
بی بی سی کی امبر شمسی کو واشنگٹن میں ایک امریکی نے کہا کہ دو ہزار آٹھ میں ایک سیاہ فام جیتا تھا، اس بار اوباما کی جیت ہوئی ہے۔
صدر براک اوباما دوسری بار امریکہ کے صدر منتخب ہوئے اور اگر ان انتخابات کو سوشل میڈیا کے انتخابات کہا جائے تو اس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہو گی۔
اگر ہر شخص تجزیہ نگار نہیں تو خبر رساں ادارہ بن کر ضرور ٹوئٹر یا فیس بک پر موجود تھا۔
اس میں امیر اور غریب کے ساتھ مشہور اور غیر معروف ہر قسم کے لوگ تبصرے اور ٹویٹس کرتے نظر آئے۔
برطانوی سرمایہ کار سر رچرڈ برینسن نے ٹویٹ کیا کہ ’اگر میں امریکی ہوتا تو ریپبلکن کو ووٹ نہ دیتا‘۔
شہزاد رضا نے اسلام آباد سے کہا کہ اوباما کے لیے مشرق وسطیٰ کا مسئلہ حل کرنے کا سنہری موقع ہے۔
امریکی سرمایہ کار وارن بفے کو تو نجانے کس بات کا غصہ تھا جو انہوں نے اپنی ٹویٹ میں کچھ یوں نکالا۔
’یہ انتخاب مکمل طور پر دھوکہ ہے اور ہم جمہوریت نہیں ہیں‘۔
بی بی سی کی امبر شمسی کو واشنگٹن میں ایک امریکی نے بتایا کہ دو ہزار آٹھ میں ایک سیاہ فام جیتا تھا، اس بار اوباما کی جیت ہوئی ہے۔
بی بی سی کے فیس بک صفحے پر بھی لوگ ملے جلے جذبات کا اظہار کر رہے تھے۔
علی دیوسائی نے کہا کہ امریکہ کو اوباما اور پاکستان کو ڈرون مبارک ہوں۔
مختار حسین نے لکھا امریکی صدر سیاہ فام ہو یا سفید فام پاکستان کو کیا فرق پڑے گا۔
ملک سراج اکبر نے فیس بک پر لکھا کہ اوباما نے اقلیتی ووٹروں کے ساتھ بہتر طور پر مکالمہ کیا۔
ایک کینین پیٹرک نے فیس بک پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’مبارک ہو براک حسین اوباما، میں آپ کا ہم وطن ہونے کے ناطے چار سال اور شوبازی کر سکوں گا‘۔
علی مصطفیٰ نے فیس بک پر لکھا کہ مٹ رومنی کو اس بار کی بجائے دو ہزار آٹھ میں اوباما کے خلاف انتخاب لڑنا چاہیے تھا۔
سوشل میڈیا کے ایک حصے پر قدامت پسند اور اوباما مخالف لوگوں نے ایک بحث شروع کی ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ اب امریکہ میں اوباما شرعی نظام نافذ کریں گے۔
اس پر تبصرہ کرتے ہوئے محسن سعید نے ٹویٹ کیا کہ امریکی خوش قسمت ہیں کہ ’عیسائی شریعت سے بال بال بچ گئے، ہم پاکستانی اتنے خوش قسمت نہیں ہیں‘۔
پاکستان میں بہت سے لوگ شاید بشارت نذیر صاحب کے ٹویٹ سے اتفاق کریں گے کہ ’امریکی انتخاب ختم ہوا، انجانی بلا سے دیکھی بھالی بہتر ہے‘۔






























