یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے اس لنک پر کلک کریں
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملازمت کے لیے امریکہ آنے والے غیر ملکی ہنر مند افراد کے لیے ویزا فیس پندرہ سو ڈالر سے بڑھا کر ایک لاکھ ڈالر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس حکم نامے سے امریکہ میں ٹیک کمپنیاں متاثر ہوں گی جن کی افرادی قوت کا انحصار چین اور انڈیا سے آنے والے ہنر مند افراد پر ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے اس لنک پر کلک کریں
شام کی عبوری حکومت کے سربراہ احمد الشرع نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کا مقصد تعلقات معمول پر لانے کے بجائے سرحدی حدود کے معاہدے کی بحالی ہے۔
عبوری حکومت کے سربراہ نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں کسی بھی سطح پر تل ابیب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے بات چیت نہیں ہوئی ہے۔
ترکی کے اخبار میں شائع ہونے والی خبر کے بعد شام کے ٹی وی نے عبوری صدر کا بیان نشر کیا۔
قطر پر حالیہ حملے کے بعد اسرائیل کے ساتھ مذاکرات پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اگر سوال یہ ہے کہ کیا مجھے اسرائیل پر بھروسہ ہے؟ میں اسرائیل پر بھروسہ نہیں کرتا ہوں۔‘
انھوں نے واضح کیا کہ شام لڑنا ضرور جانتا ہے لیکن وہ جنگ نہیں کرنا چاہتے ہیں۔
عبوری صدر نے سویدا کے واقعات کا حوالا دیتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل کے ساتھ جب مذاکرات مکمل ہونے ہی والے تھے کہ سویدا میں پرتشدد واقعات شروع ہو گئے۔‘
انھوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات میں کوشش کی جا رہی ہے کہ جلد شام اور اسرائیل کے مابین 1974 میں طے ہونے معاہدے کو بحال کر لیا جائے تاکہ شام کے جنوبی علاقوں سے اسرائیل کا قبضہ ختم ہو سکے۔
یاد رہے کہ 1973 کی عرب جنگ کے بعد شام کے کئی علاقوں پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد 1974 میں دونوں ممالک کے مابین سرحدی حدود پر معاہدہ ہوا تھا۔
شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے کئی علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔
امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو چھ ارب ڈالر مالیت کے دفاعی سازو سامان دینے کے لیے امریکی کانگریس سے رجوع کر رہے ہیں۔
اسرائیل کے لیے تجویز کردہ اس پیکچ میں 30 جدید اپاچی ہیلی کاپٹر سمیت 3000 سے زائد انفنٹری حملہ آور گاڑیاں بھی شامل ہیں۔
اسرائیل کو مزید ہتھیار دینے کی خبریں ایک ایسے وقت پر سامنے آئیں ہیں جب حال ہی میں اسرائیل نے غزہ شہر پر حملے میں ’نے مثال طاقت ‘کا استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں تقریباً 25 لاکھ افراد غزہ شہر سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔
گذشتہ شب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں، امریکہ نے ایک بار پھر غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کے مطالبے کی قرارداد کو ویٹو کر دیا ہے۔
سلامتی کونسل کے دیگر 14 اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جبکہ صرف امریکہ نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔قرارداد میں غزہ تک زیادہ سے زیادہ انسانی رسائی کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔
اس سے قبل اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے اسرائیل پر غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے الزامات اس رپورٹ کی بنیاد پر لگائے گئے تھے۔ جس کے مطابق 2023 میں حماس کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل بین الاقوامی قانون کے تحت کسی معاملے کو نسل کشی قرار دیے جانے کے لیے درکار پانچ اقدامات میں سے چار کا مرتکب ہوا ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے منشیات لے جانے والی ایک کشتی پر ’مہلک‘ حملہ کیا ہے اور اس حملے میں کشتی میں سوار تین ’مرد منشیات کے دہشت گرد‘ مارے گئے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ منشیات کی سمگلنگ سے متعلق امریکی انٹیلی جنس کی تصدیق کے بعد انھوں نے امریکی جنوبی کمانڈ کو اس کشتی پر حملہ کرنے کا حکم دیا تھا۔
حالیہ کچھ ہفتوں کے دوران مبینہ طور پر منشیات لے جانے والی کشتیوں پر امریکی افواج کا یہ تیسرا حملہ ہے۔
اس سے قبل مبینہ طور پر وینزویلا کی ان کشتیوں پر امریکی فوج کے حملوں میں 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کا ملک امریکی ’جارحیت‘ کے خلاف اپنا دفاع کرے گا۔
ٹرمپ نے جمعہ کو سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ حملہ بین الاقوامی سمندر میں جنوبی امریکہ اور کیریبین کے علاقوں کے قریب ہوا جس کی سکیورٹی کی ذمہ دمہ داری یو ایس سدرن کمانڈ کی ذمہ داری ہے۔
انڈیا کی فضائیہ کے سربراہ اے پی سنگھ کا کہنا ہے کہ دنیا کو انڈیا کو دیکھ کر یہ سیکھنا چاہیے کہ جنگ انا کی تسکین کے لیے نہیں بلکہ مقاصد کے حصول کے لیے لڑیں جاتی ہیں۔
