صوبہ سندھ میں چینی زبان سیکھنا لازمی

پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سنہ دو ہزار تیرہ سے سبھی سکولوں میں چینی زبان کی تعلیم دینا لازمی ہوگا۔
حکومت کے اس فیصلے کے مطابق سبھی سکولوں کو درجہ چھ سے چینی زبان کا کورس بنانا ہوگا اور سکول کے طلباء کو چینی زبان پڑھانی ہوگی۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان اور چین کے بہتر رشتوں کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور چین گزشتہ پچاس برس سے اہم اتحادی رہے ہیں اور آج کے دور چین اور پاکستان کو دوست کےطور پر دیکھا جاتا ہے۔
مئی کے مہینے میں پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے چین کو ’پاکستان کا سب سے اچھا دوست‘ قرار دیا تھا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ صوبہ سندھ کا یہ فیصلہ سیاسی فیصلہ ہے اور چینی زبان سکھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی اور اساتذہ کو تعینات کرنا ہوگا۔
صوبہ سندھ کے وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کا کہنا ہے کہ انکی حکومت کی جانب سے یہ قدم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پوری دنیا میں چین ایک بڑی عالمی معیشت بن کر ابھر رہا ہے اور چینی زبان سیکھنے سے پوری دنیا اور پاکستان کو فائدہ ہوگا۔
انکا کہنا تھا ’چین کے ساتھ ہمارے تجارتی اور ديگر رشتے دن بہ دن مضبوط ہورہے ہیں اور ہماری نئی نسل کے لیے ضروری ہے انہیں چینی زبان پر مہارت حاصل ہو‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صوبائی حکومت کا کہنا طلباء کو چینی سیکھنے کے لیے سکالرشپ دی جائے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے منصوبے کو یقینی بنانے کے لیے چین کی مدد لے گا۔
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ کے سکول جانے والے بچے پہلے ہی اردو، انگلش اور سندھی زبان سیکھتے ہیں اور چینی زبان کو لازمی بنانے کے بعد اساتذہ اور بچوں دونوں پر بوجھ بڑھ جائے گا۔







