خواتین کی صحت میں’شرم‘ مانع

بھارت کےگاؤں، شہروں اور بڑے شہروں کےگھر کی چھتوں پر بہت سی خواتین اپنے زیر جامے یا انڈرگارمنٹس کچھ اس طرح سُكھاتي ہیں کہ کسی کی نظر نہ پڑ جائے۔
بلاؤز یا پیٹی كوٹ کے نیچے اور کئی بار تو باتھ روم کے دروازے کے پیچھے سوکھنے والی اسی ذہنیت کو ’شرم‘ کہتے ہیں جو ایک حد کے بعد شرمناک ہو جاتی ہے کیونکہ دانستہ یہ نادانستہ اس سے خواتین کی صحت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی خواتین میں صحت سے متعلق مسائل کے حوالے سے ’شرم‘ تو پائی جاتی ہے لیکن سنجیدگی نہیں پائي جاتی۔
خواتین امراض کی ماہر ڈاکٹر جیوتی کھرے بتاتی ہیں کہ دھوپ میں اچھی طرح سے نہ سكھائے گئے گیلے انڈرگارمنٹس پہننے سے فنگل انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور بھارتی خواتین میں یہ عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی لاپرواہی کی عادات سے عورت کو اپنی زندگی میں کم سے کم دو تین بار ایسے انفیکشن سے گزرنا پڑتا ہے۔
یہ ’شرم‘ کی وہ عادت ہے جو خواتین کی صحت کے معاملے میں ہندوستانیوں کو مطمئن نہیں ہونے دیتی ہے۔
ریاست مدھیہ پردیش کے بیتول ضلع کے جھيٹوڈھا گاؤں میں لکشمی ایک کرانے کی دکان چلاتی ہیں جہاں شکر، تیل سے لے کر گورا ہونے کی کریم سب کچھ ملتا ہے لیکن سینٹري نیپکنز نہیں ملتے۔
اس کی وجہ پوچھنے پر جواب ملا کہ اس کی مانگ ہی نہیں ہے۔گاؤں کی کچھ خواتین کا کہنا ہے کہ پیسے نہیں ہیں جبکہ بعض کو تو سینٹري نیپکنز کے بارے میں سرے سے کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیتول ضلع میں ہی گونڈ قبائلیوں کا گاؤں گرگڈا ہے جہاں لوگ اب بھی مرغے کی بانگ پر ہی صبح اٹھ جاتے ہیں۔ یہاں رہنے والی دلاری نے بتایا’لوگوں نے ایک بار نیپکن دیا تھا لیکن مجھے سمجھ نہیں آیا۔ ہمارے لیے تو کپڑا ہی اچھا ہے۔ نیپکنز تو بڑے لوگ استعمال کرتے ہیں۔‘

کچھ ریاستوں میں کم قیمت پر سینٹري نیپکن مہیا کرانے کی منصوبہ بندی بھی شروع کی گئی ہے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے ایسے ہی ایک منصوبہ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت 20 روپے میں 8 سینٹری نیپكن فراہم کی جائیں گي۔
گوہاٹی سے 90 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بارپیٹا بھارت کے پسماندہ اضلاع میں سے ایک ہے جس کے ایک گاؤں دھنبادھا گاؤں میں جیوتی منڈل اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ رہتی ہے۔
جیوتی نے بتایا کہ ان کے خاندان میں یہ روایت ہے کہ شادی کے بعد عورتیں انڈرگارمنٹس نہیں پہنتیں اس لیے حیض کے وقت وہ اپنی کمر پر ایک ناڑے کو باندھ کر اس کے سہارے کپڑے کو لگا کر دن گذارتي ہیں۔
کئی جگہ تو دقیانوسی روایت، پیسوں کی کمی اور بیداری کی کمی کی وجہ سے عورتیں ریت، راکھ، پولیتھین اور پتے استعمال کرنے کے لیے مجبور ہیں۔
جیوتی جیسی بہت سی خواتین نے موبائل فون پر تو بات کرنا سیکھ لیا ہے لیکن حیض کے بارے میں بات کرنے میں انہیں اب بھی ’شرم‘ آتی ہے۔
کئی بار نئی ایجادات فقدان کے سبب ہوتی ہیں۔ ایسے ہی فقدان کا احساس كوئمبٹور کے مرگا نندن کو اس وقت ہوا جب انہیں معلوم ہوا کے ان کی بیوی اور ان کی بہنیں حیض کے وقت کپڑا استعمال کرتی ہے۔
مرگانندن نے سماجی نکتہ چینی کو درگزر کرتے ہوئے ایک ایسی مشین کی تیار کی جس کے ذریعہ آسانی سے سینٹري نیپکن خواتین اپنےگھر میں ہی تیار کر سکتی ہیں۔ ایک نیپکن کی قیمت محض ایک روپے ہے۔
مرگانندن نے بی بی سی کو بتایا ’میرے گاؤں کے لوگوں نے مجھے باہر نکال دیا، میری بیوی اور خاندان مجھے پاگل سمجھتا تھا، یہ مشین بنانا میرے لئے آسان نہیں تھا۔‘
آج بھارت کے ہی نہیں دنیا کے کئی ترقی پذیر ممالک میں ان کی مشین کا استعمال ہو رہا ہے لیکن آج بھی ان کی بیوی اپنے شوہر کے کام کے بارے میں لوگوں کو بتانے میں شرماتی ہیں۔
اقوام متحدہ کی 2010 کی رپورٹ کہتی ہے کہ بھارت میں موبائل فون زیادہ اور ٹوائلٹ کم ہیں اور کئی گاؤں میں بچیوں کے سکول نہ جانے کی وجہ وہاں ٹوائلٹ نہ ہونا ہے۔
کئی علاقوں میں جب سیلاب آتا ہے تو خواتین رفع حاجت کرنے جا ہی نہیں سکتیں جس سے پیشاب کی تھیلی میں انفیكشن ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔
دراصل حکومت ہند کی مجموعی صفائی مہم کے تحت بیت الخلاء کی تعمیر کا کام بھی دیگر سرکاری منصوبہ بندی کی طرح ہی بدعنوانی کا شکار ہے۔







