BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 June, 2004, 13:11 GMT 18:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چین کے مسلم رہنما سے انٹرویو
چینی مسلمانوں کی اکثریت ملک کے شمال مغرب میں آباد ہے
چینی مسلمانوں کی اکثریت ملک کے شمال مغرب میں آباد ہے
لندن سے شائع ہونیوالے عربی اخبار الشرق الوسط نے حال ہی میں اسلامِک ایسوسی ایشن آف چائنا کے ڈپٹی ڈائرکٹر مصطفیٰ یانگ سے چین میں مسلمانوں کے معاملات پر گفتگو کی۔ یہ ایک سرکاری ادارہ ہے۔ اس انٹرویو کے اقتباسات حسب ذیل ہیں:

سوال: چین میں مسلمانوں کی تعداد کتنی بڑی ہے؟
مصطفیٰ یانگ: ’چین میں لگ بھگ بیس ملین (مسلمان) ہیں جن کا تعلق دس قبائلی گروہوں سے ہے۔ مسلمان چین میں پھیلے ہوئے ہیں لیکن ان کی زیادہ تعداد ملک کے شمال مغرب میں بستی ہے۔ وہ حنفی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔۔۔۔

’چین کے مسلمان ایک قومی اقلیت ہیں اور اپنا مذہبی اور قومی تشخص برقرار رکھتے ہیں۔ عرب اور مسلم ممالک سے ان کے تعلقات اچھے ہیں، اور (دنیا کے) مسلمانوں سے بھی۔ چین کے اسلامِک ایسوسی ایشن کے اعلیٰ حکام اور مصرف کی وزارت وقف کے اہلکار دونوں ملکوں کا دورہ کرتے ہیں۔۔۔۔‘

سوال: اسلام کب چین پہنچا؟
مصطفیٰ یانگ: ’چین میں اسلام کی آمد کے بارے میں تاریخ کی کتابوں میں کئی روایات ہیں لیکن مؤرخ (اسلام کی آمد) کی صحیح تاریخ نہیں طے کرپائے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق چین کے سوئی حکمرانوں کی دعوت پر پیغمبر کے صحابی سعد ابن وقاص چالیس افراد کے ہمراہ چین پہنچے۔ وہ چین کے شہر کانٹن (گوانگجھو) میں رہے اور وہاں ایک مسجد کی تعمیر کی۔ لیکن اگر (اسلام کی آمد کی تاریخ کے بارے میں) شبہات بھی ہوں تب بھی یہ طے ہے کہ اسلام چین بہت پہلے پہنچا۔

چین کی پہلی مسجد
 پہلی مسجد پیکنِگ (بیجنگ) میں بنائی گئی تھی۔ یہ چھ سو بیس عیسوی کی بات ہے۔ مسجد کے دروازے پر جو عربی الفاظ کنندہ ہیں اس کے مطابق اس مسجد کے بانی ابن وقاص تھے۔۔۔

’عرب جزیرہ نما سے باہر پہلی مسجد پیکنِگ (بیجنگ) میں بنائی گئی تھی۔ یہ چھ سو بیس عیسوی کی بات ہے۔ مسجد کے دروازے پر جو عربی الفاظ کنندہ ہیں اس کے مطابق اس مسجد کے بانی ابن وقاص تھے۔۔۔ اسلام حملے کے ذریعے چین نہیں پہنچا، بلکہ یہ ان عربوں اور مسلمانوں کے دوستانہ تعلقات کے ذریعے پہنچا جو چین تجارت کی غرض سے آئے۔ کچھ وہاں بس گئے اور شادیاں کرلیں۔۔۔۔‘

سوال: اسلامِک ایسوسی ایشن آف چائنا مسلمانوں کے لئے کیا کرتا ہے؟
مصطفیٰ یانگ: ’چین مسلم ملک نہیں ہے، وقف، اسلامی امور یا دعویٰ کے لئے کوئی وزارت نہیں ہے، جیسا کہ مسلم ممالک میں ہے۔ لہذا اسلامِک ایسوسی ایشن آف چائنا واحد ادارہ ہے جو مسلمانوں کے معاملات کی ذمہ داری نبھاتا ہے، دعوۃ اور مذہبی معاملات کا منتظم ہے، سرکاری ادارہ ہے۔۔۔۔‘

سوال: چین میں اہم مذاہب کون ہیں؟ ان مذاہب میں اسلام کی کیا حیثیت ہے؟
مصطفیٰ یانگ: ’چین میں چار اہم مذاہب ہیں: اسلام، کیتھولِک، بدھ، کنفیوسیانِزم۔ چین میں اکثریت بدھ مذہب کے ماننے والی ہے۔ اور اسلام دوسرا بڑا مذہب ہے۔‘

سوال: چین میں کتنے مساجد ہیں؟ مسلم بچے تعلیمات کیسے حاصل کرتے ہیں؟
مصطفیٰ یانگ: چین میں لگ بھگ پینتالیس ہزار مساجد، تقریبا پچاس ہزار امام اور دعوۃ کے لئے کام کرنے والے افراد ہیں۔ ہر مسجد کی ایک انتظامیہ ہے جو مسجد کے معاملات طے کرتی ہے۔ انتظامیہ کے کئی رکن ہوتے ہیں اور امام سربراہی کرتا ہے۔ ان مساجد کے انتظام اور مرمت کے لئے مالی امداد کے کئی ذرائع ہیں: بڑی تعداد میں حکومتی فنڈ ملتا ہے، مسلمانوں اور عالمی مسلم تنظیموں کی جانب سے بھی مدد ملتا ہے۔۔۔۔

پینتالیس ہزار مساجد، پچاس ہزار امام
 چین میں لگ بھگ پینتالیس ہزار مساجد، تقریبا پچاس ہزار امام اور دعوۃ کے لئے کام کرنے والے افراد ہیں۔ ہر مسجد کی ایک انتظامیہ ہے جو مسجد کے معاملات طے کرتی ہے۔

’اسلامی تعلیم ایک مسئلہ ہے جس کے بارے میں چین کے تمام مسلمان فکرمند ہیں۔ سبھی مسلم خاندان اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات فراہم کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں اور دل سے قرآن پڑھتے ہیں۔ اس طرح کی تعلیم کے تین عنصر ہیں: فیملی --- والدین اپنے بچوں کی اسلامی طریقے سے پرورش کرتے ہیں، مساجد ---- یہاں اسلامی تعلیمات اور قرآن کا درس دیا جاتا ہے، اور سرکاری ادروں میں بھی اسلام کی تعلیمات کا انتظام ہے۔‘

سوال: چین کے مسلمانوں کے سامنے کیا مسائل ہیں؟
مصطفیٰ یانگ: ’دعوۃ، مساجد، تعلیم اور اسکولوں سے متعلق کوئی خاص مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن اہم مسئلہ ہے جدید سائنسی میدان میں چینی مسلمانوں کی پسماندگی۔ لہذا ہم اپنے لڑکوں کو تمام ذرائع سے سائنس کی تعلیمات حاصل کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ ہم کوشش کررہے ہیں کہ مسلمان تربیت حاصل کریں اور کام کے لئے نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کریں تاکہ مسلمان نئی صدی میں ایمان اور تعلیم سے لیس ہوں اور دوسروں پر منحصر نہ ہوں۔۔۔۔‘

سوال: ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ مشرقی ترکستان کے علاقے میں میں چینی حکومت مسلمانوں کو دبانے کی کوشش کررہی ہے جس کی وجہ سے اس علاقے کے مسلمان مظاہرے بھی کرتے رہے ہیں۔ یہ کتنا سچ ہے؟
مصطفیٰ یانگ: ہم اسے مشرقی ترکستان نہیں کہتے، ہم اسے شِن یانگ ضلع کہتے ہیں۔ زمانے سے یہ چین کا علاقہ رہا ہے۔ اس علاقے کی آدھی آبادی مسلم ہے اور ان کی حالت بہتر ہورہی ہے۔ وہ اپنے مذہب کی پیروی کرتے ہیں۔ لیکن کچھ سال قبل کچھ شدت پسند تحریکوں کی جانب سے تشدد کے واقعات پیش آئے جو اس علاقے کے لوگوں کو منظور نہیں ہے۔‘

چین میں دوکروڑ مسلمان ہیں
چین میں دوکروڑ مسلمان ہیں

سوال: لیکن چینی حکومت ان تحریکوں کے خلاف مزاحمت کرتی رہی ہے۔ کسی بھی شخص کو جو قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے سزا دی جاتی ہے۔ حکومت ان لوگوں سے مذاکرات کیوں نہیں کرتی ہے؟
مصطفیٰ یانگ: ’حکومت مسلمانوں اور غیرمسلموں کے لئے یکساں طور پر قانون نافذ کرتی ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو سزا ضرور دی جاتی ہے۔ یہ صرف چین ہی میں نہیں، بلکہ دنیا کے ہر ملک میں فطرتی طریقہ ہے۔‘

سوال: چین کے مسلمانوں کو کن تنظیموں کی جانب سے امداد مل رہی ہے؟
مصطفی یانگ: چین میں مسلمانوں کو آرگنائزیشن آف اسلامِک کانفرنس کی جانب سے مدد مل رہی ہے۔ اسلامِک ڈیولپمنٹ بینک بھی کئی چینی صوبوں میں چار اسلامی اداروں کی تعمیر کے لئے مالی امداد دے رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں مسلم ورلڈ لیگ نے بھی مالی امداد فراہم کی ہے جس سے قدیمی مساجد کی مرمت کی گئی۔

نوٹ: اس انٹرویو کا ترجمہ واشنگٹن میں واقع ادارے مِڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹیٹیوٹ یعنی میمری نے فراہم کیے اور میمری کی کاپی رائٹ ہے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد