آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کتابوں کے بجائے انسانوں کی لائبریری
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
دہلی کے ایک فیشنئیبل علاقے میں ایک بزنس سنٹر کے باہر سیکڑوں لوگ قطاروں میں کھڑے ہوئے ہیں۔ ان میں بیشتر طلبہ اور طالبات ہیں۔ ان میں نوپور بھارتیہ بھی ہیں۔ یہ سبھی ہیومن لائبریری یعنی انسانی لائبریری میں جانے کے انتظار میں ہیں۔
ہیومن لائبریری ایک نیا تصور ہے۔ اس میں کتابوں کی جگہ انسان ہوتے ہیں جو الگ الگ موضوعات پر اپنی کہانیاں اور تجربے بیان کرتے ہیں۔ اس لائبریری کا اہتمام دہلی میں چند گھنٹے کے لیے پہلی بار کیا گیا ہے۔ لائبریری کی منتظم نیہا سنگھ نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا ’ہیومن لائبریری کا تصور یہ ہے کہ پڑھنے کا رواج واپس لایا جائے اور اس سے بھی زیادہ اہم یہ کہ کہانیاں کہنے کا رواج واپس لایا جائے۔‘
کناٹ پلیس کی ریگل بلڈنگ میں اس لائبریری کے تجربے کے لیے سیکڑوں لوگ قطاروں میں گھنٹوں کھڑے رہے۔ نیہا بتاتی ہیں کہ ’انسانی کتابوں‘ کو اس طرح منتخب کیا جاتا ہے کہ وہ الگ الگ موضوعات پر بات کر سکیں۔
’ہم نے کلاس میں بچوں کو ہراساں کیے جانے، خواتین کے سوالات، بیماریوں سے لڑنے کے بارے میں، ماحولیات کو بچانے اور تاریخ کو محفوظ کرنے جیسے سوالات پر گیارہ انسانی کتابیں تیار کی ہیں۔ یہ انسانی کتابیں وہ باتیں بتاتی ہیں جو کسی جگہ نہیں پڑھائی جاتیں ۔‘
ہیومن لائبریری کا تصور 2000 میں ڈنمارک میں شروع ہوا تھا اور انڈیا میں یہ چند مہینے پہلے پہنچا ہے۔ اس میں ایک میز کے گرد کئی ریڈر یا پڑھنے والے بیٹھ جاتے ہیں۔ کتاب کی جگہ ایک انسان بیٹھا ہوتا ہے جو اپنا موضوع بہترین انداز میں کہانیوں کے طرز پر بیان کرتا ہے۔ کئی بار ریڈرز سوال بھی کرتے ہیں۔ عموماً ایک سیشن بیس منٹ کا ہوتا ہے۔
لائبریری آنے والے لوگ اس نئے تصور سے کافی خوش ہیں۔ ایک طالبہ اپوروا چودھری نے بتایا ’یہ ون ٹو ون تجربہ ہے، ذاتی تجربہ۔ ایک کتاب آپ سے بات کر رہی ہے۔ ایک ایسی کتاب جس نے ان واقعات کا خود سامنا کیا ہے ۔‘
انسانی کتابوں میں کچھ کتابیں کلاسز میں بولیئنگ اور ہراسمنٹ سے متعلق تھیں، ایک کینسر سروائور تھے، ان میں ایک آنکھوں سے بھی معزور تھے۔ ان کی کہانیوں سے لوگ کافی متاثر ہوئے ہیں۔ سمرن چاولہ نے بتایا کہ اس تجربے کا ان پر گہرا اثر پڑا ہے ’مجھے سب سے اچھا یہ لگا کہ یہ لوگ اپنے ایکسپیریئنس چھپاتے نہیں ہیں اسے شیئر کرتے ہیں۔‘
طالب علم صاحب دیول کہتے ہیں کہ وہ اس طرح کے پروگرام میں بار بار آنا چاہیں گے۔ ’لائبریری میں تو ہم سبھی جاتے ہیں۔ لیکن یہ بالکل مختلف تجربہ تھا ۔ یہاں حقیقی زندگی کا سامنا ہوتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہیومن لائبریری کا تصور بھارت میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ حیدآباد، اندور اور دہلی کے بعد اب اب ممبئی میں اس کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