جھارکھنڈ میں سیاسی بحران، وزیراعلیٰ مستعفی

آخری وقت اشاعت:  منگل 8 جنوری 2013 ,‭ 07:20 GMT 12:20 PST

ارجن منڈا نے اسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے

بھارتی ریاست جھارکھنڈ میں سیاسی بحران کے بعد وزیرِاعلیٰ ارجن منڈا اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

ریاست میں یہ سیاسی بحران جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی جانب سے بی جے پی کی زیرِ قیادت منڈا حکومت کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لینے کے بعد پیدا ہوا تھا۔

بی جے پی کے رہنما بلبیر پنج کا کہنا ہے کہ جھارکھنڈ میں ان کی جماعت کے پاس اکثریت نہیں ہے، اس لیے وزیراعلیٰ نے سیاسی جوڑ توڑ کرنے کی بجائے اقتدار چھوڑ دینا بہتر سمجھا۔

اطلاعات کے مطابق ارجن منڈا نے گورنر سے ریاستی اسمبلی توڑنے کی سفارش بھی کی ہے۔ ریاستی اسمبلی کے اجلاس میں اسمبلی تحلیل کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جھارکھنڈ مکتی مورچہ کا کہنا ہے کہ بی جے پی سے ہونے والے معاہدے کے تحت دونوں جماعتوں نے باری باری اٹھائیس ماہ کے لیے حکومت کرنا تھی لیکن ارجن منڈا اس کے لیے تیار نہیں ہوئے۔

ریاست میں اکیاسی رکنی اسمبلی میں جے ایم ایم اور بی جے پی کے پاس اٹھارہ اٹھارہ ارکانِ اسمبلی ہیں جبکہ اے جے ایس يو کے چھ اور جے ڈی یو کے دو ایم ایل اے ہیں۔

اپوزیشن بینچوں پر موجود کانگریس کے ریاستی اسمبلی میں 13، جھارکھنڈ وکاس مورچہ (پی) کے 11 اور آر جے ڈی کے پانچ رکن اسمبلی ہیں۔

ریاست میں حکومت بنانے کے لیے 41 ممبران اسمبلی کی حمایت ضروری ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق نومبر 2000 میں قیام کے بعد سے ہی جھارکھنڈ حکومت وقت بوقت سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوتی رہی ہے کیونکہ وہاں ابھی تک انتخابات میں کسی پارٹی یا اتحاد کو اکثریت حاصل نہيں ہوئی ہے۔

موجودہ صورت حال میں ریاست میں کسی بھی حکومت کا قیام جے ایم ایم کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>