BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 September, 2003, 18:10 GMT 22:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بوسنیا کا مستقبل

ساراژیو کی ایک مارکیٹ
کیا بوسنیا کا مستقبل بھی اسی طرح رنگین ہو سکتا ہے

انیس سو چورانوے میں بوسنیا میں اپنے قیام کے دوران مجھے ہفتہ بھر موستار سے چالیس پچاس کیلومیٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹے سے مسلمان قصبے ’یابلدنِتسا‘ میں رہنے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ایک بات نے مجھے بہت متاثر کیا تھا اور وہ یہ تھی کہ شہر کے چھوٹے سے بازار سے ذرا دور اور مسجد سے ذرا پہلے ایک چھوٹے سے گرجا گھر کی سفید عمارت جوں کی توں کھڑی تھی۔

جنگی محاذ سے دور ہونے کی وجہ سے یابلدنِتسا جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہا تھا۔ لیکن بوسنیا کی سرب اور کروشیائی اقلیتیں جنگ سے پہلے ہی علاقہ چھوڑ کے جا چکی تھیں اور یہ گرجا گھر اب مقامی مسلمانوں کے رحم و کرم پر تھا۔ باوجود اس کے سربوں اور کروشیائیوں نے اپنے علاقوں میں مسجدوں کی بنیادوں تک کو کھود ڈالا اور موستار کے تاریخی شہر کی ہر مسجد کروشیائیوں کے راکٹوں کا نشانہ یوں بنی کہ شہر بھر میں کوئی مینار باقی نہ رہا اس چھوٹے سے قصبے کی رواداری پہ میں عش عش کر اٹھی کہ نہ شہر کے لوگوں کو تالا توڑ کر گرجا گھر کو تہس نہس کرنے کا خیال آیا، نہ کوئی پتھر اس کی کھڑکیوں پر اٹھا اور نہ ہی کسی نے اس کی سفید دیواروں پر توہین آمیز فقرے لکھے۔

آج سے گیارہ سال پہلے ہندوستان میں بابری مسجد کی تباہی اور مسلمانوں کے قتل کا بدلہ میرے ہم وطنوں نے بلوچستان کے ایک گاؤں میں آباد ایک بے یارو مددگار ہندو گھرانے کو قتل کر کے چکا دیا تھا۔ ایک طرف اسے یاد کر کے دل روتا ہے تو دوسری طرف بوسنیا کے اس قصبے کے لوگوں کا رتبہ میری نظر میں اور بھی بلند ہوجاتا ہے۔ اس ملک میں جہاں صدیوں کا بھائی چارہ بھول کر سرب اور کروشیائی رہنما اس علاقے سے مسلمانوں کا صفایا کرنے پر تلے ہوئے تھے یہ مثال غیر معمولی لگتی تھی۔ لیکن میرے حالیہ سفر کے دوران کروشیائی صحافیوں نے تصدیق کی کہ مسلمان علاقوں میں ایسی بہت سی مثالیں دیکھنے میں آئیں۔

اس بار سرے برنِیتسا میں ایسے ہی ایک چھوٹے سے واقعے نے مجھے بہت متاثر کیا۔ یاد رہے کہ سرے برنِیتسا پر بوسنیائی سربوں نے تین سال کے محاصرے کے بعد انیس سو پچانوے میں تین دن کے عرصے میں سات ہزار مسلمان لڑکوں اور مردوں کا قتل عام کیا جن کی مائیں، بہنیں اور بیوائیں اب تک ان کی لاشیں تلاش کررہی ہیں۔

موستار کا ایک سنسان بازار
وہ پہلے والی چہل پہل اب کہاں

ایسی ہی ایک خاتون خدیجہ مہمیتووچ کے ساتھ میں ساراژیوو سے سرے برنِیتسا پہنچی تھی۔ جب میں اپنے مترجم میرسِد سمیت علاقہ دیکھنے نکلی تو شہر کے چھوٹے سے مرکزی چوک میں دو تین آدمیوں کو لکڑی کا ایک کھوکھا بناتے دیکھ کر رک گئی۔ معلوم ہوا کہ ان میں ایک اس کے مالک ہیں۔ سنتالیس سالہ ہجیار پودوچ نے بتایا کہ وہ پچھلے آٹھ سال سے ساراژیوو میں مقیم ہیں اور اب واپس سرے برنِیتسا آنے کی تیاری کررہے ہیں۔

میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو یہ خیال آتا ہے آپ کی ہمسائیگی میں بہت سے نئے سرب خاندان آباد ہیں جو ان بوسنیائی لوگوں کے گھروں پر قابض ہیں جنہیں ان لوگوں نے شہر چھوڑنے پر مجبور کیا تھا اور عین ممکن ہے کہ ان میں کچھ آدمیوں کے ہاتھ بوسنیائی خون سے رنگے ہوں۔ پودوچ نے میرے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے فیصلہ کن لہجے میں کہا ’جنگ ختم ہوچکی ہے، جنگ ختم ہوچکی ہے‘۔

بوسنیائی عوام میں یہ فراخ دلی بار بار دیکھنے میں آئی۔ جس سے یہ بات واضح ہے کہ زیادہ تر بوسنیائی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا مستقبل مل جل کر رہنے میں ہے اور یہ کہ وقت کے ساتھ ساتھ دلوں کے زخم مندمل ہوجائیں گے، دشمنی کے داغ دُھل جائیں گے اور بوسنیا ایک بار پھر کثیرالنسلی ملک کے طور پر ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

پودوچ کی طرح اکثر بوسنیائی ملک کی مالی ابتری اور بے روزگاری سے زیادہ پریشان ہیں ان کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ عالمی برادری کی دخل اندازیاں ہیں۔

یہاں تک کہ وہ سابق یوگوسلاویہ کی تقسیم کے لئے بھی بیرونی ممالک کے ارادوں اور پالیسیوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور اگر خطۂ بلقان اور اس کے چند ہمسایہ ممالک کی تاریخ کا تجزیہ کیا جائے تو اس میں کچھ حقیقت بھی ہے۔ تاہم پچھلے دس سالوں کے تجربات کی روشنی میں یہ رویہ میرے لئے اب بھی حیرت کا باعث ہے۔

وربانیا میں واپس آنے والے لوگ
جیسا بھی ہے اپنا تو ہے

بانیا لوکا میں ٹیکنیکل کالج کے پروفیسر کولانووچ محمد کا کہنا تھا کہ جنگ کے پیچھے قوم پرست سیاسی جماعتوں کے منصوبے تھے جنہوں نے لوگوں کو گمراہ کیا ورنہ جو لوگ صدیوں سے ساتھ ساتھ رہے، نسل و مذہب کی تفریق کیئے بغیر ازدواجی رشتوں میں منسلک ہوئے وہ اب بھی اپنےاختلافات بھول کر ساتھ رہ سکتے ہیں۔

ان خیالات اور جذبات کی تصدیق میں نے بانیا لوکا میں، جو بوسنیا کے سرب صوبے کا دارالحکومت ہے، سرب صحافیوں سے کرنی چاہی تو مجھے خاموشی کی ایک دیوار کا سامنا کرنا پڑا۔ یا پھر لوگوں نے نہایت خوبصورتی سے موضوع بدل دیا۔

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ریپبلکہ سربسکا ہر لحاظ سے ایک الگ ملک ہے جس کے لوگ بوسنیا کا حصہ بننے پر تیار نہیں ہیں۔ ریپبلکہ سربسکا کے ایک مسلمان صحافی نے بھی دبے لفظوں میں کچھ انہی خدشات کا اظہار کیا کہ آج اگر اقوام متحدہ اور یورپی اتحاد کی فوجیں بوسنیا سے چلی جائیں تو ریپبلکہ سربسکا سربیہ کے ساتھ جا ملے۔

ملک کے دوسرے حصے بوسنیا ہرزِگووینا میں مسلمانوں کے علاوہ کروشیائی اقلیت (جو آبادی کا سترہ فیصد میں) آباد ہے۔ ان کی اکثریت ہرزِگووینا کے مغربی علاقے میں جمع ہے یہاں بھی مجھے بھائی چارے کا درس کسی نے نہیں دیا بلکہ موستار کے نواحی علاقے میں تقریباً مکمل طور پر کروشیائی قصبے شِروکی برئییگ کے ماحول سے یہ واضح تھا کہ یہاں بوسنیائی مسلمانوں کا گزر نہیں ہوتا۔ وہاں میں صحافیوں کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جنرلسٹ کی جانب سے ملک کے صحافیوں کی ایک متحد یونین تشکیل دینے کے سلسلے میں ایک سیمینار میں حصہ لے رہی تھی۔ مقامی صحافیوں نے جنہیں سیمینار کی انتظامی ذمہ داری سونپی گئی تھی کسی مسلمان صحافی کو مدعو نہیں کیا تھا اور دو روزہ سیمینار کے دوران جس قسم کے خیالات کا اظہار کیا گیا وہ ایک نہایت فاشٹ معاشرے کی عکاسی کررہے تھے۔ چند ایک نے بلا تکلف یہ کہا کہ وہ ہرگز کسی مشترکہ یونین کی رکنیت پر تیار نہیں ہیں۔

ان خیالات و نظریات پر میں دم بخود رہ گئی اور مجھے ساراژیوو میں ہمسایہ ملک کروشیا سے آئی ہوئی ساتھی یاسمینہ کی بات یاد آئی۔ اس نے کہا تھا کہ ’مجھے سب سے زیادہ افسوس بوسنیائی قوم کے بارے میں ہے کیونکہ صرف یہی لوگ تھے جو ایک مشترکہ یوگوسلاویہ میں مل جل کر رہنے کے حق میں تھے اور یہی لوگ خسارے میں رہے‘۔

ایسا لگتا ہے کہ جنگ اور بٹوارے کے دس سال بعد بھی صورت حال زیادہ بدلی نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد