
بھارت اور بنگلہ دیش سرحد پر دراندازی اور اسمگلنگ روکنے کے لیے بھارتی کی سرحدی سکیورٹی فورسز ان دنوں ایک نئے طرح کے ہتھیار کا تجربہ کر رہی ہیں جسے ’مرچی بم‘ یا ’مرچی گرینیڈ‘ کہا جاتا ہے۔
سرحدی سکیورٹی فورس کے حکام کا کہنا ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کی باہمی سرحد پر اس ہتھیار کا پہلی بار استعمال کیا جا رہا ہے جو کچھ حد تک آنسو گیس جیسا ہے۔
اس کے استعمال کے باعث دراندازوں اور اسمگلروں کی آنکھوں میں آنسو آئیں گے اور وہ کچھ دیر کے لیے دیکھ بھی نہیں پائیں گے۔ یہ ویسا ہی ہو گا جیسے کسی میں آنکھ میں مرچ ڈالنے سے ہوتا ہے۔
اس صورت میں سرحدی سکیورٹی فورسز کے اہلکار ان دراندازوں کو آسانی سے پکڑ سکیں گے۔
دفاعی تحقیق اور ترقی کونسل یعنی ڈی آر ڈی او نے کچھ سال پہلے ایسا ہی مرچی بم بنایا تھا جس کو اور بہتر بنایا گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اس بم میں بازار میں ملنے والی عام مرچ کا استعمال نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ آسام اور ناگالینڈ کے علاقوں میں پیدا ہونے وال انتہائی تیکھی مرچ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
بھارت اور بنگلہ دیش کی باہمی سرحد پر سرحدی حفاظتی فورس کے جوانوں کے خلاف یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ گولی چلانے میں گریز نہیں کرتے اور زیادہ تر ان کی گولیوں کا نشانہ عام شہری بنتے ہیں۔
دونوں ہی ممالک میں اس رجحان کی مخالفت ہوتی رہی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ جیسی عالمی تنظیموں نے بھی اس کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔
اس کے بعد فوج اور وزارت داخلہ نےگولیوں کا استعمال کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسے لیے اب بھارت اور بنگلہ دیش کی باہمی سرحد پر دراندازی اور اسمگلنگ کو روکنے کے لیے طاقت جان لیوا ہتھیاروں کی جگہ مرچی بم جیسے کم مہلک ہتھیاروں کا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔






























