ڈاکٹر بننا چراغ کی زندگی کا سب سے بڑا خواب تھا، لیکن زندگی نے اس کے ساتھ وفا نہیں کی‘, محمد کا کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہCourtesy Nimra Asad
بلوچستان
کے ضلع واشک میں مسافر بس کو پیش آنے والے حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں
تربت یونیورسٹی کے دو پروفیسرز کے علاوہ مکران میڈیکل کالج کے دو طالب علم بھی
شامل تھے۔
ہلاک ہونے
مکران میڈیکل کالج کے طالب علم چراغ اسلم کی کزن نمرا اسد نے بتایا کہ ’ڈاکٹر بننا
چراغ کی زندگی کا سب سے بڑا خواب تھا جسے حاصل کرنے کے لیے انھوں نے بھرپور محنت
بھی کی لیکن زندگی نے ان کے ساتھ وفا نہیں کی۔‘
سرکاری
حکام کے کہنا ہے کہ ’حادثے کے دو مزید زخمیوں کے دم توڑنے کے باعث ہلاک ہونے والے
افراد کی مجموعی تعداد 28 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 27 ہے جن میں سے بعض کی
حالت تشیوش ناک ہے۔‘
بیسیمیہ سے
تعلق رکھنے والے صحافی اسماعیل عاصم کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بچے اور خواتین
بھی شامل ہیں۔ یہ حادثہ بدھ کو علی الصبح ضلع کی تحصیل بیسیمہ میں پیش آیا تھا۔
حادثے کی
وجوہات کے بارے میں تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے تاہم سرکاری حکام کے مطابق ابتدائی
تحقیقات میں حادثہ بس کا ٹائر پھٹنے کی وجہ سے پیش آیا۔
حادثہ
کہاں اور کیسے پیش آیا؟
حادثے سے
دوچار ہونے والی بس نجی کمپنی کی تھی جو کہ منگل کی شب ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر سے
تربت سے کوئٹہ کے لیے روانہ ہوئی تھی۔
اسسٹنٹ
کمشنر بیسیمہ محمد اسماعیل مینگل نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ بس کو علی الصبح
قلغلی کے علاقے میں حادثہ پیش آیا۔ یہ علاقہ بیسیمہ سے اندازاً 25 کلومیٹر کے
فاصلے پر واقع ہے۔
انھوں نے
بتایا کہ حادثے کی وجہ سے بس ایک پل سے نیچے گر گئی تھی۔
بس میں
سوار ایک مسافر نے بیسیمہ ہسپتال میں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ وہ ایک دفتری
کام کے سلسلے میں کوئٹہ سے تربت جارہا تھا۔
ان کا
کہنا تھا کہ جب بس حادثے سے دوچار ہوئی تو وہ اس وقت نیند میں تھے۔
انھوں نے
کہا کہ یہ صبح ساڑھے تین یا چار بجے کا وقت تھا جب وہ اس حادثے کی وجہ سے نیند سے
بیدار ہوئے۔ سامنے ایک پل تھا لوگوں نے بتایا کہ ٹائر پھٹنے کی وجہ سے یہ حادثہ پیش
آیا۔
زخمی
مسافر کے بقول قلغی میں الٹنے سے پہلے راستے میں بھی بس کا ایک پچھلا ٹائر پھٹ گیا
تھا۔ شاید ٹائروں کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔
ضلعی
انتظامیہ، پاکستان فوج اور محکمۂ صحت کے اہلکاروں نے زخمیوں کو بیسیمہ ہسپتال
پہنچایا۔
،تصویر کا ذریعہUniversity of Turbat
حادثے میں ہلاک ہونے والے یونیورسٹی کے ٹیچرز اور میڈیکل کالج کے طلبا کون تھے؟
ہلاک ہونے والے میڈیکل کے طالب علموں میں چراغ اسلم اور شاہ فیصل شامل تھے وہ بس میں تربت سے کوئٹہ کے لیے سفر کر رہے تھے۔
چراغ اسلم کا تعلق ضلع آواران کے علاقے مشکے سے تھا جبکہ شاہ فیصل ایران سے متصل سرحدی ضلع پنجگور سے تھے۔ وہ دونوں مکران میڈیکل کالج تربت میں فرسٹ ایئر کے طالب علم تھے۔
18 سالہ چراغ کی
کزن نمرا اسد جو کہ خود بھی بولان میڈیکل کالج کوئٹہ میں تھرڈ ایئر کی طالبہ ہیں
فون پر بی بی سی کو بتایا کہ چراغ نے ڈاکٹر بننے کے لیے بہت محنت کی تھی لیکن اس المناک واقعے نے انھیں ہمیشی ہمیشہ کے لیے ہم سے چھین لیا۔
اس سانحے میں ہلاک ہونے والے تربت یونیورسٹی کے اساتذہ میں ڈاکٹر نعمت اللہ اور ڈاکٹر عامر زیب شامل تھے ۔وہ دونوں یونیورسٹی میں نیچرل اینڈ بیسک سائنسز کے ٹیچر تھے۔
یونیورسٹی کے ترجمان اعجاز احمد نے بتایا کہ ان میں سے ڈاکٹر نعمت اللہ کا تعلق کوئٹہ جبکہ ڈاکٹر عامر زیب کا تعلق خیبرپختونخوا سے تھا۔
انھوں نے یونیورسٹی کے اساتذہ کی المناک موت نے یونیورسٹی کو سوگوار کر دیا ہے ۔
اسسٹنٹ کمشنر بیسیمہ اسماعیل مینگل نے بتایا کہ بس کو پیش آنے والے حادثے کے بارے میں مختلف پہلوئوں سے تحقیقات جاری ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس واقعے کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹائر کے پھٹنے سے یہ حادثہ پیش آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹائر کے پھٹنے سے پہلے بس بے قابو ہو کر پہاڑ سے ٹکرائی اور اس کے بعد پل سے نیچے گر گئی۔
چلتی گاڑیوں کے ٹائروں کے پھٹنے کی بڑی وجوہات کونسی ہیں اور ایسے حادثات سے بچنے کے لیا کیا کرنا چاہیے؟
جب چلتی گاڑیوں کے ٹائروں کے پھٹنے کی وجوہات اور ان کے حوالے سے احتیاطی تدابیر کے بارے میں موٹروے پولیس کے کوئٹہ بیٹ کے چیف پیٹرولنگ آفیسر راضی خان سے رابطہ کیا گیا ہر ایک کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ٹائر ہی ہیں جن کی وجہ سے گاڑیاں چلتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹائروں کے پھٹنے کی ایک بڑی وجہ ان میں موجود ہوا ہوتی ہے اس لیے ہوا کے حوالے سے بہت محتاط رہنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان میں ہوا موسم کے مطابق ہوا۔
انھوں نے بتایا کہ ہوا کو چیک کرنے کے لیے ڈیجیٹل مشینوں کا استعمال کیا جائے کیونکہ عموماً ہوا پنکچر لگانے اور ہوا بھرنے والی دکانوں پر زیادہ تر غیر معیاری مشینوں سے ہوا چیک کی جاتی ہے جو اکثر درست نہیں ہوتی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ گرمیوں میں فرکشن کی وجہ سے ہوا پھیلتی ہے اس لیے گرمیوں میں ٹائروں میں ہوا کو مقررہ حد سے تھوڑا کم رکھا جائے۔
انھوں نے بتایا کہ ٹائروں کی ایک عمر ہوتی ہے لیکن لوگ زیادہ تر لوگ ان کے ایکسپائر ہونے کا خیال نہیں رکھتے ہیں بلکہ جب وہ بالکل ختم ہوتے ہیں تو پھر ان کو تبدیل کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ 'ٹائر ربڑ کے ہیں ۔ ربڑ پڑے پڑے بھی خراب ہوتے ہیں اس لیے ٹائروں کی ایکسپائری کے حوالے سے خصوصی خیال رکھنا چائیے اور ان کو وقت پر ہی تبدیل کرنا چائیے'۔
انھوں نے کہا کہ 'ہمارے ہاں لوگ استعمال شدہ ٹائر بھی استعمال کرتے ہیں ۔ اس کے حوالے سے ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ اس کو فروخت کرنے والے بعض لوگ ٹائر کی ایکسپائری کی تاریخ کو پنچ کرکے تبدیل کرتے ہیں'۔
راضی خان نے بتایا کہ 'گاڑی کی انجن یا اس کے کسی اور حصے کے مقابلے میں انسانوں کی زندگی کا انحصار زیادہ تر ٹائروں پر ہوتا ہے اس لیے ٹائروں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چائیے'۔
