BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 January, 2004, 15:35 GMT 20:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عالمی سماجی فورم سے کیا حاصل ہوا؟

ممبئی میں سولہ سے اکیس جنوری تک منعقد ہونیوالے عالمی سماجی فورم میں دنیا بھر سے لگ بھگ ایک لاکھ عالمگیریت مخالف سماجی کارکن شامل ہوئے۔ عالمگیریت مخالف یہ چوتھا فورم تھا۔ عالمی سماجی فورم جنیوا کے شہر ڈیووس میں بزنس اور سیاسی رہنماؤں کے ہرسال منقعد ہونیوالے اجلاس کے مدمقابل منعقد کیا جاتا ہے۔ ممبئی میں منعقدہ عالمی سماجی فورم سے کیا حاصل ہوا؟ غیرسرکاری اداروں کے دو مندوبین کی رائے حسب ذیل ہے۔


فریدہ اختر
فریدہ اختر بنگلہ دیش کے غیرسرکاری ادارے یوبِنگ کی سربراہ ہیں

فریدہ اختر:

عالمی سماجی فورم مظلوم لوگوں کے لئے خوشیوں کے ایک تہوار میں تبدیل ہوگیا۔ میں نے اجلاس کے آخری دن ریلیوں میں ڈھول اور باجوں کی شور سنی۔ کوئی یہ نہیں سن سکتا تھا کہ کون کیا کہہ رہا ہے۔ ان کے مطالبات کسی کو سنائی نہیں دیے۔ تقاریر کے دوران لاؤڈ اسپیکروں کا صحیح انتظام نہیں تھا تاکہ مقررین کی باتیں سامعین پر واضح ہوسکیں۔ کمروں میں صرف ایک چوتھائی جگہ بھری تھی۔ تکنیکی مسائل کی وجہ سے مقرر کی حیثیت سے سامعین سے مکالمہ مشکل ثابت ہوا۔

کوریا کے مندوبین کامیاب رہے۔ وہ ٹونی بلیئر، جارج بش، اور جنگ کے خلاف اشتہار بناکر لائے تھے۔ انہیں اپنی بات پہنچانے کے لئے لاؤڈ اسپیکروں کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کی ریلیاں کافی خوبصورت تھیں۔ تبت کے کچھ سادھو بھی بیٹھے ہوئے تھے اور چھوٹے چھوٹے ڈھول بجارہے تھے۔ انہیں کون نظرانداز کرسکتا تھا؟ مذاکرات کے لئے بنائے گئے چھوٹے چھوٹے خیموں میں جہاں بڑے لاؤڈ اسپیکر نہیں تھے، بات چیت آسان تھی۔

میں حقوق نسواں کے حوالے سے حمل اور پیدائش سے متعلق ٹیکنالوجی کے بارے ہونیوالی گفتگو سے کافی محظوظ ہوئی۔ ایسی ٹیکنالوجی سے تمام ملکوں میں عورتوں کی صحت متاثر ہورہی ہے۔ مختصر یہ کہ اعلامیے پر مندوبین کو متفق کرنے کے لئے صحیح انتظامات نہیں تھے۔ البتہ سبھی لوگ عالمگیریت اور سامراجیت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔

-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

سندیپ چاچرہ غیرسرکاری ادارے ایکشن ایڈ کی بھارتی شاخ کے سربراہ ہیں

سندیپ چاچرہ:

ایک نئی دنیا ایک امید کا نام ہے، ایک خواب جو غیرممکن نہیں ہے۔ دنیا بھر کے مظلوم لوگوں کے نمائندوں نے عالمی سماجی فورم میں اسی امید کا اظہار کیا۔ ایک لاکھ سے زائد لوگوں نے گانے گائے، خوشی منائی اور مظاہرے کیے۔ ہم نے مشترکہ خواب دیکھے اور اپنی امیدوں کے بارے میں بحث و مباحثے کیے۔ تعلقات اور دوستی اس فورم کے پیغامات ہیں۔

کئی سوال پوچھے گئے، کئی جواب ملے۔ لوگوں کو بھوکا کیوں رہنا پڑتا ہے؟ لوگوں کو سماجی اور اقتصادی عمل سے الگ کیوں رکھا جاتا ہے؟ قومیں کیوں تباہ ہوجاتی ہیں اور اس کے لئے کون ذمہ دار ہے؟ حکومتیں کیوں قتل کرتی ہیں؟ ہم انہیں روکنے کے لئے کیا کرسکتے ہیں؟ خواتین دنیا کو کیسے تبدیل کرتی ہیں؟ اقلیتوں کو کیوں مارا جاتا ہے؟ مذاہب کیا سبق دیتے ہیں؟ مساوات، امن اور انصاف عالمی سماجی فورم کے پیغامات تھے۔

اس سال پہلی بار بڑی تعداد میں افریقہ سے مندوبین آئے تھے اور کئی مذاکرات کے دوران ایڈز کے بارے میں بات چیت ہوئی۔ یہ فورم چونکہ ممبئی میں منعقد کیا گیا، اس لئے ہندوستان سے بڑی تعداد میں سماجی کارکن شامل ہوئے۔ غریب لوگ اور غیرسرکاری اداروں کی نمائندگی تھی جنہوں نے زمین، مکان کا حق، مذہبی روایت پسندی اور قومیت جیسے مسائل پر کھل کر اپنے خیالات اور اختلافات کا اظہار کیا۔ ایڈز کے شکار لوگ، روزی کیلئے جسم فروشی پر مجبور لوگ، گلیوں میں کام کرنیوالے بچے، ’اچھوت‘ لوگ اور قبائلی باشندے، سب لوگوں کے مسائل پر بات ہوئی۔ اتحاد قائم ہوا۔ ایک اتحاد قائم ہوا جس کا نام رکھا گیا: الائنس آف مارجینلائزڈ پیوپل یعنی مظلوموں کا اتحاد۔

عالمی سماجی فورم میں ثقافتی پروگرام جیسے ڈرامے، نمائش، شاعری، گانے، ڈانس اور ڈاکومینٹری فلموں کے ذریعے اتحاد قائم ہوا، ایک دوسرے تک پیغامات پہنچائے گئے، مشترکہ خواب دیکھے گئے جو حقیقت میں تبدیل ہونگے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد