جب نواب منصور علی خان پٹودی کی برات شرمیلا ٹیگور کے گھر اتری

    • مصنف, عقیل عباس جعفری
    • عہدہ, محقق و مورخ، کراچی

وہ 27 دسمبر 1969 کا دن تھا جب انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان نواب منصور علی خان پٹودی کی برات فلمی اداکارہ شرمیلا ٹیگور کے گھر اتری۔

شمالی ہندوستان کی پٹودی ریاست کے اس آخری ’نواب‘ اور اپنے زمانے کی مشہور اداکارہ کے درمیان شادی پر منتج ہونے والا تعلق چار برس قبل اس وقت قائم ہوا تھا جب شرمیلا منصور پٹودی کی ٹیم کا میچ دیکھنے دلّی میں سٹیڈیم آئی تھیں۔

پانچ جنوری 1941ء کو بھوپال میں پیدا ہونے والے نواب منصور علی خان پٹودی کو کرکٹ کا کھیل وراثت میں ملا تھا۔ ان کے والد نواب محمد افتخار علی خان پٹودی ٹیسٹ کرکٹ میں انگلینڈ اور ہندوستان دونوں ممالک کی نمائندگی کرچکے تھے۔

اسی حوالے سےمزید پڑھیے

منصور علی خان پٹودی کی گیارہویں سالگرہ کی کا دن تھا جب ان کے والد افتخار علی خان پٹودی پولو کھیلتے ہوئے وفات پا گئے یوں انتہائی کم عمری میں ریاست کی ذمہ داری منصور علی خان پٹودی کے کاندھوں پر آ گئی لیکن کرکٹ کے کھیل میں ان کی دلچسپی کم نہیں ہوئی۔

منصور علی خان پٹودی ایک جانب بہت اچھے بلے باز تھے اور دوسری جانب ایک پھرتیلے فیلڈر۔ وہ چیتے کی سی تیزی کے ساتھ گیند پر جھپٹتے تھے اور ان کی اسی پھرتی کی وجہ سے انہیں ٹائیگر کا خطاب دیا گیا تھا۔

16 سالہ کی عمر میں انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ کی دنیا میں قدم رکھا۔ انہوں نے سسیکس اور اوکسفرڈ یونیورسٹی کی نمائندگی کی۔ وہ پہلے انڈین تھے جو کسی انگلش کاؤنٹی کے کپتان بنائے گئے تھے۔

1961ء میں محض 20 سال کی عمر میں ایک کار حادثے میں ان کی ایک آنکھ جاتی رہی مگر وہ اس محرومی کے باوجود ٹیسٹ کرکٹ بھی کھیلتے رہے اور محض 21 سال 70 دن کی عمر میں انھیں انڈیا کی کرکٹ ٹیم کی قیادت کا فریضہ بھی سونپ دیا گیا۔ اس کے بعد وہ انڈین کرکٹ ٹیم کے مستقل کپتان بن گئے، وہ اپنے زمانے میں دنیا کے سب سے کم عمر کپتان تھے۔

1965ء میں ان کی ملاقات اس وقت کی مشہور اداکارہ شرمیلا ٹیگور سے ہوئی۔ وہ دلی میں ایک ٹیسٹ میچ کھیل رہے اور شرمیلا وہ میچ دیکھنے کے لیے آئی ہوئی تھیں۔

منصور علی خان پٹودی آکسفرڈ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے، ایک ریاست کے نواب تھے اور انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان۔

انھیں اردو پر کچھ زیادہ عبور بھی نہ تھا اور انھوں نے شرمیلا کی کچھ زیادہ فلمیں بھی نہ دیکھی تھیں۔

شرمیلا اس وقت اپنے کیریئر کے عروج پر تھیں اور اپنے بے باک فوٹو شوٹس کی وجہ سے مشہور تھیں۔ یہ تو علم نہیں کہ شرمیلا ٹیگور پر اس ملاقات کا کیا اثر ہوا مگر منصور علی خان پٹودی اس پہلی ملاقات میں ہی شرمیلا کے حسن کے اسیر ہوگئے۔

شرمیلا ٹیگور کا تعلق ایک معروف بنگالی گھرانے سے تھا تاہم ان کی پیدائش آٹھ دسمبر 1944ء کو حیدرآباد (دکن) میں ہوئی تھی۔

ان کے والد اپنے زمانے کے مشہور ہدایت کار ستیہ جیت رے کے دوست تھے۔ ستیہ جیت رے نے شرمیلا کو دیکھا تو انہوں نے ان کے والد سے کہاکہ وہ انہیں اپنی فلم ’اپور سنسار‘ یعنی اپو کی دنیا کے لئے کاسٹ کرنا چاہتے ہیں۔

ان کے والد انکار نہ کرسکے اور یوں 12، 13سال کی شرمیلا ٹیگور نے ستیہ جیت رے جیسے ہدایت کار کی فلم میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس کے بعد ستیہ جیت رے اور کئی دیگر بنگالی ہدایت کاروں نے انہیں اپنے فلموں میں موقع دیا۔

بنگال ہی کے ایک فلم ساز اور ہدایت کار شکتی سامنت اردو/ہندی زبان میں ایک فلم بنا رہے تھے جس کا نام ’کشمیر کی کلی‘ تھا۔ انھوں نے اس فلم کے مرکزی کردار کے لیے شرمیلا ٹیگور کو پیشکش کی۔ شرمیلا نے یہ پیشکش قبول کرلی اور یوں ان کے لیے اس فلمی صنعت کے دروازے بھی کھل گئے اور جلد ہی وہ ایک مصروف اداکارہ بن گئیں۔

1960ء کی دہائی میں ان کی جو فلمیں نمائش پذیر ہوئیں ان میں وقت، این ایوننگ ان پیرس، آمنے سامنے، ارادھنا اور سفر کے نام سرفہرست تھے۔

منصور علی خان پٹودی اور شرمیلا ٹیگور کی اگلی ملاقات پیرس میں ہوئی جہاں منصور علی خان پٹودی نے شرمیلا کو شادی کی تجویز پیش کی۔ شرمیلا یہ تجویز سن کر حیران رہ گئیں ۔ منصور علی خان پٹودی نے شرمیلا کو ایک ریفریجریٹر کا تحفہ پیش کیا۔

گو کہ شرمیلا پر اس تحفے کا کچھ خاص اثر نہ ہوا مگر کیوپڈ اپنا تیر چلا چکا تھا۔ تین چار سال ملاقاتوں، ایک دوسرے کو سمجھنے اور اپنے گھر والوں کو راضی کرنے میں گزرا اور 27 دسمبر 1969ء کو دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ شرمیلا ٹیگور نے اس رشتے کے لیے اسلام قبول کیا اور ان کا اسلامی نام عائشہ رکھا گیا۔

منصور علی خان پٹودی بدستور کرکٹ کھیلتے رہے اور شرمیلا فلموں میں کام کرتی رہیں۔ منصور علی خان پٹودی نے اپنے کیریئر میں 46 ٹیسٹ میچ کھیلے جن میں سے 40 میچ ان کی قیادت میں کھیلے گئے۔

1970ء کی دہائی میں شرمیلا ٹیگورکی جو فلمیں منظر عام پر آئیں ان میں امر پریم، داغ، موسم، چپکے چپکے، نمکین اور دوریاں کے نام سرفہرست تھے۔

ان کا فلمی سفر 2010ء تک جاری رہا۔ شرمیلا ٹیگور نے اپنی بہترین اداکاری پر دو قومی فلم ایوارڈ اور ایک فلم فیئر ایوارڈ حاصل کئے۔ انھیں فلم فیئر لائف اچیومنٹ ایوارڈ کے لیے بھی منتخب کیا گیا اور بھارتی حکومت نے انہیں پدم بھوشن کے اعزاز سے بھی سرفراز کیا۔

2004 سے 2011 تک وہ بھارت کے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن (فلم سنسر بورڈ) کی چیئرپرسن رہیں اور 2005ء میں انھیں یونیسیف گڈ ول ایمبیسڈر کے منصب پر فائز کیاگیا۔

نواب منصور علی خان پٹودی 22 ستمبر 2011ء کو وفات پا گئے۔ ان کی شرمیلا ٹیگور سے شادی انڈین فلمی صنعت کی چند کامیاب ترین شادیوں میں شمار ہوتی ہے۔

ان کے تین بچے ہوئے جن میں سے سیف علی خان اور بیٹی سوہا خان بھارتی فلمی صنعت سے وابستہ ہیں جبکہ ان کی ایک اور بیٹی صبا علی خان جیولری ڈیزائنر ہیں۔

منصور علی خان پٹودی اور شرمیلا ٹیگور کی شادی کرکٹ اور فلمی دنیا کے ملاپ کی پہلی مثال نہیں تھی، ان سے پہلے پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر وقار حسن فلمی اداکارہ جمیلہ رزاق کے ساتھ رشتہ ازدواج میں بندھ چکے تھے۔

ان سے بھی بہت پہلے نذر محمداور نور جہاں کا معاشقہ اپنے وقت کے معروف معاشقوں میں شمار ہوتا ہے۔

منصور علی خان پٹودی اور شرمیلا ٹیگور کے بعد جو کرکٹرز اور اداکارائیں شادی کے بندھن میں منسلک ہوئے ان میں سرفراز نواز اور رانی،محسن حسن خان اور رینا رائے، محمد اظہر الدین اور سنگیتا بجلانی، ہربھجن سنگھ اور گیتا بسرا، یووراج سنگھ اور ہیزل کیچ، ظہیر خان اور ساگریکا اور ویرات کوہلی اور انوشکا شرما کے نام اہم ہیں۔