BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 June, 2004, 15:02 GMT 20:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیراعظم ظفراللہ جمالی کا استعفی
وزیراعظم جمالی
صدر پرویز مشرف سے ایک ملاقات کے بعد وزیراعظم ظفراللہ جمالی نے استعفی دیدیا ہے۔ وزیرِ اعظم جمالی نے کابینہ تحلیل کرنے کا اعلان کیا اور اپنے جانشین کے طور پر چوہدری شجاعت کا نام پیش کیا ہے۔ تمام دن کی افواہوں کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیخ رشید احمد نے شام کو پاکستان ٹیلی ویژن پر اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں سرکاری طور پر وزیر اعظم جمالی کے استعفی کی خبر کی تصدیق کی۔

ظفراللہ جمالی کے استعفی پر آپ کا ردعمل کیا ہے؟ ان کے استعفے کے بعد پاکستان کی سیاست میں کیا تبدیلیاں آئیں گیں؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں


عبدالمنیب، جرمنی: جمالی تو بس ایسے ہی تھے جیسے کسی گڈے کو خوبصورت کپڑے پہنا کر شو کیس میں کھڑا کر دیا جائے۔ جب مشرف کو شک ہوا کہ گڈا کچھ حرکت کرنے لگا ہے تو انہوں نے شجاعت کے نام سے ایک نیا گڈا کھڑا کر دیا۔

محمد آصف، قصور، پاکستان: اس سے پاکستان میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور جنرل مشرف کی پالیسیاں اسی طرح چلتی رہیں گی۔

عتیقہ اتی، چترال، پاکستان: جمالی صاحب نے موقعے کو بھانپ کر اچھا فیصلہ کیا ہے ورنہ پارلیمان اور ملک بحران کا شکار ہوتے۔

محمد انور، سوات، پاکستان: پنجابی ایک غیر پنجابی وزیرِ اعظم برداشت نہیں کرسکتے۔

کالے بھوتوں تلے سسکتی سیاست
 پاکستان میں سیاست کالے بھوتوں تلے سسک رہی ہے۔ تمام تر ذلالتیں اپنے گلے ڈالنے کے باوجود سیاستدانوں کا قبیلہ راندہء درگاہ ہے۔
اشرف محمود، لاہور، پاکستان

اشرف محمود، لاہور، پاکستان: پاکستان کی سیاست میں تبدیلی کا کیا سوال؟ یہاں سیاست ہے نہ سیاستدان۔ یہاں تو مطلق العنانیت ہے جو سیاست نہیں آمریت اور جبر کی خوگر ہے، متکبرانہ سوچ ہے جو سیاستدان نہیں غلام مانگتی ہے۔ کوئی غلامی پر آمادہ نہیں ہوتا تو اسے پھانسی چارہ دیا جاتا ہے، پابند سلاسل رکھا جاتا ہے یا پھر ملک بدر کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں سیاست کالے بھوتوں تلے سسک رہی ہے۔ تمام تر ذلالتیں اپنے گلے ڈالنے کے باوجود سیاستدانوں کا قبیلہ راندہء درگاہ ہے۔ میدان سیاست میں سناٹا ہے۔

محمد ظہیر بدر شاہ، ابوظہبی: یہ ایک دفعہ پھر پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک افسوس ناک لمحہ ہے۔ اس سے نظر آتا ہے کہ ہم نے ابھی تک کوئی سبق نہیں سیکھا۔ سیاستدان آزادی سے حکومت نہیں کر سکتے اس لیے کہ ملک کی بہتری کے لیے ان کے ذہنوں میں کچھ بھی نہیں بس حکومت میں رہنے کے لیے ’اصل حکمرانوں‘ کی تعریفیں ہیں۔ ہمارا المیہ ہے کہ اب شجاعت حسین جیسے لوگ وزیراعظم ہوں گے۔ ہمارے لیے یہ شرم کا مقام ہے۔

محمد شعیب، دبئی: صدر مشرف کی پالسیاں پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ جو کچھ ہوا ہے اس میں شاید دونوں کی بہتری ہو گی۔

رئیس احمد خواجہ، کشمیر : ملکی مفاد کے نام پر صدر مشرف تمام طاقت اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ساری طاقت اس لیے اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں تاکہ جب چاہیں سیاستدانوں کے خلاف استمعال کر سکیں۔ یہ سارے سیاستدان اکٹھے ہو کر فوج کو بیرک میں واپس کیوں نہیں بھجوا دیتے۔

سید نواز آفریدی ، پاکستان: یہ ایک آمر کی ظالمانہ کارروائی ہے۔ میں اس کو رد کرتا ہوں۔ ہم پاکستانی فوج سے نفرت کرتے ہیں۔ پاکستانی فوج نے دھوکہ کیا ہے۔ہمیں جمہوریت چاہیے۔

ظہیرالدین، بارڑہ، پاکستان:جمالی کو ہٹانا مشرف حکومت کی بہت بڑی ناکامی ہے کیونکہ جمالی کی ایک دن بھی مشرف سے نہیں بنی اس لیے ان کو مجبوراً استعفیٰ دینا پڑا۔ میں سمجھتا ہوں کہ مشرف حکومت نے پاکستان کو زیادہ ذلیل کروانے کا پروگرام بنا لیا ہے۔

بغیر ہتھیار اور بغیر اوزار
 میرے خیال میں جمالی صاحب بچارے بغیر ہتھیار اور بغیر اوزار کے نیک وزیراعظم تھے۔
مقبول حسین، لاہور، پاکستان

مقبول حسین، لاہور، پاکستان: میرے خیال میں جمالی صاحب بیچارے بغیر ہتھیار اور بغیر اوزار کے نیک وزیراعظم تھے۔

ادریس پروانہ، دیر، پاکستان: جمالی اچھی شخصیت کے مالک ہیں لیکن پاکستان کے لیے مناسب نہیں تھے۔

صالح محمد، راولپنڈی، پاکستان: آرمی نے ایک بار پھر ملک کو فتح کر لیا اور ملک کی عوام کی بے عزتی کر دی۔ شاباش آرمی۔ کاش پاکستان کی عوام کو ہوش آجائے اور وہ اپنے اصل دشمن کو پہچان جائیں۔

امان اللہ صاحبزادہ، لکی مروت، پاکستان: مشرف صاحب نے فوجی بوٹوں تلے سسکتی جمہوریت کوکچل دیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مشرف کو جمہوریت نہیں صرف اپنے لیے وفادار غلاموں کی ضرورت ہے۔

طاہر فاروق، پاکستان: بلوچستان سے وزیراعظم بننے والا پہلا ہی شریف بندہ بڑے بھائی سے ہضم نہیں ہو سکا۔ جمالی صاحب نے حد سے زیادہ شرافت دکھائی۔ انہیں شاید معلوم نہیں تھا کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔

علی اختیار،صوبہ سرحد، پاکستان:یہ اچھا شگون نہیں ہے۔

محمد اشرف، بحرین: وزیراعظم کی تبدیلی نہ پاکستان کے حق میں ہے اور نہ ہی پاکستان آرمی کے حق میں۔ اللہ اس ملک کو بچائے۔

سہیل حیدر، ٹورنو، کینیڈا: وردی اتارنے کی ضد جمالی کو لے ڈوبی۔ حالانکہ وہ اچھا کام کر رہے تھے۔ اور دوسری بات یہ کہ استعفیٰ اتنی جلدی میں لیا گیا کہ دوسرے وزیراعظم کے انتخاب کا بھی انتظار نہیں کیا گیا۔ اگر وہ جیت نہیں سکے تو پھر گھنٹی کس کے گلے میں باندھی جائے گی۔

شبیر اورکزئی، قطر: میرے خیال میں جمالی نے اچھا نہیں کیا اور ہمیں آدھے راستے میں چھوڑ دیا۔ پتہ نہیں جمالی نے یہ قدم کیوں اٹھایا؟ کیا انہیں کچھ خوف تھا؟ کس سے؟ جمالی جیسا وزیراعظم پھر مشکل سے ہی ہاتھ لگے گا۔

