کب تک اپنی محکوم عورتوں سے زیادتی کریں گے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہمارے معاشرے میں عورتوں کی حق تلفی نے جہاں ہمارا وقار مغربی ممالک میں مجروح کیا ہے وہاں دوسرے مذاہب کی نظر میں ملک کے قومی وقار کو بھی دھچکا پہنچا ہے۔ مائی مختاراں، ڈاکٹر شازیہ اور شائستہ عالمانی جیسے واقعات ہمارے ملک کی عدلیہ اور انصاف کے لئے تازیانہ ہیں۔ عورت جس کا مقام قرآن پاک نے بہت واضح انداز میں بیان کیا ہے، جس کو ماں کا درجہ دیکر قدموں میں جنت بنادی، جس کو اللہ تعالیٰ نے بےشمار حقوق عطا کیے، جسے خلع کا حق ہے، طلاق کا حق تفویض ہے، بالغ اور باشعور ہونے پر اپنی پسند کی شادی کا اختیار دیا اور زیادتی اور جبر کی صورت میں اپنے شوہر سے علیحدہ ہونے کی آزادی دی۔۔۔۔ لیکن ہمارے معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اس ہستی کو آج تک صرف بھوک مٹانے کا ذریعہ اور بدلہ لینے کا آلۂ کار بننے سے زیدہ اہمیت دینے کو تیار نہیں ہے۔ عورت جو بیٹی ہے، ماں ہے، بہن ہے، ایک گھر کو منظم کرنے والی ہستی، اس عورت کی بےحرمتی اور استحصال شروع سے ہی کیا جاتا رہا ہے، کبھی اس کی عزت جرگوں نے اچھالی تو کبھی شناختی پیریڈ کرواکر پولیس اسٹیشنوں میں۔۔۔ کبھی وہ سرِ بازار تار تار کردگی گئی۔ کتنی آوازیں ہیں جو اپنا گلا گھونٹ چکی ہیں، گنتی کے چند مقدموں کے علاوہ کوئی بھی آوازِ حق نہیں بلند کرسکی، نہ جانے کتنی مختاراں مائی اور کتنی ڈاکٹر شازیہ ہیں جو ذلت کے خوف سے موت کی چادر اوڑھ کر سوگئیں، اور کتنی ہی ایسی عورتیں جن کو ان کے اپنے پیاروں نے اپنی عزت اور غیرت کے نام پر موت کی اندھیری وادیوں میں دھکیل دیا ہوگا اور کتنی ہی ایسی ہیں جو موت کے منہ سے بچ گئیں لیکن بدنامی کے طوق اور دوسروں کی حقارت آمیز نظروں کا مقابلہ اپنے ہونٹ سی کر رہ رہی ہوں گی۔ اور افسوس اس بات کا ہے کہ جو خواتین عدالت کے دروازوں تک آبھی گئیں تو ان کو بھی کیا ملا؟ ملک بدری، شرمندگی، پابندیاں۔۔۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ انصاف نہ ملنے کی صورت میں کیا پھر کبھی کوئی مختاراں مائی جیسی عورت ہمت کرے گی دروازۂ انصاف کھٹکھٹانے کی؟ یا ذلت کی چادر اوڑھ کر مرجانا پسند کرے گی؟ یا یہ بےانصافی عورت پر ظلم کرنے والے مردوں کے لئے کامیابی ہے؟ کیوں کہ اللہ نے ان کو مرد بنایا ہے، حاکم بنایا ہے اس ہستی کا جس نے اس کو ہی پیدا کیا اور جو اسی کے ظلم کا شکار ہے۔ آخر کب تک یہ حاکم اپنی محکوم عورتوں سے زیادتی کریں گے؟ معاشرے کی بےحسی، اپنی جسمانی برتری، انصاف کے فقدان اور تعلیم کی کمی کی وجہ سے اپنے سے کمزور عورت کو کب تک اپنے مکروہ ارادوں، بدلوں اور حیوانی خواہشات کا نشانا بناتے رہیں گے؟ یہ ایک مائی مختاراں یا ڈاکٹر شازیہ کی تذلیل نہیں ہے، یہ ظلم ہمارے ملک، ہمارے مذہب، قانون اور انسانیت پر ایک زوردار طمانچہ ہے جس کی گونج دور تک گئی ہے۔ بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کے لئے باعث شرم ہے کہ آج کے دور میں بھی ان کے ملک میں عورت بہت بےبس اور لاچار ہے۔ ہمارے ملکِ عزیز کے وہ مذہبی جنونی لوگ جو مخلوط میراتھن اور مخلوط تعلیم پر احتجاج کرتے ہیں، خود پر پیٹرول ڈال کر سڑکوں پر دھرنا دیتے ہیں تاکہ پریس میں ان کو چھاپا جائے، جو دہشت گردی کے خلاف صدرِ پاکستان کی کوششوں کو غداری کہتے ہیں، حکومت پر نکتہ چینی کرتے ہیں، کیا ان کو اسلام اس بات کی تعلیم نہیں دیتا ہے کہ عورت ان کی عزت ہے اور جو اپنی عزت کی بےعزتی کرتے ہیں، نازک وقت میں اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں، اللہ کی زمین بھی ان پر اپنا ہاتھ تنگ کردیتی ہے، ان میں سے کون ہے جس میں مختاراں اور اس جیسی بہت سی بےکس اور مجبور عورتوں کی داد رسائی میں عملی طور پر مدد کی ہو؟ اسلام کے حق میں نعرے بلند کرنا اور عملی طور پر اسلام کی خدمت کرنا یکسر مختلف ہے۔ ان میں سے بیشتر کو اس مسئلے کی تشہیر کرنے پر اعتراض ہے، بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر خواتین اپنے پر کیے گئے مظالم پر کڑھتی اور خاموش رہتی ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ ظلم کی تشہیر نہیں داد رسی ہونی چاہئے لیکن ہم الیکٹرانِک میڈیا کے جس دور سے گزر رہے ہیں وہاں چھوٹی سے چھوٹی بات آپ چھپا نہیں سکتے، چاہے وہ مائی مختاراں ہو یا مونیکا لیونسکی۔ پاکستان میں میڈیا اور این جی اوز چونکہ اتنے بااثر نہیں ہیں اور اسی وجہ سے وہ حکومتی اداروں پر اتنا اثر انداز نہیں ہوتے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے ایک عدالت سے سزائے موت کے فیصلے کو دوسری عدالت ان ہی ملزمان کو رہا کردیتی ہے۔ اب سب کی آنکھیں سپریم کورٹ پر ہیں۔ خدا سے دعا ہے کہ جیت سچ کی ہو، انصاف کی ہو، یہ لمحـۂ فکریہ ہے ہم سب کے لئے جو بھی اس جنگ میں بالواسطہ اور بلاواسطہ شریک ہیں۔ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||