
ریپ کے خلاف مظاہرے اب بھی جاری ہیں
بھارتی حکومت نے دارالحکومت دلی میں بس کے اندر ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کی تفتیش کے لیے ایک رکنی کمیشن تشکیل دیا ہے۔
دلی ہائی کورٹ کی سابق جج اوشا مہرا اس کمیشن کی سربراہ ہیں جو ان پہلوؤں کا پتہ لگانے کی کوشش کریں گی کہ آخر کیا خامیاں تھیں جس کے سبب یہ گھناؤنا واقعہ نہیں روکا جا سکا۔
سولہ دسمبر کی رات دلّی میں ایک چلتی ہوئی بس میں تئیس سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی تھی جس کے خلاف ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
وزیر خزانہ پی چدامبرم نے اس کمیشن کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمیشن اپنی رپورٹ آئندہ تین ماہ میں تیار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو پہلے عارضی رپورٹ بھی تیار کی جا سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا ’یہ کمیشن دلی میں سولہ دسمبر کو ایک نوجوان خاتون پر بہیمانہ حملے اور دل دہلا دینے والے ریپ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لےگا۔ کمیشن پولیس، کوئي دیگر اتھارٹی یا ایسے شخص کی جانب سے ان کوتاہیوں کی نشاندہی کرے گا جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آيا ہو اور اگر ایسا ہوا ہے تو ان کوتاہیوں اور لاپروایوں کے لیے انہیں جواب دہ بھی ٹھہرایا جائے گا۔‘
مسٹر چدامبرم نے کہا کہ سولہ دسمبر کی رات کو جو بھی ہوا اس سے سبھی سکتے میں ہیں لیکن مستقبل میں اس سے نمٹنے کی تمام تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا ’کمیشن، خاص کر دلی اور اس کے نواحی علاقوں میں، خواتین کی سکیورٹی اور ان کے تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے نئي تجاویز بھی پیش کريگا۔‘
"ہ کمیشن دلی میں سولہ دسمبر کو ایک نوجوان خاتون پر دل دہلا دینے والے ریپ اور بہیمانہ حملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لےگا۔ کمیشن پولیس، کوئي دیگر اتھارٹی یا ایسے شخص کی جانب سے ان کوتاہیوں کی نشاندہی کریگا جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آيا ہو اور اگر ایسا ہوا ہے تو ان کوتاہیوں اور لاپروہیوں کے لیے انہیں جواب دہ بھی ٹھہرائیگا۔"
پی چدامبرم
دلی ریپ کے خلاف عوام میں زبردست غم و غصہ ہے جس کے خلاف احتجاج کے لیے بدھ کو بھی لوگ جنتر منتر پر جمع ہوئے اور مظاہرہ کیا۔
گزشتہ کئی روز سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ روکنے کے لیے حکومت نے پیر کی صبح سے مرکزی دلی کی طرف آنے والے تمام راستوں کو بند کر دیا تھا اس لیے منگل کو لوگ جمع نہیں ہوئے لیکن بدھ کو مظاہرین نے پھر احتجاج کیا ہے۔
گزشتہ کئی روز سے مرکزی دلی میں ہر جگہ فورسز کو تعینات دیکھا جا سکتا ہے۔
ادھر اجتماعی زیادتی کی شکار ہونے والی لڑکی کی حالت اب بھی نازک ہے۔ ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی مصنوعی سانس پر ہی رکھا گيا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کے جسم میں انفیکشن کی شدید شکایت ہے جس کے سبب ان کی حالت خراب ہے۔

پر تشدد مظاہروں میں سو مظاہرین اور ستر پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے
اختتام ہفتہ پر احتجاج کے دوران مظاہرین پر تشدد ہوگئے تھے جس میں سو سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے تھے جبکہ پولیس حکام نے ستّر اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔
اس دوران مظاہروں کے دوران زخمی ہونے والے ایک پولیس اہلکار کی ہسپتال میں موت ہوگئی جن کی پوسٹ مارٹم رپوٹ میں کہا گيا ہے کہ انہیں شدید چوٹیں آئی تھیں۔
اس بارے میں متضاد خبریں ہیں کہ آيا پولیس اہلکار کی ہلاکت کی وجہ ان پر مظاہرین کا حملہ ہے یا انہیں دل کا دورہ پڑا تھا۔
اتوار کو پُرتشدد مظاہروں کے دوران کانسٹبل سبھاش تومر زخمی ہوئے تھے جنہیں ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا لیکن منگل کو وہ چل بسے۔
دلی میں ریپ کا واقعہ سولہ دسمبر اتوار کی رات ساڑھے نو بجے کے آس پاس اس وقت پیش آیا تھا جب مذکورہ لڑکی اور اس کا ایک دوست چارٹرڈ بس میں سوار ہوئے تھے۔
اسی بس میں سوار کچھ افراد نے لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کی، پھر دونوں کو مارا پیٹا گیا اور لڑکی سے جنسی زیادتی کی گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد دونوں کو بس سے باہر پھینک دیا گیا تھا۔






























