BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 17 November, 2003, 16:03 GMT 21:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایڈز پر سوال و جواب

بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لئے لندن کے سکول آف ہائیجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن میں تحقیق کرنے والی ڈاکٹر شہلا زیدی نے آپ کے سوالوں کے جواب دیے۔

آپ کے سوالات


زیشان نعیم سید، لاہور، پاکستان

آخر یے ایڈز اور ایچ آئی وی ہے کیا بیماری؟

آیّز ایک بیماری ہے جو انسانی جسم کے دفعہ کو اتنا کمزور کر دیتی ہے کہ معمولی بیماریاں بھی خھرناک ثابت ہوتی ہیں۔ اس کا کوئئ مکمل علاج ابھی تک ایجاد نہیں ہوا ہے اور معمولی اثر کرنے والی دوایں ہیں لیکن وہ ابھی پاکستان جیسے ممالک میں فراہم نہیں ہیں۔


کامران کامی، گجرانوالا

یہ بیماری کیسے ہوتی ہے؟

ایڈز کی بیماری ایچ آئی وی وائرس کے ذرعے پھیلتی ہے۔ یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں غیر محفوظ جنسی تعلقات کے ذریعے اور سوئی یا بلیڈ کے آپس کے استعمال یا انفیفکشن والے خون سے منتقل ہوتا ہے۔

ایڈز کی الامات جراثیم پکڑنے کے کافی عرصے بعد واضح ہوتی ہیں اور ان کا دوسری بیماریوں کے الامات سے فرق کرنا مشکل ہے۔ خون کے ٹیسٹ کے ذریے ایچ آئی وی ایڈز کی یقینی پہچان کی جاتی ہے۔


چنی لال اگنانی، دادو، پاکستان

ایڈز لاحق ہونے کا علم کیسے ہوتا ہے اور کیا اس مرض کا علاج ممکن ہے؟ ایڈز کا پہلا مریض کس ملک میں دیکھا گیا تھا؟

ایڈز کا علم صرف ٹیسٹ یا معائنہ کرانے کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ جدید دوائیں ایڈز کے حملے اور اس کی علامات پر قابو پانے میں مددگار ہوتی ہیں البتہ اس مرض کا کوئی مکمل علاج نہیں ہے۔ دوائیں جس قدر جلد استعمال کی جائیں اتنی ہی مؤثر ثابت ہوتی ہیں لیکن ایک مرتبہ دوائیں استعمال کرنے کے بعد تاحیات لینی پڑتی ہیں۔ صحت مند طرزِ زندگی سے بھی خاصی حد تک ایڈز کی انفیکشن پر قابو پایا جا سکتا ہے مثلاً اچھی غذا، مکمل نیند، سگریٹ نوشی سے پرہیز اور دیگر اقسام کی انفیکشن سے بچاؤ کی کوششیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں ایڈز کی دواؤں کی فراہمی نہایت مشکل ہے اور بیشتر ڈاکٹر اس کے طریق علاج سے بھی بےبہرہ ہیں، ایسے ملک میں مناسب طرز زندگی ہی ایڈز کے علاج کا ایک طریقہ ہے۔ سن انیس سو اکیاسی میں امریکہ میں ایڈز کے پہلے مریض کی تشخیص کی گئی تھی۔ ممکن ہے کہ اس سے پہلے بھی دنیا میں ایڈز کے مریض موجود ہوں گے لیکن ان کی تشخیص نہیں ہو پائی تھی۔ ایڈز کی وبا پھیلنے کے بعد سے اب تک دنیا میں چھ کروڑ بیس لاکھ افراد کو ایچ آئی وی انفیکشن اور چار کروڑ بیس لاکھ افراد کو ایڈز لاحق ہو چکا ہے۔


علی، پاکستان

انسانی جسم میں ایڈز کی علامات کتنے عرصے کے بعد ظاہر ہوتی ہیں؟

ایچ آئی وی انفیکشن کے بعدایڈز کی علامات ظاہر ہونے میں دس برس لگ سکتے ہیں۔ یہ علامات مختلف افراد میں مختلف اوقات میں سامنے آتی ہیں۔

فاطمہ سلیم، مظفر آباد، پاکستان

کیا کونڈوم کے استعمال سے بھی ایڈز پھیل سکتا ہے؟

کونڈوم کے استعمال سے ایڈز کا امکان تقریباً اٹھانوے فیصد کم ہو جاتا ہے۔ کونڈوم کا استعمال دیگر جنسی بیماریوں مثلاً پانی بہنا اور چھالوں سے بچاؤ کے لیے بھی مفید ہے۔


جان پال، کراچی، پاکستان

کیا نطفہ کے جسم پر کہیں بھی لگنے سے ایڈز ہو سکتا ہے؟

جی نہیں۔ ایچ آئی وی سے متاثرہ نظفہ کا جرثومہ یا سپرم، اندام نہانی یا مقعدی جھلی سے براہ راست جذب ہو کر یا پھر جنسی اعضا پر زخم یا چھالے کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ وائرس منہ اور کبھی کبھار جِلد کے ذریعے بھی جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔ البتہ عام طور پر صحت مند جِلد، ایچ آئی وی وائرس اور دیگر جرثوموں کے جسم میں داخل ہونے کی راہ میں مؤثر ترین رکاوٹ ہے۔


قیصر بٹ، لاہور، پاکستان

کیا ایڈز مچھروں یا ہجام کے استرے سے لاحق ہو سکتا ہے؟

لوگ یہ سوال اکثر کرتے ہیں۔ مچھر یا کسی دوسرے کیڑے کے کاٹنے سے ایڈز نہیں ہوتا اور اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ اگر ایڈز کا جرثومہ مچھر میں داخل بھی ہو جائے تو زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہتا۔ دوسری وجہ یہ کہ جب مچھر کسی انسان کو کاٹتا ہے تو اپنے خون کی بجائے اپنا لعاب انسانی جسم میں داخل کرتا ہے جس میں ایڈز کے جرثومے موجود نہیں ہوتے۔


محمد ارشد، پاکستان

کیا ایڈز مردوں کے درمیان جنسی تعلق سے پھیلتا ہے؟

سلمان خان، پاکستان

کیا ہم جنس پرست مردوں پر ایچ آئی وی کا حملہ ہو سکتا ہے؟

مردوں کے درمیان جنسی تعلقات کے باعث ایڈز کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے خاص طور پر اس وقت جب کسی مرد کے ایک سے زائد مرد جنسی ساتھی رہے ہوں۔ کونڈوم کا استعمال اس مرض سے بچاؤ میں کارگر ثابت ہو سکتا ہے لیکن یہ اس مسئلے کا حتمی حل نہیں ہے کیونکہ مقعدی جنسی عمل کے دوران کونڈوم کھسک یا پھٹ سکتا ہے۔


جاوید اقبال، پاکستان

ایچ آئی وی کس وبائی نام کا مخفف ہے؟ یہ جسم پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے؟ یہ وائرس کیسے پیدا ہوتا ہے اور اس کے پھیلنے کا کیا طریقہ ہے؟

فضل حبیب ذکی، پاکستان

ایچ آئی وی کیا ہے؟

ایچ آئی وی ’ہیومن امیونوڈیفیشنسی وائرس‘ کا مخفف ہے۔ یہ وائرس جسم کے مدافعتی نظام کو کمزور کرتا ہے جس کے باعث متاثرہ جسم کو عام طرح کی انفیکشن کا مقابلہ کرنے میں دشواری ہونے لگتی ہے اور وہ شدید بیمار ہو جاتا ہے۔ یہ وائرس متاثرہ مرد و عورت کے خون، جنسی اعضا سے خارج ہونے والے مائع جات اور متاثرہ افراد کے استعمال شدہ ٹیکے اور سوئیاں دوبارہ استعمال کرنے سے پھیلتا ہے۔


طاہر چاند، بہاولپور، پاکستان

ایچ آئی وی وائرس کن کن طریقوں سے انسانی جسم پر حملہ آور ہو سکتا ہے؟ یہ کس طرح پتہ چلتا ہے کہ ایچ آئی وی کسی شخص پر حملہ آور ہو چکا ہے؟

ایڈز کا مرض جنسی عمل اور استعمال شدہ سوئیاں استعمال کرنے کے علاوہ متاثرہ شخص کے خون اور اس کے جنسی اعضاء سے خارج ہونے والے مائع جات کے ذریعے پھیلتا ہے۔ ایڈز سے بچاؤ کا بہترین طریقہ خود کو صرف ایک جنسی ساتھی تک محدود رکھنا ہے۔ کثیر جنسی تعلقات رکھنے والوں کو کونڈوم استعمال کرنے کی نصیحت کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں کو استعمال شدہ ٹیکے اور سوئیاں دوبارہ استعمال نہ کرنے کی بھی تلقین کی جاتی ہے۔


محمد احسان، لاہور، پاکستان

کیا ایڈز کا مرض لعاب دہن کے ذریعے لاحق ہو سکتا ہے؟

لعاب دہن کے ذریعے ایڈز میں مبتلا ہونے کا واقعہ سننے میں نہیں آیا ہے کیونکہ عام طور پر لعاب میں ایچ آئی وی وائرس موجود نہیں ہوتا اور اگر موجود ہو بھی تو اس کی تعدادبہت کم ہوتی ہے۔ البتہ منہ میں چھالے یا زخم ہونے کے سبب یہ وائرس لعاب میں شامل ہو کر کسی دوسرے شخص کو منتقل ہو سکتا ہے تاہم ایسے واقعات بہت کم پیش آتے ہیں۔


علی احمد، لاہور، پاکستان

کیا کوئی عورت یا مرد اورل سیکس یعنی دہنی جنسی مجامعت کے نتیجے میں ایچ آئی وی کا شکار ہو سکتا ہے؟

جی ہاں! ایسے جنسی عمل سے ایچ آئی وی کا منتقل ہونا ممکن ہے لیکن اس کے امکانات بہت کم ہیں۔


محمد ثاقب احمد، بہار، بھارت

اگر ایک شخص کی ایک سے زائد بیویاں ہیں اور وہ سب کے ساتھ بلا کونڈوم جنسی عمل کرتا ہے تو کیا اس سے ایڈز کا خطرہ ہو سکتا ہے؟

ایک سے زائد جنسی ساتھی ہونے کی صورت میں خطرہ یوں ہو سکتا ہے کہ جب کسی دوسرے ساتھی کا جنسی ماضی معلوم نہ ہو۔

کیا ایسے مردوں کو ایڈز کا خطرہ کم ہوتا ہے جن کے ختنے ہوئے ہوں؟

جدید تحقیق کے مطابق ختنہ ایچ آئی وی انفیکشن کے خدشے کو کم کرتا ہے لیکن ایڈز سے بچاؤ کی ضمانت نہیں ہے۔

کیا ہم جنس پرستوں کو دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ایڈز کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟

ایڈز میں مبتلا ہونے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ مردوں میں ہم جنس پرستی اور دوسری ایک سے زیادہ ساتھی کے ساتھ جنسی تعلقات چاہے وہ ہم جنس سے ہوں یا مخالف جنس سے۔ اکثر ہم جنس پرست مرد مخالف جنس کے ساتھ بھی جنسی تعلق رکھتے ہیں لہذا ان میں ایڈز کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ دنیا میں ایڈز کے نوے فیصد کیس دونوں جنس کے افراد سے جنسی تعلقات رکھنے کے سبب پیدا ہوئے ہیں۔


نوید ارائیں

ایڈز کس طرح پھیل رہا ہے اور ہم اپنے آپ کو اس سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

ایڈز ایچ آئی وی وائرس لگنے کے بعد ہو جاتا ہے۔ ایچ آئی وی کے انفیکشن سے بچنے کے لئے جنسی روابط میں احتیاط کرنی چاہیے، کونڈوم استعمال کرنے چاہئیں، اور اس کے علاوہ ہسپتالوں یا ڈاکٹر کے ہاں کبھی استعمال شدہ سرنج یا سوئی نہیں استعمال ہونے دیجیے۔ خون کے سلسلے میں خاص احتیاط ضروری ہے کیونکہ پاکستان میں کئی ہسپتالوں کو منشیات کے عادی لوگ اپنا خون فروخت کر دیتے ہیں اور اس کی چیکنگ نہیں کی جاتی۔ ان افراد میں ایچ آئی وی کے انفیکشن کے امکانات اس لئے بہت زیادہ ہوتے ہیں کہ یہ لوگ اکثر استعمال شدہ سرنج استعمال کرتے ہیں۔


حماد الحق، کراچی

کیا یہ بیماری ہونٹوں پر پیار کرنے (کِسنگ) سے پھیل سکتی ہے؟

کسنگ یا ہونٹوں پر چومنے کے ذریعے انفیکشن صرف تب پھیل سکتا ہے اگر منہ میں زخم یا چھالے ہوں۔ منہ میں اکثر چھو ٹے کٹ ہوتے ہیں لہذا احتیاط بہتر بتائی جاتی ہے۔


ساجد ساندھو

اگر کسی ایڈز کی مریضہ سے جنسی روابط ہوں لیکن کونڈوم کے ساتھ تو کیا اس بیماری سے بچا جا سکتا ہے؟

حمید الحق

کیا کونڈوم کے استعمال سے اس بیماری سے بچا جا سکتا ہے؟

کونڈوم کے صحیح اور مستقل استعمال سے ایچ آئی وی انفیکشن سے بچنے کے امکانات اٹھانوے سے سو فیصد تک ہو جاتے ہیں۔ کونڈوم کے بارے میں لا پرواہی برتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔


آصف ملک

ایڈز کی کیا پہچان ہے؟

عقیل احمد

یہ کیسے پتا چلتا ہے کہ کسی کو ایڈز ہے؟

سیعد علی

کتنی مدت کے بعد ایڈز کی چیکنگ کے لئے خون کا ٹیسٹ کرانا چاہیے؟

کئی مریضوں کو بخار، سوجن، پیچش وغیرہ کی تکالیف ہو سکتی ہے جبکہ کئی مریضوں کو ایسا کچھ نہیں ہوتا ہے۔ اگر آپ کو لگے کہ آپ کو کوئی ایسی بیماری ہے جس کی تشخیص نہیں ہو پا رہی تو آپ ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ صرف ڈاکٹر ہی خون ٹیسٹ کر کے یہ بتا سکے گا کہ آپ کو یہ انفیکشن ہے یا نہیں۔ یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ ہر ایچ آئی وی کے ہر مریض کو ایڈز نہیں ہو جاتی، ایڈز ایچ آئی وی وائرس کے خطرناک اور جان لیوا مرحلے کا نام ہے۔

ایچ آئی وی پاسیٹیو افراد کی صحت اکثر بہت سالوں تک بالکل ٹھیک رہتی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد