BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 08 November, 2004, 15:44 GMT 20:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میری زندگی کی سب سے اہم کتاب
ویلیئم شیکسپیئر جنہیں دنیا کے ہر کونے میں جانا جاتا ہے
ویلیئم شیکسپیئر جنہیں دنیا کے ہر کونے میں جانا جاتا ہے
کئی انسانوں کی زندگی میں کوئی ایک کتاب گہرا تاثر چھوڑ جاتی ہے۔ کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا؟ ہمیں اپنی پسندیدہ کتاب کے بارے میں بتائیں۔ اس کتاب کا مصنف کون ہے؟ اس نے اس کتاب میں کون سی بات لکھی ہے جس نے آپ کو متاثر کیا ہے؟ کیا آپ اس مصنف کی زندگی کے بارے میں کچھ جانتے ہیں؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ دوسرے لوگوں کو بھی اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہئے؟ کیوں؟

ہمیں اپنی پسندیدہ کتاب اور اس کے مصنف کے بارے میں کم سے کم دو سو الفاظ میں لکھ کر بھیجیں۔آپ کی پسندیدہ کتاب کسی بھی موضوع کے بارے میں ہوسکتی ہے۔ آپ کا جواب صرف اسی صورت میں شائع کیا جائے گا جب آپ کتاب کو پسند کرنے کی وجہ بتائیں گے۔

میری پسندیدہ کتاب

اپنا جواب اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhej سکتے ہیں



سید مالک اشتر جعفری، یو ایس اے:
بچپن میں ایک کتاب کا مطالعہ کرنے کا اتفاق ہوا جس نے میری زندگی کا رخ مکمل طور پر تبدیل کردیا۔ میرا خوشگوار ماضی، حال سب کچھ اس کی بدولت ہے۔ کتاب کا نام ہے نہج البلاغہ (Nahjul Balagha) جس کے مصنف حضرت علی ابن ابوطالب ہیں۔ زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی کا راز اس میں موجود ہے۔ دنیا کی ہرزبان میں یہ کتاب دستیاب ہے۔

ثقلین امام، بی بی سی اردو سروِس، لندن:
میں کسی بھی اوریجنل کتاب کو کم نہیں کہنا چاہتا کیوں کہ ایک کتاب لکھنا آسان کام نہیں ہے۔ جو بھی شخص کوئی کتاب لکھتا ہے کافی سوچ و فکر کے بعد ہی لکھ پاتا ہے۔ تاہم مجھے فرانٹز فانن کی کتاب دی ریچڈ آف دی ارتھ (The Wretched of the Earth) اچھی لگی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ایک سیاسی تجزیہ ہے تیسری دنیا کے معاشرے کا، بلکہ اس میں سماجی پہلوؤں میں جو پسماندگی ہوتی ہے اس کا سیاسی نظام سے تعلق بھی بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور کتاب جس نے میری فکر کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا وہ ہے اوسولڈ سپینگلر کی کتاب دی ڈیکلائن آف دی ویسٹ (The Decline of the West)۔ میرے خیال میں سیاسی اور تاریخی واقعات کا اس سے بہتر تجزیہ ناممکن ہے۔


نِک اوکی، کراچی:
میں نے کئی کتابیں پڑھی ہیں لیکن جو مجھے سب سے زیادہ پسند ہے وہ ہے نیپولین ہِل کی کتاب تھِنک اینڈ گرو (Think and Grow)۔ یہ شخصیت کی تربیت کے لئے اور ٹائم مینیجمنٹ کے لئے کافی اہم کتاب ہے۔ یہ کتاب ہر اس شخص کو پڑھنی چاہئے جو مِڈل مینجمنٹ میں ہے۔


اظفر خان، ٹورانٹو:
مجھے گاندھی جی کی آٹوبایوگرافی مائی ایکسپریمنٹس وِد ٹروتھ (My Experiments with Truth) جس کا مہادیو دیسائی نے گجراتی سے خوبصورت زبان میں ترجمہ کیا ہے، بہت پسند ہے۔ اس کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ ایک عظیم انسان ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انسانیت کی خدمت اور ظلم سے نفرت اور اس کا خاتمہ عدم تشدد کے ذریعے کیسے کیا جائے۔ ہم مسلمانوں کو اس عظیم فلسفی کی یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہئے۔


