آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دہلی مشاعرے میں ان نوجوانوں نے بھی شرکت کی جن کی مادری زبان اردو نہیں
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
دہلی میں سنیچر اور اتوار کو اردو زبان و ادب سے محبت کرنے والوں کی محفلیں آراستہ ہوئیں جہاں اردو کی مختلف جہتوں کو مختلف انداز میں پیش کیا گیا۔
اس تقریب کے روح رواں ایک نوجوان شاعر رنجیت سنگھ چوہان ہیں اور شاید اسی نسبت سے انھوں نے نوجوانوں کے مشاعرے کا باقاعدہ اہتمام کیا تھا۔
ان شاعروں کو سننے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ اردو نے ان لوگوں کو بھی اپنا گرویدہ بنا لیا ہے جن کی مادری زبان اردو نہیں۔
زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاعر ملک کے طول و عرض سے دلی میں یکجا تھے۔
ہر دور کے نوجوان کی طرح ان میں بھی توانائی اور نئے خیالات کی تابانی تھی جو اردو کے قالب میں ڈھل کے نکھری نکھری سی لگ رہی تھی۔
ہندی سے اردو کی جانب آنے والے پرکھر مالویہ کانھا کہتے ہیں کہ ان کا تعلق اعظم گڑھ سے ہے اور وہ غلام علی، نصرت فتح علی خاں اور جگجیت سنگھ وغیرہ کی غزلیں سن کر اردو کی جانب مائل ہوئے اور اب اردو میں باقاعدہ شعر کہتے ہیں۔ ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک ہی گل کو چمن کم پڑ جائے
زخم ایسا کہ بدن کم پڑ جائے
خواب اتنے کہ نیند ناکافی
نیند اتنی کہ تھکن کم پڑ جائے
جشن ادب کے معرض وجود میں آنے کے پس پشت بھی نوجوان ذہن کارفرما ہے۔ رنجیت سنگھ چوہان کا کہنا ہے کہ اردو شاعری اور محبت میں شاعر بنے اور پھر اس دیوانگی نے جشن ادب کا روپ لے لیا۔
ان کے چند اشعار آپ کی نذر ہیں:
اس دلنشیں کو دیکھ کر ہم بس وہیں ٹھہر گئے
یہ بھی نہیں کہ زندہ ہیں یہ بھی نہیں کہ مر گئے
کل تک تو یہ سوال تھا ہم ہیں کسی کا آئینہ
اور آج یہ سوال ہے کہ ہم کہاں بکھر گئے
ایک نوجوان شاعر جس نے لوگوں کو بہت متاثر کیا وہ عباس قمر تھے۔ عباس قمر کا تعلق انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے جونپور ضلعے سے ہے اور ان کے لیے شاعری خاندانی وراثت ہے جسے وہ آگے لے جانا چاہتے ہیں اور اس میدان میں اپنا نام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
عباس قمر کہتے ہیں:
اشکوں کو آرزوئے رہائی ہے، روئیے
آنکھوں کی اب اسی میں بھلائی ہے، روئیے
ہم ہیں اسیر ضبط اجازت نہیں ہمیں
رو پا رہے ہیں آپ، بدھائی ہے، روئیے
حالت حال سے بیگانہ بنا رکھا ہے
خود کو ماضی کا نہاں خانہ بنا رکھا ہے
خوف دوزخ نے ہی ایجاد کیا ہے سجدہ
ڈر نے انسان کو دیوانہ بنا رکھا ہے
جواں سال کمیل رضوی کا تعلق ریاست اترپردیش میں الہ آباد سے ہے اور وہ ریختہ نامی ادارے سے وابستہ ہیں۔ ان کے اشعار بھی خاصے پسند کیے گئے۔
مذاق کرتے ہوئے نام و ننگ اڑاتے ہوئے
اداس ہو گیا اک دن امنگ اڑاتے ہوئے
سخاوتوں کے تسلسل نے کر دیا سائل
میں سادہ رہ گیا آخر میں رنگ اڑاتے ہوئے
وکاس رانا بتاتے ہیں کہ ان کی پیدائش ہماچل پردیش میں ہوئی، ان کی رہائش دلی میں ہے جبکہ روزگار دلی سے ملحق شہر گڑگاؤں میں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ شاعری سے ان کی بچپن سے ہی گہری نسبت رہی ہے جس کا علم انھیں وقت اور تعلیم کے ساتھ دھیرے دھیرے ہوتا گیا:
تیرے پہلو یا درمیاں نکلے
ایک جاں ہے کہاں کہاں نکلے
آ تری سانس سانس پی لوں میں
روح کا جسم سے دھواں نکلے
نوجوانوں کے مشاعرے میں شہباز رضوی بھی نظر آئے جن کا تعلق شمال مشرقی ریاست بہار سے ہے۔ وہ انجینيئرنگ کے لیے دلی آئے۔ وہ کہتے ہیں کہ انجینیئرنگ کرتے کرتے کب شاعر بن گئے انھیں پتہ نہ چلا۔
انھوں نے اپنے حسب حال شعر سے لوگوں کو خاصا متاثر کیا۔ ان کے چند اشعار ملاحظہ کریں:
پہلے پہل تو خواب دکھایا گیا ہمیں
اور پھر عذاب دید بتایا گیا ہمیں
پہلی نظر کے عشق کو مذہب کا کیا پتہ
جھوٹے مقدموں میں پھنسایا گیا ہمیں