دلی ریپ: شہر کی ناکہ بندی جاری، اہلکار ہلاک

آخری وقت اشاعت:  منگل 25 دسمبر 2012 ,‭ 09:25 GMT 14:25 PST

مرکزی دلی کی طرف جانے والے تمام راستوں پر پولیس کا پہرہ ہے

بھارتی دارالحکومت دلی میں ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زيادتی کے خلاف ہونے والے پر تشدد مظاہروں کے دوران زخمی ہونے والے پولیس اہلکار کی منگل کی صبح موت ہوگئي ہے۔

اختتام ہفتہ احتجاجی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں اور اسی میں اتوار کو کانسٹیبل سبھاش تومر زخمی ہوگئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں آٹھ افراد کو گرفتار کیا گيا ہے اور کانسٹبل تومر کی سرکاری اعزاز کے ساتھ آخری رسومات دوپہر بعد ادا کی جائیں گي۔

تومر کا تعلق شہر میرٹھ سے تھا۔ اتوار کو وہ جھڑپوں میں بری طرح زخمی ہوئے تھے جنہیں ہسپتال میں داخل کیا گيا تھا۔ ا ن کے سینے اور سر پر چوٹیں آئی تھیں اور ابتداء ہی سے ان کی حالت نازک تھی۔

سولہ دسمبر کی رات دلّی میں ایک چلتی ہوئی بس میں تئیس سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی تھی جس کے خلاف ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

اس کے خلاف گزشتہ کئی روز سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا اور بالآخر حکومت نے اسے روکنے کے لیے پیر کی صبح سے مرکزی دلی کی طرف آنے والے تمام راستوں کو بند کر دیا تھا جو منگل کو بھی جاری ہے۔

حلانکہ منگل کو کرسمس کی عام تعطیل ہے لیکن اس کے باوجود پولیس نے انڈيا گیٹ کی طرف جانے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور مرکزی دلی میں ہر طرف جگہ جگہ پر بڑی تعداد میں فورسز کو تعینات دیکھا جا سکتا ہے۔

دریں اثنا اجتماعی زیادتی کی شکار ہونے والی لڑکی کی حات اب بھی نازک ہے۔ ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ انہیں دوبارہ وینٹیلیٹر پر رکھا گيا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انفیکشن دور کرنے کے لیے ان کا ایک آپریشن کیا گيا تھا جس کے بعد سے ان کی حلت بگڑ گئی لیکن حالات قابو میں ہیں۔

پر تشدد مظاہروں میں سو مظاہرین اور ستر پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے

اختتام ہفتہ اس کے خلاف جاری احتجاج کے دوران مظاہرین پر تشدد ہوگئے تھے جس میں سو سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے تھے جبکہ پولیس حکام نے سّتر اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔

اس واقعے سے لوگوں میں اور غم و غصہ دیکھا گيا جس کی وجہ سے پیر کی صبح وزیراعظم منموہن سنگھ نے ٹی وی پر قوم سے خطاب کیا تھا اور امن امان قائم رکھنے کی اپیل کی تھی۔

منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ ’میں تمام شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ امن و امان قائم رکھیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس ملک میں خواتین کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تین بیٹیوں کا باپ ہونے کی حیثیت سے میں بھی اسی طرح کا غم و غصہ محسوس کر رہا ہوں جس طرح کا عام لوگ۔ اس معاملے میں لوگوں کا غصہ جائز ہے لیکن غصے سے کوئی کام نہیں نکلے گا‘۔

اتوار کو بھی وزیراعظم کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ اس معاملے پر احتجاج کرنے والے افراد اور پولیس کے مابین جھڑپوں پر افسردہ ہیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ’ہم سب اس خاتون کے لیے فکرمند ہیں جو دلی میں ایک گھناؤنے جرم کا شکار ہوئی ہے‘۔

سنیچر اور اتوار کو ہزاروں افراد دلّی میں انڈیا گیٹ پہنچے تھے جو ملزمان کو سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اتوار کو مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہونے کے بعد حکومت نے پیر کی صبح سے مرکزی دلی کی طرف آنے والے تمام راستوں کو بند کر دیا تھا تاہم ان پابندیوں کے باوجود لوگوں کی ایک بڑي تعداد جنتر منتر پر پہنچنے میں کامیاب ہوئي اور احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ لیکن منگل کو لوگوں کو جنتر منتر بھی نہیں پہنچنے دیا گيا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>