’دو وزرائے اعظم، ایک بڑا آئیڈیا‘

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
دسمبر دو ہزار ایک میں ہندوستانی پارلیمان پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد خطے پر جب جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے تو بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کس کشمکش میں مبتلا تھے؟
اور منموہن سنگھ نے کیوں پارلیمان میں شرم الشیخ اعلامیہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ واجپئی کے دکھائے ہوئے راستے پر ہی چل رہے ہیں۔
انگریزی روزمامہ انڈین ایکسپریس کے مدیر شیکھر گپتنا نے پارلیمان پر حملے کے بعد اٹل بہاری واجپئی سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے ان سوالوں پر اپنا نظریہ پیش کیا ہے۔
’دو وزرائے اعظم، ایک بڑا آئیڈیا‘ کے عنوان سے اپنے مضمون میں انہوں نے لکھا ہے کہ پارلیمان پر حملے کے دو ہفتے بعد وزیراعظم سے ان کی جو بات چیت ہوئی، اسے وہ پہلی مرتبہ ظاہر کر رہے ہیں۔
’واجپئی کے ساتھ میرا تجربہ یہ تھا کہ ان کے ساتھ سیدھے سوال جواب کی بجائے ہلکی پھلکی بات چیت ہمیشہ زیادہ سودمند ثابت ہوتی تھی۔ دوپہر کا وقت تھا اور ہم ان کے لان میں بیٹھے تھے۔ میں نے پوچھا کہ (حالات بہت کشیدہ ہیں) کیا ایسے میں میرا بچوں کے ساتھ کیرالہ گھومنے جانا غلط تو نہیں ہوگا۔ اگر اس دوران جنگ شروع ہوگئی تو میں کہیں کیرالہ میں ہی نہ پھنس جاؤں؟‘
واجپئی نے اپنے مخصوص انداز میں ایک لمبے وقفے کے بعد جواب دیا ’یہ بھی کوئی چھٹی پر جانے کا وقت ہے؟‘
’میں نے پوچھا --- تو کیا جنگ ہونے والی ہے؟‘
’واجپئی پھر کافی دیر کے لیے خاموش ہوگئے، لیکن میں بھی چپ چاپ جواب کا انتظار کرتا رہا۔ آخرکار بولے، ہر کوئی جنگ چاہتا ہے۔ مسلح افواج بہت مشتعل ہیں۔ لیکن ایک مسئلہ ہے۔ آپ یہ فیصلہ تو کر سکتے ہیں کہ جنگ کب شروع کی جائے لیکن ایک بار جنگ شروع ہوجائے، پھر یہ کسی کو نہیں معلوم ہوتا کہ لڑائی کب اور کسیے ختم ہوگی۔یہ فیصلے ہی لیڈر کا امتحان ہوتے ہیں‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شرم الشیخ اعلامیہ پر پارلیمان میں حزب اختلاف کی نتقید کا جواب دیتے وقت منموہن سنگھ نے بھی یہ بات دہرائی تھی کہ پاکستان کے ساتھ جنگ کا ’آپشن‘ نہیں ہے۔
شیکھر گپتا کے مطابق واجپئی کو یہ یقین تھا کہ پاکستان میں استحکام اور خوشحالی ہندوستان کے مفاد میں ہے۔’یہ واجپئی کا بڑا آئیڈیا تھا، ان کا سب سے اہم نظریہ اور جب سن دو ہزار چار میں ان کی پارٹی الیکشن ہار گئی تو انہیں سب سے زیادہ مایوسی اسی بات پر تھی کہ وہ اس نظریہ کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا پائے۔۔۔ دلی لاہور بس پر سفر، آگرہ سربراہ کانفرنس اور پھر(پارلیمان پر حملے کے سولہ مہینے بعد، جس دوران اس وقت کے قومی سلامتی کے صلاح کار برجیش مشرا کے مطابق دو مرتبہ جنگ چھڑتےچھڑتے رہ گئی تھی) کشمیر میں ایک جلسے سے خطاب کے دوران اچانک پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا۔۔۔سب( حیرت انگیز لیکن ) اسی نظریہ کا حصہ تھے‘۔ (امن کی اس پیش کش کے نتیجے میں ہی جنوری دو ہزار چار میں واجپئی اور مشرف کی ملاقات کے بعد اسلام آباد اعلامیہ جاری کیا گیا تھا)
شیکھر گپتا نے واجپئی سے ایک اور انتہائی دلچسپ بات چیت کا ذکر کیا ہے۔
’جب واجپئی نے آگرہ میں جنرل مشرف سے ملاقات کا فیصلہ کیا، تو میں نے واجپئی سے پوچھا کہ کیا ایک سربراہی اجلاس کے لیے یہ صحیح موقع ہے؟ (کشمیر میں حالات بہت خراب تھے اور ایک ہندوستانی طیارے کے اغوا (قندہار ہائی جیک) کے بعد ملک میں غصے کی لہر تھی)؟‘
’واجپئی کا جواب تھا: دیکھیے، اگر ہندوستان اور پاکستان کے رہنما قیام امن کے لیے بہترین موقع کا انتظار کرتے رہے، تو شاید انہیں کبھی موقع نہیں ملے گا‘۔
’لیکن میں نے اور کریدا۔ اس وقت کیوں؟ کیا کوئی زبردست آئیڈیا آیا ہے، کیا بین الاقوامی دباؤ ہے، آپ جنرل مشرف کے اتنے مطالبات کیوں مان رہے ہیں؟‘
واجپئی نے کہا کہ کشمیر میں فوج کا ایک میجر ہلاک ہوا جس کے والدین کو وہ جانتے تھے۔’میں نے تعزیت کے لیے فون کیا۔۔۔میجر کے والد نے ٹھنڈے دماغ سے بولتے ہوئے کہا کہ انہیں کوئی غم نہیں، وہ اور کئی بیٹے ملک پر قربان کرسکتے ہیں۔۔۔میں نےسوچا کہ ان کا غم ابھی تازہ ہے، کچھ دنوں میں انہیں اپنے بیٹےکی کمی اور اپنے نقصان کا احساس ہوگا۔۔۔ لیکن یہ سب کب تک چلتا رہے گا؟ سرحد کے دونوں اطراف کتنے کنبے ہیں جو اسی کرب سے گزر رہے ہیں؟ لہذا میں نے سوچا کہ آنے والی نسلوں کے لیے ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اس تنازعہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیں‘۔
آگرہ سربراہی اجلاس کی ناکامی کے لیے عام طور پر جنرل مشرف کی ’ضد‘ اور بی جے پی کے اندر اختلافات کو ذمہ دار مانا جاتا ہے۔ اس وقت یہ تاثر بھی عام تھا کہ بی جے پی کی قیادت نے ہی اجلاس کو سبوتاژ کیا تھا۔
شرم الشیخ کے بعد اب یہ تاثر دوبارہ عام ہے کہ منموہن سنگھ نے دہشت گردی کو مذاکرات کے عمل سے الگ رکھ کر اپنے ’بگ آئیڈیا‘ کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی ہے۔ مبصرین کے مطابق ان کا نظریہ یہ ہے کہ ہندوستان جب تک پاکستان کے ساتھ اپنے معاملات حل نہیں کرتا، اسے عالمی برادری میں وہ مقام حاصل نہیں ہوگا جس کا وہ مستحق ہے اور اس کی معاشی ترقی کی راہ میں اڑچنیں حائل رہیں گی۔
اور اس کے لیے منموہن سنگھ کہتے ہیں کہ وہ ’مور دین ہاف وے( آدھے راستے سے زیادہ) آگے بڑھنے کو تیار ہیں‘۔
شیکھر گپتا کے مطابق منموہن سنگھ بھی واجپئی کی طرح ’رسک ٹیکر‘ (خطرہ مول لینے والے) ہیں جس کی جھلک شرم الشیخ اعلامیہ میں صاف نظر آتی ہے۔
بہرحال، جہاں تک قیام امن کی اس نئی کوشش کا سوال ہے، فی الحال عام تاثر یہ ہے کہ بات آگے بڑھنے کے بجائے اور پیچھے چلی گئی ہے۔