شہزاد، ڈنمارک: خیر یہ تو ہونا ہی تھا۔ جمالی صاحب بھی کوئی اتنے شریف نہیں ہیں۔ بلوچستان کے ایک بڑے سمگلر ہیں۔ شجاعت ہی ان کو لائے تھے ۔ جب جونیجو بننے لگے تو گھر چلے گئے۔ اب شوکت عزیز آئیں گے۔ کوئی بات نہیں ۔ انڈیا میں بھی تو فنانس کے ماہر وزیراعظم بن گئے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں۔ رہے جمالی تو انہیں شاید بلوچستان میں وزیراعلٰی بنا دیا جائے۔

شاہد وسیم، پاکستان: ہمارے ملک میں کوئی جمہوریت نہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ ایسی فوجی جمہوریت کو یورپی یونین نے کیوں قبول کیا ہے۔ جمالی صرف نام ہی کے وزیراعظم تھے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ فوج سب کچھ ہے اور امریکہ کی تابعدار ہے۔ شوکت صاحب امریکہ سے آئے ہیں اور اپنے آپ کو ان کا غلام ثابت کریں گے۔

حماد رضا بخاری، پاکستان: جمالی ایک ایماندار وزیراعظم تھے۔ وہ سیدھے، سمجھدار اور مثبت سوچ کے مالک ہیں۔ میں آرمی پر تنقید نہیں کروں گا۔ ملک میں کچھ ایسے لوگ ہیں جونہیں چاہتے کہ کوئی دوسرا حکومت کرے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیشہ ملکی مفاد کو نقصان پہنچایا ہے۔ جمالی نے ملک کو انتشار سے بچانے کے لیے اچھا قدم لیا ہے۔ اصل صدر وہ ہیں اور میں انہیں سلوٹ پیش کرتا ہوں۔

نفرت اور بڑھتی
 جمالی نے خود استعفیٰ دے کر اچھا کیا ہے ورنہ انہیں زبردستی ہٹا دیا جاتا جس سے بلوچستان اور پنجاب میں نفرت اور بڑھتی۔
سلطان خان، پاکستان

سلطان خان، پاکستان: جمالی نے خود استعفیٰ دے کر اچھا کیا ہے ورنہ انہیں زبردستی ہٹا دیا جاتا جس سے بلوچستان اور پنجاب میں نفرت اور بڑھتی۔ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی ان کے پاس کوئی اختیار نہیں تھا۔

شفیق احمد، اسپین: سمجھ میں نہیں آتا کہ جمالی صاحب جیسے لوگ بغیر اختیار کے ہونے کے باوجود ملک کا حکمران بننے کا خواب کیوں دیکھتے رہے۔ ہمارے ملک میں ایک ہی حکومت ہے اور وہ فوج ہے۔ اس کو آرام سے حکومت کرنے دیں۔ اب شجاعت صاحب ذلیل ہونے کا پر تول رہے ہیں۔

خرم محمود، آسٹریلیا: پاکستان کی حفاظت کا نعرہ لگاکر فوج ہمیشہ حکومت کرتی رہے گی۔ میرے دل میں پاکستان کی ملٹری کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔

حفیظ اللہ خان، بنوں سٹی: جمالی صاحب تو شروع سے ہی بےہتھیار تھے، سب کچھ تو جنرل صاحب کے ہاتھ میں ہے۔ پاکستان میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں کسی وزیراعظم نے اپنی آئینی مدت نہیں پوری کی ہے۔ جمالی صاحب کے جانے پر دکھ ہوا لیکن ساتھ ہی مرکزی کابینہ کے ٹوٹنے پر خوشی ہوئی ہے کیونکہ بعض وزراء کرپشن میں ملوث تھے۔

طارق محمود، پاکستان: آزادی کے وقت سے لیکر پاکستان میں حقیقی اقتدار فوج کے پاس رہا ہے جو کہ آج میرظفراللہ جمالی کے استعفٰے سے ثابت ہوگیا ہے۔

جنرلوں کے ڈھول پر ناچ
 اللہ نے جمالی صاحب کو ایک اور زندگی دی ہے عزت کی، اب کوئی اور آئے گا جرنیلوں کی ڈھول پر ناچنے کے لئے، پر آخر کب تک؟
فیصل چانڈیو، حیدرآباد سندھ

فیصل چانڈیو، حیدرآباد سندھ: اللہ نے جمالی صاحب کو ایک اور زندگی دی ہے عزت کی۔ اب کوئی اور آئے گا جرنیلوں کی ڈھول پر ناچنے کے لئے، پر آخر کب تک؟ اور ہم ایسے تماشائی ہیں جو بے بسی سے یہ سب منظر دیکھتے ہیں۔

سلیم ترک، کینیڈا: پاکستان کے ملٹری جنرل مجرم ہیں، جب تک ان کے خلاف اقدامات نہیں کیے جاتے ہیں وہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر نہیں لے جاسکتے۔

شرمین صبا، حیدرآباد سندھ: ہم کب تک ایسے منظر دیکھتے رہیں گے؟ جو جنرل کررہے ہیں کیا صرف ان جنرلوں کو ہی ملک سے پیار ہے۔۔۔؟

شبیر ملک، کرناٹک، انڈیا: جمالی کے استعفٰی پر مجھے کوئی حیرت نہیں ہے۔ یہ خبر ایسی ہی ہے جیسے کسی گلاس کا ٹوٹ جانا۔ پاکستان صدر صاحب کا اپنا گھر ہے وہ جو چاہیں کریں کسی کو بولنے سوچنے کا کیا حق۔ ویسے کب تک صدر صاحب خود کو سب سے زیادہ عقلمند سمجھتے رہیں گے؟

علی کیانی، پرتگال: پاکستان امریکہ اور جنرلوں کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔ جنرل مشرف اسرائیل کے ایجنٹ ہیں جنہوں نے جمالی کو استعفٰی دینے پر مجبور کردیا ہے۔

ہارون رشید ملک، اسلام آباد: جمالی صاحب کو صرف اس لئے ہٹا دیا گیا کہ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ زیڈ اے بھٹو میرے پسندیدہ آدمی ہیں۔ جو آدمی زیڈ اے بھٹو کو پسند کرے اور پرائم منسٹر رہے یہ کیسے ممکن ہے؟

محمد جعفر خان نیازی، حافظ والہ، پاکستان: جمالی صاحب نےبزدلی کا مظاہرہ کیا، ایک سیاست دان کی بزدلی نے جنرلوں کو مضبوط کیا ہے۔

آرمی جمہوریت میں رکاوٹ
 پاکستان صرف اس وقت ترقی کرسکتا ہے جب پاکستان میں جمہوریت ہوگی۔ پاکستانی آرمی ترقی اور جمہوریت دونوں میں سب کی بڑی رکاوٹ ہے۔
اجمل عثمانی، کینیڈا

اجمل عثمانی، کینیڈا: پاکستان صرف اس وقت ترقی کرسکتا ہے جب پاکستان میں جمہوریت ہوگی۔ پاکستانی آرمی ترقی اور جمہوریت دونوں میں سب کی بڑی رکاوٹ ہے۔ جمالی صاحب ایک اچھے اور ڈیموکریٹک انسان ہیں۔

اختر زمان عباسی، دوبئی: پاکستان کے حکمرانوں کی طرف دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے، دل خون کے آنسو روتا ہے، مگر میرے بس میں نہیں کہ سب کو بند کر سمندر میں ڈال دوں۔

سہیل ملک، لندن: اس خبر سے مجھ تعجب نہیں ہوا۔ یہ کرپٹ آرمی ہے جو پاکستان کے تمام مسائل کی جڑ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے حکمران ہیں۔

رانا امتیاز احمد خان، جاپان: یہ کافی افسوسناک خبر ہے اور اس میں شک نہیں کہ مشرف صاحب بھی جائیں گے۔

عبدالرحمان نوری، کینیڈا: جمالی صاحب کٹھ پتلی قسم کی شخصیت ہیں۔ ان کے استعفٰے سے کچھ فرق نہیں پڑے گا۔

زاہد، ٹورانٹو: یہ سب جنرل مشرف کا ’’ٹوپی کا ڈرامہ’’ ہے۔ جو بھی سر ان کی ٹوپی میں فٹ رہے گا۔ وہی پرائم منسٹر ہو گا۔ اور جب سر بڑا ہو کر ٹوپی کو پھاڑنے کی کوشش کرےگا، اس کا حشر جمالی جیسا ہوگا۔

عاطف ریاض، فریال: یہ اچھا فیصلہ نہیں ہے۔

محمد ظہور اعوان، پاکستان: چودھری شجاعت نے میاں نواز شریف کی مخالفت کی تھی کہ پارٹی کا لیڈر وزیراعظم کا عہدے نہں سنبھال سکتا۔ اب وہ کیا کررہے ہیں؟

محمد شاہد، نیویارک: کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی، جو پرویز مشرف کی حمایت کرے گا، وہی کامیاب ہوگا۔ چہرہ تبدیل ہونے سے پالیسی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

ندیم خان، سعودی عرب: ارے بھائی لوگ، جسے امریکہ چاہےگا وہی پی ایم ہوگا، سب امریکہ کے چمچے ہیں، جمالی صاحب شریف آدمی تھے ان کا گزارا مشکل تھا۔ اس لئے چلے گئے۔

شیراحمد بٹ، لاہور: مجھے نہیں معلوم پاکستان کا کیا ہوگا، کیونکہ یہ لوگ مخلص نہیں ہیں اور ملک سے کھیل رہے ہیں۔ وہ استحکام اور ترقی نہیں پیدا کرنا چاہتے۔ مجھے وزیراعظم جمالی کے استعفے پر کافی صدمہ پہنچا ہے۔

محمد عطاءاللہ چودھری، امریکہ: کیا یہ نمرود کی خدائی تھی، بندگی میں میرا بھلا نہ ہوا۔

چودھری برادران نے گیم جیت لی
 جناب! ایسا تو ہونا تھا، لیکن بہت لیٹ ہوا ہے۔ چودھری برادران نے گیم جیت لی ہے، لیکن کب تک جیتیں گے؟
ڈاکٹر الطاف حسین، اٹلی

ڈاکٹر الطاف حسین، اٹلی: جناب! ایسا تو ہونا تھا، لیکن بہت لیٹ ہوا ہے۔ چودھری برادران نے گیم جیت لی ہے، لیکن کب تک جیتیں گے؟ میاں اظہر کو ہرایا، جمالی کو بھی ہرالیا، ایک دن خود بھی ہار جائیں گے۔ پاکستانی سیاست پر کوئی بھی اثر نہیں پڑے گا۔ بس باقی آخری مرحلہ ہے جنرل صاحب کے لئے۔۔۔۔

عزیز خان، پشاور: جب کہیں ملکی ترقی پر ذاتی مفادات کو ترجیح دینا شروع کردے تو ایسا ہی ہوگا۔ پاکستانیوں کی قسمت میں پوری مدت والی حکومت کہاں؟

سراج الحق، میانوالی: ہمارے ملک میں جمہوریت نہیں پنپ سکتی۔ جو بھی ہوا، ملک اور جمہوریت کے لئے اچھا نہیں ہے۔ ہم نے لوگوں کو اپنے اوپر ہنسایا۔ اللہ کرے، نئے وزیراعظم کے پاس کچھ اختیارات بھی ہوں۔

عمران جلالی، ریاض: وہی ہوگا جو منظور خدا ہوگا یا جو منظور مشرف ہوگا۔ یہ تو ایک نہ ایک دن ہونا ہی تھا۔ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔

ب خان یوسف زئی، سرحد: سیاست کے ساتھ ظلم ہوا۔

مدثر چودھری، سول، جنوبی کوریا: یہ سب کرسی کے کھیل ہیں۔ چودھری شجاعت اینڈ کمپنی کب تک انتظار کرسکتے؟ کِنگ مشرف کی نظرعنایت پڑ گئی تو یہ انعام ملنا ہی ہے شجاعت کمپنی کو اتنی وفاداری کے بعد۔۔۔

محمد احمد، امریکہ: عوام میں پاپولر لیڈر تو وہ پہلے بھی نہیں تھے۔ ان کو ایسٹیبلیشمنٹ سامنے لائی تھی اور اسی نے ہی گھر بھیج دیا۔ ایسا تو ہوتا ہی ہے اس طرح کے کاموں میں۔

کامران خان، ٹورانٹو: یہ ایک اچھا اقدام نہیں ہے۔ ملک کے وزیراعظم کو ایک چپراسی کی طرح نکال دینا ملکی اداروں کی کمزوریوں کو ظاہر کررہا ہے۔ کیا نواز شریف جب یہ کررہے تھے تو فوج کو پسند آیا تھا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کو چپراسی کی طرح نکال دیا جائے؟ فجو کو یہ برداشت نہیں ہوا اور اس نے نواز شریف کو وزارت عظمی سے نکال دیا۔ ملک میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ نیا وزیراعظم آجائے گا جو ایسٹبیلیشمنٹ کا غلام ہوگا۔

جاوید، جاپان: کچھ بھی نہیں ہوگا، کوئی تبدیلی نہیں آئے ہوگی، پالیسی وہی ہوگی، سب سے پہلے جرنل نے بنانے ہیں اور وہ ہمیشہ ایک ہی رہیں گے۔۔۔۔

عمر فاروق، اٹک: یہ انیس ماہ قبل ہی ہونا تھا لیکن جیسا کہ وہ فارسی میں کہتے ہیں ”دیر آید درست آید”

غلام نبی شیخ، سندھ یونیورسٹی: میرجمالی اچھے آدمی تھے۔ ان کو استعفی نہیں دینا چاہئے تھا۔ اس سے اچھا اور شریف انسان پاکستان کے لئے پرائم منسٹر نہیں مل سکتا۔ اس لئے اس کو واپس بلاؤ۔۔۔

فراز سید، فلوریڈا: ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے۔۔۔۔

دیکھئے مشرف کب جاتے ہیں
 ہمارے ملک پاکستان کا یہ المیہ رہا ہے کہ نہ کوئی اپنی مرضی سے آتا ہے اور نہ ہی مرضی سے جاتا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ مشرف صاحب کب جاتے ہیں۔
محمد عرفان، یونائٹیڈ کِنگڈم

محمد عرفان، یونائٹیڈ کِنگڈم: ہمارے ملک پاکستان کا یہ المیہ رہا ہے کہ نہ کوئی اپنی مرضی سے آتا ہے اور نہ ہی مرضی سے جاتا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ مشرف صاحب کب جاتے ہیں۔ اور ویسے بھی جمالی صاحب کو خوش ہونا چاہئے کہ زندہ سلامت چلے گئے۔ پاکستان کے فوجی صدور کو یہ سہولت کم دستیاب ہے۔

احمد اقبال، میلانو، اٹلی: پاکستانی نام نہاد سیاست کے ٹھیکیداروں کی سیاست کے عظیم کارنامے کو سلام۔

غلام فرید شیخ، سندھ: اب پرویز مشرف کا اسٹاف آفیسر اور باس کہنے والا تو چلا گیا، اب کون اسٹاف آفیسر آرہا ہے، چودھری شجاعت یا کوئی اور۔۔۔۔

محمد احمد سیدھو، بورے والا: میرے خیال میں ہے کہ پرویز صاحب جمہوریت کا مزاق اڑا رہے ہیں اور چودھری شجاعت صاحب اگر اپنے محسن نواز شرفی کے ساتھ غداری کرسکتے ہیں تو جمالی صاحب کیا ہیں۔ یہ تمام لوگ عوام کے ساتھ مزاق کررہے ہیں اور اس کے سوا کچھ نہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد