’سرحد پر حالیہ جھڑپ کے لیے بھارت ذمہ دار‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 10 جنوری 2013 ,‭ 13:44 GMT 18:44 PST
لائن آف کنٹرول

دونوں ہی ملک اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ شروعات ان کی جانب سے ہوئی تھی۔

بھارت کے دو نمایاں اخباروں نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ کشمیر میں پاکستان کے ساتھ حالیہ جھڑپ بھارتی فوج نے شروع کی ہو۔

خبروں کے مطا بق گزشتہ سال ایک ستر سالہ عورت کی جانب سے سرحد پار کرنے کے بعد کمانڈروں نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول پر نئی نگراں چوکیاں قائم کر دی تھیں۔

بھارت کے مطابق منگل کو پاکستانی فوج کی کارروائی میں دو بھاتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس سے چند روز قبل بھارتی فوج کے حملے میں ایک پاکستانی فوجی ہلاک ہوگیا تھا۔

دونوں ملک اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ شروعات ان کی جانب سے ہوئی تھی۔

تاہم بھارت کے دو اخبارات نے لکھا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ سرحد پر اچانک تشدد پھوٹنے کی وجہ نئے فوجی اقدامات ہوں جو ایک بزرگ خاتون کے اس فیصلے کے بعد اٹھائےگئے تھے کہ وہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اپنے رشتےداروں کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔

روزنامہ دی ہندو کے مطابق گزشتہ ستمبر میں ایک ستر سالہ خاتون نے بے روک ٹوک سرحد پار کر لی تھی جس کے بعد بھارتی فوجی کمانڈروں نے علاقے میں نئی نگراں چوکیاں قائم کرنے کا حکم دیدیا جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان دس سال پرانے جنگ بندی معاہدے کے تحت وہاں کسی طرح کی تعمیر کی اجازت نہیں ہے۔

پاکستان نے اس بات پر کئی طرح سے ناخوشی ظاہر کی۔ پہلے لاؤڈسپیکر کے ذریعے اور اس کے بعد فائرنگ کر کے احتجاج کیا۔

’ڈیلی نیوز اینڈ اینالیسز‘ کے مطابق چھ جنوری کو ایک بھارتی کمانڈر نے جو اپنے ’ انتہائی غصیلے رویہ کے لیے جانے جاتے ہیں ‘ جوابی فائرنگ کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں ایک پاکستانی فوجی ہلاک ہوگیا۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج نے اس حملے میں لائن آف کنٹرول کو بھی پار کیا جس کی بھارت تردید کرتا ہے۔اس کے بعد منگل کو پاکستانی فوج نے شمالی سرحد پر جوابی کاروائی کی۔خبروں کے مطابق اس حملے میں دو بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے جن کے بارے میں بھارت کا کہنا ہے کہ ان فوجیوں کی لاشوں کو مسخ کیا گیا۔

پاکستان بھارت کے ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

ڈیلی نیوز اینڈ اینالیسز کے مطابق اتوار کے بعداس پوری سرحد پر بھارتی فوج کو کسی بھی طرح کے الرٹ نہیں ملا تھا جو کہ ایک معمول کا طریقہ ہے اور سرحد پر معمول کے کام ہو رہے تھے۔

بھارتی وارتِ دفاع کے ترجمان کرنل جگدیش داہیا نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ سرحد پر حالیہ اقدامات اس جھڑپ کا سبب بنے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ نئی چوکیاں نہیں ہیں اس لیے انہیں جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اتوار کو بھارتی فوج نے پاکستان کی جانب سے بھارتی ٹھکانوں پر فائرنگ کے بعد جوابی کارروائی کی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب فوج اس واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے اور بھارت اور پاکستان دونوں ہی اس کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>