
شاہ رخ خان کے ایک انٹرویو کے بعد یہ تنازعہ شروع ہوا تھا
بھارتی سکریٹری داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور پاکستانی حکام کو چاہیے کہ وہ اپنی عوام کی حفاظت کی فکر کرے۔
بھارتی داخلہ سیکرٹری آر کے سنگھ نے یہ بات پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک کے اس بیان کے جواب میں کہی ہے جس میں انہوں نے بھارتی حکومت سے شاہ رخ خان کو سکیورٹی مہیا کرنے کی استدعا کی تھی۔
منگل کو صحافیوں سے بات چيت کے دوران بھارتی داخلہ سکریٹری نے کہا ’ہم میں پوری صلاحیت ہے کہ اپنے شہریوں کی سکیورٹی کا خیال رکھ سکیں۔ انہیں (رحمان ملک) کو چاہیے کہ وہ اپنی عوام کی سکیورٹی کی فکر کریں‘۔
پاکستان کے وزير داخلہ رحمان ملک نے پیر کو کہا تھا ’وہ (شاہ رخ) پیدائشی بھارتی ہیں اور بھارتی ہی رہنا پسند کریں گے لیکن میں بھارتی حکومت سے گزارش کروں گا کہ براہ کرم انہیں سکیورٹی مہیاکریں۔ میں اپنے ان تمام بھارتی بہنوں اور بھائیوں سے، جو شاہ رخ خان کے متعلق منفی باتیں کہتے ہیں، کہ وہ ایک فلم سٹار ہیں‘۔
رحمان ملک کا کہنا تھا کہ ایسے فلمی اداکاروں کو دونوں ممالک کی عوام پیار کرتی ہے اور در اصل ایسی ہی شخصیات محبت اور اتحاد کی علامت ہیں۔
"ہم میں پوری صلاحیت ہے کہ اپنے شہریوں کی حفاظت کا خیال رکھ سکیں۔ انہیں ( رحمان ملک) چاہیے کہ وہ اپنی عوام کی حفاظت کی فکر کریں۔"
بھارتی داخلہ سیکریٹری
واضح رہے کہ یہ تنازع اداکار شاہ رخ خان کے اس بیان سے شروع ہوا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان میں مسلمان ہونے کے باعث انھیں بعض مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شاہ رخ خان نے یہ بات چند روز قبل ’آوٹ لک ٹرننگ پوائنٹس‘ نامی ایک جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی تھی۔
شاہ رخ خان نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکہ پر ہونے والے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد کے ماحول میں بھارت میں مسلمان ہونے میں بعض مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ میں اس مسئلے پر بحث چھڑ گئی ہے اور سماجی رابطے کی ویب ساٹس پر بھی اس حوالے سے بحث جاری ہے۔
دوسری جانب بھارتی اداکار شاہ رخ خان اس وقت ملک سے باہر ہیں اور امکان ہے کہ وہ آج شام تک واپس پہنچیں گے۔






























