آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آشوتوش کوشک: وہ انڈین اداکار جو ’بھلائے جانے کے حق‘ کے لیے لڑ رہا ہے
- مصنف, گیتا پانڈے
- عہدہ, بی بی سی نیوز، انڈیا
آپ کو کسی غلطی کی سزا کب تک ملنی چاہیے؟
یہی ایک انڈین اداکار اور ریئلٹی شو سلیبریٹی آشوتوش کوشک کا بنیادی نکتہ ہے جس پر دہلی ہائی کورٹ جمعرات کو سماعت کرنے والی ہے۔
آشوتوش کوشک چاہتے ہیں کہ عدالت انھیں ‘بھلائے جانے کا حق‘ دے کیوں کہ ان کی زندگی اب بھی اُس ایک غلطی کی یرغمال بنی ہوئی ہے جو ان سے ’ایک دہائی قبل‘ سرزد ہوئی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ‘بھلائے جانے کا حق‘ یا ‘مٹانے کا حق‘ یہ ہے کہ آپ کی عوامی سطح پر دستیاب ذاتی معلومات کو انٹرنیٹ سے ہٹا دیا جائے۔ اگرچہ یورپی یونین میں اس حق کو تسلیم کیا گیا ہے لیکن وہاں بھی یہ حق غیر مشروط نہیں ہے۔ مگر انڈیا میں تو یہ بالکل نیا تصور ہے اور اب بھی قانون کے دائرے میں نہیں آتا ہے۔
کوشک اس وقت سرخیوں میں آئے جب انھوں نے 2007 میں ریئلٹی شو ایم ٹی وی روڈیز کا پانچواں سیزن جیتا اور ایک سال بعد بگ باس (بگ برادر کا بے حد مقبول انڈین ورژن) میں کامیاب رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جیت کے بعد انھوں نے ‘انڈیا بھر کے لوگوں کی تعریف اور محبت‘ حاصل کی۔
لیکن شہرت کے بعد بدنامی اس وقت ملی جب ایک سال بعد، وہ شراب پی کر گاڑی چلاتے ہوئے پکڑے گئے۔
ایک عدالت نے ان کو 2,500 روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا اور ان کا ڈرائیونگ لائسنس ایک سال کے لیے معطل کر دیا گیا۔ انھیں دن کے اختتام تک عدالت میں موجود رہنے کا بھی حکم دیا گیا۔
یہ واقعہ اس لیے سرخیوں میں آیا کیونکہ وہ ایک مشہور شخصیت تھے۔ جو کچھ ہوا اس کی رپورٹس، تصاویر اور ویڈیوز اب بھی انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور تلاش کی جا سکتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا ہے کہ اس سب نے انھیں ذاتی اور پیشہ ورانہ طور پر بہت نقصان پہنچایا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ‘اس وقت میں 27 سال کا تھا۔ مجھے وہ سب کچھ مل گیا جو میں زندگی میں چاہتا تھا۔ میں نے اپنے والد کو کھو دیا تھا اور میری رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ میں ناتجربہ کار تھا اور غلطی کی اور مجھے اس کی سزا ملی۔ لیکن اب میری عمر 42 سال ہے اور مجھے لگتا ہے کہ میں اب بھی قیمت ادا کر رہا ہوں۔‘
انھوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد لوگوں نے ان سے فاصلہ رکھنا شروع کر دیا۔
‘اب لوگوں پر میرا پہلا تاثر ہی خراب پڑتا ہے۔ میں کام سے محروم ہو گیا ہوں، مجھے کئی بار شادی کے لیے مسترد کیا گیا، اور جب بھی میں گھر بدلتا ہوں، میرے نئے پڑوسی مجھے عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔‘
ان کی اہلیہ ارپیتا ایک بینکر ہیں جن سے ان کی شادی 2020 کے موسم گرما میں ہوئی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے خاندان والوں نے انٹرنیٹ پر وہ ویڈیوز دیکھی ہوئی ہیں جس وجہ سے شروع سے ہی ان کے شوہر کے حوالے سے ان کا رویہ متعصبانہ ہے۔
‘میرے رشتہ دار ان کے ماضی کے بارے میں بہت فکر مند تھے۔ میرے بھائی نے ہماری شادی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اب بھی مجھ سے بات نہیں کرتا۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ زندگی میں ہر کوئی غلطیاں کرتا ہے، تو میرے شوہر کو عمر بھر کی سزا کیوں دی جائے؟‘
کوشک کہتے ہیں ‘جب عدالت کسی ملزم کو سزا سناتی ہے، تو یہ ایک مدت کے لیے ہوتی ہے، اس لیے ڈیجیٹل سزا کی بھی ایک وقت کی حد، ایک کٹ آف ڈیٹ ہونی چاہیے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اتنے برسوں کے دوران، انھوں نے متعدد نیوز ویب سائٹس اور چینلز سے رابطہ کیا، ان سے آرٹیکلز، تصاویر اور ویڈیوز کو ہٹانے کی درخواست کی، لیکن ان میں سے زیادہ تر ابھی بھی موجود ہیں۔ انھوں نے انڈیا کی اطلاعات و نشریات کی وزارت اور گوگل کو بھی خط لکھا، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔
کوشک نے ’ضلع غازی آباد‘ اور ’قسمت محبت پیسہ دلی‘ جیسی بالی وڈ فلموں میں کام کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ مضامین انھیں ‘شدید اذیت‘ اور ‘نفسیاتی تکلیف‘ پہنچاتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ عدالت انڈین حکومت، میڈیا کے نگراں ادارے پریس کونسل آف انڈیا اور گوگل کو ‘مختلف آن لائن پلیٹ فارمز سے مواد ہٹانے‘ کا حکم دے۔
کوشک واحد انڈین نہیں ہیں جو بھول جانے کا حق مانگ رہے ہیں۔ اسی طرح کی درجنوں درخواستیں انڈیا بھر کی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ ان میں سے اکثر ایسے لوگوں کی ہیں جو اپنے خلاف الزامات سے بری ہو چکے ہیں یا پہلے ہی اپنی سزا کاٹ چکے ہیں۔
ایک ازدواجی تنازع میں ایک خاتون اپنے کیس سے متعلق عدالتی فیصلے کو ایک ویب سائٹ سے ہٹوانا چاہتی ہیں کیونکہ اس میں ان کا پتہ اور دیگر ذاتی معلومات شامل ہیں۔
انڈین حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے ذاتی ڈیٹا پروٹیکشن بل میں، جو کہ ابھی تیار ہو رہا ہے، بھول جانے کے حق سے متعلق دفعات موجود ہیں۔
گوگل کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی سرچ ‘عام طور پر ویب پر موجود چیزوں کی عکاسی کرتی ہے، لہٰذا اگر لوگ ویب سے مواد ہٹانا چاہتے ہیں، تو ہم کہتے ہیں کہ وہ مواد کی میزبانی کرنے والی آزاد سائٹوں سے رابطہ کر کے اس عمل کی شروعات کریں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’ہمارا ہمیشہ سے یہ مقصد رہا ہے کہ ہم معومات تک جتنا ممکن ہو سکے رسائی کو ممکن بنائیں۔۔۔ہم صارفین کو ایسے سسٹم مہیا کرنے میں بھی بہت محنت کرتے ہیں جن کے ذریعے وہ ایسے مواد کے بارے میں ہمیں آگاہ کر سکتے ہیں جو ہماری پالیسی کے خلاف ہو، اس میں مقامی قوانین کے تحت غیر قانونی مواد کو ہٹانا بھی شامل ہے۔‘
لیکن ٹیکنالوجی کے ماہر پرسنتو روئے کا کہنا ہے کہ فی الحال انڈین شہریوں کے لیے بھول جانے کا حق استعمال کرنے کا کوئی آسان طریقہ نہیں ہے۔
ان کے مطابق انٹرنیٹ بہت وسیع ہے جہاں گوگل جیسا بڑا گیٹ وے، مائیکروسافٹ کا بِنگ اور وِکی پیڈیا، میڈیم، دیگر پلیٹ فارمز جیسا کہ فیس بک اور ٹوئٹر، اور دسیوں ہزار بلاگز موجود ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ برسوں پہلے انھوں نے ‘گوگل سے غیر رسمی طور پر ایک ایسی خاتون کے لیے بات کی تھی جس پر بار بار بہتان لگایا جا رہا تھا اور اسے ایسے ‘شوہروں‘ سے جوڑا جا رہا تھا جن سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ لیکن وہ زیادہ مددگار نہیں تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ایک اور افسر کے معاملے میں نام ہٹوانا تھا لیکن غیر رسمی درخواستیں کام نہیں آئیں اور سرکاری چینلز کام آئے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ گوگل ‘بعض یو آر ایلز کو یہاں تک کہ تلاش کیے جانے والے الفاظ کو بھی آسانی سے بلاک کر سکتا ہے۔ یہی سب وہ قانون کے مطابق یورپی یونین میں کرتا ہے مگر یہاں پر انھیں ڈر ہے کہ ایسی درخواستوں کی بھرمار ہو جائے گی کیونکہ لوگ آسانی سے ناراض ہو جاتے ہیں۔‘
کوشک کے وکیل اکشت باجپائی کہتے ہیں کہ اگرچہ انڈیا میں بھول جانے کے حق کے حوالے سے ایک قانونی خلا موجود ہے، لیکن ایسے عدالتی فیصلے ہیں جنہیں مثال کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اڑیسہ اور کرناٹک کی اعلیٰ عدالتوں نے بھلائے جانے کے حق کو رازداری کے حق کے ایک لازمی حصے کے طور پر قبول کیا ہے۔ اور سنہ 2018 میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ رازداری کا حق ایک بنیادی حق ہے۔
اکشت باجپائی کہتے ہیں کہ ‘پچاس سال بعد، جب کوشک کے بچوں کے بچے اسے گوگل کریں گے، تو انہیں معلوم ہوگا کہ انھوں نے بگ باس اور روڈیز جیتا تھا، لیکن انہیں یہ بھی معلوم ہو گا کہ وہ ایک ناخوشگوار واقعے میں ملوث تھے۔ انھیں وہ سزا مل چکی جس کے وہ قانون کے تحت مستحق تھے، اور اب رازداری ان کا حق ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اس مسئلے پر عدالتوں اور معاشرے کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
‘کسی شخص کے بھلائے جانے کا حق کسی شخص کے جاننے کے حق سے متصادم ہو سکتا ہے۔ لیکن مجھے امید ہے کہ عدالت ایک درمیانی راستہ تلاش کر لے گی، ریپ یا قتل جیسے گھناؤنے جرائم میں، معاشرے کو جاننے کا حق ہے لیکن اگر جرم سنگین نہیں ہے تو شاید عدالتیں بھلائے جانے کے حق کی اجازت دے سکتی ہیں۔‘