BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 May, 2004, 17:19 GMT 22:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک شام ڈیسمنڈ ٹوٹو کے ساتھ

کاشف نعیم سید ڈیسمنڈ ٹوٹو کے ساتھ
کاشف نعیم سید ڈیسمنڈ ٹوٹو کے ساتھ
جنوری کی وہ سرد دوپہر شاید میں کبھی نہیں بھلا پاؤں گا۔ میں کِنگس کالج کے صدر دروازے کے باہر کھڑا سورج کی مدھم کرنوں سے جسم کو حرارت دینے کی ناکام کوشش کررہا تھا جب ایک سیانہ قد، سیاہ رنگت اور سادہ لباس پہنے ایک بزرگ شخص نے مجھے اپنی طرف مخاطب کیا۔ ہاتھ میں انہوں نے کتابوں سے بھرا بیگ اٹھا رکھا تھا۔ چہرہ کچھ مانوس سا معلوم ہوا اور گمان یہی گزرا کہ کوئی مسافر راستہ بھٹک کر اس کوچے میں نکل آیا ہے۔

مگر جب انہوں نے مسکراتے ہوئے یہ کہہ کر تعارف کروایا کہ ’’میرا نام ڈیسمنڈ ٹوٹو ہے اور مجھے چیپل آفس تک لے چلوگے‘‘ تو سارا ابہام خوشی میں بدل گیا۔ لپک کر ان کا بیگ میں نے ہاتھ سے لے لیا اور زندگی کے ان لمحات کو بقول داناؤں کے، یوں گراں قدر جانا کہ ’عالم کی صحبت کے چند لمحات جاہل کی عمر بھر کی قربت سے بہتر ہیں۔‘

یہ میری نوبل امن انعام یافتہ رومن کیتھولک فرقے کے معزز اور محترم پادری ڈیسمنڈ ٹوٹو سے پہلی ملاقات تھی جو جتنی اچانک اور اتفاقیہ تھی اتنی ہی تجسس آمیز بھی کیونکہ نہ صرف کالج بلکہ پورے شہر میں ان کی آمد کا بےچینی سے انتظار ہورہا تھا۔ اس کے بعد فادر ٹوٹو سے کئی ملاقاتیں ہوئیں اور کئی بار ان کے سننے کا موقع ملا۔ گو کہ کالج میں سیرحاصل مزہ کروں، مباحثوں اور تقاریر کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے مگر جو مزہ فادر ٹوٹو کی تقاریر سننے میں آیا وہ شاید کسی اور میں نہیں تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ بناوٹ سے عاری، سیدھے سادھے انداز میں اپنی بات بیان کرتے ہیں اور اپنے اچھوتے طنزومزاح سے جہاں محفل گرمائے رکھتے ہیں وہاں موضوع کا تسلسل بھی نہیں ٹوٹنے دیتے۔

مگر سب سے اہم چیز جو میں نے ان کی شخصیت میں نمایاں دیکھی وہ سچائی سے کبھی نہ چھوٹنے والا ساتھ ہے۔ کیپ ٹاؤن کے ایک پسماندہ علاقے میں پلنے بڑھنے والے اس گمنام سیاہ فام نوجوان کی شب و روز کی انتھک جدوجہد کا اندازہ تو نہیں لگایا جاسکتا مگر کردار کی پختگی اور نِڈرپن جو ان کی شخصیت کا حصہ ہے وہ آج کل کے بڑے لیڈروں اور جرنیلوں میں بھی نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی بھی انہیں موقع ملتا ہے وہ ظلم اور تشدد کی، بغیر کسی لاگ لپٹ کے، پرزور مزمت کرتے ہیں جو چاہے حکومتِ وقت کے خلاف ہو یا سب سے طاقتور ملک کے صدر کے خلاف۔ بچپن میں علامہ اقبال کا ایک شعر پڑھا کرتے تھے کہ: اڑالی ہے قمریوں نے۔۔۔

افسوس کہ یہ جذبہ آج کسی مسلمان لیڈر میں موجود نہیں رہا۔ اور ایک زندہ قوم ہونے کے باوجود صداقت اور شجاعت کا وہ سبق بھلائے بیٹھے ہیں جو ہمارے بزرگوں کی میراث تھی۔ فادر ٹوٹو نے ہر بار خوف خدا اور سچائی کے ساتھ اپنے مقصد میں سچی لگن سے جٹ جانے پر زور دیا ہے۔ اے کاش کہ ہم سب اس پر عمل پیرا ہوسکتے!

فادر ٹوٹو سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ رخصت ہونے سے پہلے ایک شام ان سے مل بیٹھنے کا ’چائے کا بہانہ‘ میرے لئے ایک سعادت سے کم نہ تھا۔ میرے بھائی نبیل سے بہت شفقت سے ملے اور گلے لگاکر پیار کیا اور کبھی ہمت نہ ہارنے اور امید کا دامن نہ چھوڑنے کی نصیحت کی۔ نبیل نے انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی جسے انہوں نے قہقہ لگاکر قبول کرلیا۔ افسوس کے ہماری قوم کو ایسے لوگوں کے بارے میں سوچنے کا بھی وقت میسر نہیں۔

(نوٹ: اگر آپ بھی کسی بڑی شخصیت سے متاثر ہوئے ہیں تو ہمیں لکھئے۔ آپ کی زبان ٹوٹی پھوٹی بھی ہو تو ہم شائع ضرور کریں گے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ آپ کے لئے ہی ہے۔)

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد