بھٹو کی پھانسی کا دن: آپ کی یادیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پچیس سال قبل پاکستان کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو چار اپریل کی صبح پھانسی دے دی گئی۔ ان کی عمر اس وقت اکیاون برس تھی۔ پھانسی سے ایک دن قبل ان کی بیگم نصرت بھٹو اور بیٹی بے نظیر بھٹو نے ان سے ملاقات کی اور انہیں بتایا گیا کہ یہ ان کی ذوالفقار علی بھٹو سے آخری ملاقات ہے لیکن فوجی حکومت نے اس بات کی تردید کی کہ انہیں پھانسی دی جانے والی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں راوالپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں صبح دو بجے پھانسی پر لٹکایا گیا۔ ان کی سزائے موت پر عمل درآمد کا اعلان دن کے گیارہ بجے ریڈیو پر کیا گیا اور ان کے خاندان کو ان کی آخری رسومات میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس دن پاکستان کی گلیوں میں ایک غیرمعمولی ویرانی اور خاموشی طاری رہی۔ اس دن کی اپنی یادیں یا اپنے والدین اور عزیزو اقارب کی یادیں ہمیں لکھ بھیجیں۔
احسان شیخ، ناروے: میں اس دن اپنے بھائی کو لاہور ریلوے اسٹیشن لے جارہا تھا۔ لگ بھگ صبح کے سات بجے تھے۔ ایم سی روڈ پر ایک لڑکا بھٹو کی ’پھانسی‘ پر ایک اردو ضمیمہ بیچ رہا تھا۔ میں دیکھ کر پریشان ہوگیا، اپنے بھائی سے گفتگو جاری نہیں رکھ سکا، میں بھٹو کا حامی نہیں تھی لیکن حکومت کی جانب سے اس کے ساتھ ایسا سفاکانہ رویہ۔۔۔۔ وقاص احمد، لاہور: میں جب بھی بھٹو کے بارے میں کچھ بھی پڑھتا ہوں یا سوچتا ہوں، میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ میں محبت پر یقین نہیں رکھتا تھا لیکن اب مجھے یقین ہے۔ میری عمر بائیس سال ہے، بھٹو کو میری پیدائش سے پہلے ہی پھانسی دیدی گئی تھی۔ افتخار رانا، دوبئی: بھٹو ایک عظیم رہنما تھے۔
مِس سعید اعوان، جاپان: اس دن سب لوگ رورہے تھے اور مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیوں رو روہے ہیں۔ پھر امی نے بتایا۔ اور مجھے آج بھی یاد ہے کہ نانا اور ابو نے دس تک کھانا نہیں کھایا تھا۔ اختر: بھٹو واقعی ایک زبردست شخصیت کا مالک تھا۔ آج جب میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں سے اس کے جراتمندانہ موقف اور وہاں سے واک آؤٹ کرنے کا منظر ٹی وی پر دیکھتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ واقعی ہم نے ایک بہت بڑا لیڈر کھو دیا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بینظیر میں اپنے والد کی کوئی خوبی نہ آسکی۔ شہباز جمال سردار، کراچی: مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس دن پورا مالک اداس تھا، خود ہمارے گھر میں بھی اداسی چھائی ہوئی تھی، میری بڑی بہن سیما جو اب اس دنیا میں نہیں ہے، اس دن کھانا نہیں کھائی۔ پتہ نہیں کہ بھٹو کی پھانسی جائز تھی یا نہیں، لیکن یہ فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیا جائے۔ منزی، کینیڈا: اپنے کیریئر میں بھٹو نے غلطیاں کی، اور سب سے بڑی غلطی تھی بنگلہ دیش۔ لیکن وہ واحد لیڈر تھے جن کے پاس سیاسی بصیرت تھی، جس کی وجہ سے وہ پاکستان اور پوری مسلم دنیا کی رہنمائی کرسکتے تھے۔ یاسر نقوی، کراچی: میں تو بہت چھوٹا تھا اور مجھے ہلکا یاد ہے کہ میری امی روئیں تھیں بہت۔ میں نے سنا بھی ہے اور دیکھا بھی ہے کہ بھٹو جیسا آدمی اب پاکستان کو نہیں مل سکتا۔ وقاص احمد، رحیم یار خان، پاکستان: میں اپنی رائے کیا دوں، کوئی بھی رائے کیا دے سکتا ہے۔ صرف اتنا کہوں گا کہ بھٹو واز دی بیسٹ۔ میں بھٹو سے پیار کرتا ہوں، وہ سب لوگ جو بھٹو کو غلط کہتے ہیں، وہ کچھ نہیں جانتے۔ امین، کینیڈا: شاہ فیصل اور بھٹو کے قاتل مسلم دنیا کے لئے نقصاندہ ثاب ہوئے۔
بلال عباسی، سعودی عرب: میرے خیال میں وہ دن پاکستان کی تاریخ کا سب سے تاریک دن تھا جس دن عظیم بھٹو کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا۔ میں بھٹو کے قتل کے لگ بھگ ایک سال بعد پیدا ہوا۔ جب میں اپنے داداد جان سے کوئی کہانی سنانے کو کہتا تو وہ رو رو کر بھٹو کی کہانی سناتے۔ وہ اکثر کہتے کہ کاش مجھ کو پھانسی دیدیتے لیکن بھٹو کا قتل نہیں ہوتا۔۔۔۔ محمد عاصف لودھی، پاکستان: بھٹو جیسے آدمی صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ کبیر احمد، بلجیئم: اور تو کچھ یاد نہیں، البتہ اتنا یاد ہے کہ یہی وہ بھٹو تھے جس نے شملہ میں کشمیری قوم کا صدقہ کیا تھا۔ تاریخ شاہد ہے کہ جس نے بھی کشمیر یا کشمیریوں کے ساتھ برا سلوک کیا اس کو بہت سخت سزا ملی۔۔۔۔ جاپانی سپیشل: ایک مجرم کو پھانسی ہی ملا کرتی ہے اور یہ انصاف کے لئے ضروری ہے۔۔۔ ورنہ ہر پھانسی پانے والے کی کہانی دردناک ہوتی ہے۔ بی بی سی جیسے ادارے اگر صحیح کردار ادا کریں اور گڑھے مردے نہ اکھاڑیں تو کچھ بہتری پیدا ہو سکتی ہے لیکن مجھے پتہ ہے کہ میری رائے ویب سائٹ پر نہیں چھاپی جائے گی۔ عمر فاروق، برمنگھم: میرے خیال میں وہ سب غلط، ناجائز اور غیر انسانی ہوا کیونکہ اس کام کے پیچھے ’بہادر اور مقدس گائے‘ یعنی ہماری فوج تھی۔ سید حق، ٹیکساس: مجھے بس یہ یاد ہے کہ اس روز ایک خصوصی ضمیمہ شائع کیا گیا تھا اور ایک نوجوان ہوا میں ضمیمے کی کاپی لہراتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ ’بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔۔۔‘ طاہر سلیم، پاکستان: میں ان دنوں چھوٹا سا بچہ تھا جو اچھے برے میں زیادہ تمیز نہیں کر سکتا لیکن نہ جانے کیوں مجھے بھٹو صاحب سے لو ہو گیا تھا اور اس راز کو میں آج تک نہیں سمجھ سکا۔ میرے خیال میں یہ ہمارے ملک کا سب سے بڑا نقصان تھا کہ ہم نے اتنا بڑا لیڈر کھو دیا اور ہماری قوم آج تک اس کی سزا بھگت رہی ہے۔ صفدر ندیم، جرمنی: موت کا ایک دن مقرر ہے مگر ایسی اور ایسے انسان کی موت کبھی نہیں بھلائی جا سکتی۔ بھٹو صاحب جیسے انسان صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور ان کی کمی بھی صدیوں رہتی ہے۔ ہمارے ملک کو آج بھٹو صاحب جیسے انسان کی ضرورت تھی مگر افسوس کہ ایک انسان کی ضد کی وجہ سے ہم نے اپنا اور اپنے ملک کا نقصان کیا۔ فواد فراز، نیو جرزی: بلاشبہ بھٹو نے ملک کے لئے بہت کچھ کیا مگر جتنا اچھا کیا اس سے کہیں زیادہ برا بھی کیا۔ ان کی ضد اور حکومت کرنے کے لالچ نے پاکستان کے دو ٹکڑے کر دیئے۔ ہزاروں بہاری آج بھی محصورین کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر وہ آج بھی زندہ ہوتے تو ملک کے دو یا تین ٹکڑے اور ہو جاتے۔ سانجھہ پالیجو، ٹھٹھہ: ’جب پرچم جاں لیکر نکلے ہم خاک نشیں مقتل مقتل، اس وقت سے لے کر آج تلک جلاد پہ ہیبت طاری ہے‘۔
شاہدہ اکرام، ابوظہبی: اتنے سال گزر گئے اور لگتا ہے کہ کل کی بات ہے۔ ابو نے صبح صبح بی بی سی کی خبریں لگائی تھیں جن کا ایک ایک لفظ مجھے ابھی تک یاد ہے کہ بھٹو صاحب کی پھانسی کے کاغذات ابھی تک ضیاءالحق کی میز پر ہیں اور ان پر ابھی تک دستخط نہیں ہوئے۔ ضیاء صاحب ابھی تک اس پر غور کر رہے ہیں، سمجھ میں نہیں آتا کہ انہوں نے کیا سوچا ہے اور اس وقت تک بھٹو صاحب کو پھانسی ہوچکی تھی۔ ہماری صبح بی بی سی کے میوزک اور ابو کی آواز سے ہوا کرتی تھی۔ وہ وقت یاد کرتے ہوئے بہت کچھ یاد آرہا ہے اور کی بورڈ دھندلا رہا ہے۔ لیکن آپ نے بھی تو یادیں ہی لکھنے کو کہا ہے ناں۔ جب بی بی سی جتنا مضبوط ادارہ کچھ نہ سمجھ سکا تو ہم سب بھی مطمئن ہوگئے کہ کچھ نہیں ہوا لیکن جب گیارہ بجے کی خبروں میں نیوز ریڈر نے ایک ہی سانس میں پوری خبر سنا دی اس آخری جملے کے ساتھ کہ ان کو دفنا بھی دیا گیا ہے تو بےاختیار سب کی چیخیں نکل گئیں۔ میری آنکھوں کے سامنے وہ منظر آج بھی گھوم رہا ہے۔ ہم سب رو رہے تھے اور میری بہن جو اسی وقت سکول سے آئی تھی، دروازے کے ساتھ کھڑی بری طرح رو رہی تھی۔ گلیاں اور بازار اتنی تیزی سے سنسان ہوئے کہ جیسے یہاں کبھی کوئی تھا ہی نہیں۔ کچھ دن پہلے ہی ہمارے پیارے ماموں جان کی وفات ہوئی تھی اور ہمارے گھر میں بہت لوگ آ جا رہے تھے، امی کہا کرتی تھیں کہ میں نے اس سے پہلے خواب میں اپنے دو دانت ٹوٹتے دیکھے تھے، بھائی جان تو چلے گئے، اللہ رحم کرے دوسرا دانت کیوں ٹوٹا؟ بھٹو کی پھانسی پر وہ بے اختیار کہتیں، دیکھا میں کہتی تھی ناں، بھٹو بھی میرے بھائی ہی تھے۔ ہوسکتا ہے آپ کو یہ باتیں جذباتی لگیں لیکن وہ لمحات ہی کچھ ایسے تھے۔ بعد میں مجھے میرے شوہر نے بتایا کہ بھٹو کی ذاتی چیزیں لاڑکانہ لے جانے والے سی ون تھرٹی میں وہ بھی شامل تھے۔ یقین نہیں آتا کہ یہ وقت گزر گیا۔ صالح محمد، راوالپنڈی: یہ صحیح بات ہے کہ پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جس کے لوگوں نے نہ صرف اس وقت خودسوزی کی بلکہ آج بھی یہ ہو چکا ہے۔ بھٹو ایک عظیم رہنما تھے اور ہم نے ان کو بھی پھانسی پر لٹکا دیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان ابھی تک غیر ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا ہے۔ نیک محمد بھنگر، نواب شاہ: بھٹو ایک عظیم رہنما تھے جنہیں پاکستانی حکومت نے بغیر کسی وجہ کے پھانسی پر چڑھا دیا۔ آج ہم سب یہ جانتے ہیں اور اس ملک میں رہتے ہوئے عدم تحفظ کا شکار محسوس کرتے ہیں۔ کیوں کہ ہمیں نہیں معلوم کب ہمیں بغیر کسی وجہ کے مار دیا جائے۔ یہ ملک عراق سے کم نہیں اور حکام صدام اور اسامہ سے کم نہیں۔
فیروز برہان پوری، کراچی: میں اس دن دوہا، قطر میں تھا جب میں نے صبح بی بی سی پر شاید جیلانی یا علی احمد خان صاحب کی آواز میں سنا کہ اس وقت راوالپنڈی میں صبح ہوا چاہتی ہے، سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے، چار فوجی ٹرک جیل سے نکل کر شاید فوجی ایئر بیس کی جانب جا رہے ہیں اور وہ تفصیل دی جو بی بی سی کا طرہِ امتیاز ہے۔ میں نے ریڈیو بند کر دیا اور بستر پر لیٹ کر سوچنے لگا کہ وہ طمطراق، کرسی پر گھونسے مار کر یہ کہنا کہ یہ بڑی مضبوط ہے، جلسوں میں اس کا اندازِ تخاطب اور معاملہ فہمی، شیطانی مسکراہٹ اور ہٹ دھرمی جس کی تصدیق خوشونت سنگھ نے بھی ’زلفی میرا یار‘ اور اوریانہ فلاچی نے بھی کی، سب کیا ہوئے۔ بھٹو کی پھانسی پر لوگ سمجھتے تھے کہ ایک طوفان آجائے گا لیکن ایک پٹاخہ بھی نہ پھوٹا اور اس کی کابینہ کے ایک وزیر نے اس دن اپنی شادی رچائی۔ میری ماں جو پورے گھر سے ناراض ہوکر ستتر کے انتخابات میں اسے ووٹ دے کر آئی تھی، اس دن بہت روئی۔ آج وہ بھی کہتی ہے کہ بھٹو نے ملک کو دو ٹکڑے کر دیا۔ اس دن تارا مسیح نے اس کو پھانسی دے کر تین ہیروں والی انگوٹھی اور دستی گھڑی زینتھ اتار لی اور وہ کچھ نہ کر سکا، ان کے لئے درسِ عبرت تھا جو یہ سمجھتے تھے کہ کوئی ان کا کچھ نہیں کر سکتا۔ یوسف خان، منگورہ: وہ دن میرے لئے باپ کی موت سے کم نہیں تھا۔ میں کالج میں ایف ایس سی کا طلبِ علم تھا اور میرا پختون سٹوڈنٹ فیڈریشن تعلق تھا۔ چار اپریل کو میں پشاور سے موٹرسائیکل کی بیٹری خریدنے گیا ہوا تھا۔ میں رات ہوٹل میں گزار رہا تھا کہ اچانک میری آنکھ اس آواز پر کھل گئی کہ بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ میں فوراً اپنے کمرے سے باہر نکلا اور فوراً اخبار فروش سے وہ چھوٹا سا ٹکڑا پانچ روپے میں خریدا۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ بھٹو کو پھانسی بھی ہوسکتی ہے۔ غم سے نڈھال میں کمرے کی طرف گیا اور دوست کو اخبار دکھایا۔ ہم دونوں ہوٹل سے باہر نکلے تو بازاروں پر خاموشی طاری تھی۔ لگتا تھا جیسے ہر گھر میں کوئی مر گیا ہو۔ میں نے دل میں فیصلہ کر لیا تھا کہ اب میں پیپلز پارٹی میں شامل ہوں گا۔ میں نے پختون کو خیرآباد کہا اور پیپلز سٹوڈنٹ فیڈریشن میں شامل ہوگیا۔ ضیاء الحق کے بعد جب بےنظیر کی حکومت آئی تو میں بہت خوش تھا لیکن جلد ہی سیاست سے جی بھر گیا اور میں نے اسے ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا۔ اب میں ووٹ دینا بھی گناہ سمجھتا ہوں لیکن بھٹو کی شخصیت اور چار اپریل کا وہ دن میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ غالب بریالائی، پشاور: بھٹو کی موت ایک عدالتی قتل اور پاکستان کے عدالتی نظام کے منہ پر ایک طمانچہ تھا۔
پرویز احمد میمن، رانی پور: ہمارا ان دنوں جناح ہاؤسنگ سوسائٹی، کراچی میں گھر تھا اور میرے پڑوس میں سید پرویز علی شاہ رہتے تھے جو اس وقت پی پی پی کے سرکردہ کارکن تھے۔ ہماری اکثر ملاقات ہوتی اور فرصت کے اوقات شطرنج کی بازی بھی سجالیتے۔ بھٹو صاحب کی بہت سی باتیں وہ سنایا کرتے۔ عالباً شاہ صاحب ان دنوں روپوش تھے اور بھٹو صاحب کی گرفتاری کے بعد انہوں نے گرفتار ہو کر پانچ سال تک جیل بھی کاٹی۔ ان کی بھٹو صاحب کو قریب سے دیکھنے کی باتیں اور بھٹو کے قصوں نے میری بھٹو سے محبت میں بہت اضافہ کردیا۔ میری عمر اس وقت پندرہ سولہ برس تھی اور میں خدا سے روزانہ بھٹو کے لئے دعا کیا کرتا۔ پھر ایک دن شاہ صاحب کے بیٹے نے آکر مجھے نیند سے جگایا کہ پاپا نے یہ اخبار بھیجا ہے اور فوجیوں نے بھٹو کو مار دیا ہے۔۔۔۔میں نے وہ اخبار روتے ہوئے پڑھا، میری کیا حالت ہوئی میں بیان نہیں کر سکتا۔ سارا دن کراچی میں ہو کا عالم رہا۔ میں اداس تھا لیکن میں نے کراچی کا ہر شخص اداس اور غمگین دیکھا۔ مجھے بی بی سی کی شام کی اردو سروس کا انتظار تھا۔ ان دنوں کراچی میں گھر میں بی بی سی کی خبریں ریڈیو سے صاف سنائی نہیں دیتی تھیں۔ ہم دوست اور میرے بھائی گاڑی میں ہل پارک پر گئے اور اوپر پہاڑی پر خبریں سنیں۔ بی بی سی نے شاید اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ ان کے قتل کے سوگ میں سیربین سے میوزک نہیں سنایا۔ میں خود کو بھلا سکتا ہوں لیکن وہ دن اور گھڑیاں کبھی نہیں بھلا سکتا۔ وہاب سومرو، لاڑکانہ: مجھے لگا تھا جیسے آج پاکستان ختم ہوگیا ہے۔ رابعہ ارشد، ناروے: میں بہت کچھ وقت کے ساتھ ساتھ بھول جاتی ہوں لیکن وہ دن میں کبھی نہیں بھول سکتی۔ میں بہت چھوٹی تھی مگر میری نانی نے تین دن کھانا نہیں کھایا تھا اور بہت روئیں۔ میں سمجھی تھی کہ خاندان میں کسی کی وفات ہوگئی ہے اور ہم بھی نانی کے ساتھ خوب روئے۔ منیر، اوسلو: آتی ہے کہیں دور سے آوازِ دما دم
محمود شیخ، سویڈن: سب کو معلوم تھا کہ عظیم بھٹو کو پھانسی دی جانے والی ہے۔ مجھے ایسا لگا کے انسانیت کے متعلق میرے تمام احساسات کچل دیئے گئے ہیں۔ میں نے اپنے والد کی وفات پر بھی ایسا محسوس نہیں کیا تھا۔ میرے لئے سانس لینا بھی مشکل تھا کہ ہم نے اپنے ملک کو تباہ کردیا ہے۔ خدا ہمیں اور ہماری احسان فراموش قوم کو معاف کردے۔ طاہر خان، ٹیکساس: انہیں پھانسی نہیں دی گئی تھی بلکہ بریگیڈیئر امتیاز نے قتل کیا۔ اس نے ککس مار کر ان کی پسلیاں توڑ دی تھیں۔ ضیاھالحق ان کے قاتل تھے۔ میرے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ ان کی قبر میں چونا ڈالا گیا تھا۔ کاشف علی رضا، راوالپنڈی: وہ ایک قومی سانحہ تھا اور ہمیں ابھی تک ان جیسی سمجھ بوجھ والا رہنما نہیں مل سکا۔ میں جب اپنی قوم کے ماضی کی طرف دیکھتا ہوں تو ہم نے قائد اعظم سے لے کر بھٹو تک اپنے رہنماؤں کے ساتھ جو سلوک کیا ہے، اس کی وجہ سے ابھی تک عدم تحفظ کا شکار ہوجاتا ہوں۔ میری دعا ہے کہ ہماری قوم اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کرے۔ محمد نوید، کراچی: بھٹو اور شاہ فیصل دونوں بہت عظیم رہنما تھے جنہیں مسلمان کبھی نہیں بھول سکتے۔ ہماری حکومت نے انہیں مار کر بہت ظلم کیا۔ علی نقوی، اوٹاوہ، کینیڈا: میں لاہور میں تھا اور بہت کم عمر تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے ایک ضمیمہ دیکھا تھا جس پر لکھا تھا کہ بھٹو کو پھانسی چڑھا دیا گیا ہے۔ سب ضیاءالحق کو گالیاں دے رہے تھے اور اداس اور مایوس تھے۔ سب کا خیال تھا کہ ضیاء الحق نے انہیں داتی دشمنی کی بنا پر قتل کیا تھا۔
جنید ملک، جرمنی: وہ چار اپریل کا دن تھا اور میں ابھی کالج کا طالبِ علم ہوتا تھا۔ گیارہ بجے کی خبریں میں نے کسی ہوٹل کے چلاتے ہوئے سپیکر پر سنیں اور میرے اردگرد سناٹا چھا گیا۔ مجھے لگا میں نے کچھ کھو دیا ہے، مجھ سے کچھ چھین لیا گیا ہے، میری امیدیں، میرے عزم اور نہ جانے کیا کچھ۔ اس دن سے میں ہمیشہ کے لئے نا امید ہوگیا۔ میں نے پاکستان کو خیر آباد کہہ دیا۔ لگتا تھا ہم نے پاکستانی عوام کی کھال کو نوچ دیا ہے۔ کوئی اتنا سفاک بھی ہوا کرتا ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||