سعیدالدین سید، کراچی:
آج سے چھتیس سال پہلے جبکہ میں کچھ وجوہات کی وجہ سے پریشان تھا مجھے ڈیل کارنیگی کی کتاب ہاؤ ٹو سٹاپ وررئینگ اینڈ سٹارٹ لیونگ (How to Stop Worrying and Start Living) بڑھنے کا اتفاق ہوا اور اس کتاب نے مجھے پریشانیوں اور مشکلا پر قابو پانے کا گر سکھایا اور اس کتاب نے میری کایا پلٹ۔


عاصف مشتاق، کراچی:
میں نے اپنی زندگی میں بہت کتابیں تو نہیں پڑھی ہیں لیکن میں نے جولس ورن کی کتاب اراؤنڈ دی ورلڈ ان ایٹی ڈیز (Around the World in Eighty Days) کافی پسند کی۔ یہ اچھا ناول ہے اور بچوں کے لئے بھی کافی اچھی ہے۔


موکیش کمار، کراچی:
جس کتاب نے میری زندگی کو نیا موڑ دیا وہ ہے رجنیش اوشو کی کتاب ’عورت، جنس اور مذہب‘۔


خالد مغل، لاہور:
میری پسندیدہ کتاب ’قادیانیت سے اسلام‘ ہے جس میں ساڑھے تین سو سے زیادہ مشہور و معروف شخصیات کی آپ بیتی ہے جو قادنیت سے مسلمان ہوئے۔


اوریانا فلاچی کی کتاب
 ایک کتاب جو میں بار بار پڑھنا چاہوں گا وہ ہے اوریانا فلاچی کی کتاب انٹرویو وِد ہسٹری ( Interview with History) ہے۔ اس کتاب میں ہینری کسنجر سے گولڈ میئر، اندرا گاندھی سے ذوالفقار علی بھٹو، کئی رہنماؤں کے انٹرویو ہیں۔
فرحان خواجہ، وینکوئیر

فرحان خواجہ، وینکوئیر:
ایک کتاب جو میں بار بار پڑھنا چاہوں گا وہ ہے اوریانا فلاچی کی کتاب انٹرویو وِد ہسٹری ( Interview with History) ہے۔ اس کتاب میں ہینری کسنجر سے گولڈ میئر، اندرا گاندھی سے ذوالفقار علی بھٹو، کئی رہنماؤں کے انٹرویو ہیں۔ اگرچہ اس کتاب میں مسلم رہنماؤں کو نیچا دکھایا گیا ہے تاہم اس کی طرز تحریر کافی اچھی ہے۔


عارف وقار، بی بی سی لندن:
حال میں شائع ہونے والی کتابوں میں فرانسِس وہین کی کتاب کارل مارکس (Karl Marx)ہے جو میری پسند ہے۔ اور اب میں نے لندن کے بارے میں توجہ دینی شروع کی ہے جہاں مارکس نے اپنی زندگی کے چھتیس سال گزارے۔



حمیدخواجہ، کراچی:
کرنل شفیق الرحمٰن کی ’حماقتیں‘ اور ’مذید حماقتیں‘ مجھے بہت پسند ہیں کیونکہ ان میں مزاح نگاری اپنے عروج پر ہے۔ کہانی اور اس کے کرداروں پرمصنف کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ یہ کتابیں آپ ایک بار شروع کر دیں توختم کیے بغیر نہیں رکھ سکتے۔ چالیس سال گذرجانے کے باوجود ان کتابوں کے کردار اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ آپ کے سامنے آجاتے ہیں۔ یہ دونوں کتابیں اردو مزاح میں کلاسکز کا درجہ رکھتی ہیں اور میں تو ہردو تین سال بعد ان کو پڑھتا ہوں اور اسی طرح لطف اندوز ہوتا ہوں جیسے پہلی بار پڑھنے پر ہوا تھا۔


غلام دستگیر، کراچی:
الطاف حسین کی کتاب ’پاکستان کے پچاس برس: کیا کھویا کیا پایا‘ میری پسندیدہ تصنیف ہے۔اس کتاب میں الطاف صاحب نے تقریری انداذ میں پاکستان میں مڈل کلاس کے مسائل، فرقہ پرستی، غربت اور جہالت جیسے موضوعات کو بیان کیا ہے ۔ میرے خیال میں یہ کتاب پاکستان کے ہر ذمہ دار شہری کو پڑھنی چاہیے۔



احمد راجہ، سپین:
الہامی کتابوں کے بعد مجھے مولانا الیاس عطار قادری کی’فیضانِ سنت‘ بہت پسند ہے۔اس کتاب میں انسانی زندگی سے متعلق چھوٹی سے چھوٹی بات کا احاطہ کیا گیا ہے۔



مرزا اے بی بیگ، دلی:
مجھے فکشن پڑھنے کا بےحد شوق ہے۔ میں نے پریم چند کی فکشن سے آغاذ کیا اور برسوں ان کی کہانیوں والے آئیڈیل گاؤں کی محبت میں گرفتار رہا۔اس کے بعد ابنِ صفی کی عمران سیریز اور شیکسپئیر کو پڑھا لیکن میری پسندیدہ ترین کتاب گارسیا گیبرئیل مارکوئز کی ون ہنڈرڈ ائیرز آف سولیٹیوڈ (One Hundred Years of Solitude) ہے۔ مجھے اس کی جادوئی حقیقت نگاری پسند ہے۔



سید حق، امریکہ:
جہاں تک کتابوں کی بات ہے تو میں خود کو لاعلموں میں گردانتا ہوں۔ تاہم قدرت اللہ شہاب کی ’شہاب نامہ‘ یقیناً تمام پاکستانیوں کو پڑھنی چاہیے۔ اس کے مطالعے سے ہمیں احساس ہوتا ہے ہم جو ہیں وہ کیوں ہیں۔ میں نے ٹیکسٹ بکس میں پاکستان کی ایک مختصر تاریخ پڑھی تھی لیکن اب مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں نے ٹیکسٹ بکس میں جو تاریخ پڑھی تھی وہ صرف آپ کو پاکستان کے بارے اچھا احساس دینے کے لیے لکھی گئی ہے۔ پھر ’شہاب نامہ‘ پاکستان سے پہلے کے مسلمان معاشرے کی انتہائی موثر عکاسی کرتی ہے۔ ایک موقعے پر اس کتاب کو پڑھتے ہوئے مجھے رونا آگیا جب وہ حج کے لیے جاتے ہوئے ہمارے نبی کے بارے میں اشعار کا ذکر کرتے ہیں۔



منوج کمار، سندھ:
کتابیں پڑھنا ہمیشہ میری زندگی کا حصہ رہا ہے۔ اگرچہ کسی ایک کتاب کا نام لینا مشکل ہے کیونکہ زندگی کے مختلف ادوار میں مجھے مختلف کتابیں اچھی لگتی رہی ہیں۔ تاہم فیض کی ’نسخہ ہائے وفا‘ اور شاہ سائیں کی ’شاہ جو رسالو‘ ہمیشہ میری پسندیدہ کتابیں رہی ہیں۔ میں جب بھی تنہا ہو جاتا ہوں اور مجھے کسی کو ضرورت ہوتی ہے تو میں انہی دو کتابوں میں پناہ ڈھونڈتا ہوں۔ ایک اور کتاب جو میری زندگی میں سب سے زیادہ اہم ہے وہ جارج آرویل کی ’نائنٹین ایٹی فور‘ 1984 ہے۔ جارج آرویل ہی کا دوسرا مشہور ناول ’اینیمل فارم‘ (Animal Farm) کمیونسٹ انقلاب پر ایک کڑا طنز ہے۔ یہ ناول ایک مطلق العنان ریاست میں فرد کی زندگی کا بیانیہ ہے جہاں اس کی زندگی اور حتیٰ کے خیالات تک پر قابو پانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ کتاب اس کی بغاوت اور آزادی کی جستجو بیان کرتی ہے لیکن آخر میں وہ ہار جاتا ہے اور تشدد کے نتیجے میں اپنی جدوجہد اور نظریات سے توبہ کرلیتا ہے۔
آزادی کی جستجو
 یہ ناول ایک مطلق العنان ریاست میں فرد کی زندگی کا بیانیہ ہے جہاں اس کی زندگی اور حتیٰ کے خیالات تک پر قابو پانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ کتاب اس کی بغاوت اور آزادی کی جستجو بیان کرتی ہے
منوج کمار، سندھ