انھوں نے ایک تقریب کے دوران پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ انڈیا نے جنگ جلد ختم کر دی لیکن انڈیا کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ تھا اور مخصوص ٹھکانوں پر حملے کر کے اسے حاصل کر لیا گیا۔
انڈین فضائیہ کے سربراہ نے کہا کہ اگر ہمارے مقاصد پورے ہو گئے ہیں تو پھر ہم تنازع کیوں ختم نہ کرتے۔
انھوں نے کہا کہ کسی جنگ کی بہت زیادہ معاشی قیمیت ہوتی ہے اور طویل جنگیں اگلی تیاریوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔
رواں سال مئی میں انڈیا کی جانب سے پاکستان کے اندر مختلف علاقوں میں حملوں کے بعد دونوں ممالک کے مابین جنگ کا آغاز ہوا تھا۔ جس میں پاکستان نے انڈیا کے پانچ جہاز گرانے کا دعویٰ کیا۔ امریکہ کی مداخلت دونوں ممالک کے مابین جنگ بندی ہوئی تھی۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملازمت کے لیے امریکہ آنے والے غیر ملکی ہنر مند افراد کے لیے ویزا فیس پندرہ سو ڈالر سے بڑھا کر ایک لاکھ ڈالر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے جمعے کو ایک صدارتی حکم نامے جاری کیا جس کے تحت ہائی سکیلڈ (ہنر مند) افراد کو امریکہ بلوانے کے لیے پروگرام H-1B کی ویزا فیس میں اضافہ کر دیا ہے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ اس حکم نامے سے امریکہ میں ٹیک کمپنیاں متاثر ہوں گی جن کی افرادی قوت کا انحصار چین اور انڈیا سے آنے والے ہنر مند افراد پر ہے۔
H-1B ویزا، دنیا بھر سے سکیلڈ افراد کو امریکہ میں ملازمت کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
اس منصوبے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ امریکہ کی افرادی قوت کا استحصال ہے لیکن ایلون مسک جیسے منصوبے کے حامیوں کے مطابق اس پروگرام کے تحت دنیا بھر سے بہترین ٹیلنٹ کو امریکہ لانا ممکن ہوتا ہے۔
2004 کے بعد سے امریکہ نے سالانہ H-1B ویزا جاری کرنے کی زیادہ سے زیادہ حد 85 ہزار مقر کر دی ہے۔ اس وقت اس ویزا کی فیس 1500 ڈالر ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ میں سیکریٹری کامرس ہورڈ لیوٹنک کا کہنا ہے کہ اس فیصلے پر تمام بڑی امریکی کمنیوں کو آگاہ کر دیا گیا۔
حکومتی اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ مالی سال کے دوارن اس پروگرام سے سب سے زیادہ مستفید ایمازون ہوا تھا اور اس کے بعد ٹیک کمپنیاں ٹاٹا، مائیکروسافٹ، میٹا، ایپل اور گوگل تھے۔
H-1B پروگرام پر اضافی پابندیاں انڈیا جیسے ملک کے تشویش کا باعث ہے۔ اب تک بڑی تعداد میں انڈین اس پروگرام کے ذریعے امریکہ آئے ہیں۔
امریکہ نے 1990 میں H-1B ویزا پروگرام شروع کیا تھا۔ اب تک اس پروگرام کے تحت سب سے زیادہ انڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد ہنر مند افراد امریکہ منتقل ہوئے ہیں اور اس فہرست میں دوسری نمبر پر چین ہے۔
امریکہ میں صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اپنی نئی امیگریشن پالیسی کے تحت اس پروگرام کو بھی جانچ رہی ہے اور ٹرمپ اکثر یہ کہتے ہیں کہ غیر ملکی امریکیوں کی نوکریوں پر قبضہ کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اور چینی صدر شی جن پنگ نے جمعے کو فون پر گفتگو کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹِک ٹاک کے امریکی آپریشنز کے مستقبل کے حوالے سے ایک معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وہ اگلے مہینے جنوبی کوریا میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (ایپیک) کے اجلاس کے دوران چینی صدر سے ملاقات کریں گے اور اگلے برس چین کا دورہ بھی کریں گے۔
ٹُرتھ سوشل پر ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ صدر شی اور ان کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو ’تعمیری‘ رہی اور وہ ٹک ٹاک سے متعلق معاہدے کی منظوری دینے پر چینی صدر کو ’سراہتے‘ ہیں۔
خیال رہے ٹک ٹاک چینی کمپنی بائٹ ڈانس کی ملکیت ہے اور اسے امریکہ نے کہا تھا یا تو وہ ملک میں اپنے آپریشنز فروخت کر دے یا پھر پابندی کا سامنا کرے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ: ’میں نے صدر شی سے اتفاق کیا کہ ہم جنوبی کوریا میں ایپیک اجلاس میں ملیں گے، میں اگلے برس کے ابتدائی حصے میں چین جاؤں گا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ چینی صدر بھی ’مناسب وقت پر‘ امریکہ کا دورہ کریں گے۔
بلوچستان کے ضلع خضدار میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما آغا شکیل احمد دُرانی کے گھر پر دستی بم حملے میں چھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس حکام نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ حملہ جمعے کی شب خضدار شہر میں پی پی پی کے رہنما کے مہمان خانے پر کیا گیا تھا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایسے بزدلانہ واقعات عوام اور قیادت کے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔‘
خضدار پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او عبداللہ کے مطابق نامعلوم افراد کی جانب سے آغا شکیل درانی کے گھر کے مہمان خانے پر کیے گئے دستی بم حملے میں چھ افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔
یورپی ممالک کے فوجی اتحاد نیٹو نے دعوی کیا ہے کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے یورپی ملک ایسٹونیا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے تین روسی طیاروں کو روکا جس کے بعد یہ طیارے واپس روسی حدود میں جانے پر مجبور ہو گئے۔
ایسٹونیا کی وزارت خارجہ نے اس دراندازی کی مذمت کرتے ہوئے اسے روس کی ’ڈھٹائی‘ قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ روس کے تین مگ-31 طیارے جمعے کو ایسٹونیا میں خلیج فن لینڈ کے اُوپر 12 منٹ تک موجود رہے۔
نیٹو کے ترجمان ایلیسن ہارٹ نے کہا کہ فوجی اتحاد نے ’فوری طور پر جوابی کارروائی کی اور روسی طیاروں کو روکا۔‘
اُن کے بقول یہ روسی رویے اور نیٹو کی جوابی صلاحیت کی ایک اور مثال ہے۔ تاہم اُنھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
سنہ 2022 میں ماسکو کی جانب سے یوکرین پر مکمل حملے کے آغاز کے بعد سے نیٹو فوجی اتحاد اور روس کے درمیان تناؤ بڑھ گیا ہے۔
گذشتہ ہفتے نیٹو کے دو رُکن ممالک پولینڈ اور رومانیہ نے بھی الزام عائد کیا تھا کہ روسی ڈرونز نے ان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔
ایسٹونیا کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس نے جمعے کی دراندازی پر روسی ناظم الامور کو طلب کر کے اس معاملے میں احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ یورپی یونین کے اعلی سفارت کار کاجا کالس نے اس واقعے کو انتہائی خطرناک اور اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان نے عام عوام بالخصوص والدین سے کہا ہے کہ گھر کا کوئی فرد لاپتہ ہوجائے یا کسی کالعدم تنظیم میں شمولیت اختیار کرے تو اس کی اطلاع ایک ہفتے کے اندر اندر دی جائے ورنہ اسے اعانت جرم تصور کیا جائے گا۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے اس سلسلے میں بلوچستان سے شائع ہونے والے تمام بڑے اخباروں میں ایک اشتہار جاری کیا گیا ہے۔
اشتہار کے مطابق انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 11 کے ٹرپل ای (1) کے تحت اگر کوئی فرد لاپتہ ہو جائے تو اس کی اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن, ایف سی، آرمی ونگ یونٹ کو ایک ہفتے کے اندر لازمی دی جائے۔
اشتہار کے مطابق ایسے افراد جو پہلے سے لاپتہ ہیں ان کی پہلے سے موجودہ معلومات فوری طور پر اور زیادہ سے زیادہ سات دن کے اندر فراہم کرنا تعزیرات پاکستان کی دفعات 118 اور 202 کے علاوہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے 1997 کے مذکورہ بالا ایکٹ کے تحت لازمی ہے۔
اس اشتہار میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے تمام افراد کے اہل خانہ، سربراہ یا قانونی سرپرست جو کسی غیر ریاستی، دہشت گرد گروہ میں شامل ہوچکے ہوں کے بارے میں علیحدگی اور عاق کرنے کا حلفیہ بیان ایک ہفتے کے اندر لازمی جمع کرائیں۔
اشتہار میں کہا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے علاوہ بلوچستان ایمپلائیز افیشنسی اینڈ ڈسپلن ایکٹ 2011 کے تحت ایسے سہولت کاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی جن میں جائیداد کی ضبطگی، سرکاری ملازمت سے برطرفی اور ریاست سے ملنے والے ہر قسم کے مالی و فلاحی پیکیجز سے محرومی شامل ہیں۔
خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں مٹہ چوک پر جمعے کو سوات قومی جرگہ کی اپیل پر ایک امن مظاہرہ کیا گیا جس میں مقررین نے کہا ہے کہ وہ ہر حال میں امن چاہتے ہیں اور ایسی ہر کوشش کی مخالفت کریں گے جس سے علاقے کے حالات خراب ہوں۔
امن مظاہرے میں صوبے میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) سمیت دیگر تمام سیاسی جماعتوں کے مقامی رہنماؤں اور منتخب نمائندوں نے شرکت کی۔
امن مظاہرے میں سیاسی و سماجی شخصیات کے علاوہ وکلا ،صحافی تاجر اور بڑی تعداد میں عام لوگ شریک ہوئے ہیں۔
مقررین نے کہا کہ امن کی بحالی ریاست کی ذمہ داری ہے اور یہاں عام شہری کسی بھی حال میں مزید بد امنی برداشت نہیں کریں گے۔
مظاہرے میں شریک افراد نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں باجوڑ، مہمند، وزیرستان اور بنوں میں بد امنی پائی جاتی ہے اسی طرح سوات میں بعض علاقوں میں اس طرح کے واقعات کے خدشات پائے جاتے ہیں۔ اس لیے مقامی سطح پر سیاسی جماعتوں اور دیگر مکتبہ فکر کے لوگوں پر مشتمل قومی جرگے نے یہ احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔
مقررین نے کہا کہ ماضی میں اس علاقے میں تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں جب ان علاقوں میں چوکوں میں لوگوں کے سر کٹے ہوئے پڑے ہوتے تھے اور اب ایسا نہ ہو کہ پھر ویسے حالات پیدا ہو جائیں۔
