’بی جے پی بحران جلد ختم ہو جائے گا‘

لال کرشن آڈوانی اور راجناتھ سنگھ(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنبھارتیہ جنتا پارٹی میں قیادت میں تبدیلی کا فیصلہ لال کرشن آڈوانی پر چھوڑ دیا گیا ہے

بھارتیہ جنتا پارٹی کے اعلی لیڈرز اور آر ایس ایس کے چیف کے درمیان ملاقاتوں کے دور کے بعد اب انتظار ہے فیصلے کا۔

اتوار کی صبح آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت نے لال کرشن آڈوانی کے ساتھ انکے گھر پر ملاقات کی ہے۔

اتوار کو ہی آر ایس ایس کے سینئر لیڈر مدن داس دیوی نے صحافیوں کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں جو اتھل پتھل جاری ہے وہ جلد ہی ختم ہوجائے گی۔

انکا کہنا تھا کہ ’ہمیں پورا یقین ہے کہ بی جے پی متحد رہے ہی اور اس اتھل پتھل سے کے بعد پارٹی اور طاقتور ہوکر ابھرے گی۔‘

اب سوال اب یہ ہے کہ کیا لال کرشن آڈوانی اپنے عہدے سے ہٹیں گے؟ یا پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ اپنے عہدے کی مدت ختم ہونے سے پہلے اپنی کرسی چھوڑیں گے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں قیادت میں تبدیلی تو ہونی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔

سینئر صحافی پردیپ کوشل کا کہنا ہے کہ لیڈر آف اپوزیشن کے طور پر انکے سیاسی قد کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ آڈوانی پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ فیصلہ کب کریں۔

انکا کہنا ہے ’ان کے سامنے آر ایس ایس نے یہ شرط رکھی ہے کہ آڈوانی خود کو لیڈر آف اپوزیشن کے عہدے سے بری کریں اور یہ شرط مان لی گئی ہے۔‘ تاہم بی جے پی کے ترجمان پرکاش جاوڈیکر نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ پارٹی کی قیادت میں کوئی تبدیلی کی جارہی ہے ۔

انکا کہنا ہے کہ ’یہ سچ ہے کہ پارٹی ایک بحران کے دور سے گزر رہی ہے لیکن قیادت میں تبدیلی کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔‘

کہا جارہا ہے کہ اگر پارٹی کی قیادت میں تبدیلی کی گئی تو صدر راجناتھ کو اپنے عہدے سے ہٹنا پڑ سکتا ہے۔ پردیپ کوشل کا کہنا ہے کہ صدر کے طور پر ریاستی سطح سے بی جے پی کے کسی لیڈر کو لایا جاسکتا ہے۔

گزشتہ دنوں بی جے پی کے سابق سینئر لیڈر جسونت سنگھ کی کتاب منظر عام پر آنے کے بعد پارٹی بحران سے دوچار ہے۔ جسونت سنگھ نے اپنی کتاب میں یہ کہہ کر کہ محمد علی جناح ایک سیکولر لیڈر تھے اور تقسیم ہند کے لیے کانگریس پارٹی اور جواہر لال نہرو بھی ذمہ دار تھے تنازعہ کھڑا کردیا تھا۔ بی جے پی نے انہیں پارٹی سے نکال دیا تھا۔

جسونت سنگھ کے پارٹی سے نکالے جانے کے بعد پارٹی کے ایک اور سینئر لیڈر ارون شوری نے انکا دفاع کیا تھا جس کے بعد پارٹی نے ان سے ایسے کرنے پر صفائی مانگی تھی۔