BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 December, 2005, 18:00 GMT 23:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بس میں آگ، باراتی ہلاک
لاہور بس حاثدہ

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں باراتیوں سے بھری ایک بس میں آتشزدگی سے کم از کم چالیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ واقعہ شمالی لاہور میں اس وقت پیش آیا جب مغل پورہ پل کے قریب ایک بارات سے واپس آنے والی بس میں موجود آتش بازی کا سامان دھماکے سے پھٹ گیا۔

ہلاک ہونے والوں میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

کیا آپ یا آپ کے کوئی جاننے والے اس حادثے سے متاثر ہوئے ہیں؟ اس اور اس جیسے دیگر حادثات سے پاکستان میں روڈ سیفٹی کے بارے میں کیا تاثر ملتا ہے؟ کیا روڈ سیفٹی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کی طرف سے کیے گئے اقدامات کافی ہیں؟ آپ کی رائے میں اس قسم کے حادثات کو روکنے کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے؟

آپ کی رائے

آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhi bhej سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنا پیغام موبائل فون سے ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجنا چاہتے ہیں تو براہِ مہربانی اس کے آخر میں اپنا اور اپنے شہر کا نام لکھنا نہ بھولیے۔ ہمارا نمبر ہے:00447786202200

اب یہ فورم بند ہو چُکا ہے، قارئین کی رائے اور ترجمے نیچے درج ہیں۔



اظہر محمود کمبوہ، پاکستان:
یہ ایک بڑا سانحہ ہے، اس پر صوبائی اور قومی اسمبلیوں میں بحث ہونی چاہیے۔

شبیر حسین، پاکستان:
پاکستان کا کلچر آئے روز بدلتا جا رہا ہے۔ اس وقت پاکستان کو اسلامی جمہوریہ کہنا مذاق لگتا ہے۔ کیونکہ اسلام ان چیزوں کی اعجازت نہیں دیتا۔ حکومت کو چاہیے کہ ان دوکانوں کو ختم کرے جو آتش بازی کا سامان بناتی اور بیچتی ہیں۔

عارف حسین باجوہ، سپین:
میرا خیال ہے کہ آتش بازی کو فوراً بین کر دینا چاہیے۔ صدر مشرف کو چاہیے کہ اس پر پابندی لگا دیں یہ تو چیز ہی خطرناک ہے۔

سعید صدیقی، دوبئی، یو اے ای:
سارا قصور دولہا حضرت کا یا ان کے لواحقین کا ہے۔

رضیہ بطول، اسٹریلیا:
حکومت کو آتش بازی کا سامان دکانوں پر لانا غیر قانونی قرار دے دینا چاہیے۔ یہ حادثہ ہم سب کے لیے عبرت کا مقام ہے۔ سب لوگوں کو قانوانین کی پابندی کرنی چاہیے۔

محمود مصطفٰی، پاکستان:
میں حکومت سے گزارش کروں گا کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں ایمرجنسی دروازے ہونے چاہیں اور ایسی چیزیں جو انسانوں کی جان لیوا ہیں ان پر پابندی ہونی چاہیے۔

محمد وسیم، راول پنڈی، پاکستان:
بہت برا ہوا، میری رائے میں حکومت نے جس طرح پتنگ بازی پر پابندی لگائی ہے اس طرح آتش بازی پر بھی پابندی لگا دینی چاہیے ۔ آتش بازی کے سامان کی تیاری اور فروخت پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔

حکومتِ وقت کیا کیا حساب دے؟
 موٹروے پولیس کے بعد روڈ سیفٹی قدرے بہتر ہوئی ہے۔ یہ حادثہ اس خاندان کی اپنی وجہ سے ہوا ہے، ہمارے ذاتی معاملات کا بھی کیا حساب حکومت وقت دے گی؟
ہارون رشید، سیالکوٹ

ہارون رشید، سیالکوٹ، پاکستان:
سب سے پہلی بات یہ کہ یہ روڈ ایکسیڈنٹ نہیں تھا، جو آپ روڈ سیفٹی کا پوچھ رہے ہیں۔ دوسری موٹروے پولیس کے بعد روڈ سیفٹی قدرے بہتر ہوئی ہے۔ یہ حادثہ اس خاندان کی اپنی وجہ سے ہوا ہے، ہمارے ذاتی معاملات کا بھی کیا حساب حکومت وقت دے گی؟

جاوید، جاپان:
بہت برا ہوا لیکن آج تک ہم لوگ صرف افسوس ہی کرتے آئے ہیں اور اپنی غلطی دوسروں پر ڈال کر ہمیشہ کی طرح جان چھڑاتے ہیں۔ یہ سارے حادثے جہالت کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ کیا ہمیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ آتش گیر مادے سے آگ لگنے کا 100 فیصد چانس ہوتا ہے۔