مقررین نے باجوڑ میں امن کے قیام کے لیے کوششیں کرنے والے عوامی نینشل پارٹی کے رہنما مولانا خان زیب کا ذکر کیا جنھیں امن کے قیام کی کوشش کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ سوات میں تین سال پہلے جب حکومت نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات شروع کیے تھے اور مٹہ کے علاقے میں مسلح شدت پسندوں کی سرگرمیاں دیکھی گئی تھیں تو اس وقت علاقے میں امن پاسون کا انعقاد کیا گیا تھا۔
اس امن پاسون کے بعد صوبے کے دیگر علاقوں بنوں، لکی مروت، وزیرستان، باجوڑ اور مہمند میں بھی امن پاسوں منعقد کیے گئے تھے اور ان علاقوں میں امن قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اسلام اباد ہائی کورٹ نے جسٹس طارق جہانگیری کو کام سے روکنے، بینچز کی تشکیل اور کیسز کی منتقلی کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئینی پٹیشن دائر کر دی ہے۔
جسٹس طارق جہانگیری سمیت اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز نے انفرادی طور پر پٹیشنز دائر کی ہیں۔ دیگر ججز میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس ثمن رفعت اور جسٹس اعجاز اسحاق خان شامل ہیں۔
جستس محسن اختر کیانی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ریاست پاکستان کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ قرار دیا جائے کہ انتظامی اختیارات عدالتی اختیارات پر حاوی نہیں ہوسکتے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس پہلے سے تشکیل شدہ بینچ میں تبدیلی کرنے کے مجاز نہیں، چیف جسٹس اپنی منشا کے مطابق دستیاب ججز کو روسٹر سے الگ نہیں کرسکتے۔ چیف جسٹس اپنی منشا کے مطابق ججز کو عدالتی فرائض کی انجام دہی سے بھی نہیں روک سکتے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ یہ قرار دیا جائے کہ ایک ہائی کورٹ کے جج کو صرف آرٹیکل 209 کے تحت ہی کام سے روکا جا سکتا ہے.
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے ہی ایک ساتھی جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عدالتی امور کی انجام دہی سے روک دیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے منگل کو یہ حکم جسٹس طارق محمود جہانگیری کی قانون کی ڈگری مبینہ طور پر جعلی ہونے سے متعلق درحواست کی سماعت کے دوران سنایا تھا۔
اس عدالتی حکم کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کا ڈیوٹی روسٹر جاری کردیا گیا تھا اور اس روسٹر کے مطابق جسٹس طارق محمود جہانگیری کا نام تمام بینچز سے نکال دیا گیا تھا۔
دوسری جانب جسٹس طارق محمود جہانگیری نے اسلام ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
جسٹس طارق جہانگیری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم نامے کو معطل کرنے کی استدعا کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ جج کو فرائض کی انجام دہی سے نہیں روکا جا سکتا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ متنازع حکم نے درخواست گزار کے آرٹیکل 10 اے کے حقوق کی خلاف ورزی کی جس سے عدلیہ کی آزادی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ فیصلے نے بے داغ شہرت کے حامل جج کی شہرت کا متاثر کیا۔ عدالتی خدمات کے ضائع ہونے والے وقت کی تلافی ممکن نہیں، اگر حکم معطل نہ ہوا تو ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔
امریکہ نے چھٹی بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس قرارداد کے مسودے کو ویٹو کر دیا ہے جس میں غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی نائب مندوب مورگن اورتگس نے کہا کہ قرارداد کا متن حماس کی مذمت یا اپنے دفاع کے اسرائیل کے حق کو تسلیم کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
سلامتی کونسل کے تمام 14 دیگر اراکین نے قرارداد کے مسودے کے حق میں ووٹ دیا، جس میں غزہ کی انسانی صورتحال کو ’تباہ کن‘ قرار دیا گیا اور اسرائیل سے تمام پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے دفتر نے خبردار کیا ہے کہ غزہ شہر میں شہریوں کے لیے آخری لائف لائنز متاثر ہو رہی ہیں کیونکہ اسرائیل اپنی فوجی کارروائی کو بڑھا رہا ہے۔
عالمی سطح پر اسرائیل اور اس کے قریبی اتحادی اس معاملے میں الگ تھلگ نظر آتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل خطاب کرتے ہوئے اورتگس نے کہا کہ قرارداد کے خلاف واشنگٹن کی مخالفت ’کوئی تعجب کی بات نہیں‘ ہونی چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ قرارداد حماس کی مذمت کرنے یا اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کو تسلیم کرنے میں ناکام ہے، اور یہ حماس کو فائدہ پہنچانے والے جھوٹے بیانیے کو غلط طور پر جائز قرار دیتی ہے۔‘
ووٹنگ کے بعد، اقوام متحدہ کے ارکان نے اپنی مایوسی کا اظہار کرنے کے لیے فوری ردعمل کا اظہار کیا۔
اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور نے امریکہ کے فیصلے کو ’انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے سلامتی کونسل کو ’ان مظالم کے خلاف اپنا صحیح کردار ادا کرنے‘ سے روک دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عاصم احمد نے ویٹو کو سلامتی کونسل کے لیے ’سیاہ لمحہ‘ قرار دیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ غزہ کے بچوں کی فریاد سے دنیا والوں کے دل پگھل جانے چاہییں۔
افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں تقریباً آٹھ ماہ سے زیر حراست برطانوی جوڑے کو رہا کر دیا گیا ہے۔
اسی سالہ پیٹر رینالڈز اور ان کی 76 سالہ اہلیہ باربی جو تقریباً دو دہائیوں سے افغانستان میں مقیم ہیں، گھر جا رہے تھے جب انھیں یکم فروری کو روکا گیا۔ جوڑے کو قطری ثالثی کے ذریعے رہا کیا گیا۔
ایک قطری اہلکار نے کہا کہ وہ افغانستان کے صوبہ بامیان میں مستقل گھر ہونے کے باوجود برطانیہ جانے سے پہلے طبی معائنے کے لیے قطر جائیں گے۔
طالبان نے کہا تھا کہ اس جوڑے نے افغان قوانین کی خلاف ورزی کی تھی اور انہیں عدالتی کارروائی کے بعد رہا کر دیا گیا۔
پیٹر اور باربی رینالڈس نے 1970 میں کابل میں شادی کی اور گزشتہ 18 سال سے ایک خیراتی تربیتی پروگرام چلاتے ہوئے گزارے جس کی طالبان نے بھی منظوری دی تھی۔
افغانستان میں اُنھیں ملک کے ساتھ محبت کرنے والے جوڑے کے طور پر جانا جاتا تھا۔ وہ اگست 2021 میں طالبان کے کابل پر کنٹرول کے باوجود وہاں موجود رہے تھے، حالاں کہ بہت سے مغربی باشندے وہاں سے چلے گئے تھے۔
ان کی رہائی ان کے اہلخانہ کی طرف سے کئی مہینوں کی عوامی لابنگ کے بعد ہوئی ہے، جنھوں نے ان کی حراست کے دردناک حالات کو بیان کیا ہے۔
انڈین چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انیل چوہان نے آپریشن سندور کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا عام شہریوں کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا اس لیے پاکستان پر حملہ صبح کے بجائے رات 1:30 بجے کیا گیا۔
انڈین چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انیل چوہان نے ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ ’سات مئی کو جب ہم نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا تو اس کے لیے رات گئے ایک بجے سے ڈیڑھ بجے کے درمیان کا وقت چنا گیا کیونکہ ہم عام شہریوں کو نقصان سے بچانا چاہتے تھے۔‘
یاد رہے کہ پہلگام حملے کے بعد، 6-7 مئی کی درمیانی شب انڈین فوج نے پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کے کیمپوں کو نشانہ بنانےکا دعویٰ کیا تھا۔ اس آپریشن کو ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا گیا تھا۔
دوسری جانب پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ انڈیا نے حملوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ تاریک ترین وقت ہوتا ہے اور اس وقت سیٹلائٹ کی تصاویر لینا اور شواہد اکٹھے کرنا سب سے مشکل ہے۔ تاہم ہمیں اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ تھا کہ اگر حملہ رات کو بھی کیا گیا تب بھی ہم تصاویر لے سکتے تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’سات تاریخ کا دن موسم کے حساب سے بھی ٹھیک تھا کیونکہ بارش نہیں تھی اگر بارش ہوتی تو امیج لینے میں مشکل ہوتی۔‘
جنرل انیل چوہان کا کہنا تھا کہ ’سب سے موزوں وقت صبح پانچ چھ بجے ہوتا، جب روشنی آنا شروع ہوتی، لیکن اس وقت پہلی اذان اور نماز ہوتی ہے، ایسی صورت حال میں بہاولپور اور مرید کے میں بہت زیادہ چہل پہل ہوتی اور بڑی تعداد میں عام شہری مارے جاتے۔‘
’انڈین نیوی نے آرمی کا بھرپور ساتھ دیا‘
انھوں نے آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’بہت سے لوگوں کو علم ہے کہ آرمی نے سات اور ایئر فورس نے دو ٹارگٹس کو انگیج کیا لیکن کم لوگوں کو پتا ہے کہ اس میں نیوی بھی شامل تھی۔ نیوی کے پاس ایس 400 اور ایس 120 ہتھیار تھے۔‘
’نیوی کے جوان، کمانڈو اور ہتھیار بھی اس آپریشن میں استعمال ہوئے جنھوں نے آرمی کا اس آپریشن میں بھرپور ساتھ دیا۔‘
’ڈرون کو جام کرنے کی ٹیکنالوجی پاکستان کے پاس نہیں تھی‘
انڈین چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انیل چوہان نے کہا کہ ’کسی بھی ملٹری آپریشن میں سرپرائز ہونا اس کی کامیابی کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ تو اس بار ہم نے ڈرون کا استعمال کرنے کا پلان کیا تھا کیونکہ یہ لوئر ایئر سپیس استعمال کرتا ہے اور یہ 30 سے 40 کلومیٹر تک بہترین نشانہ لگاتا ہے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہم کو علم ہے کہ پاکستان کے پاس یہ ٹیکنالوجی نہیں ہے کہ اس کو جام کر سکیں اس لے نے اس کی منصوبہ بندی کی تھی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ملٹری آپریشن کا مقصد ہوتا ہے کہ سیاسی مقاصد پورے ہوں۔ بہاولپور کا ٹارگٹ 120 کلو میٹر دور تھا تو اس کے لیے ہم نے ایئرفورس استعمال کی۔‘
غزہ شہر پر قبضے کے لیے گزشتہ کئی روز سے اسرائیلی فوج کی کارروائیاں جاری ہیں اور آئی ڈی ایف کی جانب سے اب تک کی اطلاعات کے مطابق شہر پر قبضے کے لیے فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ زمینی فوج کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔ آئی ڈی ایف کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات میں یہ دعوے سامنے آئے ہیں کہ انھوں نے غزہ شہر میں 150 سے زائد ایسے مقامات کو نشانہ بنایا ہے جہاں یا تو حماس کے جنگجو موجود تھے یا وہ مقامات اُن کے اہم ٹھکانے تھے۔
تاہم اب غزہ شہر کے رہنے والے اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ان حملوں کے حوالے سے کُچھ نئی اور چونکا دینے والی تفصیلات سے آگاہ کر رہے ہیں۔
غزہ شہر کے رہنے والے ایک فرد الغول نے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیلی فوج اب پرانی فوجی گاڑیوں کو بڑے موبائل بموں میں تبدیل کر کے انھیں استعمال کر رہی ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ’اسرائیلی فوج ان پرانی فوجی گاڑیوں کو بارود سے بھر کر انھیں ریموٹ کی مدد سے کنٹرول کرتی ہیں اور رہائشی علاقوں کے درمیان پہنچا کر انھیں دھماکے سے اڑا دیتی ہے، جس کی وجہ سے علاقے میں موجود بڑی تعداد میں عمارتیں تباہ ہو جاتی ہیں۔‘ اُن کے مطابق ’اس کا اثر فضائی بمباری اور توپ خانے سے بھی زیادہ تباہ کن ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ غزہ کے لوگ مُلکی تاریخ کے جنگی حالات میں پہلی بار یہ سب دیکھ رہے ہیں۔ غزہ کے لوگ انھیں ’بارود سے لدے ہوئے روبوٹ‘ کا نام دے رہے ہیں اور اسرائیلی فوج نے حال ہی میں ان کے استعمال میں اضافہ کیا ہے۔
غزہ شہر کے رہائشی الغول نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ روبوٹ پرانے ٹینک یا آرمرڈ پرسنل کیریئرز ہو سکتے ہیں جو اب استعمال کے قابل نہیں رہے، وہ انہیں لے جاتے ہیں دھماکہ خیز مواد ان میں بھر دیتے ہیں اور پھر انھیں غزہ سٹی کی سڑکوں پر بھیج دیتے ہیں۔ یہ تمام وہ گاڑیاں ہوتی ہیں کہ جنھیں دور سے بیٹھ کر ریموٹ سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ان ’بارود سے لدے ہوئے روبوٹس‘ کو اہداف پر پہنچنے کی چند منٹ بعد زور دار دھماکہ سے اُّا دیا جاتا ہے۔ جس کے بعد آسمان خون کی طرح سرخ ہو جاتا ہے اور دھماکے کا ملبہ 500 مربع میٹر کے علاقے میں پھیل جاتا ہے اور زبردست تباہی ہوتی ہے۔ اگر دھماکے کے مقام کے قریب لوگ ہوں تو ان کا کوئی نشان نہیں ملتا۔‘
غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے 13 اگست سے غزہ سٹی کے اندر زمینی فوجی کارروائی شروع کی جس کے نتیجے میں غزہ کی صحت اور سرکاری حکام کی جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 1100 افراد ہلاک اور چھ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چُکے ہیں۔
اسرائیل نے جنوبی لبنان میں جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ایک بڑی فضائی کارروائی کی ہے۔ اسرائیل کا لبنان پر اس حملے کے بعد کہنا ہے کہ اُن کا ہدف ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروہ حزب اللہ کے ٹھکانے تھے۔
اسرائیل کی جانب سے ان اہداف کو نشانہ بنانے سے قبل بعض مقامات کو خالی کرانے کا انتباہ بھی جاری کیا گیا تھا۔
تاہم اسرائیلی فضائی حملے کے بعد فوری طور پر کسی بھی قسم کے جانی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان گزشتہ سال نومبر میں جنگ بندی کا ایک معاہدہ بھی ہوا تھا تاہم اُس کے باوجود آئی ڈی ایف کی جانب سے حزب اللہ کے ٹھکانوں کو مسلسل نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔
لبنان کے وزیراعظم نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر زور دیں کہ وہ ان حملوں کو روکے اور اپنے جنگ بندی کے وعدوں کو پورا کرے۔
آن لائن پوسٹ کی گئی فوٹیج میں مائس الجبل میں بڑے پیمانے پر دھویں کے بادل دکھائی دیے جو اُن مقامات سے اُٹھ رہے تھے کہ جہاں اسرائیل نے فضائی حملے کیے۔
جن اہداف کو اسرائیل نے نشانہ بنایا ہے اُس سے متعلق کوئی ثبوت تو پیش نہیں کیے گئے تاہم یہ ضرور کہا گیا ہے کہ یہ حزب اللہ کے زیر استعمال تھے اور وہ ان کو علاقے میں اپنی سرگرمیاں دوبارہ قائم کرنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
اسرائیلی دفاعی فورسز کے عربی ترجمان آویچے ادراعی نے کہا کہ ان کی فورسز نے حزب اللہ کے ہتھیاروں کے گوداموں پر حملہ کیا اور ان کی موجودگی ’اسرائیل اور لبنان کے درمیان سمجھوتوں کی خلاف ورزی تھی۔‘
لبنان کے وزیراعظم نواز سلام نے ایک پوسٹ میں بین الاقوامی برادری، خاص طور پر جنگ بندی کے حامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ ’اسرائیل پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالیں تاکہ وہ فوری طور پر اپنی جارحیت بند کرے، فوراً لبنانی علاقے سے واپس نکلے اور قیدیوں کو رہا کرے۔‘
افغانستان میں طالبان حکومت نے ایک نئی پابندی کے تحت یونیورسٹیوں سے خواتین کی لکھی ہوئی کتابوں کو ہٹا دیا ہے۔
اس حکم نامے میں انسانی حقوق اور جنسی ہراسانی جیسے موضوعات کے مطالعہ پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔
طالبان نے 680 کتابوں پر پابندی عائد کر دی ہے، جن میں خواتین کی طرف سے لکھی گئی تقریباً 140 کتابیں بھی شامل ہیں جن میں ’سیفٹی ان دی کیمیکل لیبارٹری‘ جیسی کتابیں بھی شامل ہیں۔
طالبان کا کہنا ہے کہ یہ کتابیں ان کی پالیسیوں اور شریعت کے خلاف ہیں۔
یونیورسٹیوں کو یہ بھی حکم دیا گیا کہ وہ مزید 18 مضامین نہیں پڑھائیں گے، جن کے بارے میں طالبان حکام کا کہنا ہے کہ یہ ’شرعی اصولوں اور طالبان کی پالیسیوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔‘
یہ حکمنامہ طالبان کی جانب سے گزشتہ چار سالوں میں عائد کردہ پابندیوں کے سلسلے میں ایک اور قدم ہے۔
اس ہفتے طالبان کے سپریم لیڈر کے حکم پر کم از کم 10 صوبوں میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ پر پابندی لگا دی گئی تھی حکام کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد غیر اخلاقی سرگرمیوں کو روکنا تھا۔
زکیا ادیلی، جو طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے پہلے نائب وزیر انصاف تھیں اور جن کی کتابیں اُس فہرست میں شامل ہیں کہ جن پر پابندی لگائی گئی ہے، نے اس اقدام پر حیرت کا اظہار نہیں کیا اُن کے مطابق طالبان کی جانب سے سامنے آنے والا یہ حالیہ اقدام کوئی انوکھی بات تو نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ چار سال میں طالبان نے جو کیا اس کو دیکھتے ہوئے نصاب میں تبدیلیوں کی توقع کرنا غیر متوقع نہیں تھا۔‘
’طالبان کے خواتین مخالف رویے اور پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے، یہ فطری ہے کہ جب خواتین کو خود تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں تو ان کے خیالات، نظریات اور تحریریں بھی دبائی جائیں گی۔‘
افغانستان کی تمام یونیورسٹیوں کو بھیجی گئی 50 صفحات پر مشتمل فہرست میں 679 عنوانات شامل ہیں، جن میں سے 310 ایرانی مصنفین کی تحریر یا ایران سے شائع کی گئی ہیں۔
لیکن ایک یونیورسٹی کے پروفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کی، نے کہا کہ ’ہمیں اس بات کا خوف ہے کہ ان کتابوں کو نصاب میں سے نکالنے جانے کی وجہ سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر نہیں کیا جا سکے گا بلکہ یہ ناممکن ہوگا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایرانی مصنفین اور مترجم کی کتابیں افغانستان کی یونیورسٹیوں اور عالمی تعلیمی کمیونٹی کے درمیان بنیادی رابطہ فراہم کرتی ہیں۔ ان پر پابندی لگنا اور نصاب سے ہٹایا جانا اعلیٰ تعلیم میں ایک بڑا خلا پیدا کرتا ہے۔‘
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایک یمنی ڈرون جنوبی اسرائیلی شہر ایلات میں گر کر تباہ ہوا ہے جبکہ اسرائیلی فوج کے زیرِ انتظام چلنے والے ’آرمی ریڈیو‘ کا کہنا ہے کہ ڈرون شہر کے ایک ہوٹل سے جا ٹکرایا۔
اسرائیلی پولیس نے اعلان کیا کہ رپورٹ کے بعد ایلات ڈسٹرکٹ پولیس کی فورسز کو موقع پر بھیجا گیا۔ فورسز نے اس واقعے کے بعد اُس مقام کو گھیرے میں لے لیا جہاں یہ ڈرون گرا بعدازاں بم ڈسپوزل سکاڈ کے ماہرین اس کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ڈرون کی ساخت اور نوعیت معلوم کی جا سکے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی میں فوجی آپریشنز کے دوران چار فوجیوں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے فلسطین پر حملے کے بعد سے اب تک اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 904 ہو گئی ہے۔
یمنی ڈرون حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے اپنے ترجمان کی تقریر کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس نے ’یمن سے داغا گیا ایک میزائل مار گرایا ہے، جس سے ملک کے کئی علاقوں میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کرنے والے سائرن کی آوازیں بھی سُنی گئیں۔‘
حوثیوں کی جانب سے یمن میں اسرائیل کے خلاف ’تین مختلف انداز کی فوجی کارروائیوں کے آغاز‘ کا اعلان کیا ہے۔
حوثیوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’میزائل فورس نے اپنی ایک کارروائی میں ’فلسطین 2 ہائپر سونک بیلسٹک میزائل‘ کا استعمال کیا جس کا ہدف یافا کے علاقے میں اسرائیلی دشمن کا ایک حساس فوجی تنصیب تھی۔‘
حوثیوں کی ڈرون فورس نے بھی ’دو فوجی کارروائیاں کیں۔ پہلی میں تین ڈرونز کے ذریعے اُم الرشراش علاقے میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور دوسری میں فلسطین کے علاقے بئر السبع میں ایک حساس ہدف کو ایک ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔‘
بیان کے مطابق ان کارروائیوں میں ’کامیابی سے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔‘
واضح رہے کہ فلسطین میں چار اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے پٹی کے شمال میں غزہ سٹی میں اپنے فوجی آپریشنز میں اضافہ کر دیا ہے، جو آپریشن ’گیدون وہیکلز 2‘ کا حصہ ہے۔ اسرائیلی افواج کی جانب سے اب پورے شہر پر قبضہ کرنے کے لیے زمینی حملے کو تین دن گُزر چُکے ہیں جبکہ غزہ شہر کے رہائشی جنوب کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔
فوج نے کہا کہ شاباک اور فوجی انٹیلی جنس کی ہدایت کے تحت ان کی افواج نے حماس کے ہتھیاروں کے ڈپو پر چھاپے مارے جن میں دھماکہ خیز مواد موجود تھا جو اسرائیل کے خلاف استعمال کیے جانے تھے۔
آئی ڈی ایف کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں مزید کہا گیا کہ فوج کی 162 ویں اور 98 ویں ڈویژنز غزہ سٹی میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جب کہ غزہ ڈویژن (143) نے خان یونس اور رفح میں کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں متعدد جنگجو ہلاک ہوئے اور درجنوں تنصیبات، بشمول نگرانی کا سامان اور سرنگیں تباہ کی گئیں۔
تاہم حماس کی عسکری تنظیم قصّام بریگیڈز نے اسرائیلی فوجی اور سیاسی قیادت کو سخت پیغام بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس نے ’جانبازوں کی ایک فوج اور ہزاروں ایسے مقامات کا تعین کیا ہے کہ جہاں سے وہ اسرائیلی فوج پر حملے کریں گے اور نشاندہی کی گئی کہ غزہ ’اسرائیلی فوجیوں کے لیے قبرستان‘ بن جائے گا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اسرائیل ایک ’ظالمانہ مگر بزدلانہ جنگی‘ مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جس کا سامنا انھیں ’مزید ہلاکتوں اور یرغمالیوں کی تعداد‘ میں اضافے کا سبب بنے گی۔‘
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی دفاعی معاہدے کے بعد ممکنہ طور پر دوسرے خلیجی ممالک بھی ایسا معاہدہ کرنا چاہیں گے۔
وزیرِ دفاع خواجہ آضف نے الجزیرہ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’پاکستان اور سعودی عرب کے مابین سکیورٹی معاہدے کے بعد اور خطے کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے، فطری طور پر اس کا دائرہ کار دوسرے ممالک تک بھی بڑھے گا کیونکہ اپنی سکیورٹی کے لیے یہ ممالک میلوں دور کسی دوسرے ملک پر انحصار کرنے کے بجائے اُس خودمختار ملک کی جانب دیکھیں گے جو انھیں تحفظ دینے کی صلاحیت اور اہلیت رکھتا ہو۔‘
خواجہ آصف نے دوسرے خلیجی ممالک کی شمولیت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں مزید کہا کہ ’یہ ممکن ہے اگر جی سی سی میں شامل کوئی بھی ملک ایسا کوئی اشارہ دیتا ہے تو جیسا باہمی معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ ہوا ہے ہم باقی (ممالک) کو بھی اس میں شامل کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔‘
یاد رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے دفاعی معاملات میں تعاون اور سلامتی سے متعلق ’باہمی دفاع کا سٹریٹجک معاہدہ‘ ہوا ہے جس کے تحت ’کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔‘
پاکستان اور سعودی عرب کے رہنماؤں کی جانب سے اس معاہدے کو ’تاریخی‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
الجزیرہ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں اس سوال کے جواب میں کہ کیا سعودی عرب کو پاکستان کے جوہری ہتھیاروں تک رسائی ہو گی؟
پاکستان کے وزیرِِ دفاع نے کہا کہ ’پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کے لیے بھی کسی بھی ممکنہ صورتحال میں مدد گار ہوں گی‘ لیکن میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں آخری بار جوہری ہتھیاروں کا استمعال ہیروشیما پر ہوا تھا اور خوش قسمتی سے اب دنیا نیوکلئیر جنگوں سے محفوظ ہے اور اُمید کرتا ہوں کہ آئندہ بھی ایسا کچھ نہیں ہو گا۔‘
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے اس دفاعی معاہدے کی کوئی ذیلی یا خفیہ شرائط نہیں ہیں اور اس معاہدے کے تحت بہت سادہ اور دوٹوک الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ایک کے خلاف جارحیت دوسرے کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی۔
اسی موضوع پر جیو ٹی وی کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ بات کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’یہ معاہدہ دفاعی مقاصد کے لیے ہے اور اس کے مقاصد ہرگز جارحانہ نہیں ہیں لیکن اگر جارحیت ہوتی ہے تو مل کر دفاع کریں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس خطے میں گذشتہ کئی دہائیوں سے جنگ جاری ہے اور اس خطے میں موجود مسلم ممالک کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنا دفاع کریں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان اور سعودی عرب کے مابین پرانے دفاعی تعلقات ہیں، پاکستانی فوج اُن کی فوج کی تربیت کرتی رہی ہے اور باہمی دفاعی معاہدے نے ان تعلقات کو باضابطہ شکل دے دی ہے۔‘