
بھارت اور پاکستان کے درمیان ایل او سی پر فائرنک کے بعد رشتوں میں گراوٹ آئی ہے
لائن آف کنٹرول پر بھارت اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے بعد ہندوستان کے یوم جمہوریہ کے موقع پر دونوں ملکوں کی فوجوں نے مٹھائی کا تبادلہ کیا ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ مٹھائی جنوبی ضلع راولاکوٹ میں عین لائن آف کنٹرول پر چک دا باغ کے مقام پر تقسیم کی گئی۔
واضح رہے کہ ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان لائن آف کنٹرول پر ہونے والی حالیہ جھڑپیں بھی اسی علاقے میں ہوئی تھیں۔ ان جھڑپوں کے نتیجے میں دونوں طرف سے مشترکہ طور پر پانچ فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
دونوں ملکوں کی فوجوں نے ایک دوسرے پر گولہ باری شروع کرنے اور چوکیوں پر حملے کرنے کے الزامات لگائے۔ ان جھڑپوں کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
شدت پسند ماضی میں اس راستے کو مبینہ طور پر بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہونے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔
حالیہ جھڑپوں کے نتیجے میں آٹھ جنوری سے پونچھ راولاکوٹ بس سروس اور اس راستے سے ہونے والی باہمی تجارت بھی معطل ہے۔

کشمیر کے علیحدگی پسند بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں
بس سروس معطل ہونے کی وجہ سے لگ بھگ دو سو مسافر لائن آف کنٹرول کے آر پار پھنس گئے ہیں تاہم سرینگر مظفرآباد بس سروس اور اسی راستے سے باہمی تجارت بغیر کسی تعطل کے جاری ہے۔
دریں اثناء یہ خبریں بھی ہیں کہ بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس کے مطابق دو سو سے زیادہ شدت پسندوں نے بھارت مخالف مظاہرہ کیا۔
اگرچہ بھارت سے کشمیر کی علیحدگی کے حامی کشمیری برسوں سے لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب ہندوستان کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے آئے ہیں۔ لیکن حالیہ برسوں میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں کشمیری شدت پسند کسی اجتجاج میں شریک ہوئے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کا کہنا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کی پاکستان کے ساتھ الحاق کی حامی اہم کشمیری شدت پسند تنظیم حزب المجاہدین کےشدت پسندوں نے یہ احتجاجی مظاہرہ دارالحکومت مظفرآباد میں کیا۔






























