انڈیا:’10 ارب ڈالر‘ کے انتخابات، فائدہ کس جماعت کو؟

انڈیا میں الیکشن کمیشن نے اتوار کو عام انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹنگ گیارہ اپریل کو شروع ہو کر سات مرحلوں میں مکمل ہو گی اور نتائج کا اعلان 23 مئی کو ہوگا۔

انڈیا کے الیکشن کمیشن سنیل اروڑا نے ملک کے دارالحکومت دلی میں شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ووٹنگ 11 اپریل سے 19 مئی تک جاری رہے گی۔ اس موقع پر صحافیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

الیکشن کمشنر نے مختلف صحافیوں کی طرف سے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو متنبہ کر دیا گیا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران حاضر سروس فوجیوں کی تصاویر استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

انڈیا میں ووٹروں کی تعداد 90 کروڑ سے زیادہ ہے جو تقریباً دس لاکھ پولنگ سٹیشنوں پر اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے انتخابات ہیں۔ انڈیا کی پارلیمان کی 543 نشستیں ہیں اور کامیابی کے لیے 272 نشستیں درکار ہوں گی۔

انڈیا کے ووٹروں کی تعداد یورپ اور آسٹریلیا کی کل آبادی سے زیادہ ہے۔

انڈیا کے پہلے انتخابات 1951-52 میں ہوئے تھے اور تین ماہ میں مکمل ہوئے تھے۔ 1962 اور 1989 کے درمیان چار سے دس دن میں مکمل ہوئے اور انڈیا کے مختصر ترین انتخابات 1980 میں ہوئے تھے جو چار روز میں مکمل کیے گئے۔

2014 میں انڈیا میں 8250 امیدواروں اور 464 سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر اسمبلی کے انتخابات

انڈیا کے الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ فی الحال انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں صرف پارلیمانی انتخابات ہوں گے جس میں چھ حلقے ہیں۔

انڈیا کے اخبار ’دی ہندو‘ کے مطابق الیکشن کمشنر نے اعلان کیا کہ کشمیر میں سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہپے اور ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے بارے میں جلد فیصلہ لیا جائے گا۔ اخبار کی سرخی تھی کہ ’جموں اور کشمیر میں صدر راج جاری رہے گا‘۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ سن 2014 میں ایک بڑے سیلاب کے باوجود ریاستی اسمبلی کے انتخابات وقت پر ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ 1996 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ریاستی اسمبلی کے انتخابات وقت پر نہیں ہو گے۔

بڑھتے ہوئے انتخابی اخراجات

بی بی سی کے نامہ نگار سوتک بسواس نے بتایا کہ انڈیا کے ’سنٹر فار میڈیا سٹڈیز کے اندازے کے مطابق سن 2014 میں تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں نے کل ملا کر تقریباً 5 ارب ڈالر خرچ کیے تھے اور اس بار امریکہ میں تھنک ٹینک ’کارنیگی انڈاؤمنٹ‘ میں جنوبی ایشیا پروگرام کے ڈائریکٹر اور فیلو کا اندازہ ہے کہ یہ انتخابی خرچہ دوگنا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ میں سن دو ہزار سولہ کے صدارتی اور کانگریس کے انتخابات کا خرچہ ساڑھے چھ ارب ڈالر تھا۔

انڈیا میں نریندر مودی کی حکومت نے گزشتہ برس ’انتخابی بانڈ‘ جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے ذریعے کاروباری ادارے اور لوگ ذاتی طور پر بغیر اپنی شناخت ظاہر کیے سیاسی جماعتوں کو چندہ دے سکیں گے۔ ان بانڈز میں اب تک 150 ملین ڈالر دیے جا چکے ہیں اور اطلاعات کے مطابق یہ زیادہ تر پیسہ تر بی جے پی کو ملا ہے۔