اس کتاب کے نتیجے میں میں نے دنیا کوایک نئے زاویئے سے دیکھنا سیکھا اور خود اپنے نظریات کو سوال کیا۔ اس سے میں نے آمرانہ نظریات سے نفرت کرنا سیکھی اور اس نے میری آزادیِ اظہار و عمل کی آرزو کو مضبوط کیا۔ کسی آمرانہ معاشرے کی تباہ کاریاں سمجھنے کے لیے اس کتاب کا پڑھنا بہت ضروری ہے۔ خود جارج آرویل کے الفاظ میں انہوں نے یہ کتاب اس لئے لکھی کہ وہ ’دوسروں کا ایک بہتر تصوراتی معاشرے کے متعلق خیال بدل سکیں‘۔



محمد علی بشیر، کراچی:
میرے نزدیک دنیا کی بہترین دوسری کتاب ’فیضانِ سنت‘ ہے جس کے مصنف مولانا الیاس عطار قادری ہیں جو کہ سیاست اور دہشت گردی سے پاک ایک تحریکِ دعوتِ اسلامی کے امیر بھی ہیں۔ اس میں انہوں نے سنتوں کی وہ عظیم ترین مثالیں دی ہیں کہ اس کا مطالعہ ایک غیر مسلم بھی کر لے تو متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ دنیا اور آخرت سدھارنے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔



ایس مفکر، بہاولپور:
مجھے جس کتاب نے متاثر کیا وہ ’قرآنی شعورِ انقلاب‘ ہے۔ یہ قرآن کی انقلابی تفسیر ہے جو مولانا عبیداللہ سندھی کے تفسیری مقالات پر مشتمل ہے۔ زوال کے دور میں عروج حاصل کرنے کےلیے اس کا مطالعہ ضروری ہے۔


اسلام پر عجمی رنگ
 اس کتاب میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح اسلام جیسے سچے اور سادہ دین پر عجمی رنگ چڑھا اور دین کا نقشہ ہی بدل گیا۔
شاہد علی صدیقی، کراچی

شاہد علی صدیقی، کراچی:
عذیر احمد صدیقیی کی لکھی ہوئی کتاب ’ارمغانِ عجم‘ نے ذہن میں قائم تمام ستون گرادیئے اور جن مذہبی عقائد کی بنیاد رکھی وہ اب تک قائم ہیں۔ اس کتاب میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح اسلام جیسے سچے اور سادہ دین پر عجمی رنگ چڑھا اور دین کا نقشہ ہی بدل گیا۔



علی شیراز، پاکستان:
جن کتابوں نے میری زندگی ہی بدل دی وہ ایک تو سٹیفن آر کووی کی کتاب ’دی سیون ہیبٹس آف ہائیلی ایفیکٹو پیپلز‘ ہے اور دوسری فیض ایچ سیال کی کتاب ’دی روڈ ٹو سکسیس‘ ہے۔ میرے خیال میں ہر نوجوان کو یہ دونوں ضرور پڑھنی چاہئیں۔


آصف ججہ، ٹورنٹو:
مجھے کتابیں پڑھنا بہت پسند ہے اور میں نے سائینس اور شاعری کی بہت سی کتابیں پڑھی ہیں لیکن یہاں آنے کے بعد میں نے مختلف مذاہب پر مختلف کتابیں پڑھی ہیں جن میں عیسائیت اور سکھ مت اہم ہیں۔ مجھے ان کتابوں کو پڑھنا بہت اچھا لگتا ہے اور یہ بات کھل کر نظر آتی ہے کہ تمام مذاہب ایک ہی سبق دیتے ہیں جو انسانیت سے پیار ہے۔


فصل اکبر، نوشہرہ:
کتابیں تو میں نے بہت پڑھیں لیکن جس کتاب نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ہے قدرت اللہ شہاب کا شہاب نامہ۔ اس میں صاحبِ کتاب نے بہت سے رازوں سے پردہ انتہائی خوبصورت انداز میں اٹھایا ہے اور کمال سے کہانی کہتے کہتے حالات کو بیان کرڈالا ہے۔ پھر دوسری اچھی بات اللہ سے قربت ہے۔


محسن مخدوم، کراچی:
قرآنِ کریم بلاشبہ دنیا کی بہترین کتاب ہے۔ اگر آپ کا سوال صرف انسانی دماغ سے ترتیب دی گئی کتاب سے ہے تو پھر میرا انتخاب ڈاکٹر علامہ اقبال کی شاعری کا مجموعہ ہے جو سمجھ کے پڑھنے والوں کی زندگی میں کئی روشن راہیں کھول دیتا ہے۔ اس سے ایمان مضبوط تر ہوتا ہے اور عمل خالص۔


عبدالعلیم، جاپان:
راجہ گدھ، آگ کا دریا، خاکم بدہن۔۔۔۔۔مختلف ادوار میں یہ کتابیں میری پسندیدہ رہی ہیں۔ ذرا قریب کے دور میں مستنصر حسین تارڑ کی ’راکھ‘ پسند رہی ہے۔ پھر جس کتاب نے میری زندگی پر گہرے اثرات چھوڑے وہ پالو کویلہو کی ’الکیمسٹ‘ ہے۔ زندگی میں مسلسل جدوجہد پر اس سے خوبصورت کتاب میں نے نہیں پڑھی۔



ہم مسلمان کیوں ہوئے؟
 اس میں نوّے نومسلم افراد کا احوال بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے اسلام کی کس بات سے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا۔
عرفان عنایت، پاکستان

عرفان عنایت، پاکستان:
یہ بات صرف کہنے کی حد تک ہی نہیں کہ اسلام ایک دینِ فطرت ہے بلکہ جس کسی نے بھی اپنی زندگی میں اس پر عمل درآمد کیا، اس کے ثمرات اور فوائد کا اعتراف کیا۔ اسی زمین میں مجھے ڈاکٹر عبدالغنی کی لکھی ہوئی ایک کتاب ’ہم مسلمان کیوں ہوئے‘ بہت پسند ہے۔ اس میں نوّے نومسلم افراد کا احوال بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے اسلام کی کس بات سے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ ان افراد میں سے نوّے فیصد انتہائی تعلیم یافتہ افراد تھے جنہوں نے پہلے اسلام کا مطالعہ کیا، اسے سمجھا اور پھر اپنایا۔ میرا مشورہ ہے کہ ہر شخص کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔ میری دوسری پسندیدہ کتاب ہے ’کلیاتِ اقبال‘ جو کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ان دونوں کتابوں سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔


عدنان عادل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور:
کمیونسٹ مینی فیسٹو (Communist Manifesto) کے عنوان سے کارل مارکس کا مختصر کتابچہ ان چند اہم کتابوں میں شامل ہے جنہوں نے میرے طرز فکر اور خیالات پر گہرا اثر چھوڑا۔ میرے خیال میں جس شخص نے یونان کے مفکرین اور کارل مارکس کی تحریروں کا مطالعہ کیا ہو اسے دنیا اور زندگی کی متنوع جہات اور ان کے تہ دار رموز کو سمجھنے میں خاصی آسانی ہوجاتی ہے۔ ’کمیونسٹ مینی فیسٹو‘ نے انسانی تاریخ پر گہرا اثر مرتب کیا اور اس کے نتیجے میں برپا ہونے والے مختلف انقلابات نے جن اشتراکی اور اشتمالی معاشروں کی تشکیل کی اور جس طرح اس کے ردعمل میں سرمایہ داری اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کیں وہ اس کتاب کی اہمیت کا بین ثبوت ہے۔



ابو محسن میاں، سرگودھا:
دنیا کی سب سے اہم کتاب قرآن ہے جو زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں ہے۔ انسانیت کے بارے میں قرآن کیا کہتا ہے مجھے تب معلوم ہوا جب میں نے سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تفہیم القرآن کا مطالعہ کیا۔



عارف شمیم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن:
مجھے دستو وسکی کی کتاب ’کرائم اینڈ پنشمنٹ‘ (Crime and Punishment)بڑی پسند ہے۔ وجہ اس کی بالکل واضح ہے کہ میرے خیال میں شاید یہ وہ واحد ناول ہے جس میں انسان کے اندر کی کشمکش اور بیرونی حالات کی جنگ اتنے خوبصورت طریقے اور باریک بینی سے دکھائی گئی ہے۔


عالیہ نازکی، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن:
کتابیں پڑھنے کا شوق مجھے ورثے میں ملا ہے۔ گھر کا ماحول ہی کچھ تھا۔ بچپن سے آج تک بہت سی کتابیں پڑھیں اور بہت سی پسند بھی آئیں۔ مگر چارلز ڈکنز کی ’گریٹ ایکسپیکٹیشنز‘ (Great Expectations)اور ایلیس واکر کی ’دی ٹیمپل آف مائی فیمیلئر‘ (The Temple of My Familiar) میرے لیے خاصی اہم ہیں۔ ’گریٹ ایکسپیکٹیشنز‘ اس وجہ سے کہ میری پندرہویں سالگرہ پر میرے بابا نے مجھے یہ کتاب تحفے میں دی تھی اور کئی بار پڑھنے کے بعد بھی یہ ہر بار مجھے نئی سی لگتی ہے۔ اور ’دی ٹیمپل آف مائی فیمیلئیر‘ اس لیے کیونکہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس سے میں خاصی متاثر ہوئی ہوں اور اس نے حقوق نسواں کے بارے میں میری سوچ کو وسیع کردیا۔


وٹنیس ٹو سرینڈر
 کتاب کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح ہمارے فوجی اور سویلینز نے مشرقی پاکستان کو ہم سے جدا کیا۔
فراز قریشی، ناظم آباد، کراچی

فراز قریشی، ناظم آباد، کراچی:
دو کتابوں نے میری زندگی پر یادگار اثر چھوڑا: ایک صادق سالک کی ’وِٹنیس ٹو سرنڈر‘ ( Witness to Surrender) اور ایک قدرت اللہ شہاب کی ’شہاب نامہ‘ جس نے بتایا کہ پاکستان کے محلات میں کس قسم کی سازش تیار ہوتی ہیں اور کون کس طرح سے ان کا حصہ بنتا ہے، اس نے ہماری اجتماعی خرابیاں بتائیں۔ اور وٹنیس ٹو سرنڈر میں بات کو پوری طرح ڈِسکس کیا گیا ہے جس کو سن کر زندگی میں پہلی بار آنسو نکلے یعنی انیس سو اکہتر کے جینوسائیڈ کے بارے میں۔ کتاب کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح ہمارے فوجی اور سویلینز نے مشرقی پاکستان کو ہم سے جدا کیا۔


عائشہ تنظیم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن:
میریئن زمر بریڈلی Marion Zimmer Bardely کا لکھا کتابوں کا ایک سلسلہ دی مسٹس آف ایویلون The Mists of Avalon کے نام سے۔ اس سلسلے میں چار یا پانچ کتابیں ہیں۔ یہ فکشن ہے لیکن اس میں برطانیہ کی اُس وقت کی کہانی ہے جب عیسائیت کا غلبہ اس ملک میں شروع ہوا تھا۔ کتاب کے مطابق اس وقت یہاں پیگن مذہب تھا جس میں طاقت کا مرکز جزیرہ ایویلون تھا جس میں اہم ترین حیثیت ایک خاتون، دی لیڈی آف ایویلون کو حاصل ہوتی تھی۔ کتاب میں ایک جادوئی دنیا ہے لیکن اس کے پس منظر میں وہ جدوجہد دکھائی گئی ہے جو ایک پرانے مذہب کے زوال اور ایک نئے مذہب کے آغاز کے دنوں میں سامنے آتی ہے۔ یہ میری سب سے پسندیدہ کتاب ہے۔


نعمان احمد، آفیسرز کالونی، راولپنڈی:
میری پسندیدہ کتابوں کی لِسٹ میں مولانا آزاد کی کتاب ’انڈیا وِنز فریڈم‘ ہے لیکن ایک کتاب جس کو اب بھی جب میں پڑھتا ہوں تو ایک نئے پن کا احساس ہوتا ہے وہ ہے واصف علی واصف کی ’دل دریا سمندر‘۔ واصف علی کے انتقال کو اگرچے ایک عشرے سے زیادہ ہوچکا ہے لیکن ان کی تحریریں ابھی تک تروتازہ ہیں۔ مذکورہ کتاب میں مختلف موضوعات پر اظہار خیال بہت دلکش اور خیال افروز انداز میں کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک جگہ طاقت کے بارے میں کہتے ہیں: ’ہم جس شئے سے خوفزدہ ہوتے ہیں اس کو طاقت کہنا شروع کردیتے ہیں۔۔۔‘


ذیشان حیدر، کنگز کالج لندن:
میرا اور کتاب کا رشتہ قائم تو بچپن میں ہی ہو گیا تھا جب میں نے ایک معلم کے گھر میں آنکھ کھولی تھی۔ لیکن بات اگر اس کتاب کی ہو جس نے زندگی پر گہرا اثر چھوڑا تو وہ میکاولی کی کتاب "The Prince" تھی۔ہر وہ شخص جو اس خود غرض دنیا میں آگے بڑھنا چاہتا ہے اسے ایک بار یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔


طفیل احمد، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن:
حالیہ دنوں میں جو سب سے اچھی کتاب میں نے پڑھی ہے وہ امرتیا سین کی ’ڈیولپمنٹ ائیز فریڈم‘ یعنی Development As Freedomہے۔ امرتیا سین معاشیات کے ماہر ہیں اور انہیں ویلفیئر ایکانومِکس کے لئے نوبل کا اعزاز دیا گیا۔ اس کتاب میں انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا میں کسی بھی دور میں فاقہ کشی اسی ملک میں آئی جہاں جمہوریت نہیں تھی یا حکومتیں عوام کی جانب جوابدہ نہیں تھیں۔ ہر شخص کو یہ کتاب پڑھنے کا مشورہ دوں گا۔


اوریئنٹل ازم
 میرے خیال میں ’اورنٹیلزم‘ وہ کتاب ہے جس نے پہلی بار مغربی سکالرشپ کو جھنجھوڑا اور بتایا کہ غیر یورپی قومیں اپنی تاریخ خود لکھنے کی اہل ہیں اور یہ کہ کسی بھی قوم کو اپنے زیر کرنے کے بعد آپ اس کے بارے میں کوئی بھی جھوٹ گھڑ سکتے ہیں۔
سلیم احمد قاضی، لندن

سلیم احمد قاضی، لندن:
میری پسندیدہ ترین کتاب ایڈورڈ سعید مرحوم کی تصنیف ’اورینٹلزم` (Orientalism) ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جسے ایک وقت میں کوئی ناشر چھاپنے کے لیے تیار نہیں تھا لیکن اپنے منظر عام پر آنے کے بعد یہ وہ تصنیف بن گئی جسے چھاپنا بڑے بڑے ناشر اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔ میرے خیال میں ’اورنٹیلزم‘ وہ کتاب ہے جس نے پہلی بار مغربی سکالرشپ کو جھنجھوڑا اور بتایا کہ غیر یورپی قومیں اپنی تاریخ خود لکھنے کی اہل ہیں اور یہ کہ کسی بھی قوم کو اپنے زیر کرنے کے بعد آپ اس کے بارے میں کوئی بھی جھوٹ گھڑ سکتے ہیں۔ مثلاً عرب لوگوں کو سالہا سال سے مغربی ادب اور تحقیقی کتابوں میں ایک اجڈ اور تہذیب سے عاری قوم کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن آج ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔



اسد علی چودھری، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن:
میں نے انیس سو اٹھاسی میں جب پہلی بار کتابیں پڑھنے کی کوشش کی تو انجنیئرنگ یونیورسٹی لاہور کی لائبریری سے ایک ساتھ دو کتابیں جاری کرا لیں۔ ان میں سے ایک جے ایس مِل کی ’آن لِبرٹی‘ (On Liberty) تھی اور دوسری روسو کی ’سوشل کنٹریکٹ‘ (Social Contract)۔ اس کے بعد بھی بہت سی کتابیں پڑھیں اور پسند بھی آئیں لیکن ان دو کا ذکر اس لیے کیا کیونکہ اس عمر میں انہوں نے گہرا ثر چھوڑا اور ہر بات کو حقائق پر پرکھنے کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ یہ کتابیں اس وقت جس حد تک بھی سمجھ میں آئیں لیکن ضرور معلوم ہوا کہ کسی بات یا رائے کا غلط ثابت ہونا پریشانی کی بات نہیں بلکہ سیکھنے کے عمل کا حصہ ہے۔


تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد