شیخ یاسین کے قتل پرآپ کی رائے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی افواج نے فلسطینی شدت پسند تنظیم حماس کے بانی شیخ احمد یاسین کو ہلاک کردیا ہے۔ شیخ یاسین حماس کے روحانی رہنما بھی تھے۔ اسرائیلی فوج نے انہیں اسرائیلیوں کے خلاف خودکش حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ حماس نے ان کے قتل پر جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ غزہ سے بی بی سی عربی سروس کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ انہیں صبح کی نماز کے لئے ان کی وہیل چیئر پر مسجد کی طرف لے جایا جا رہا تھا کہ انہیں ایک اسرائیلی میزائل آلگا۔ اسرائیل حماس کے کارکنوں کے خلاف کارروائی کرتا رہا ہے۔ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں رحمت اللہ رحمت، افغانستان: میرے خیال میں یہ دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا واقعہ ہے اور وقت آگیا ہے کہ مسلمان اسرائیل کے خلاف متحد ہو جائیں۔ مسلمانوں کے لئے خودکش حملے واحد راستہ ہیں کیوں کہ ہم ان جدید ٹیکنالوجی کی طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ احمد حسن قریشی، نیویارک: نبی نے کہا ہے کہ کفر کبھی اسلام کا دوست نہیں ہوسکتا۔ جو لوگ ان سے دوستی کر رہے وہ جان لیں کہ یہ کبھی اسلام کے دوست نہیں ہو سکتے۔ محمد ثاقب احمد ثاقب، بہار: شیخ یاسین کی شہادت یہ ثابت کرتی ہے کہ نام نہاد مہذب کتنے ظالم ہیں اور ہمارے حکمران کتنے بزدل، مفاد پرست اور اسلام دشمن۔ انہیں صرف اپنی حکمرانی چاہئے، چاہے اسلام دشمن قوتوں کے جوتے چاٹنے کے لئے انہیں اپنے لوگوں کی لاشوں کے انبار کیوں نہ لگانے پڑیں۔ مسلمانوں کو اپنی جدوجہد بڑے ہی استقلال، صبر اور دور اندیشی سے مسلسل جاری رکھنی ہوگی۔ نعمان احمد نعمان، اسلام آباد: اسرائیل نے شیخ یاسین کو شہید کرکے جہنم کا دروازہ اپنے اوپر کھول لیا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب ساری دنیا کے مسلمان مل کر اسرائیل کے خلاف جدوجہد کریں گے اور فتح اسلام کی ہوگی۔ اس کاروائی سے سوئی ہوئ امتِ مسلمہ جاگ اٹھی ہے اور عنقریب دنیا بہت بڑی جنگ کی گرفت میں ہوگی۔ اسد: امریکی نقشہِ راہ کی اصل حقیقت شیخ احمد کی دردناک رخصت سے واضح ہوجاتی ہے۔
جاوید سوراٹھیا: شیخ احمد یاسین کی شہادت نے فلسطینیوں میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ فلسطینی اپنی آزادی اور بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اسرائیل نے جن بے گناہوں کو قتل کیا ہے ان کے گھر سے کوئی نہ کوئی شیخ یاسین ضرور جنم لے گا۔ حماس کو شدت پسند کہنا بی بی سی اردو یا کسی بھی میڈیا کو زیب نہیں دیتا۔ ان کے پاس اور کیا راستہ آزادی کے لئے لڑنے کا؟ شیخ یاسین کو فلسطینیوں کا اسامہ بن لادن قرار دینے کی وجہ صرف اہلِ مغرب کو باور کرنا ہے کہ ہم نے تو صرف ایک دہشت گرد کو مارا ہے۔ ایرئیل شیرون کے ہر ظلم کا بدلہ ان کی آنے والی نسلیں صدیوں تک بھگتیں گی اور یہی مغرب تماشا دیکھے گا اور تالیاں بھی بجائے گا۔ محمد شاہد، پاکستان: مسلم امہ میں اتفاق نہیں ہے اس لئے ایسا ہوا ہے۔ اے، زی خان، افغانستان: شیخ یاسین کی شہادت اسرائیلی دہشت گردی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اگر اب بھی مسلمان خوابِ غفلت سے نہ جاگے تو شاید اللہ بھی ہمیں معاف نہ کرے۔ آصف، کوئٹہ: میرے خیال میں اس المناک شہادت کے بعد مسلمانوں کی اور خصوصا مسلم حکمرانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں کہ اسرائیل اور امریکہ کے مقاصد کیا ہیں۔ حق نواز، اعظم گڑھ، انڈیا: حماس کے رہنما کی ہلاکت کی خبر سن کر مجھے کافی صدمہ پہنچا ہے۔ اس کے بعد اسرائیل کے خلاف ایک خطرناک جنگ شروع ہوگی۔ محمد توقیر ارشد، بہاولپور: میرے خیال میں یہ واضح ہے کہ مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں۔ بلکہ صرف غیرمسلم حکومتیں دہشت گرد ہیں۔ وہ پوری دنیا میں مسلمانوں کا قتل کرتی ہیں۔ کاشف قریشی، نواب شاہ، پاکستان: اسرائیل سمجھتا ہے کہ اس نے بہت بڑا کام کرلیا ہے۔ اسے معلوم ہونا چاہئے کہ ایک معذور آدمی نے وہیل چیئر پر بیٹھ کر اپنے ملک کے لئے جو کام کیا وہ اسرائیلی کی ساری فوج بھی نہیں کرسکتی۔ زاک خان، لندن: میرے خیال میں اسرائیل کا حق بنتا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لئے اقدام کرے۔ شیخ یاسین کا قتل کرنے سے دنیا کم خطرناک ہوئی ہے۔ اس قدم سے دنیا میں نفرت پھیلے گی، بالخصوص مسلم دنیا میں۔ یہ تشویش کی بات ہے۔ اشتیاق حمدانی، ماسکو: فلسطین کی آزادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اسرائیل کا امریکہ کا ساتھ ہے۔
سوہار شوریر، اسرائیل: کچھ دہشت گرد گروہوں کے ساتھ یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ وہ اپنے ’روحانی‘ رہنماؤں کو ’عسکری‘ رہنماؤں سے الگ کرکے انہیں نفرت پھیلانے کے لئے کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے رہنما اپنے پیروکاروں کو خون خرابے کے راستے پر چلادیتے ہیں اور خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ اگر ان کو خود ہی بھگتنا پڑے تو شاید کچھ تبدیلی آئے گی۔ نامعلوم: جب تک اسرائیل اور پاکستان دنیا میں ہیں آپ کو امن نصیب نہیں ہوگا۔ شاہد بھٹی، نیو ملتان: میرے خیال میں اسرائیل کی یہ کارروائی مجرمانہ ہے۔ پرویز، پاکستان: میری عمر پینتالیس سال ہے۔ اور میرا تعلق پاکستان سے ہے لیکن اب میں خودکش حملوں کے لئے تیار ہوں۔ اسرائیل کا صفحۂ ہستی سے خاتمہ بہت ضروری ہے کیونکہ اسرائیل انسانیت کے لئے خطرناک ہے۔ مظہر اقبال، امریکہ: یہ ایک سفاکانہ اور غیرقانونی عمل ہے جس سے علاقے میں امریکہ اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے امن کے لئے کی جانیوالی کوشش کو نقصان پہنچے گا۔ جیف، انگلینڈ: بدقسمتی سے اسرائیل نے بھی بش کے اس عقیدے کو مان لیا ہے کہ اگر آپ بلا کا سر کاٹ دیں تو دہشت گردی کا خاتمہ ہوجائے گا۔
ارشد خان، پشاور: مجھے شیخ یاسین کی شہادت پر بہت افسوس ہوا۔ یہ دہشت گردی ہے۔ امریکہ کو تو صرف بےگناہ مسلمان نظر آتے ہیں۔ خود امریکہ نے پوری دنیا میں ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ شائی، جوہانسبرگ: شیخ یاسین کو وہ موت نصیب ہوئی جس کا وہ خواب دیکھتے تھے، اپنے پیروکاروں کے لئے شہید بننے کا۔ اسرائیل کو امید رکھنی چاہئے کہ یہ لوگ نہ بھولیں کہ وہ حماس سے منسلک رہنے کے بعد بھی بچے رہیں گے۔ شاہد ہاشم، کراچی: شیخ یاسین کی شہادت کے بعد اسرائیل کو سمجھ لینا چاہئے کہ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔ شیخ یاسین کی شہادت کے بعد کتنے مزید شیخ یاسین پیدا ہونگے۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: ایک مسلمان ہونے کے ناطے ظلم کی حمایت تو ہو نہیں کر سکتی، ایک بزرگ رہنما، معذور شیخ پر اس طرح حملہ کرنا بزدلانہ کارروائی ہے۔ میں اس کی پروزور مزمت اس لئے نہیں کرتی کہ وہ مسلم تھے، دہشت گردی تو دہشت گردی ہی ہے کوئی بھی اس کو اچھا نہیں کہہ سکتا۔ اور اسرائیل اس سے مکر بھی نہیں رہا، خود قبولا جارہا ہے تو اب باقی کیا رہ جاتا ہے؟ اسی کو تو کہتے ہیں سینہ زوری کرلو جو کرنا ہے۔ بشارت حامد، فیصل آباد: یہ ایک بزدلانہ کارروائی ہے جس کا کوئی جواز نہیں تھا۔ اب کہاں ہیں وہ عالمی امن کے ٹھیکےدار؟ ایک معذور آدمی کو شہید کرکے کیسے امن قائم ہوسکتا ہے؟ مدثر علی چودھری، بینگ کاک: میرے خیال سے یورپی ممالک اور امریکہ دہشت گردی کے خلاف لڑنا تو چاہتے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ وہ یہ نہیں جاننا چاہتے کہ دہشت گردی کیوں ہوتی ہے۔ حیدر جعفری، نیویارک: اسرائیل کی ڈرپوک حکومت اور کر بھی کیا سکتی ہے سوائے معذور اور مجبور انسانوں کے قتل عام کے۔ ہم اس قتل کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ یہ سب بڑی دہشت گردی ہے۔
تبارک سیال، کراچی: اب تو خدا ہی اسرائیل کی حفاظت کرے۔ اس نے شہد کی مکھی کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہے اور شیخ یاسین جیسا شہید اور مجاہد شاید ہی کہیں ہم کو ملے۔ محمد اعجاز میاں، لندن: یہ ایک بزدلانہ اقدام تھا۔ میں اس کی پرزور مزمت کرتا ہوں۔ محمد طارق، ڈیرہ غازی خان، پاکستان: اسرائیل نے شیخ یاسین کو شہید کرکے اپنی وجود کو فینِش کرنے کی کوشش کی ہے۔ مومن کمال، مانٹریال: شیخ یاسین کے قتل کے بعد اسرائیل کا اخلاقی جواز ختم ہوگیا ہے۔ عبداللہ، پاکستان: شیخ یاسین کے قتل سے مسلمانوں کی کمزوری واضح ہوگئی ہے۔ اس مسلمانوں کے درمیان عدم استحکام ثابت ہوا ہے۔ مسلم حکومتیں فلسطینیوں کی حمایت نہیں کررہی ہیں۔ احتشام فیصل چودھری، شارجہ: میرے خیال میں یہ ’دہشت گردی‘ کی بدترین شکل ہے۔ اسرائیل کے اس قابل نفرت فعل سے امن کی طرف جانیوالے راستے منجمد ہوگئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ دنوں میں تشدد اپنی تمام تر ہولناکیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوگا۔ عادل، کراچی: ہر جابروقت آنے پر سمجھتا ہے۔۔۔۔
