
ہالی ووڈ کے اداکار بریڈ پٹ نےکہا ہے کہ ہالی ووڈ اداکاروں پر عالمی مندی کا اثر پڑا ہے جبکہ بالی ووڈ کے فنکاروں کا معاوضہ بڑھتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بظاہر یہ سننے میں عجیب سا لگ سکتا ہے کیونکہ بھارت میں صورت حال مختلف ہے اور عامر خان، شاہ رخ خان اور سلمان خان جیسے بالی ووڈ کے بڑے فنکاروں کو کروڑوں روپے معاوضہ ملتا ہے۔
یہ اداکار اپنے مقررہ معاوضے کے علاوہ فلم کے منافع میں حصہ داری بھی مانگتے ہیں اور ہر فلم کے بعد اپنا معاوضہ بڑھا دیتے ہیں۔
ان تینوں بڑے فنکاروں کے علاوہ دوسرے اداکار بھی فلم سازوں سے اچھا خاصہ معاوضہ وصول کرتے ہیں۔
"بالی وڈ میں زبردست سٹار سسٹم ہے۔ یہاں ستارے فلاپ فلم کے بعد بھی اپنا معاوضہ کم نہیں کرتے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ پروڈیوسرز پھر سے ان کے پاس دوڑے چلے آئیں گے۔"
کومل نہاٹا
دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری ہالی ووڈ پر جب عالمی کساد بازاری کا اثر پڑا تو بھلا بالی ووڈ کے ستارے اس سے کس طرح اچھوتے رہ گئے؟
بالی ووڈ فنکار اتنی بھاری بھرکم معاوضہ بھلا کیسے لیتے ہیں اور پروڈیوسر انہیں کروڑوں روپے دینے کے لیے تیار بھی کیوں ہو رہے ہیں؟ کیا بالی بالی ووڈ منافع کے لحاظ سے ہالی بالی ووڈ سے بہتر پوزیشن میں ہے؟
فلم کے کاروبار پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگار کومل نہاٹا کے مطابق بالی ووڈ میں زبردست سٹار سسٹم ہے۔ یہاں ستارے فلاپ فلم کے بعد بھی اپنا معاوضہ کم نہیں کرتے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ پروڈیوسرز پھر سے ان کے پاس دوڑے چلے آئیں گے۔ ہاں، ہٹ فلم کے بعد وہ اپنا معاوضہ ضرور بڑھا دیتے ہیں۔ یہ براہ راست مانگ اور فراہمی کا کھیل ہے۔ جب ستارے کم اور پروڈیوسرز زیادہ ہیں تو فنکار اپنا منہ مانگا معاوضہ تو وصول کریں گے۔
کومل کہتے ہیں کہ شاہد کپور جیسے ستارے جن کی گزشتہ دو فلمیں ’موسم‘ اور ’تیری میری کہانی‘ فلاپ ہو گئیں، وہ بھی اپنا معاوضہ کم نہیں کر رہے ہیں، کیونکہ اب بھی ان کے پاس فلم بنانے والوں کی لائن لگی ہے۔

بالی ووڈ میں سب کچھ فنکاروں سے چلتا ہے، نمرتا جوشی
فلم ناقد نمرتا جوشی بھی اس خیال سے متفق ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’بالی ووڈ میں سب کچھ فنکاروں سے چلتا ہے۔ یہاں ہدایتکاروں اور کہانی لکھنے والوں کو وہ درجہ حاصل نہیں ہے جیسا کہ ہالی ووڈ میں ہوتا ہے اس لیے ستاروں کی اہمیت ہمیشہ بڑھی رہتی ہے۔‘
کومل نہاٹا یہ بھی کہتے ہیں کہ پہلے امیتابھ بچن ہی واحد ایسے اداکار تھے جن کا معاوضہ کروڑوں میں تھا باقی فنکار لاکھوں میں پیسے لیتے تھے لیکن اب عمران خان جیسے فنکار بھی دس سے بارہ کروڑ روپے لیتے ہیں، جبکہ عمران نے اپنے دم پر ایک بھی سپر ہٹ فلم نہیں دی ہے۔
کومل کے مطابق عامر خان ، شاہ رخ اور سلمان جیسے سٹار تیس سے پینتیس کروڑ روپے بھی مانگ سکتے ہیں کیونکہ ان کی فلمیں منافع حاصل کر ہی لیتی ہیں۔ اگر سلمان خان کی بدولت یش چوپڑا اور ادیتہ چوپڑا فلم ’ایک تھا ٹائیگر‘ کے ذریعے نوے سے سو کروڑ روپے کما رہے ہیں تو سلمان پچیس تیس کروڑ روپے مانگے بھی تو اس میں کیا غلط ہے۔






























