کشمیر متنازعہ ہے، پنچایت اراکین

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 8 نومبر 2012 ,‭ 17:48 GMT 22:48 PST
کشیمر میں پنچوں کا ایک مظاہرہ

علیٰحدگی پسندوں نے پہلے ہی پنچایتی انتخابات کے بارے میں سخت مؤقف اختیار کیا ہے،

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں تیس ہزار سے زائد منتخب پنچایت اراکین نے اعلان کیا ہے کہ پنچایت کے لئے ہونے والے انتخابات بھارت کے حق میں کشمیریوں کی اجتماعی رائے نہیں ہے۔

رہزاروں منتخب پنچایت اراکین نے حکومت سے کہا ان سیاسی استحصال نہ کیا جائے۔

واضح رہے عسکریت پسندوں کی تازہ دھمکی کے بعد پنچایت ممبروں میں تذبذب پایا جاتا ہے۔ سینکڑوں پنچایت اراکین مستعفی ہوگئے ہیں آج سرینگرمیں پنچایت اراکین نے ایک مظاہرہ کیا اور حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ پنچایت الیکشن کو مسئلہ کشمیر کے حل کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

بدھ وار کو سرینگر میں ایک مظاہرے کے دوران پنچایت اراکین کے ایک رہنما گلزار احمد بیگ نے بتایا: ’حکومت پنچایتوں کے لیے انتخابات کو مسئلہ کشمیر سے متعلق کشمیریوں کی اجتماعی رائے قرار دے کر تیس ہزار سے زائد پنچوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔‘

قابل ذکر ہے چند روز قبل پاکستانی زیرانتظام کشمیرمیں مقیم کشمیریوں کے عسکری رہنما سید صلاح الدین نے کہا تھا کہ اگر حکومت ہند پنچایتی اداروں کو اپنی خارجہ پالیسی کے دفاع میں استعمال کرے گی تو پنچایت اراکین پر حملے ہوسکتے ہیں۔

اس بیان سے پنچایت اداروں میں خوف کی لہر پیدا ہوگئی ہے۔

پچھلے کئی روز سے وادی کشمیر اور جموں میں پنچایت اداروں سے وابستہ ہزاروں منتخب نمائندوں نے مظاہرے کئے۔

چند ماہ قبل کئی پنچایت اراکین کی ہلاکت کے بعد انہوں نے حکومت سے ذاتی سیکورٹی کا مطالبہ کیا لیکن حکومت کہتی ہے کہ بڑی تعداد میں پنچایت اراکین کو سیکورٹی فراہم کرنا ناممکن ہے۔

مظاہرہ کرنے والے پنچایت اراکین نے تسلیم کیا کہ سیاسی پارٹیاں بعض پنچایت اراکین کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔

مسٹر گلزار نے بتایا کہ مسلہ کشمیر پر متحدہ جہاد کونسل کے موقف سے وہ بھی اتفاق رکھتے ہیں لیکن ان کا انتخاب جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین کے اُس بیان کے بعد ممکن ہوا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پنچایتوں کے انتخاب سے علیٰحدگی پسند تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

علیٰحدگی پسندوں نے پہلے ہی پنچایتی انتخابات کے بارے میں سخت موقف اختیار کیا ہے، یہاں تک کہ سید علی گیلانی نے اس سلسلے میں بائیکاٹ کی اپیل بھی کی تھی۔

اسلامی تنظیم آزادی کے رہنما عبدالصمد انقلابی کہتے ہیں کہ اگر حکومت ہند پنچایت اراکین کا سیاسی استحصال کرتی ہے تو انہیں علیٰحدگی پسندوں کی صفوں میں شامل ہوجانا چاہیئے۔

واضح رہے کہ جموں کشمیر میں تیس ہزار سے زائد پنچایت اراکین ہیں جن میں قریب دس ہزار خواتین شامل ہیں۔ حکومت نے ابھی تک پنچایتوں کو بااختیار نہیں بنایا ہے، لیکن اختیارات کا مطالبہ سامنے آتے ہی پنچایت اراکین کی سلامتی کا مسئلہ سامنے آگیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>