انھوں نے بتایا کہ سڑکوں کی خرابی سے ٹائر پھٹتے ہیں۔بالخصوں ریڈیئل ٹائروں میں اسٹیل کا جال ہوتا ہے اور اگر وہ زور کے ساتھ روڈ پر پڑے کھڈے وغیرہ میں لگ جائیں تو اسٹیل کا جال ٹوٹ جانے سے بھی ایسے ٹائر پھٹتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹائروں کے حوالے سے جو بھی مقررہ اسٹینڈرڈز ہیں ان کو کسی بھی حوالے سے نظر انداز نہیں کرنا چائیےبلکہ ان کا ہر طرح سے خاص خیال رکھنا چاہیے۔
واشک: پاکستان، ایران سرحدی گزرگاہ کے قریب فائرنگ کے واقعے میں کم از کم چار پاکستانی ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں صوبہ بلوچستان کے ضلع
واشک میں پاکستان، ایران سرحدی گزرگاہ کے قریب فائرنگ کے ایک واقعے میں کم
از کم چار پاکستانی شہری ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔
ضلع واشک کے سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک
ہونے والے تمام افراد کا تعلق بلوچستان کے رخشاں ڈویژن سے ہے۔
فون پر رابطہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر واشک
نعیم عمرانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ
واقعہ سرحدی علاقے میں گذشتہ شب پیش آیا تھا جس میں چار پاکستانیوں
کی ہلاکت ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ضلع واشک کے سرحدی علاقے ماشکیل میں ’جودر‘ کے
نام سے ایک کراسنگ پوائنٹ ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔ انھوں نے بتایا کہ فائرنگ کا
نشانہ بننے والے لوگ گاڑیوں میں ایک نالے میں سفر کر رہے تھے اور یہ ایسے راستے ہیں
جن کو عمومی طور پر سمگلر استعمال کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا جس علاقے میں یہ واقعہ
پیش آیا وہاں تک ہماری فورسز کی رسائی نہیں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس واقعے کے
بارے میں تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔
بلوچستان کے ضلع واشک کے ایڈیشنل ڈپٹی
کمشنر محمد عمر جمالی نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کے محمد روحان کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ
کی جانب سے لیویز فورس کو واقعے کی تحقیقات کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ اور ایرانی
حکام نے فی الحال اس واقعے پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔
ایران کے ساتھ بلوچستان کے پانچ اضلاع
کی سرحدیں لگتی ہیں جن میں چاغی، واشک ، پنجگور ، کیچ اور گوادر شامل ہیں۔ ان
اضلاع کی ایران سے متصل سرحدی علاقے دشوار گزار علاقوں پرمشتمل ہیں جن کے غیر روایتی
راستوں کو سمگلر بھی استعمال کرتے ہیں۔
تاہم لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد ان راستوں
کو ایران سے غیر قانونی طور پر غذائی اشیا، روزمرہ کی استعمال کی دیگر اشیا کے
علاوہ ایرانی تیل لانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ریاستی اداروں کے اوپر اسٹیبلشمنٹ کا دباو بڑھتا جا رہا ہے: پی ٹی آئی ترجمان
تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن نے پریس کانفرنس میں الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ریاستی اداروں کے اوپر اسٹیبلشمنٹ کا دباو بڑھتا جا رہا ہے،ریاست اداروں کی اس وقت بھرپور کوشش ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل سے باہر نہ آ سکیں۔‘
اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران رؤوف حسن نے مزید کہا کہ ’75 سال سے سٹیبلشمنٹ کا کردار ہم دیکھ رہے ہیں۔ ماتحت عدالتوں سے بزور شمشیر لیے گئے فیصلے اعلی عدالتوں میں قائم نہیں رہ سکتے۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’اگر انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے تو لگتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو مزید وقت جیل میں گزارنا ہو گا کوشش یہی کی جا رہی ہے کہ مقدمات کے فیصلے نہ ہو سکیں۔‘
رؤف حسن نے دعویٰ کیا کہ ’انصاف کا قتل ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ ایسی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی جس سے عوام کا اعتماد ریاست پر بڑھے۔ آج بھی فرد واحد نے ریاست کو یرغمال بنا رکھا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’محمود الرحمان کمیشن رپورٹ مں فوج کے خلاف کوئی بات موجود نہیں بلکہ فوج کی بہادری سے لڑنے کا ذکر ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’توشہ خانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی سزا ختم ہو چکی ہے اور اس وقت تک عمران خان کو جیل سے باہر آ جانا چاہیے تھا۔ اس وقت عدت اور سائفر کے مقدمات کی سماعت مکمل ہو چکی ہے۔ عمران خان کے خلاف 230 مقدمات درجج تھے جو اس وقت مختلف سٹیجز سے گزر رہے ہیں۔‘
17 مئی کو لاپتہ ہونے والے شاعر احمد فرہاد کو اقدام قتل اور انسداد دہشت گردی کے مقدمے میں مظفر آباد پولیس کے حوالے کر دیا گیا, زبیر خان، شہزاد ملک
،تصویر کا ذریعہSocial Media
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کارِ
سرکار میں مداخلت کے الزامات کے تحت گرفتار شاعر احمد فرہاد کو اقدام قتل اور
انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ایک مقدمے میں مظفر آباد پولیس کے حوالے کر
دیا ہے۔
اسلام آباد سے 17 مئی کو لاپتہ ہونے والے شاعر
احمد فرہاد کے خلاف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میںکار سرکار میں مداخلت کا مقدمہ 29 مئی کو ہی
درج کیا گیا تھا جس کے بارے میں آج (بدھ) اسلام آباد ہائیکورٹ کو احمد فرہاد کی
اہلیہ کی جانب سے ان کی گمشدگی کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران آگاہ کیا گیا
تھا۔ عدالت نے احمد فرہاد کی وکیل ایمان مزاری کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں
حکام سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔
ایمان مزاری نے بی بی سی کو بتایا کہ
اب اُن کے مؤکل کو باغ پولیس نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی ہدایات پر مظفر آباد کی پولیس
کے حوالے کر دیا ہے۔ ایمان مزاری کے مطابق باغ میں حکام کی جانب سے انھیں بتایا
گیا ہے کہ احمد فرہاد کے خلاف مظفر آباد میں بھی کارِ سرکار میں مداخلت کے علاوہ اقدام
قتل اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے جس میں ان کی حوالگی مطلوب تھی۔
انھوں نے کہا کہ احمد فرہاد کی فیملی
اب مظفر آباد جا رہی ہے اور اُن کی اہلیہ اپنے شوہر سے ملاقات کے بعد صورتحال کے
بارے میں بتائیں گی۔
ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی
کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے واضح کیا ہے کہ جب تک احمد فرہاد سے متعلق اُن
کی فیملی آگاہ نہیں کرے گی، اس وقت تک جبری گمشدگی کے معاملے سے متعلق دائر کی گئی اس
درخواست کونہیں نمٹایا جائے گا۔
خیال رہے کہ احمد فرہاد کے خلاف
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے کوہالہ میں مقدمہ آج صبح آٹھ بجے درج کیا
گیا تھا جس کے مطابق احمد فرہاد نے کوہالہ پل پر تفتیش کے دوران پولیس سے تلخ کلامی
اور بدتمیزی کی جس کے بعد ان کو گرفتار کر
لیا گیا تھا۔ باغ پولیس کی مدعیت میں درج اس مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فرہاد
علی شاہ نے کار سرکار میں مزاحم ہو کر جرم کا ارتکاب کیا ہے۔
یاد رہے احمد فرہاد کی گمشدگی کا معاملہ
سامنے آنے پرشاعر احمد فرہاد کی اہلیہ عین
نقوی نے بی بی سی کو بتایاتھا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک ہفتہ قبل
بجلی اور اّٹے کی قیمتوں کے معاملے پر ان کے شوہر نے ذمہ داران کو سخت تنقید کا
نشانہ بنایا تھا اور اس کے بعد 17 مئی کو ان کے شوہر کسی کام کے سلسلے میں باہر
گئے ہوئے تھے اور جب وہ گھر لوٹے اور گھنٹی بجائی تو اتنے میں کچھ نامعلوم افراد
وہاں پہنچ گئے اور احمد فرہاد کو زبردستی اٹھا کر لے گئے۔
عین نقوی کے مطابق ان کے شوہر کو
گذشتہ دو سالوں سے سنگین نتائج کی دھمکیاں مل رہی تھیں اور انھیں کہا جا رہا تھا
کہ وہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کے خلاف لکھنا چھوڑ دیں ورنہ ان کے حق میں بہتر
نہیں ہوگا۔
عین نقوی کا کہنا تھا کہ اس عرصے کے
دوران ان کے شوہر کو تین ٹی وی چینلز سے نکالا گیا تھا۔ انھوں دعویٰ کیا کہ ملٹری
اسٹیبلشمنٹ سے وابستہ لوگ ان ٹی وی چینلز کے مالکان پر دباو ڈالتے تھے کہ وہ احمد
فرہاد کو اس بات پر قائل کریں کہ وہ ان کے بارے میں سوشل میڈیا لکھنا بند کر دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ان کے شوہر یہ بات نہیں مانتے تو انھیں نوکری سے ہاتھ دھونا
پڑتا تھا۔
یاد رہے کہ فرہاد کی اہلیہ نے بی بی سی کویہ بھی بتایاتھا کہ احمد فرہاد کے لاپتہ ہونے کے بعد اُن کے موبائل نمبر سے انھیں کسی
نامعلوم شخص کی واٹس ایپ کال آئی تھی۔ کال کرنے والے نے انھیں کہا کہ اگر وہ اپنی
درخواست واپس لے لیں تو ان کا شوہر اگلے دو روز میں گھر پہنچ جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ان کے انکار پر اس
شخص نے کال منقطع کردی اور پھر دوبارہ رابطہ نہیں کیا۔ واضح رہے کہ احمد فرہاد کی
گمشدگی کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ لوئی بھیر میں درج کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ احمد فرہاد کی گمشدگی کے
بعد ان کی اہلیہ کی جانب سے ان کی بازیابی سے متعلق دائر کردہ درخواست پر گذشتہ
ہفتے ہونے والی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکٹر کمانڈر اسلام کے
علاوہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندوں کو بھی آج (بدھ) ہونے والی سماعت میں
پیش ہونے کے احکامات دیے تھے۔ تاہم آج ہونے والی سماعت میں آئی جی اسلام آباد پیش
ہوئے اور عدالت کو آگاہ کیا احمد فرہاد کو باغ پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔
عدالت کو منصفانہ فیصلے سے روکنے کے لیے جج پر اعتراض سے لے کر عدالت کا وقت ضائع کرنے تک ہرحربہ استعمال کیا گیا: ترجمان پی ٹی آئی
بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف عدت کیس میں عدالت کی جانب سے فیصلہ سنانے سے گریز کے معاملے پر تحریک انصاف نے رد عمل میں کہا ہے کہ فیصلہ سنانے کی بجائے مقدمے کی کارروائی کسی دوسری عدالت کو منتقل کرنا انصاف کے منافی اور یکسر ناقابلِ قبول ہے۔
تحریک انصاف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’جج صاحب نے عدالت کے وقار اور انصاف کی حرمت کے تحفظ کی بجائے پراسیکیوشن کے سامنے نہایت افسوسناک انداز میں ہتھیار ڈالتے ہوئے مقدمے کو کسی اور عدالت میں منتقلی کی جانب دھکیل دیا۔ ‘
ترجمان تحریک انصاف کے مطابق اس سارے تماشے کا مقصد عمران خان اور ان کی وفاشعار اہلیہ کو ناحق قید میں رکھنا اور انصاف کے بنیادی حق سے محروم کرنا ہے جس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
تحریک انصاف کی جانب سے جاری بیان میں عدت کیس کو انسانی تاریخ کا بھونڈا اور بیہودہ کیس قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ انصاف کے پورے نظام اور فلسفے کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔
ترجمان تحریک انصاف کے مطابق ’عمران خان اور ان کی اہلیہ کو بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے اور ناحق قید کرنے کے لیے انصاف کی دھجیاں اڑا کر دو دن میں سزا سنائی گئی۔‘
بیان کے مطابق مقدمے پر تیز ترین عدالتی کارروائی کے دوران بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ کے وکلا کو جرح کے بنیادی حق تک سے محروم کیا گیا۔ موجودہ جج صاحب کے پاس مقدمہ سماعت کے لیے آیا تو درخواست گزار اور پراسیکیوشن ٹیم نے بدتمیزی، بیہودگی اور قانون و انصاف کی بے توقیری کی ہر حد عبور کی۔
ترجمان تحریک انصاف کے مطابق پراسیکیوشن کی جانب سے عدالت کو ایک منصفانہ فیصلے سے روکنے کے لیے جج پر اعتراض سے لیکر عدالت کا وقت ضائع کرنے تک ہر شرمناک حربہ استعمال کیا گیا۔
بیان کے مطابق ’پراسیکیوشن کی جانب سے مسلسل مزاحمت کے باوجود نہایت سست روی سے ٹرائل مکمل اور فیصلہ محفوظ کیا گیا۔ جسے آج سنایا جانا تھا۔‘
’آج فیصلہ سنانے کے لیے عدالت کھلی تو درخواست گزار نے قواعد کے برخلاف عدالت سے دس منٹ کا وقت مانگا اور عدالت کو فیصلہ سنانے سے باز رکھنے کے واضح ہدف اور منصوبہ بندی کے تحت درخواست گزار آدھے گھنٹے تک بولتے رہے۔‘
بیان میں کہا گیا کہ بانی چیئرمین عمران خان اور انکی محترمہ اہلیہ کے وکلا اور تحریک انصاف کے ذمہ داران اور کارکنان عدالت اور انصاف کے احترام میں مکمل صبر و ضبط کا مظاہرہ کرتے رہے۔
’جج صاحب نے عدالت کے وقار اور انصاف کی حرمت کے تحفظ کی بجائے پراسیکیوشن کے سامنے نہایت افسوسناک انداز میں ہتھیار ڈالتے ہوئے مقدمے کو کسی اور عدالت میں منتقلی کی جانب دھکیل دیا۔‘
