’ آج پھر جینے کی تمنا ہے، آج پھر مرنے کا ارادہ ہے‘

،تصویر کا ذریعہ Faisal Farooqui of Dragonfly
- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
پاکستان میں فیشن شوٹس کا انعقاد عام طور پر بند جگہوں اور سٹوڈیوز میں ہوتا ہے لیکن ایک فیشن ڈیزائنر اب فیشن کو سڑکوں پر لانے کا جرات مند کام کر رہے ہیں۔
ان میں سے ایک محسن سعید ہیں جنھوں نے حال ہی میں ہار سنگار کے نام سے لاہور کی وال سٹی یعنی شہر کے قدیمی علاقوں کی سڑکوں پر فیشن شوٹ کا انعقاد کیا۔

،تصویر کا ذریعہ Faisal Farooqui of Dragonfly
پاکستان میں فیشن کے بارے میں پائی جانے والی سوچ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان میں عام طور پر فیشن کو صرف کپڑے ملبوس کرنے کی حد تک سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہ اس سے کہیں زیادہ ہے اور یہ ایک عوامی چیز ہے جس سے نہ صرف آپ اپنے تاثرات کو بیان کر سکتے ہیں بلکہ یہ لوگوں کو آپس میں جوڑتا بھی ہے۔

،تصویر کا ذریعہ Faisal Farooqui of Dragonfly
کیا پاکستان میں یہ عوامی مقامات پر فیشن شوٹس کرنے کا تجربہ نیا ہے کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اسّی اور نوے کی دہائی میں فیشن شوٹس کو عوامی جگہوں پر اور سڑکوں پر کرنا شروع کیا کیونکہ اس کے ذریعے آپ عام ماحول، خوبصورت عمارتوں کو دکھا سکتے تھے۔
’عوامی فیشن کلچر اور عوامی طرز زندگی کی عکاسی کر سکتے ہیں جس میں شوٹ کا پس منظر بھی ایک کہانی بیان کرتا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہFaisal Farooqui of Dragonfly
’اس وقت لوگوں کا رویہ بہت مثبت ہوتا تھا اور وہ ان سے تعاون کرتے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ملک میں مذہبی شدت پسندی میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے عوامی مقامات پر لوگوں نے کھلے عام فیشن شوٹ میں مداخلت کرنا شروع کر دی۔ چھ برس قبل کراچی میں ایک فیشن شوٹ کے دوران ایک شخص غصے میں میرے پاس آیا اور چلاتے ہوئے کہا کہ ’بند کرو یہ فحاشی‘۔
محسن سعید کے مطابق وہ اس رویے پر حیران رہ گئے لیکن اس کے ساتھ انھوں نے سوچا کہ آؤٹ ڈور فیشن شوٹس کو جاری رکھیں گے۔

،تصویر کا ذریعہFaisal Farooqui of Dragonfly
’پاکستان میں شادی بیاہ اور دیگر تقتریبات میں سجنے سنورنے کے عنوان سے انھوں نے ہار سنگار کے عنوان سے فیشن شوٹ کو لاہور کے قدیم حصے میں کیا کیونکہ یہ اس علاقے کی اپنی ایک تاریخ ہے اور یہاں خوبصورت عمارتیں ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حالیہ فیشن شوٹ کے بارے میں بتایا گیا کہ’اس کے پیھچے ایک بڑا مقصد یہ تھا کہ عورتوں کی عوامی جگہوں پر نمائندگی یا ان کے دن بہ دن کم ہوتے تناسب اور اچھے ملبوسات میں عوامی مقامات پر جانے کی حوصلہ شکنی اور وہاں لوگوں کے رویے کے مسئلے کو اجاگر کرنا تھا۔‘
’آج کل کے ماحول میں خواتین آپ کو عوامی جگہوں پر کم نظر آتی ہیں لیکن اس طرح کے فیشن شوٹس سے ان کو اعتماد دینا اور حوصلہ دینا ہے کہ وہ بھی عوامی مقامات پر تیار ہو کر جا سکتی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہ Jaffer Hasan
انھوں نے کہا کہ ہار سنگار کے شوٹ کے دوران لوگوں نے شوٹ میں حصہ لینے والے خواتین کو گھورا اور ہجوم کی شکل میں کھڑے ہو کر ان کی تصاویر اور ویڈیوز بنائی لیکن کسی نے پاس آ کر تنگ نہیں کیا اور شوٹ میں خلل نہیں ڈالا۔
فیشن شو کا مقصد تھا کہ’ ایسی سرگرمیوں کے ذریعے لوگوں کو عادت ڈالی جائے کہ ایک خاتون تیار ہو کر ایسی جگہوں پر آ سکتی ہے اور اس کا حق ہے۔ اور ایک معمول سے اس نوعیت کی مثبت کوششیں جاری رہتی ہیں تو ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب لوگوں کو عادات ہو جائے اور وہ حیرانگی، گھورنے اور ناپسندگی کے اظہار کی بجائے اس کو ایک معمول کے طور پر لینا شروع کر دیے۔
’میں اکیلے یہ کام نہیں کر سکتا بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی چاہیے کہ بند کمروں، سٹوڈیوز کی بجائے عوامی مقامات پر فیشن شوٹ کریں کیونکہ اس سے نہ صرف خواتین می تحفظ کا احساس پیدا ہو گا بلکہ ملک کا عالمی سطح پر محفوظ ہونے کا پیغام جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہ Jaffer Hasan
فیشن ڈیزائنرز کے بقول اگرچہ ملک میں مذہبی شدت پسندی میں اضافہ ہوا ہے لیکن اکثریت ابھی فیشن کو پسند کرتی ہے چاہے اس کو برا بھلا کہیں لیکن پسند ضرور کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہChandni Begum

،تصویر کا ذریعہMuhammad Haseeb Siddiqui
محسن سعید نے کہا کہ اسی وجہ سے اس فیشن شوٹ کا پیغام بالی وڈ کے مشہور گانے کی صورت میں تھا کہ’آج پھر جینے کی تمنا ہے، آج پھر مرنے کا ادارہ ہے‘۔
’جب تک ہم خود کچھ نہیں کریں گے اور دوسری لوگوں کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے تو تبدیلی نہیں آئے گی اور نہ ہی عوامی سطح پر لوگوں کو اس کی عادت ہو گی کہ خاتون سج سنور کر عوامی جگہوں پر آ سکتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہHaroon Sheikh of Inverted Rainbow
۔









