جسونت کی کتاب پر گجرات میں پابندی

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما جسونت سنگھ کی طرف سے محمد علی جناح کی بجائے کانگریس کے لیڈر جواہر لعل نہرو اور ولابھائی پٹل کو تقیسم ہند کا ذمہ دار قرار دیئے جانے کے بعد انہیں نہ صرف پارٹی سے نکال دیا گیا ہے بلکہ گجرات میں بی جے پی کی ریاستی حکومت نے ان کی کتاب کی فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔
گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندرا مودی کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک اعلان کے میں کہا گیا ہے کہ جسونت سنگھ کی کتاب ، جناح، انڈیا تقسیم، آزادی‘ گجرات میں ممنوعہ قرار دے دی گئی ہے۔
گجرات کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اس کتاب میں سردار ولابھائی پٹیل کی شخصیت کو مجروع کیا گیا ہے۔
ہوم ڈیپارٹمنٹ کےمطابق سردار ولابھائی پٹیل جدید بھارت کے معماروں میں ہیں اور کوئی شخص بھی یہ یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ سردار پٹیل کا تقسیم ہند میں ذرا برار کردار ہے
اس سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی کے پارلیمانی بورڈ نے سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔
بدھ سے پارٹی کا تین روزہ اجلاس شملہ میں شروع ہوا ہے۔ بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے شملہ میں صحافیوں کو بتایا ’ہم نے جسونت سنگھ سے کل ہی کہا تھا کہ وہ اس اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے نہ آئیں لیکن اس وقت وہ شملہ کے لیے روانہ ہو گئے تھے اس لیے ہم نے آج انہیں پھر سے فون کر کے اس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کو کہا تھا۔‘
حال ہی میں جسونت سنگھ کی شائع ہوئی کتاب کے سبب پارٹی کی جانب سے ان پر زبردست تنقید کی گئی تھی۔
جسونت سنگھ نے اپنی کتاب ’جناح - بھارت، تقسیم، آزادی‘ میں لکھا ہے کہ بھارت میں محمد علی جناح کی شخصیت کی غلط عکاسی کی گئی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے مزید لکھا ہے کہ ہندوستان کی تقسیم کے ذمہ دار بھارت کے سابق وزیر اعظم جواہر لعل نہرو اور کانگریس پارٹی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد بی جے پی کے صدر رجناتھ سنگھ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس کتاب میں جسونت سنگھ کی ذاتی رائے ہے نہ کے بی جے پی کی، اور انہوں نے پوری طرح لاتعلقی ظاہر کی تھی۔
جسونت سنگھ کی کتاب سترہ اگست کو منظر عام پر آئی ہے۔ اس کتاب کے حوالے سے جسونت سنگھ کےمقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں انٹرویو بھی شائع ہوئے ہیں جس میں انہوں نے اپنا موقف مزید واضح کیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی سے باہر نکالے گئے جسونت سنگھ نے اس پورے عمل کو افسوس ناک قرار دیا ہے۔
شملہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسونت سنگھ نے کہا ’یہ ایک افسوس ناک بات ہے لیکن اس بات کا افسوس زیادہ ہے کہ مجھےصرف ایک کتاب لکھنے کے لیے پارٹی سے نکالا گیا ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کے رہنماؤں نے ذاتی طور پر مطلع نہیں کیا ہے۔ انہوں نے بتایا ’مجھے فون پر بتایا گیا، اچھا ہوتا کہ اگر راجناتھ سنگھ یا لال کرشن اڈوانی ذاتی طور پر مجھے مطلع کرتے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ تیس برس سے پارٹی کی خدمت کرتے آئے ہیں اور اب انہيں ’راون‘ کی طرح سمجھا جا رہا ہے۔ ’اٹل بہاری واجپیئی کے دور میں ایک میگزین ميں مجھے ہنومان (ہندوؤں کے بھگوان جنہيں رام کا بھکت بتایا جاتا تھا) کہا گيا تھا اور آج مجھے راون سمجھا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بھی ایک افسوس کی بات ہے کہ انہیں پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ بنا پوری کتاب پڑھے ہوئے کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’میری کتاب پر اگر کانگریس پارٹی نکتہ چینی کرتی تو وہ الگ بات تھی لیکن بی جے پی کس لیے اس طرح سے رد عمل ظاہر کر رہی ہے؟ ‘
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کا ماحول ایسا ہو رہا ہے جہاں پڑھنے لکھنے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوتی جا رہی ہے ، جو ملک کے مستقبل کے لیے تشویش ناک ہے۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا انہیں یہ کتاب لکھنے پر افسوس ہو رہا ہے تو ان کا کہنا تھا ’یہ میرے پانچ برس کی محنت ہے میں اس پر افسوس کیسے کر سکتا ہوں۔‘