ترجمان تحریک انصاف کے مطابق نو مئی کے فالس فلیگ آپریشن کے منصوبہ ساز عدالتوں کو انصاف کا مقتل بنا کر ملک و قوم میں شدید اضطراب کو ہوا دے رہے ہیں۔
’شاہراہ بند رہی تو عید کے لیے گھر بھی نہیں جا سکیں گے‘
چمن میں جاری دھرنے کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بین الاقوامی شاہراہ کی بندش سے نہ صرف چمن اور افغانستان جانے والی گاڑیوں کی بڑی تعداد کوژک کی پہاڑی پر پھنسی ہوئی ہے بلکہ اس سے زیادہ تعداد میں گاڑیاں چمن شہر میں پھنسی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ان کے ڈرائیور اور عملے کے دیگر افراد ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔
بریکنگ, شاعر احمد فرہاد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کی حراست میں ہیں:آئی جی اسلام آباد کا عدالت میں بیان
،تصویر کا ذریعہfacebook
لاپتا شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کی درخواست پر سماعت کے دوران آئی جی پولیس
اسلام آباد نے عدالت میں کہا ہے کہ احمد فرہاد پاکستان
کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کی حراست میں ہیں۔
بدھ کو مقدمے کی سماعت کے دوران آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ احمد فرہاد کے خلاف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے دھیر کوٹ میں کارِ
سرکار میں مداخلت کا مقدمہ درج ہے اور وہ اسی مقدمے میں زیرِ حراست ہیں۔
اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس وقت تک اس درخواست
کو ختم نہیں کر سکتی جب تک وہ رہا ہو کر اپنے گھر نہیں آ جاتے۔
اس پر آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ وہ علاقہ اسلام آباد پولیس کی حدود
میں نہیں آتا لہذا متعلقہ ریاست کی پولیس سے رابطہ کیا جائے گا۔
عدالت نے احمد فرہاد کی وکیل ایمان مزاری سے کہا کہ وہ متعلقہ
عدالت سے رجوع کر کے ان کی رہائی پر عمل کروائیں۔
یاد رہے کہ عدالت نے اس مقدمے میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سیکٹر
کمانڈرز کو آج طلب کر رکھا تھا جبکہ ان کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹر آئی بی، سیکرٹری
داخلہ اور سیکرٹری دفاع کو بھی بلایا گیا تھا۔
تاہم خفیہ ایجنسیوں کے سیکٹر کمانڈرز عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور اسلام
آباد پولیس کے سربراہ کی جانب سے شاعر احمد فرہاد کے مل جانے کے متعلق آگاہ کیا
گیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ ’ہمیں کوئی شوق نہیں ہے اور ہم غیر ضروری طور پر خفیہ ایجنسیوں کو عدالت طلب نہیں کرنا چاہتے۔ یہاں سب لوگ فوج سے پیار کرتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ ادارے آئین اور قانون کے مطابق چلتے رہیں تو کسی کو بھی انھیں عدالت طلب کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ مسئلہ صرف آئین پر عملدرآمد کا ہے۔‘
عدالت نے کیس کی سماعت لائیو نشر کرنے کے
احکامات بھی جاری کر رکھے ہیں مگر اس مقدمے کو لائیو نشر بھی نہیں کیا گیا۔
احمد فرہاد کے نام سے مشہور فرہاد علی شاہ 16 مئی کو اسلام آباد میں تھانہ لوہی بھیر کی حدود سے لاپتا ہوئے تھے اور ان کے اغوا کا مقدمہ ان کی اہلیہ کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
عدت میں نکاح کیس: سیشن عدالت کے جج کی مقدمے کا فیصلہ سنانے سے معذرت، معاملہ دوسری عدالت کو بھیجنے کی درخواست
سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ
بی بی کے عدت میں نکاح کے مقدمے میں سزا کے خلاف اپیلوں پر مقدمے کی سماعت کرنے
والے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کے جج نے فیصلہ سنانے سے معذرت کرتے
ہوئے ہائی کورٹ سے مقدمہ کسی اور عدالت ٹرانسفر کرنے کا خط لکھ دیا ہے۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کے جج شاہ
رخ ارجمند نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ بشریٰ بی بی اور بانی
پی ٹی آئی کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر تھیں جن پر آج فیصلہ سنایا جانا تھا تاہم
مقدمے کے فریق خاورمانیکا نے مجھ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے ہائی کورٹ کو
لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ خاور مانیکا کی جانب سے عدم اعتماد کی درخواست اس سے
قبل خارج کی جا چکی تاہم خاور مانیکا کی جانب سے دوبارہ عدم اعتماد کے اظہار کے
بعد اپیلوں پر فیصلہ سنانا درست نہ ہو گا لہذا اپیلوں کو دیگر کسی اور عدالت میں
ٹرانسفر کرنے کی درخواست ہے۔
جج شاہ رخ ارجمند نے لکھا کہ خاور مانیکا اور
ان کے وکلا نے ہمیشہ سماعت میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔
اس سے قبل خاور
مانیکا نے عدالت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کیس کسی اور عدالت کو ٹرانسفر
کرنے کی استدعا کی تھی۔
واضح رہےکہ اسلام
آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج شاہ رخ ارجمند نے عدت میں نکاح کیس میں سزا
کے خلاف عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے جو آج
سنایا جانا تھا۔
اس سے قبل اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں سابق وزیر
اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے عدت میں نکاح کیس میں سزا کے خلاف
اپیلوں کے سماعت کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے وکلا اور بشریٰ بی بی کے سابقہ شوہر خاور مانیکا کے
درمیان ہاتھا پائی کا واقعہ بھی پیش آیا۔
عدالت کے احاطے میں
موجود پی ٹی آئی وکلا نے خاور مانیکا کو دھکے دیے اور تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ اس
موقع پر ان کے ساتھ موجود وکلا نے انھیں بچایا اور عدالت لے گئے۔
’وعدہ معاف گواہ نہیں بنوں گا‘: عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس سے ملک ریاض کا کیا تعلق ہے؟
،تصویر کا ذریعہX/MALIK RIAZ
’ملک ریاض وعدہ معاف گواہ نہیں بنے گا۔‘
پاکستان میں ریئل سٹیٹ کاروبار سے جڑی کاروباری شخصیت ملک ریاض کی جانب سے گزشتہ روز سوشل میڈیا پر سامنے آنے والا یہ بیان اس اعتبار سے اہمیت رکھتا ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے اندر ان کی جانب سے دوسری بار عوامی سطح پر مبہم الفاظ میں ایک ایسے معاملے پر رائے کا اظہار کیا گیا جو ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
بحریہ ٹاؤن کے مالک اور پاکسان کے پراپرٹی ٹائیکون القادر ٹرسٹ کیس میں اشتہاری قرار دیے جا چکے ہیں جس میں سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف رہنما عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر الزام ہے کہ انھوں نے بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے سینکڑوں کنال پر محیط اراضی اُس 50 ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے عوض حاصل کی، جس کی شناخت برطانیہ کے حکام نے کی تھی اور یہ رقم پاکستان کو واپس کر دی تھی۔
نواز شریف چھ سال بعد پارٹی صدر منتخب: مسلم لیگ میں ’ن‘ کی واپسی کیوں ہوئی؟
صدر زرداری کے خلاف جعلی بینک اکاؤنٹ کا مقدمہ داخل دفتر کر دیا گیا
پاکستان کے صدر اور پیپلز پارٹی کے
شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف جعلی بینک اکاؤنٹ کا مقدمہ داخل دفتر کر دیا
گیا۔
بدھ کو کراچی کی بینکنگ کورٹ میں آصف علی زرداری، فریال تالپور اور دیگر کے
خلاف جعلی بینک اکاؤنٹ کیس کی سماعت ہوئی۔
صدر آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ جب تک آصف زرداری
صدر ہیں انھیں آئینی استثنیٰ حاصل
ہے، ان کے خلاف
مقدمے کی سماعت نہیں ہو سکتی جس پر عدالت نے کہا کہ جب تک آصف زرداری صدر ہیں ان
کے خلاف مقدے کی سماعت نہیں ہو گی۔
فریال تالپور عدالت میں پیش نہیں ہوئیں اور ان کی جانب سے درخواست دائر کی
گئی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ فریال تالپور اسمبلی اجلاس کے باعث مصروف ہیں
لہٰذا استثنیٰ دیا جائے۔
عدالت نے صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمہ داخل دفتر کرتے ہوئے کیس کی
سماعت نو جولائی تک ملتوی کر دی۔
بعدازں فاروق ایچ نائیک نے بینکنگ کورٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تیسری ترمیم کے بعد یہ کیس دوبارہ کراچی بینکنک کورٹ میں
بھیج دیا گیا، صدر زرداری اور فریال تالپور پر الزامات ہیں کہ بینک میں فیک اکاؤنٹس
بنائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ زرداری پر الزام ہے کہ تین کروڑ روپے ان کے اکاؤنٹس
میں آئے، وہ ایک زمیندار ہیں انھوں نے گنے کی فصل بیچی اس کے پیسے اکاونٹس میں آئے
تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ آصف علی
زرداری اور فریال تالپور نے گنے کو فروخت کیا جسکے پیسے چیکس کے ذریعے اکاؤنٹس میں
آئے تھے، یہ ان کی زمہ داری نہیں تھی کہ وہ جس سے رقم وصول کررہے ہیں اس کے پاس وہ
پیسے کہاں سے آئے۔
آڈیو لیکس کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیلی کام کمپنیز کو سرویلینس کے لئے فون کال ڈیٹا کے استعمال سے روک دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائیکورٹ نے آڈیو لیکس کیس میں آج ہونے والی سماعت کے دوران ٹیلی کام کمپنیز کو سرویلینس کے لئے فون کال ڈیٹا کے استعمال سے روک دیا ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ ’اگر ٹیلی کام کمپنیز کا ایکوئپمنٹ غیر قانونی سرویلنس کے لیے استعمال ہوا تو ان پر اس کی ذمہ داری عائد ہو گی۔‘
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس بابر ستار بشریٰ بی بی اور سابق چیف جسٹس کے
بیٹے نجم الثاقب کی درخواست پر آڈیو لیکس کیس کی سماعت رہے ہیں۔
دورانِ سماعت عدالت کا کہنا تھا
کہ ’چیف جسٹس کی سرویلنس بھی ہوئی تھی جس پر جواب سپریم کورٹ میں داخل ہوئے۔ آپ اس
متعلق بھی جواب دیں کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے کس قانون کے تحت کیں؟ آڈیو لیکس کے
ذمہ داروں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی۔‘
جسٹس بابر ستار کا کہنا تھا کہ ’کیا
ایف آئی اے کے پاس صلاحیت موجود نہیں کہ وہ اسکی نشاندھیکریں۔ آپ لوگوں نے ابھی تک ایف آئی آر درج کی
ہے۔‘
اس پر ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر
کرائم کا کہنا تھا کہ ’جب تک ہمیں سوشل میڈیا کمپنیز جواب نہیں دیں گی ہم ایف آئی
آر نہیں کروا سکتے۔‘
جسٹس بابر ستار کا ایڈیشنل اٹارنی
جنرل سے مکالمہ کہ دوگل صاحب یہ حالت ہے اسٹیٹ کی ایک سال انکوائری چل رہی ہے۔ آپ
ایک سال میں اس نتیجے تک نہیں پہنچے کہ جرم ہوا ہے یا نہیں۔‘
عدالت کی ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو
وفاقی حکومت سے ہدایات لینے اور عدالتی سوالوں کے جواب جمع کرانے کی ہدایت۔
جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ
’2015میں آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی
نے سپریم کورٹ میں رپورٹس داخل کرائیں۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹوں میں خفیہ
طور پر ریکارڈ کی گئی گفتگو کے اعداد و شمار دیے گئے تھے۔ یہ رپورٹ 2013 کے فیئر
ٹرائل ایکٹ کے آنے کے بعد کی تھی۔‘
اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاق سے
خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی گفتگو کے اعداد و شمار کا ریکارڈر بھی طلب کر لیا ہے۔
بلوچستان کے ضلع واشک میں مسافر بس حادثے کا شکار 26 افراد ہلاک متعدد زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہIsmaeal Asim
بلوچستان
کے ضلع واشک میں ایک مسافر بس کو پیش آنے والے حادثے میں کم از کم 26 افراد ہلاک
اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
مسافر
بس کو حادثہ ضلع کی تحصیل بسیمہ کے علاقے کلغلی میں پیش آیا۔
اسسٹنٹ
کمشنر بیسیمہ محمد اسماعیل نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ مسافر بس گوادر سے
کوئٹہ جارہی تھی۔
ان کا
کہنا تھا کہ بس کو حادثہ صبح نماز کے وقت پیشش آیا۔ اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا تھا کہ
مسافر بس جب کلغلی علاقے میں پہنچی تو اس کا ایک ٹائر پھٹ گیا۔ بس ایک پل سے
ٹکرانے کے بعد پل سے نیچے گھری کھائی میں جا گری۔
انھوں
نے بتایا کہ حادثہ شدید ہونے کی وجہ سے مسافروں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہوگئی۔ اسسٹنٹ
کمشنر نے بتایا کہ اب تک 26 مسافروں کو بیسیمہ کے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
ان کا
مزید کہنا تھا کہ حادثے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 6 کی حالت تشویشناک
ہے۔
انھوں
نے بتایا کہ شدید زخمیوں کی منتقلی کے لیے ضلعی انتظامیہ سے ہیلی کاپٹر کی درخواست
کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر مسافر بس میں 45 کے قریب لوگ سوار تھے۔
بیسیمہ
سے تعلق رکھنے والے صحافی اسماعیل عاصم نے فون پر بتایا کہ حادثے میں ہلاک اور زخمی
ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
بیسیمہ
ضلع واشک کی تحصیل ہے جو کہ گوادر کو کوئٹہ سے ملانے والی سی پیک شاہراہ پر واقع
ہے۔ بیسیمہ کا فاصلہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مغرب میں اندازاً ساڑھے
تین سو کلومیٹر کے فاصلے پرواقع ہے۔
وزیراعظم
محمد شہباز شریف کی بلوچستان کے ضلع واشک کے علاقے میں افسوسناک ٹریفک حادثے پر
گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا گیا ہے۔
وزیراعظم
ہاؤس کی جانب سے جارے ہونے والے ایک بیان میں حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے
درجات کی بلندی کے لیے دعا اور ان کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم
کی جانب سے زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا بسیمہ کے قریب بس حادثے پر اظہار افسوس اور اس حادثے میں زخمی ہونے والے تمام افراد کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
دوسری
جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا واشک کے قریب تربت سے کوئٹہ جانے والی بس کھائی
میں گرنے سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار۔ اُن کا
کہنا تھا کہ ’افسوسناک حادثے میں جانی نقصان پر دلی رنج اور صدمہ ہوا۔ جاں بحق
افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔‘
وفاقی
وزیر داخلہ محسن نقوی کا جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کے
ساتھ ساتھ زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کا پیغام دیا گیا ہے۔
آڈیو لیکس کیس: ’کوئی بات نہیں اینٹیلیجنس کے لوگوں سے شرمائیں نہیں، انٹیلیجنس کے لوگ تو ہر جگہ ہوتے ہیں‘ جسٹس بابر ستار کا ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد
اسلام آباد ہائیکورٹ میں آڈیو لیکس
کیس کی سماعت کے دوران جسٹس بابر ستار کا کہنا تھا کہ ’جب وفاقی حکومت نے جواب جمع
کروایا تو عدالت نے اسے سنجیدہ لیا۔ پی ٹی اے کہہ رہا ہے کہ ہمیں کوئی اجازت نہیں
دے رہا۔ سرویلینس کو اتھرائزڈ اگر کیا گیا ہے تو بتائیں کہاں موجود ہے؟‘
اس پر
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ’اس حوالے سے اگر رولز نہیں بنے ہوئے تو بننے
چاہئیں۔‘
جس پر
جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ ’کون بنائے گا رولز؟ کس کے ماتحت بنیں گے رولز؟ ڈی
جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم آئی اور دیگر گریڈ بیس کے افسر کو نوٹیفائی کریں گے۔ یہ
بتائیں کہ اداروں نے نوٹیفائی کر رکھا ہے اس حوالے سے؟‘
عدالتی
سوال کے جواب میں ایڈیشنل آٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’میں یہ بات پوچھ کر بتا
سکتا ہوں۔‘
جس پر
جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ ’انٹیلی جنس افسر کی طرف سے درخواست دی جائے گی۔
تیسرا مرحلہ حکومتی وزیر کی جانب سے سپورٹنگ مٹیریل دیکھ کر اجازت دینا ہے۔ اس
قانون میں بھی پرائیویسی کو مدنظر رکھا گیا ہے۔‘
اس پر
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’ریویو کمیٹی ہونی چاہیے۔‘
جس پر
عدالت کا کہنا تھا کہ ’گیارہ سال سے قانون تو موجود ہے ریویو کمیٹی موجود نہیں۔ ریویو
کمیٹی کیوں موجود نہیں؟‘
جس پر
ایک مرتبہ پھر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’میں پوچھ کر بتاؤنگا۔‘
ایڈیشنل
اٹارنی جنرل کے اس جواب پر جسٹس بابر ستار کی جانب سے اُن سے ایک اور سوال کیا گیا
کہ ’کیا کبھی کسی خفیہ ریکارڈنگ کے لیے اِس قانون کے تحت آج تک عدالت سے اجازت
مانگی گئی؟ قانون کے تحت ہر چھ ماہ بعد کسی کی ایسی خفیہ ریکارڈنگ کے اجازت نامے
پر نظر ثانی کی جائے گی۔ کیا کوئی ایسی نظر ثانی کمیٹی آج تک بنی؟‘
اُن
کا مزید کہنا تھا کہ ’عدالتی اجازت کے بغیر فون ریکارڈنگ اور فون ریکارڈنگ کی
فراہمی بھی قابلِ سزا ہے۔‘
جسٹس
بابر ستار کا ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کہ ’کیا پی ٹی اے کے لائسنس کی شرائط میں
یہ چیزیں شامل ہیں یا پی ٹی اے نے اس حوالے سے کوئی پالیسی دی ہے؟ اس قانون کو
پچھلے ایک سال میں فالو کیا گیا ہے یا نہیں؟‘
ایڈیشنل
اٹارنی جنرل کی جانب سے عدالتی سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ’میں کچھ چیزیں مزید
بتا دیتا ہوں انٹیلیجنس کے لوگ بھی یہاں بیٹھے ہیں۔‘
جس پر
جسٹس بابر ستار نے مُسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’کوئی بات نہیں اینٹلی جنس کے
لوگوں سے شرمائیں نہیں۔ انٹیلیجنس کے لوگ تو ہر جگہ ہوتے ہیں۔‘
اُن
کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ بتائیں کہ غیر قانونی ٹیلی فون ریکارڈنگ پر کیا ایکشن لیا
گیا؟ آپ نے کیا تحقیقات کیں کہ سوشل میڈیا پر آڈیو لیکس کیسے وائرل ہوئیں؟ سوشل میڈیا
پر کوئی چیز اپلوڈ ہو تو آئی پی ایڈریس سے ٹریک کر سکتی ہے۔ ایف آئی اے سمیت دیگر
اداروں کو کہا کہ ٹریک کر کے بتائیں تو انہوں نے کہا کہ ان کی صلاحیت نہیں۔‘
جسٹس
بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ ’پھر تو یہ اداروں کی ناکامی ہوئی، ایف آئی اور اور
پولیس کا کیا کام ہے؟ اس معاملے میں ابھی تک ایف آئی آرز درج کیوں نہیں کی گئیں؟ ایک
ملک میں اگر کرائم ہوا ہے تو آپ انتظار کریں گے کہ کوئی آ کر شکایت کرے تو انوسٹی
گیٹ کریں۔‘
جس پر
ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم کا کہنا تھا کہ ’سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو خط لکھا ہے
اور جواب کا انتظار ہے۔‘
اس پر
جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ ’اگر جواب مزید دس سال نہیں آئے گا تو آپ کیا کریں
گے؟‘
ایڈیشنل
ڈائریکٹر سائبر کرائم کا اس پر کہنا تھا کہ ’اس معاملے کی انکوائری چل رہی ہے۔‘
آڈیو لیکس کیس: ’غیر قانونی سرویلنس ایک جرم ہے جس کی قانون میں سزا موجود ہے‘ جسٹس بابر ستار, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد
آڈیو
لیکس کیس کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کا آغاز ہو چُکا ہے۔
بشریٰ
بی بی اور سابق چیف جسٹس کے بیٹے نجم الثاقب کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی
کورٹ کے جسٹس بابر ستار کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس بابر ستار دونوں درخواستوں کو یکجا
کر کے سماعت کر رہے ہیں۔ آج ہونے والی سماعت کے دوران ایڈشنل اٹارنی جنرل منور
اقبال دوگل عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔
آج
سماعت کے آغاز پر عدالت کی جانب سے پی ٹی آئی کے وکیل سے استفسار کیا گیا کہ ’آپ
نے جواب جمع نہیں کروایا۔‘ جس کے جواب میں پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’چھٹی
کے باعث ہم اپنا جواب داخل نہیں کرواسکے۔‘
چیف
جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس بابر ستار نے جب سماعت کا آغاز کیا تو پی ٹی آئی
کے وکیل کے ساتھ مختصر مکالمے کے بعد ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل روسٹرم
پر آئے۔ جن سے عدالت کی جانب سے یہ سوال کیا گیا کہ ’قانون بتائیں کس قانون کے تحت
پی ٹی اے سرویلینس کر رہے ہیں؟ کس سیکشن کے تحت پی ٹی اے والے سرویلینس کر رہے ہیں۔‘
جس پر
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’لیگل فریم ورک کے ذریعے کر رہے۔‘
ایڈیشنل
اٹارنی جنرل کے اس جواب پر جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کے مطابق کسی کو
فون ٹیپنگ کی اجازت نہیں دی گئی۔ اگر آپ اب اس موقف سے پیچھے ہٹیں گے تو اس کے
نتائج ہوں گے۔‘
عدالت
کی جانب سے دورانِ سماعت کہا گیا کہ ’قانون کہتا ہے کہ وفاقی حکومت اجازت دے سکتی
ہے مگر آپ کے مطابق اس کی اجازت نہیں دی گئی۔‘
ایڈیشنل
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’مجھے تھوڑا سا ٹائم دے دیں۔‘
جس پر
استفسار کرتے ہوئے جسٹس بابر ستار کا کہنا تھا کہ ’کیا آپ کو نہیں پتہ تھا کہ آج کیس
لگا ہوا ہے؟ ایک سال سے یہ پٹیشنز زیرِ سماعت ہیں۔ اگر وفاقی حکومت عدالت میں جھوٹ
بولے گی تو بات کیسے آگے بڑھے گی۔ وزیراعظم آفس سمیت دیگر اداروں کی جانب سے
رپورٹس جمع کرائی جا چکی ہیں۔‘
جسٹس
بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے مزید کہا کہ ’رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کسی کو لیگل
انٹرسیپشن کی اجازت نہیں دی گئی۔‘
اس پر
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’وہ جواب پٹیشنر کی آڈیو لیکس کی حد تک تھا۔‘
جس پر
عدالت کی جانب سے ایک مرتبہ پھر ایڈیشنل اٹارنی جنرل یہ سوال کیا گیا کہ ’جو بھی
ہے آپ بتائیں شہریوں کی کالز کس قانون کے تحت آپ ریکارڈ کر رہے ہیں۔ زبانی کلامی
نہ بتائیں باضابطہ طور پر بتائیں، آپ بتائیں آپ نے کس کو اجازت دے رکھی ہے۔ کس نے
اتھارٹی دی ہوئی ہے کہ لوگوں کی کالز ریکارڈ کی جائیں۔‘
جسٹس
بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’وزیر اعظم آفس، وزارتِ دفاع، داخلہ، پی ٹی
اے کہہ چکے کسی کو اجازت نہیں ہے۔ غیر قانونی سرویلنس ایک جرم جس کی قانون میں سزا
موجود ہے۔‘
لاپتہ شاعر احمد فرہاد کی بازیابی درخواست پر سماعت آج ہو گی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد
لاپتہ
شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کی درخواست پر سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس
محسن اختر کیانی سماعت کریں گے۔
عدالت
نے آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سیکٹر کمانڈرز کو آج طلب کر رکھا ہے ان کے ساتھ
ساتھ ڈائریکٹر آئی بی، سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع کو بھی عدالت کی جانب سے طلب
کر رکھا ہے۔
وزیر
قانون اور سیکرٹری قانون کو عدالتی معاونت کے لیے پیش ہونے کی ہدائت کی گئی تھی۔ تفتیشی
افسر کو سیکٹر کمانڈر کا 161 کا بیان ریکارڈ کر کے آج عدالت میں پیش کرنے کا حکم دی
گیا تھا۔ عدالت نے کیس لائیو نشر کرنے کے احکامات بھی جاری کر رکھے ہیں۔
سینئر
صحافی حامد میر لاپتہ افراد کی رپورٹنگ کے مثبت پہلوؤں پر عدالت کی معاونت کریں گے۔
عدالت نے حامد میر کو اس کیس میں عدالتی معاون مقرر کر رکھا ہے۔ حامد میر نے جبری
گمشدگیوں سے متعلق تحریری جواب بھی تیار کر لیا ہے۔ حامد میر بطور عدالتی معاون
تحریری جواب آج عدالت میں جمع کرائیں گے۔
حامد
میر کا اس کیس کی ساعت کے دوران کہنا تھا کہ ’جبری گمشدگی آئین کی واضح خلاف ہے۔ جبری
گمشدگیوں کے کیسز کی رپورٹنگ ہر صحافی کی پیشہ وارانہ ذمہ داری ہے۔‘
اُن
کا مزید کہنا تھا کہ ’نوٹس کیا گیا ہے کہ طاقتور حلقے میڈیا کے جبری گمشدگیوں پر
آواز اٹھانے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ ایسی رپورٹنگ ریاست کے اندر ریاست کو بے نقاب
کرتی ہے۔ قانون کے مطابق کسی بھی گرفتار شخص کو 25 گھنٹوں میں عدالت کے سامنے پیش
کرنا ضروری ہے۔‘
عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف عدت کیس ہے کیا؟
،تصویر کا ذریعہPTI
ایک نظر ڈالتے ہیں کہ عمران خان اور اُن کی موجودہ اہلیہ بشریٰ بی بی پر ہونے والا یہ دورانِ عدت نکاح کیس کیا ہے؟ اور اب تک اس مقدمے سے متعلق ہونے والی عدالتی کارروائی میں کیا کُچھ سامنے آیا ہے۔
عدت نکاح کیس
25 نومبر 2023 کو بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا
نے اسلام آباد کے سول جج قدرت اللہ کی عدالت سے رجوع کیا اور عمران خان اور بشریٰ
بی بی کے خلاف دورانِ عدت نکاح کا کیس دائر کیا۔
درخواست
میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ دورانِ عدت نکاح کا معاملہ منظرِ عام پر آنے کے
بعد دونوں نے مفتی سعید کے ذریعے فروری 2018 میں دوبارہ نکاح کیا۔
بشریٰ
بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے درخواست میں استدعا کی تھی کہ عمران خان اور
بشریٰ بی بی کو طلب کیا جائے اور انھیں آئین اور قانون کے تحت سخت سزا دی جائے۔
28 نومبر
2023 کو ہونے والی سماعت میں نکاح خواں مفتی سعید اور عون چوہدری نے اپنا بیان
ریکارڈ کرایا تھا۔
5دسمبر کو ہونے والی سماعت
میں خاور مانیکا کے گھریلو ملازم اور کیس کے گواہ محمد لطیف نے بیان قلمبند کرایا
تھا۔
پھر
11 دسمبر کو عدالت نے غیر شرعی نکاح کیس کو قابلِ سماعت قرار دے دیا تھا۔
اس کے
بعد 2جنوری 2024 کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے غیر شرعی
نکاح کیس میں فرد جرم عائد کرنے کے لیے 10 جنوری کی تاریخ مقرر کی تھی۔
جس کے
بعد10 جنوری اور پھر 11 جنوری کو بھی فردِ جرم عائد نہ
ہوسکی تھی جس کے بعد عدالت نے سماعت ملتوی کردی تھی۔
15 جنوری کو بشریٰ بی بی اور 18 جنوری کو عمران خان نے
غیر شرعی نکاح کیس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
تاہم
16 جنوری کو غیر شرعی نکاح کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فردِ جرم عائد کر
دی گئی تھی۔
جس کے
بعد 31 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور
بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس خارج کرنے کی درخواستیں مسترد کر دیں تھیں۔
2 فروری کو عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے
خلاف غیرشرعی نکاح کیس کا فیصلہ 14 گھنٹے طویل سماعت کے بعد محفوظ کر لیا گیا تھا
جس کے بعد انھیں سزا سنائی گئی تھی۔
عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ
بی بی کو عدالت کی جانب سے سات سات سال قید کی سزا سُنائی گئی تھی۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے عدت کے دوران نکاح سے متعلق مقدمے میں سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ آج سُنایا جائے گا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان
کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے عدت کے دوران نکاح سے متعلق مقدمے میں سزاؤں کے
خلاف اپیلوں پر فیصلہ آج سنایا جائے گا
اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن
جج شاہ رخ ارجمند ان اپیلوں پر فیصلہ سنائیں گے جو چند روز قبل فریقین کے دلائل
مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا گیا تھا۔
عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی
کے سابق شوہر خاور مانیکا کی درخواست پر اسلام آباد کی سول عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قصور وار مانتے
ہوئے انھیں سات سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔
گزشتہ سماعت کے دوران مجرمہ بشریٰ
بی بی کے وکیل عثمان گل نے اپیل کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ خاور مانیکا سے طلاق
کے بعد بشریٰ بی بی اپنے والدین کے گھر گئیں، عدت مکمل کی جس کے بعد نکاح کیا۔
انھوں نے کہا کہ عدت میں نکاح کیس
کا ٹرائل تو عدالتی اوقات کے بعد بھی چلایا گیا تھا ایسی سماعتیں غیر قانونی ہیں۔
بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گِل نے
جواب الجواب مکمل کرتے ہوئے اپیلوں کو منظور کرنے کی استدعا کردی اور ساتھ ساتھ
عدت میں نکاح کیس میں سزا کو قلعدم قرار دینے کی استدعا کردی۔
اس مقدمے کے پراسیکیوٹر عدنان علی نے جواب
الجواب دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدت میں شادی کرنا جائز ہے یا نہیں؟ سزا ہو سکتی یا
نہیں؟ اسی کا کیس ہے۔
انھوں نے کہا کہ عدت مکمل ہونا
ضروری ہے کیونکہ شادی کا انحصار عدت پر ہے۔
پراسیکیوٹر عدنان علی کا کہنا تھا
کہ ’نکاح ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کیا دوران عدت نکاح کرنے پر سزا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سنہ 1989 میں
خاور مانیکا اور بشریٰ بی بی نے شادی کی اور وہ ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے۔ انھوں
نے کہا کہ اٹھائیس سال شادی کا عرصہ رہا، 5 بچے ہوئے لیکن مجرم عمران خان کی
مداخلت کے باعث بشریٰ بی بی کو طلاق ہوئی۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان بار
بار خاور مانیکا اور بشریٰ بی بی کی زندگی میں مداخلت کر رہے تھے اور خاور مانیکا
کے بقول بانی پی ٹی آئی کی مداخلت کے باعث ہنستا بستا گھر اجڑ گیا۔
پراسیکیوٹر عدنان علی نے اپنے
دلائل کے دوران دعویٰ کیا کہ ’خاور مانیکا رجوع کرنا چاہتے تھے لیکن دورانِ عدت
بشریٰ بی بی نے نکاح کرلیا۔‘
انھوں نے کہا کہ گواہان نے حلف پر
گواہی دی بانی پی ٹی آئی نے حلف کے بغیر 342 کا بیان ریکارڈ کروایا۔
واضح رہے کہ عمران خان اور بشری بی
بی کے خلاف عدت کے دوران نکاح کرنے کی درخواست بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا
نے دائر کی تھی اور مقدمے کے گواہان میں مفتی سعید جو کہ پاکستان تحریک انصاف کی
کور کمیٹی کے رکن تھے کے علاوہ عمران خان کے سابق چیف آف سٹاف عون چوہدری بھی شامل
تھے۔
درخواست گزار خاور مانیکا نے ان
اپیلوں کی سماعت کرنے والے جج شاہ رخ ارجمند پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے یہ
مقدمہ درسری عدالت میں منتقل کرنے کی استدعا کی تھی جو مسترد کردی گئی تھی۔
خاور مانیکا کے وکیل راجہ رضوان
عباسی نے ان اپیلوں پر اپنے دلائل مکمل کیے بغیر ہی بیرون ملک چلے گئے اور عدالتی
حکم کے باوجود وہ ویڈیو لنک کے ذریعے بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کے وکیل
سلمان اکرم راجہ پہلے ہی ان اپیلوں پر اپنے دلائل مکمل کرچکے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
قانونی ماہرین کے مطابق اگر عدالت ان اپیلوں کو منظور کرلیتی ہے تو بشری بی بی جیل سے رہا ہو جائیں گی کیونکہ اس سے پہلے عدالت توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشری بی بی کی سزاؤں کو معطل کر چکی ہے جبکہ عمران خان اپیل منظور ہونے کے باوجود بھی جیل سے باہر نہیں اسکیں گے کیونکہ سائفر والے کیس میں انھیں سزا سنائی گئی ہے۔
عدت کے دوران نکاح کے مقدمے کی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت کے دوران بشری بی بی کے موجودہ شوہر عمران خان اور سابق شوہر خاور مانیکا آپس میں الجھ پڑے اور ایک دوسرے کو برا بھلا کہا تاہم ان حالات میں بشری بی بی نے اپنے موجودہ شوہر اور سابق وزیر اعظم عمران خان کا ساتھ دیا۔
اڈیالہ جیل میں دس گھنٹے تک چلنے والی سماعت کے دوران ان دونوں میں تلخ کلامی اس وقت شروع ہوئی جب خاور مانیکا نے عمران خان پر الزام عائد کیا کہ وہ ان کے گھر بغیر اجازت آجاتے اور گھنٹوں تک دونوں الگ کمرے میں بیٹھ کر گفتگو کرتے تھے۔
انھوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہ کہ تم نے میرا گھر تباہ کیا ہے جبکہ عمران خان کا کہنا تھا کہ خاور مانیکا نے چھ سال کے بعد درخواست کسی کے کہنے پر دی ہے سابق وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھوں نے بشری بی بی کو نکاح والے دن پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ پر یہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ راولپنڈی میں بحریہ ٹاؤن کے دفتر پر قومی احتساب بیورو (نیب) اور پنجاب پولیس نے چھاپہ مار کر دستاویزات ضبط کی ہیں۔
بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’ملک ریاض وعدہ معاف گواہ نہیں بنے گا۔۔جو چاہے مجھ پر ظلم کرو۔‘ انھوں نے بحریہ ٹاؤن کے دفتر کی سی سی ٹی وی فوٹیج شیئر کی ہے جس میں بعض افراد کو دفتر میں چھان بین کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف القادر ٹرسٹ کیس میں پاکستانی پراپرٹی ٹائیکون کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔
تاحال نیب نے اس چھاپے سے متعلق کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