میری زندگی کی سب سے اہم کتاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کئی انسانوں کی زندگی میں کوئی ایک کتاب گہرا تاثر چھوڑ جاتی ہے۔ کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا؟ ہمیں اپنی پسندیدہ کتاب کے بارے میں بتائیں۔ اس کتاب کا مصنف کون ہے؟ اس نے اس کتاب میں کون سی بات لکھی ہے جس نے آپ کو متاثر کیا ہے؟ کیا آپ اس مصنف کی زندگی کے بارے میں کچھ جانتے ہیں؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ دوسرے لوگوں کو بھی اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہئے؟ کیوں؟ ہمیں اپنی پسندیدہ کتاب اور اس کے مصنف کے بارے میں کم سے کم دو سو الفاظ میں لکھ کر بھیجیں۔آپ کی پسندیدہ کتاب کسی بھی موضوع کے بارے میں ہوسکتی ہے۔ آپ کا جواب صرف اسی صورت میں شائع کیا جائے گا جب آپ کتاب کو پسند کرنے کی وجہ بتائیں گے۔ اپنا جواب اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhej سکتے ہیں سید مالک اشتر جعفری، یو ایس اے: بچپن میں ایک کتاب کا مطالعہ کرنے کا اتفاق ہوا جس نے میری زندگی کا رخ مکمل طور پر تبدیل کردیا۔ میرا خوشگوار ماضی، حال سب کچھ اس کی بدولت ہے۔ کتاب کا نام ہے نہج البلاغہ (Nahjul Balagha) جس کے مصنف حضرت علی ابن ابوطالب ہیں۔ زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی کا راز اس میں موجود ہے۔ دنیا کی ہرزبان میں یہ کتاب دستیاب ہے۔ ثقلین امام، بی بی سی اردو سروِس، لندن: نِک اوکی، کراچی: اظفر خان، ٹورانٹو: سعیدالدین سید، کراچی: عاصف مشتاق، کراچی: موکیش کمار، کراچی: خالد مغل، لاہور:
فرحان خواجہ، وینکوئیر: عارف وقار، بی بی سی لندن: حمیدخواجہ، کراچی: کرنل شفیق الرحمٰن کی ’حماقتیں‘ اور ’مذید حماقتیں‘ مجھے بہت پسند ہیں کیونکہ ان میں مزاح نگاری اپنے عروج پر ہے۔ کہانی اور اس کے کرداروں پرمصنف کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ یہ کتابیں آپ ایک بار شروع کر دیں توختم کیے بغیر نہیں رکھ سکتے۔ چالیس سال گذرجانے کے باوجود ان کتابوں کے کردار اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ آپ کے سامنے آجاتے ہیں۔ یہ دونوں کتابیں اردو مزاح میں کلاسکز کا درجہ رکھتی ہیں اور میں تو ہردو تین سال بعد ان کو پڑھتا ہوں اور اسی طرح لطف اندوز ہوتا ہوں جیسے پہلی بار پڑھنے پر ہوا تھا۔ غلام دستگیر، کراچی: احمد راجہ، سپین: الہامی کتابوں کے بعد مجھے مولانا الیاس عطار قادری کی’فیضانِ سنت‘ بہت پسند ہے۔اس کتاب میں انسانی زندگی سے متعلق چھوٹی سے چھوٹی بات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مرزا اے بی بیگ، دلی: مجھے فکشن پڑھنے کا بےحد شوق ہے۔ میں نے پریم چند کی فکشن سے آغاذ کیا اور برسوں ان کی کہانیوں والے آئیڈیل گاؤں کی محبت میں گرفتار رہا۔اس کے بعد ابنِ صفی کی عمران سیریز اور شیکسپئیر کو پڑھا لیکن میری پسندیدہ ترین کتاب گارسیا گیبرئیل مارکوئز کی ون ہنڈرڈ ائیرز آف سولیٹیوڈ (One Hundred Years of Solitude) ہے۔ مجھے اس کی جادوئی حقیقت نگاری پسند ہے۔ سید حق، امریکہ: جہاں تک کتابوں کی بات ہے تو میں خود کو لاعلموں میں گردانتا ہوں۔ تاہم قدرت اللہ شہاب کی ’شہاب نامہ‘ یقیناً تمام پاکستانیوں کو پڑھنی چاہیے۔ اس کے مطالعے سے ہمیں احساس ہوتا ہے ہم جو ہیں وہ کیوں ہیں۔ میں نے ٹیکسٹ بکس میں پاکستان کی ایک مختصر تاریخ پڑھی تھی لیکن اب مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں نے ٹیکسٹ بکس میں جو تاریخ پڑھی تھی وہ صرف آپ کو پاکستان کے بارے اچھا احساس دینے کے لیے لکھی گئی ہے۔ پھر ’شہاب نامہ‘ پاکستان سے پہلے کے مسلمان معاشرے کی انتہائی موثر عکاسی کرتی ہے۔ ایک موقعے پر اس کتاب کو پڑھتے ہوئے مجھے رونا آگیا جب وہ حج کے لیے جاتے ہوئے ہمارے نبی کے بارے میں اشعار کا ذکر کرتے ہیں۔ منوج کمار، سندھ: کتابیں پڑھنا ہمیشہ میری زندگی کا حصہ رہا ہے۔ اگرچہ کسی ایک کتاب کا نام لینا مشکل ہے کیونکہ زندگی کے مختلف ادوار میں مجھے مختلف کتابیں اچھی لگتی رہی ہیں۔ تاہم فیض کی ’نسخہ ہائے وفا‘ اور شاہ سائیں کی ’شاہ جو رسالو‘ ہمیشہ میری پسندیدہ کتابیں رہی ہیں۔ میں جب بھی تنہا ہو جاتا ہوں اور مجھے کسی کو ضرورت ہوتی ہے تو میں انہی دو کتابوں میں پناہ ڈھونڈتا ہوں۔ ایک اور کتاب جو میری زندگی میں سب سے زیادہ اہم ہے وہ جارج آرویل کی ’نائنٹین ایٹی فور‘ 1984 ہے۔ جارج آرویل ہی کا دوسرا مشہور ناول ’اینیمل فارم‘ (Animal Farm) کمیونسٹ انقلاب پر ایک کڑا طنز ہے۔ یہ ناول ایک مطلق العنان ریاست میں فرد کی زندگی کا بیانیہ ہے جہاں اس کی زندگی اور حتیٰ کے خیالات تک پر قابو پانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ کتاب اس کی بغاوت اور آزادی کی جستجو بیان کرتی ہے لیکن آخر میں وہ ہار جاتا ہے اور تشدد کے نتیجے میں اپنی جدوجہد اور نظریات سے توبہ کرلیتا ہے۔
اس کتاب کے نتیجے میں میں نے دنیا کوایک نئے زاویئے سے دیکھنا سیکھا اور خود اپنے نظریات کو سوال کیا۔ اس سے میں نے آمرانہ نظریات سے نفرت کرنا سیکھی اور اس نے میری آزادیِ اظہار و عمل کی آرزو کو مضبوط کیا۔ کسی آمرانہ معاشرے کی تباہ کاریاں سمجھنے کے لیے اس کتاب کا پڑھنا بہت ضروری ہے۔ خود جارج آرویل کے الفاظ میں انہوں نے یہ کتاب اس لئے لکھی کہ وہ ’دوسروں کا ایک بہتر تصوراتی معاشرے کے متعلق خیال بدل سکیں‘۔ محمد علی بشیر، کراچی: میرے نزدیک دنیا کی بہترین دوسری کتاب ’فیضانِ سنت‘ ہے جس کے مصنف مولانا الیاس عطار قادری ہیں جو کہ سیاست اور دہشت گردی سے پاک ایک تحریکِ دعوتِ اسلامی کے امیر بھی ہیں۔ اس میں انہوں نے سنتوں کی وہ عظیم ترین مثالیں دی ہیں کہ اس کا مطالعہ ایک غیر مسلم بھی کر لے تو متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ دنیا اور آخرت سدھارنے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔ ایس مفکر، بہاولپور: مجھے جس کتاب نے متاثر کیا وہ ’قرآنی شعورِ انقلاب‘ ہے۔ یہ قرآن کی انقلابی تفسیر ہے جو مولانا عبیداللہ سندھی کے تفسیری مقالات پر مشتمل ہے۔ زوال کے دور میں عروج حاصل کرنے کےلیے اس کا مطالعہ ضروری ہے۔
شاہد علی صدیقی، کراچی: عذیر احمد صدیقیی کی لکھی ہوئی کتاب ’ارمغانِ عجم‘ نے ذہن میں قائم تمام ستون گرادیئے اور جن مذہبی عقائد کی بنیاد رکھی وہ اب تک قائم ہیں۔ اس کتاب میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح اسلام جیسے سچے اور سادہ دین پر عجمی رنگ چڑھا اور دین کا نقشہ ہی بدل گیا۔ علی شیراز، پاکستان: جن کتابوں نے میری زندگی ہی بدل دی وہ ایک تو سٹیفن آر کووی کی کتاب ’دی سیون ہیبٹس آف ہائیلی ایفیکٹو پیپلز‘ ہے اور دوسری فیض ایچ سیال کی کتاب ’دی روڈ ٹو سکسیس‘ ہے۔ میرے خیال میں ہر نوجوان کو یہ دونوں ضرور پڑھنی چاہئیں۔ آصف ججہ، ٹورنٹو: فصل اکبر، نوشہرہ: محسن مخدوم، کراچی: عبدالعلیم، جاپان:
عرفان عنایت، پاکستان: یہ بات صرف کہنے کی حد تک ہی نہیں کہ اسلام ایک دینِ فطرت ہے بلکہ جس کسی نے بھی اپنی زندگی میں اس پر عمل درآمد کیا، اس کے ثمرات اور فوائد کا اعتراف کیا۔ اسی زمین میں مجھے ڈاکٹر عبدالغنی کی لکھی ہوئی ایک کتاب ’ہم مسلمان کیوں ہوئے‘ بہت پسند ہے۔ اس میں نوّے نومسلم افراد کا احوال بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے اسلام کی کس بات سے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ ان افراد میں سے نوّے فیصد انتہائی تعلیم یافتہ افراد تھے جنہوں نے پہلے اسلام کا مطالعہ کیا، اسے سمجھا اور پھر اپنایا۔ میرا مشورہ ہے کہ ہر شخص کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔ میری دوسری پسندیدہ کتاب ہے ’کلیاتِ اقبال‘ جو کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ان دونوں کتابوں سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ عدنان عادل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور: ابو محسن میاں، سرگودھا: دنیا کی سب سے اہم کتاب قرآن ہے جو زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں ہے۔ انسانیت کے بارے میں قرآن کیا کہتا ہے مجھے تب معلوم ہوا جب میں نے سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تفہیم القرآن کا مطالعہ کیا۔ عارف شمیم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن: مجھے دستو وسکی کی کتاب ’کرائم اینڈ پنشمنٹ‘ (Crime and Punishment)بڑی پسند ہے۔ وجہ اس کی بالکل واضح ہے کہ میرے خیال میں شاید یہ وہ واحد ناول ہے جس میں انسان کے اندر کی کشمکش اور بیرونی حالات کی جنگ اتنے خوبصورت طریقے اور باریک بینی سے دکھائی گئی ہے۔ عالیہ نازکی، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن:
فراز قریشی، ناظم آباد، کراچی: دو کتابوں نے میری زندگی پر یادگار اثر چھوڑا: ایک صادق سالک کی ’وِٹنیس ٹو سرنڈر‘ ( Witness to Surrender) اور ایک قدرت اللہ شہاب کی ’شہاب نامہ‘ جس نے بتایا کہ پاکستان کے محلات میں کس قسم کی سازش تیار ہوتی ہیں اور کون کس طرح سے ان کا حصہ بنتا ہے، اس نے ہماری اجتماعی خرابیاں بتائیں۔ اور وٹنیس ٹو سرنڈر میں بات کو پوری طرح ڈِسکس کیا گیا ہے جس کو سن کر زندگی میں پہلی بار آنسو نکلے یعنی انیس سو اکہتر کے جینوسائیڈ کے بارے میں۔ کتاب کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح ہمارے فوجی اور سویلینز نے مشرقی پاکستان کو ہم سے جدا کیا۔ عائشہ تنظیم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن: نعمان احمد، آفیسرز کالونی، راولپنڈی: ذیشان حیدر، کنگز کالج لندن: طفیل احمد، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن:
سلیم احمد قاضی، لندن: میری پسندیدہ ترین کتاب ایڈورڈ سعید مرحوم کی تصنیف ’اورینٹلزم` (Orientalism) ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جسے ایک وقت میں کوئی ناشر چھاپنے کے لیے تیار نہیں تھا لیکن اپنے منظر عام پر آنے کے بعد یہ وہ تصنیف بن گئی جسے چھاپنا بڑے بڑے ناشر اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔ میرے خیال میں ’اورنٹیلزم‘ وہ کتاب ہے جس نے پہلی بار مغربی سکالرشپ کو جھنجھوڑا اور بتایا کہ غیر یورپی قومیں اپنی تاریخ خود لکھنے کی اہل ہیں اور یہ کہ کسی بھی قوم کو اپنے زیر کرنے کے بعد آپ اس کے بارے میں کوئی بھی جھوٹ گھڑ سکتے ہیں۔ مثلاً عرب لوگوں کو سالہا سال سے مغربی ادب اور تحقیقی کتابوں میں ایک اجڈ اور تہذیب سے عاری قوم کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن آج ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ اسد علی چودھری، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن: میں نے انیس سو اٹھاسی میں جب پہلی بار کتابیں پڑھنے کی کوشش کی تو انجنیئرنگ یونیورسٹی لاہور کی لائبریری سے ایک ساتھ دو کتابیں جاری کرا لیں۔ ان میں سے ایک جے ایس مِل کی ’آن لِبرٹی‘ (On Liberty) تھی اور دوسری روسو کی ’سوشل کنٹریکٹ‘ (Social Contract)۔ اس کے بعد بھی بہت سی کتابیں پڑھیں اور پسند بھی آئیں لیکن ان دو کا ذکر اس لیے کیا کیونکہ اس عمر میں انہوں نے گہرا ثر چھوڑا اور ہر بات کو حقائق پر پرکھنے کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ یہ کتابیں اس وقت جس حد تک بھی سمجھ میں آئیں لیکن ضرور معلوم ہوا کہ کسی بات یا رائے کا غلط ثابت ہونا پریشانی کی بات نہیں بلکہ سیکھنے کے عمل کا حصہ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||