طلعت جعفری، یونان: شیخ احمد یاسین کی المناک موت ایک ایسا واقعہ ہے جس کی جس قدر مزمت کی جائے کم ہے۔ اور یہ مزمت محض اس لئے نہیں کہ شیخ یاسین ایک مسلم تھے اور اسرائیل نے ان کا قتل کیا ہے۔ محمد زبیر، راولپنڈی: یہ دہشت گردی ہے۔ آدم، ملیشیا: ایک معذور شخص کا قتل؟ کیا یہ اسرائیل کے خاتمے کی نشانی نہیں ہے؟ ریاض عبدالنور، شام: اسرائیل کی جانب سے یہ ایک اور مجرمانہ کارروائی ہے۔ رِک پِٹروسیاک، امریکہ: یہ ایک ظالمانہ قدم ہے۔ میں اسے دہشت گرد حملہ سمجھتا ہوں۔ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت کی پالیسی سے دونوں فریقین اندھے ہوجاتے ہیں۔ ثنا جہانزیب خان، کراچی: شیخ یاسین کے قتل سے شدت پسندی میں اور اضافہ ہوگا اور انتقام کی آگ بھڑکے گی۔
ایوا کلین، اسرائیل: اسرائیل شدت پسند گروہوں کو کمزور کرنے کے لئے جو کچھ کررہا ہے وہ بالکل صحیح ہے۔ اسی طرح ہی ہم مستقبل میں ایک فلسطینی ریاست کے ساتھ امن میں رہ سکیں گے۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ شدت پسندی سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ ماجد الزبیدی، اردن: شیخ یاسین کے اس طرح قتل سے ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکومت نہ تو امن چاہتی ہے او نہ ہی فائربندی۔ اسرائیل اس غلط فہمی میں ہے کہ اس کی اس طرح کی کارروائیوں سے فلسطینی سرجھکادینگے۔ یاسیم، غزہ شہر: خود کش حملوں سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ امن ہی واحد راستہ ہے۔ اب جب کہ شیخ یاسین کا قتل ہوگیا، فلسطینی لوگوں کو احساس ہوگا کہ امن ہی ایک راستہ ہے۔ محمد آدم، کراچی: شیخ یاسین کا یہ قتل ہم مسلمانوں کے لئے نیا نہیں، چاہے اسرائیل ہو یا امریکہ، یا چاہئے انڈیا۔ ہم مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی اس قتل و غارت گری کے ہم خود ذمہ دار ہیں۔ جب ہم لوگوں میں خود ہی اتفاق نہیں ہوگا تو ہم کیا کرلیں گے؟ ویسے اسرائیل کی یہ انتہائی بزدلانہ کارروائی ہے اور میں اس کی شدید مزمت کرتا ہوں۔
مشال، کویت: حقیقت یہ ہے کہ ایک طاقتور ملک سے لڑائی کرنا عقل مندی نہیں ہے، اور ایک ایسے کرِمنل سے جس کے پاس وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔ فلسطینی ہر کام جلدی میں کرنا چاہتے ہیں، اسرائیلیوں کا قتل کرتے ہیں اور پھر یہ امید کرتے ہیں کہ وہ اس کا بدلہ نہ لے گا۔ اگر حماس جوابی کارروائی کرتا ہے اسرائیل اور خون خرابہ کرے گا۔ اور وہ طاقتور ہے۔ رونی، اسرائیل: آپ کسی شدت پسند تنظیم کے رہنما کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ بار بار خود کش حملوں کی ترغیب دیں اور آپ خاموش بیٹھے رہیں۔ محمد طیب، کینیڈا: بہت برا ہوا۔ اسرائیل نے شیخ ایم یاسین کا قتل کرکے اپنے لئے مصیبت کھڑی کردی ہے۔ سینڈی سمیر رمزی، مصر: میرے خیال میں شیخ یاسین کے قتل پر کوئی تعجب کی بات نہیں ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ فلسطینی خودکش حملوں کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے قتل عام شروع کیا اور خود مارے گئے۔ نسیم اکرم، کراچی: اللہ شیخ صاحب کو جنت الفردوس عطا کرے اور ان پر اپنی لاکھوں رحمتیں نازل کرے۔ اسرائیل نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماردی ہے اور اسے اس کا حساب خودکش حملوں کی شکل میں مل جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||