محمود احمد بٹ، قطر:
لوگ کیوں اس بات کو نہیں سمجھتے کہ قانون انسانوں کے لیے ہی بنایا گیا ہے، انسان قانون کے لیے نہیں۔ اور موت کا کوئی قانون نہیں ہوتا جو سامنے آتا ہے اپنی لپیٹ میں لیے لیتی ہے۔

محمد منیر، لیّہ، پاکستان:
آج صبح جب اس واقعہ کا سنا تو بڑا دکھ ہواہے۔ محض ذرا سی نمودونمائش علاوہ پیسوں کا ضیاں، یہ سرا سر خطرناک ہے حکومت اور عدلیہ کو چاہیے کہ مکمل پابندی لگا دے۔

عارف جابر قریشی، پاکستان:
پاکستان میں قانون تو ہے عمل نہیں ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ایسے حادثات ہوتے ہیں۔ آتش بازی اور اس کے مواد پر پابندی ہونے کے باوجود اس کا استعمال عام ہے۔ اس سے قانون اور حکومت دونوں کی کلّی کھل جاتی ہے۔ میں تو اس واقعہ کا ذمہ دار حکومت کو ٹھراؤں گا۔

عاصف ایوب، سعودی عرب:
اس طرح کے واقعات کو ختم کرنے کے لیے ہمیں آتش بازی سے گریز کرنا چاہیے۔

عمر عنایت، لاہور، پاکستان:
حکومت اس کی زمہ دار ہے کیونکہ وہ پتنگ بازی، آتش بازی، اور طرح کی دیگر چیزوں کو سپورٹ کرتی ہے۔

رضوان اشرف، سپین:
یہ سب پاکستان حکومت کا قصور ہے۔ جب کوئی قانون بنتا ہے تو اس پر عمل بھی ہونا چاہیے۔ لوگوں کو پتا ہے کچھ نہیں ہو گا آتش بازی ضرور کریں گے۔

کاشف اسلم، لاہور، پاکستان:
میں اپنے باقی ساتھیوں کے خیالات سے اتفاق نہیں کرتا۔ یہ ہمارا پرانا دستور ہے کہ کچھ الٹا سیدھا ہو جائے ہم سب کچھ حکومت پر ڈال کر بری ال زماں ہو جاتے ہیں۔ جب حکومت نے آتش بازی پر پابندی لگائی ہے تو کیا ہمارا فرض نہیں بنتا کہ ہم اس سے بچیں۔ یہ حادثہ میرے گھر سے 800 میٹر کے فاصلے پر رونما ہوا۔ حکومت کا صرف اتنا قصور ہے کہ اگر آتش بازی پر پابندی لگا دی ہے تو آتش گیر مادہ بنانے والوں پر بھی پابندی عائد کرے۔

ناصر سید، جاپان:
مجھے آپ کی ویبسائیٹ بہت پسند ہے، خاص طور پر وسعت اللہ خان کے کلام اور ان کی گفتگو۔ آج لاہور کا واقع پڑھا تو بہت دکھ ہوا۔ لوگ یہی کہتے ہیں کہ کچھ نہیں ہوتا اور جب کچھ ہو جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ خدا کی یہی مرضی تھی۔

شاہدہ اکرم، یو اے ای:
ہر روز کوئی ایسا حادثہ ہو جاتا ہے کہ باقی حادثوں کو پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ بس کے اس حادثے کو سن کر انتہائی افسوس ہوا ہے۔ تھوڑی سی بے احتیاتی کی وجہ سے اتنی جانیں ضائع ہو گئں۔ ہماری حکومت کسی بھی کرح کے سسٹم کو بنانے میں بری طرح ناکام ہے۔

عبدواحاب، پاکستان:
اس واقع کا ذمہ دار وہ ہیں جو آتش بازی کرتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقعوں پر عموماً ٹین ایجر آتش بازی کرتے ہیں۔ اس پر مابندی ہونی چاہیے۔

تقی شاہ، لندن، یوکے:
حکومت پر اس کا الزام عائد ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کا بھی احتصاب ہونا چاہیے جنہوں نے آتش گیر مادہ بس میں رکھا تھا، یہ جانتے ہوئے کہ بس میں بچے اور عورتیں ہیں۔

محمد عارف سید نظامی، جہانیاں، پاکستان:
سوال یہ ہے کہ ہمیں اس حادثے کی وجوہات پر غور کرنے کی بجائے جو لوگ فوت ہو چکے ہیں ان کے لیے مغفرت کی دعا کرنی چاہیے اور جو زخمی ہو چکے ہیں ان کے علاج معلجے اور جلد صحت یابی کی دعا کرنی چاہیے۔

ڈاکٹر خالد لطیف، ملتان، پاکستان:
اس میں ہمارا اپنا قصور ہے۔ ہم اپنا اور دوسروں کا خیال نہیں رکھتے۔ اپنی خوشی میں دوسروں کی بربادی کا سامان کرتے ہیں۔

جاوید، جاپان:
بہت افسوس ہوا مگر ہم لوگ

وصیعت خان، پاکستان:
مجھے بہت افسوس ہوا کہ معصوم لوگ لاپروائی کی وجہ سے مر گئے۔ لیکن وہ جاہل بچے تو نہیں جس نے بس پر بارود رکھا تھا۔

سہیرا منیر، پاکستان:
یہ بہت افسوس ناک واقعہ ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے ہم کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھا سکتے۔ لوگوں کو حکومت کا ساتھ دینا چاہیے کیونکہ کچھ سرکاری اہلکار اپنے طور پرکچھ نہیں کر سکتے۔

زیب اللہ خان آفریدی، کوہاٹ، پاکستان:
ابھی ابھی بی بی سی اردو پر واقعہ پڑھا، پڑھ کر بہت دکھ ہوا۔ آتش زدگی پر پابندی تو ہے لیکن یہ سب کچھ کھلے عام دکانوں پر فروخت ہو رہا ہے۔ ایسے دکانداروں کو فوراً گرفتار کرنا چاہیے۔ اس طرح کے کئی واقعات ہوئے، کئی جانیں ضائع ہوئیں لیکن کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ حکومت کوئی اقدامات شروع کرے گی۔

سفیر احمد، دبئی، یو اے ای :
اس کی بڑی وجہ پاکستان میں سیفٹی کے نامناسب اقدامات ہیں۔ حکومت سول لائف اور سیفٹی پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔

ڈاکٹر اویسں عمر، لاہور، پاکستان:
اس طرح کی چیزوں پر کسی بھی موقع پر مستقل پابندی ہونی چاہیے۔

عارف ججہ، ٹورانٹو، کینیڈا:
پاکستان میں لوگ سیفٹی کا خیال نہیں رکھتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں ان چیزوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ مثلاً لیبر کو کام شروع کرنے سے پہلے حفاظتی تدابیر کا پابند کیا جاتا ہے۔

رانا حماد، لاہور، پاکستان:
میری رائے میں شادی کی رسم میں آتش بازی پر فوراً پابندی عائد کر دینی چاہیے۔ اگر کوئی استعمال کرنا چاہے تو اس کو اجازت لینی چاہیے اور تربیت کے بعد استعمال کرنا چاہیے۔

عبد الرحیم صدیقی، لاہور، پاکستان:
پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں پر کسی بھی چیز پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ اگر آتش بازی پر پابندی لگائی جائے گی تو لوگ کہتے ہیں کہ وہ بےروزگار ہوجائیں گے۔ اس طرح تو منشیات فروش، سیکس ورکرز، پیشہ ور قاتل بھی بےروزگار ہو جائیں گے۔

اعجاز الحق، نامعلوم:
مجھے معلوم نہیں تھا کہ اتنا کچھ ہو سکتا ہے۔ یہ سب بےاحتیاتی کی وجہ سے ہوا ہے۔ اس میں حکومت کا کوئی قصور نہیں ہے۔

زاہد حسین، ملتان، پاکستان:
کیا آپ نے کبھی کسی اپر کلاس فیملی کو اس طرح کے حادثے سے دوچار ہوتے دیکھا ہے۔ ہماری عوام کی اکثریت حفاظتی اقدامات سے بے بہرا ہے۔ ہمارے اپر کلاس حکمرانوں کو اس بھوکی ننگی عوام کے مرنے جینے سے زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔

محمد اظہر، لاہور، پاکستان:
کتنی عجیب بات ہے کہ خوشی کا موقع غم کی رات میں بدل گیا۔ میرے خیال میں ذمہ داری مقامی حکومت کی ہے جو آتش بازی جیسی چیزوں پر پابندی لگانے میں ناکام رہی ہے۔ پاکستان میں انسانی جان کی قیمت کم ہوتی جا رہی ہے۔

فضل، متحدہ عرب امارات:
میں ایک ہی بات کہوں گا۔ اس کی ذمہ دار حکومت ہے کیونکہ حکومت اس کاروبار کی حمایت کرتی ہے۔ لاہور کے نواحی علاقے میں ایسے ہزاروں ڈپو ہیں جو یہ سامان بیچتے ہیں۔۔۔

سید رضوان علی، سعودی عرب:
ہم سب جانتے ہیں کہ کسی بھی قانون کی خلاف ورمی کرنا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے مگر پھر ہماری بے پرواہی جاری ہے۔ صرف قانون بنانے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک ہم ذمہ دار شہری نہ بن جائیں۔

نوید عالم، حیدرآباد، پاکستان:
یہاں پاکستان میں کچھ ہو جانے کے بعد ہی شیگٹی کی بات کی جاتی ہے، جہاں تک اقدامات کی بات ہے تو آتش بازی کے سامان کی فروخت تو پہلے ہی پاکستان میں منع ہے۔ ضرورت اس قانون پر عمل کروانے کی ہے۔

علی طاہر، کراچی، پاکستان:
بھائی سارے کام حکومت تو نہیں کرے گی۔ لوگوں کو بھی کچھ شعور ہونا چاہیے۔ لوگوں نے آتش گیر مواد بس میں رکھا ہوا تھا۔ ان لوگوں کو خود احساس ذمہ داری ہونی چاہیے۔ جب تک لوگوں میں آگاہی پیدا نہ ہو تب تک کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔

عبدالمنیب، جرمنی:
آہ اتنے افراد اپنے گھر کے قریب کس بےدردی سے موت کہ منہ میں چلے گئے۔ کس کس کی غلطی شمار کریں۔ قانون پر عمل درامد کرانے والے کہاں ہیں؟ سچ یہ ہے کہ اس ملک میں کوئی قانون اور حکومت نہیں۔ خدا کی قسم سب اپنی اپنی سیٹ بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔

اسحاق ملک، ملتان، پاکستان:
بد قسمتی سے ہمارے ملک کا ہر شہری خود ’لا میکر‘ یعنی قانون ساز ہے اور خود ہی ’لا بریکر‘ یعنی قانون توڑنے والا ہے۔ سب کا سب بگڑا ہوا ہے۔ حکومت کو بھی عوام کی خبر لینے کا ہوش نہیں۔

جاوید راجپوت، کراچی، پاکستان:
اس بس کا حادثہ اس وجہ سے ہوا کہ بس میں ایک دروازہ تھا۔ بس میں ایک ہی دروازہ ہونا بہت خطرناک ہے۔ کراچی میں بھی ایک دفعہ ہڑتال کے دوران ایک بس کو نذر آتش کیا گیا تھا۔ اس بس میں بھی ایک ہی دروازہ ہونے کی وجہ سے کافی لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

جاوید ملک، جاپان:
کاش ہمارے ملک میں کوئی کنٹرول سسٹم ہوتا۔ پاکستان جا کر ہر طرف کنفیوزن دیکھ کر اور اپنا اپنا سسٹم دیکھ کر بڑا دکھ ہوتا ہے۔ کسی ایک کی غلطی کی وجہ سے کتنی جانیں گئیں۔۔۔

خلیل انجم، فیصل آباد پاکستان:
شادی کے موقع پر آتش بازی پر پابندی کا قانون ہونا چاہیے اور اس پر سختی سے عمل کروانا چاہیے۔

جاوید راشد، سعودی عرب:
پہلی بات تو یہ کہ آتش بازی کا سامان ساتھ لے کر چلنے کی کیا ضرورت تھی؟ ہمیں لوگوں کو یہ سمجھانا چاہیے کہ سادی کے موقع پر اتش بازی ضروری نہیں ہے۔

ذیشان رمضان، فیصل آباد، پاکستان:
پہلے تو حکومت کو اس چیز پر کنٹرول کرنا چاہیے۔ دوسرے اب اوروں کے لیے یہ کچھ سیکھنے کی بات ہے کہ اس قسم کی چیزوں سے بچا جائے۔ اللہ ہمیں آگے اس قسم کے حادثات سے بچائے۔

امین اللہ شاہ، پاکستان:
جو بھی رسم اسلام سے متصادم ہوگی اس کا انجام ایک نہ ایک دن ایسا ہی ہوگا۔۔۔

وسیع اللہ بھمبھرو، سندھ، پاکستان:
حکومت کو چاہیے کہ اس حادثے کے بعد تو کم از کم شادیوں میں آتش بازی پر پابندی لگا دے۔ ویسے اگر لگا بھی دی تو پاکستانی عوام کہاں مانے گی؟ اس سے پہلے حکومت نے شادیوں میں کھانے کے اوپر پابندی لگائی تھی، مگر سب سے زیادہ کھانا ہی حکومت کے لوگوں کی شادی میں ہوتا ہے۔۔۔

فیصل عظیم، دبئی:
یہاں تو بات روڈ سیفٹی کی نہیں ہے بلکہ عوام میں آگاہی پیدا کرنے کی ہے۔ اب بس میں جہاں اتنا سامان پڑآ ہے، وہاں آتش بازی کی کیا ضرورت تھی؟ ایسی حرکت کرنے سے ہم نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی جانیں بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد