BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 March, 2004, 15:36 GMT 20:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امر موسیٰ: عرب لیگ کانقطۂ نظر
قاہرہ میں عرب لیگ کا صدر دفتر
قاہرہ میں عرب لیگ کا صدر دفتر
عرب ممالک میں علاقائی تعاون کی تنظیم عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل امر موسیٰ نے بی بی سی ہسپانوی سروِس اور بی بی سی عربی سروس کے قارئین کے سوالوں کا جواب دیا:

کرِسٹیان گویریرو، لیما، پیرو: مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے حل کیلئے عرب لیگ کے ارکان کیا کررہے ہیں؟ ان کے سامنے کیا امن کا کوئی متبادل راستہ ہے؟

امر موسیٰ، سیکرٹری جنرل، عرب لیگ: دوسال پہلے، مارچ دو ہزارتین میں عرب لیگ کے رہنماؤں نے بیروت میں منعقدہ سربراہی اجلاس میں ایک امن منصوبہ پیش کیا تھا جو کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر مبنی تھا۔ انہوں نے اسرائیل کے سامنے جو منصوبہ رکھا تھا اس کے تحت اسرائیل کو یروشلم، گولان کی پہاڑیاں، لبنان کے علاقے اور مقبوضہ فلسطینی علاقے خالی کرنا تھا۔ اور ساتھ ہی ساتھ فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے کو حل کرنا تھا جو کہ گزشتہ ساٹھ برسوں سے تنازعہ بنا ہوا ہے۔ بدقسمتی سے اسرائیل نے اس پیشکش کا مناسب جواب نہیں دیا ہے جس کے بدلے میں تمام عرب ملکوں کی جانب سے مکمل امن اور نارمل تعلقات کی بحالی کی تجویز دی گئی تھی۔ بلکہ اسرائیل نے امن مخالف پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے اس کوشش کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔

اولگا سیڈینو، سانتو دومِنگو، ڈیمِنکن ریپبلِک: فلسطین پر قبضہ ابھی کیوں بنا ہوا ہے؟ اور کیا حقیقت میں فلسطینی معاملے میں عرب عوام کی حمایت کم ہے؟

 اسرائیلی حکومت ان علاقوں پر اپنا قبضہ جاری رکھنے پر اصرار کررہی ہے۔ ایک نظریاتی پس منظر میں، اسرائیل اس قبضے کیلئے (عدم) سیکیورٹی کا جواز دیتا رہا ہے۔
امر موسیٰ، سیکرٹری جنرل، عرب لیگ

امر موسیٰ: نہیں، حمایت کا سوال گزشتہ ساٹھ برسوں میں ثابت ہوچکا ہے۔ عربوں نے فلسطینیوں کی کافی حمایت کی ہے، مالیاتی سطح پر بھی اور ایک آزاد ملک کے قیام کے لئے ان کی جدوجہد میں بھی۔ مسئلہ عرب حمایت کی نہیں ہے، بلکہ اسرائیلی قبضے کا ہے۔ اسرائیلی حکومت ان علاقوں پر اپنا قبضہ جاری رکھنے پر اصرار کررہی ہے۔ ایک نظریاتی پس منظر میں، اسرائیل اس قبضے کیلئے (عدم) سیکیورٹی کا جواز دیتا رہا ہے۔ یہ قبضہ انیس سو سڑسٹھ سے جاری ہے جب اسرائیل نے اپنے پڑوسیوں کے خلاف جنگ لڑی اور زمین پر قبضہ کرلیا۔ اسرائیلی حکومت جب بھی یہ فیصلہ کرلے کہ یہ قبضہ اس کے مفاد میں نہیں ہے اور اپنی فوج انیس سو سڑسٹھ سے قبل کی سرحد کے پیچھے واپس کرلے تو ہمارے خطے میں امن قائم ہونا شروع ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ امن کے لئے کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ فلسطینیوں کو ان کی زمین پر ایک ملک کی ضرورت ہے جس میں اگر غزہ، غرب اردن اور مشرقی یروشلم بھی شامل کردیا جائے تب بھی انیس سو اڑتالیس سے قبل کے تاریخی فلسطین کا یہ صرف بائیس فیصد علاقہ ہی ہوگا۔

اوسامہ المصری، قاہرہ: کیا اس بات کی کوئی امید ہے کہ عرب ممالک ایک دن اقتصادی یکجہتی قائم کرسکیں گے؟

امر موسی: ہاں، اس بات کی امید ہے اور اس سمت میں کام کررہے ہیں۔ عرب لیگ کی وزراء کا کونسل اقتصادی، خارجی اور سماجی امور پر گزشتہ پانچ ماہ سے گفتگو کررہی ہے اور امید ہے کہ تیونس میں ہونیوالے سربراہی اجلاس کے دوران اس بارے میں کچھ اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عرب ملکوں میں اقتصادی یکجہتی قائم ہوسکے۔

یووان ابوچائبے، کولمبیا: عرب لیگ اپنی اقتصادی طاقت جیسے تیل کو اس بات کے لئے کیوں نہیں استمعال کرتا ہے کہ امریکہ پر دباؤ ڈالا جاسکے تاکہ وہ اسرائیل کی حمایت بند کرے اور فلسطینی مسئلہ کا حل نکلے؟

امر موسیٰ: مسئلہ یہ ہے کہ عالمگیریت کے اس دور میں اپنی بات منوانے کے لئے تیل کے (سیاسی) استعمال کے بارے میں سوچنا بھی مشکل ہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ آج کے دور میں توانائی کے مختلف ذرائع ہیں، ستر کے عشرے کی طرح نہیں (جب تیل واحد ذریعہ تھا)۔ تیل کا استعمال ان ملکوں کے لئے اہم ہے جن کی معیشتیں تیل پر منحصر ہیں، عرب معیشتیں اتنی مضبوط نہیں ہے کہ ایسا اقدام کرنے سے ان کا نقصان نہ ہو۔ ماضی میں جو مطالعے کیے گئے ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ اس طرح کے اقدام کا عرب ملکوں کے لئے نقصان ہوگا۔۔۔۔

زیاد عباس، بغداد: عراق میں استحکام کے قیام کے لئے عرب لیگ کیا کررہا ہے اور آپ کو عراق کے مستقبل کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟

امر موسیٰ
امر موسیٰ

امر موسیٰ: استحکام قائم کرنے کی ذمہ داری ہماری نہیں ہے، ہم ایک علاقائی تنظیم کی حیثیت سے جہاں تک ممکن ہے عراق کے مستقبل پر ہونیوالی سیاسی مشاورت میں شریک ہیں۔ استحکام قائم کرنے کی ذمہ داری قابض ملکوں پر ہے۔۔۔۔ لیکن میں یہ بتانا چاہوں گا کہ گزشتہ دسمبر میں ہم نے ایک وفد عراق بھیجا تھا جس نے چھ سو سے زیاد عراقی شخصیتوں سے ملاقاتیں کی، ان شخصیتوں کا تعلق شمال سے جنوب تک اور زندگی کے ہر شعبے سے تھا۔ ہم لوگ تمام لوگوں سے رابطہ رکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور اتحاد کے لئے کوشش جاری ہے تاکہ وہ سیاسی عمل میں شریک ہوں اور اس سیاسی عمل کے ذریعے عراقیوں کو اپنے ملک کے مستقبل کا آزادانہ طور پر فیصلہ کرنے کا موقع ملے۔ ہم نے ایک علاقائی تنظیم کی حیثیت سے اپنی اس خواہش کا ہمیشہ اظہار کیا ہے کہ عراق متحد رہے اور اس کے عوام بھی۔ ہم سے جو بھی ممکن ہوگا، مدد کریں گے۔

حیدر سعید، مانٹریال: عرب لیگ کیا اقدامات کرے گا کہ صدام حسین نے جو اپنے عوام کا قتل عام کیا اور جس کی مثال اجتماعی قبریں ہیں، وہ عراق یا دوسرے عرب ملکوں میں دوبارہ نہ ہوں؟

امر موسیٰ: اس بات میں صداقت ہے کہ یہ واقعات ہوئے، اور یہ کافی افسوسناک ہے کہ عراق کی سابق حکومت کے دور میں انسانی حقوق کی پامالی ہوئی اور اجتماعی قبروں کی دریافت (اس کی مثال) ہے۔ حال ہی میں عرب کمیشن برائے انسانی حقوق نے قاہرہ میں ایک ملاقات کی ہے اور عرب ہیومن رائٹس چارٹر میں کچھ تبدیلیاں کی جن کے تحت عرب لیگ کے رکن ممالک کے اندر انسانی حقوق کی اس طرح کی پامالی ممکن نہ ہو۔ ان ہی حالات کی وجہ سے چارٹر کی تیاری میں تیزی کی جارہی ہے جسے تمام عرب ملک منظور کریں گے۔ تاہم اگر کسی ملک میں اس طرح کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو عرب لیگ کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ ایسے الزامات کی تفتیش کرے۔ یہ رکن ممالک کا داخلی معاملہ ہے جس میں عرب لیگ مداخلت نہیں کرتا ہے۔ لیکن عرب ہیومن رائٹس چارٹر میں جو تبدیلیاں کی گئی ہیں وہ عرب ممالک میں انسانی حقوق کے دفاع کی جانب اہم قدم ہیں۔

جمال رفاہ، فلسطین: کیا نیٹو کی طرح عرب لیگ ایک علاقائی فورس بنائے گا تاکہ علاقائی مسائل کا فوری حل کیا جاسکے؟ اسرائیلی۔فلسطینی مسئلہ میں عرب لیگ کا کیا کردار ہے؟

امر موسیٰ: علاقائی فورس کے بارے میں ابھی ہم سوچ رہے ہیں، لیکن ہم نے اس جانب کچھ نہیں کیا ہے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس کے لئے رکن ممالک کے درمیان سیاسی سطح پر گفتگو کی ضرورت ہوگی اور ہمیں اس جانب کام کرنا ہے۔ تبھی ہمارے لئے ہماری تنظیم کی مستقل شاخ کی حیثیت سے اس طرح کا فوجی تعاون ممکن ہوگا۔ لیکن جہاں تک عارضی طور پر مسائل حل کرنے کی بات ہے، کچھ حالات میں اس طرح کا تعاون ممکن ہوگا کہ عرب لیگ کے کچھ رکن ممالک ملکر ایسے اقدامات کریں۔ ایسا کویت پر عراقی قبضے کے دوران کیا گیا تھا۔ جہاں تک دوسرے سوال کی بات ہے، اس کا جواب دینے میں کافی وقت لگے گا۔ مختصر بات یہ ہے کہ عرب لیگ ہمیشہ فلسطینی انتظامیہ اور فلسطینی عوام کے حق میں رہا ہے۔۔۔۔ مثال کے طور پر عالمی عدالت برائے انصاف میں اسرائیلی باڑ کے تنازعے پر فلسطینیوں کے مقدمے کی تیاری میں عرب لیگ اور اس کے سیکرٹری جنرل کا کردار اہم ہے۔۔۔۔

مریم، قاہرہ: جب عرب ممالک خود ہی اصلاحات نہیں شروع کررہے ہیں، عرب لیگ میں اصلاحات کیسے ممکن ہونگے؟

امر موسیٰ: یہ صحیح سوال ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ عرب لیگ کے رکن ممالک میں ان کی داخلی اصلاحات کیلئے ان کا اپنا طریقہ ہے۔ کچھ ملکوں نے بڑی تیزی سے اصلاحات کی ہیں، جبکہ کچھ نے سست رفتاری سے۔ اور جہاں تک عرب لیگ میں اصلاحات کی بات ہے تو یہ تبھی ممکن ہے جب تمام رکن ممالک فیصلہ کریں۔ لہذا تمام رکن ممالک کو اجتماعی فیصلہ کرنے میں کافی وقت لگتا ہے۔۔۔۔ اکیسویں صدی کے چلینج کا مقابلہ کرنے کے لئے اس علاقائی تنظیم میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔یہ خود ایک اہم مقصد ہے جس کا رکن ممالک کی داخلی اصلاحات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد