
ایل او سی پر حالیہ تنازعات کے بعد بھارت پاک رشتوں میں گراوٹ آئی ہے
بھارت میں اگر مذہبی فساد کرانا ہو تو اس کا بہت آسان طریقہ ہے۔ کسی مندر کے آگے گائے کا کٹا ہوا سر رکھ دیجیئے۔ کسی مسجد کے دروازے کے نزدیک سور کا گوشت پھینک دیجيئے یا پھر قرآن کے ایک دو صفحات پھاڑ کر پھینک دیجیئے۔
ہر شخص اس حقیقت سے آشنا ہے کہ یہ حرکت صرف فساد کرانے کے مقصد سے کی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود ان میں سے کسی ایک طریقے کے استعمال سے فساد لازمی ہے۔ پھر کرفیولگے گا ، آٹھ دس ہلاکتیں ہونگی اور بڑے پپمانے پر مال و اسباب کی تباہی ہو گی۔ کئی خاندان ہمیشہ کے لیے تباہ ہو جائیں گے۔
یہی نوعیت بھارت اور پاکستان کے رشتوں کی ہے۔اس مہینے کے اوائل میں کشمیر میں کنٹرول لائن پر اچانک گولیاں چلنے لگیں۔ اس میں دونوں جانب کے کچھ فوجی مارے گئے۔ مقصد چونکہ ماحول خراب کرنا تھا ، اس لیے ایک فوجی کا سر بھی کاٹ لیا گیا۔
فوجیوں کا سر کس نے کاٹا اور کیوں کاٹا اس کا جواب تو کوئی نہیں دیناچاہتا۔ لیکن اس حرکت کا جو مقصد تھا وہ اسے انجام دینے والے نے توقع سے کہیں زیادہ حاصل کر لیا۔
سب کو پتہ تھا کہ جس نے بھی یہ حرکت کی ہے اس نے وہ حرکت صرف اشتعال پیدا کرنے اور دونوں ملکوں کے تعلقات خراب کرنے کے لیے کی تھی۔ اس کے باوجود دونوں ممالک اپنے تعلقات تباہ کر بیٹھے۔
حالیہ دنوں بھارت اور پاکستان کے تعلقات بہتری کی جس سطح پر پہنچے تھے اتنے اچھے تعلقات گزشتہ کئی عشروں میں نہیں ہو ئے تھے۔ ایک عرصے سے دونوں حکومتیں اپنے تعلقات کو انسانی بنانے کی کوششیں کر رہی تھیں۔
جس وقت ایک بھارتی فوجی کی سر کٹی لاش دلی پہنچی ہے اس وقت دونوں ممالک اپنے شہریوں کے لیے ویزا کا ایک بہتر نظام نافذ کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ سرحد پر تجارت کے لیے نئے راستے کھولنے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ ایک دوسرے کے شہریوں کے ساتھ انسانی طریقے اور انسانی وقار کے ساتھ پیش آنے کے اقدامات کا نفاذ ہونے والا تھا۔

حزب اختلاف کی رہنما نے ایک کی جگہ دس سر کاٹ کر لانے کی مانگ کر دی
دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح یہاں بھی پہلی بار طلبہ ، صحافیوں سیاحوں اور مذہبی زائرین کے آنے جانے کے عمل کو آسان بنایا جا رہا تھا۔ ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ گزشتہ پینسٹھ برس کی نفرتوں کے سلسلے اب ٹوٹنے لگے ہیں اور شاید جنوبی ایشیا کے یہ دو ممالک بھی دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ معمول کے رشتے قائم کر سکیں گے۔
لیکن کنٹرول لائن کے واقعہ نے یکلخت یہ ساری صورت بدل دی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے بھارت میں بہت سے لوگ بس اسی واقعہ کے منتطر تھے۔ ہر طرف انتقام کے نعرے لگنے لگے۔
حزب اختلاف کی رہنما نے کہا کہ بھارت ایک کی جگہ دس سر کاٹ کر لائے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان سے تعلقات اب بدل چکے ہیں۔ ٹی وی چینلوں پر جنگ کے شیدائیوں نے جنگ کے نقارے بجا دیے۔ جو لوگ رشتوں کے بد ترین حالات میں بھی امن کی باتیں کرتے تھے وہ یہاں تک کہہ بیٹھے کہ جنگ ہی ہر مسئلے کا حل ہے۔
پوری مدت امن کے لیے کوشاں رہنے والی منموہن سنگھ کی حکومت بدعنوانی کے خلاف انا کی تحریک اور پھر ّپچھلے مہینے کے ریپ کے بہیمانہ واقعہ سے پہلے ہی عوام کی نفرتوں کا شکار تھی۔ کنٹرول لائن کے واقعہ پر جنگ کی تمنا کرنے والوں نے ایسا ماحول پیدا کیا کہ حکومت بھی ان کی جارحیت کا شکار ہو گئی۔
نفرتیں ایسی بڑھیں کہ پاکستان کے بعض ہاکی کھلاڑیوں کو فیلڈ میں پریکٹس کرنے سے روک دیا گیا اور انہیں اگلی پرواز سے پاکستان بھیج دیا گیا۔ یہی نہیں منٹو پر ایک پاکستانی ڈرامے کے شو کو بھی حکومت نے نہیں ہونے دیا۔
دونوں ملکوں کے رشتے ایک بار پھر اسی مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں سے ابتدا کی تھی۔ جنگ کے شیدائیوں کو اس بات کا افسوس ہے کہ اس بار بھی جنگ نہیں ہو پائی۔ انہیں اس بات کی تشفی ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات تباہ کرنے میں وہ ضرور کامیاب ہو گئے پر کیا کریں امید پر دنیا قائم ہے۔






























