آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا میں سات دہائیوں سے مقبول سفری سینما کے رسیا فلم بین
انڈیا میں سات دہائیوں سے سفری سینماز دیہی علاقوں میں فلموں کا سحر بکھیر رہے ہیں۔
ان سفری سینما گھروں کو اکثر اوقات تفریحی اور مذہبی میلوں میں لگایا جاتا ہے اور بڑے بڑے ٹرکوں کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے جبکہ اب بھی ناظرین کو ہاتھ سے چلنے والے پرانے پروجیکٹرز کی مدد سے فلمیں دکھائی جاتی ہیں۔
تاہم تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجی کے اس دور میں ان سفری سینما گھروں کی مانگ میں کمی آتی جا رہی ہے جس میں لوگ ڈی وی ڈی اور موبائل فون پر فلمیں دیکھنا پسند کرتے ہیں۔
ایوارڈ یافتہ فوٹو گرافر امت مدھیشیا نے سال دو ہزار آٹھ میں ملک میں مقبول سفری سینماز کو عکس بند کرنا شروع کیا۔
ان کی سفری سینما گھروں کی تصاویر اور اس منصوبے کی تفصیل
امت مدھیشیا کے مطابق انھوں نے سال دو ہزار آٹھ کے شروع میں سفری سینما پر کام کرنا شروع کیا۔
یہ وہ وقت تھا جب ایک سکرین والے سینما گھر بند ہونا شروع ہوئے تھے اور ایک سے زیادہ سکرینوں والے مالز اور ملٹی پلیکس شروع ہو رہے تھے۔زمین بوس ہوتے سینما کو دیکھتے ہوئے میں نے اپنی ساتھی شریلی ابراہم کے ساتھ ملک بھر میں سفر کا آغاز کیا۔
ہمیں اس وقت یہ نہیں معلوم تھا کہ کس چیز کی تلاش میں نکلے ہیں تھے۔ ہمیں بڑی سکرین کے لطف کا احساس اس وقت ہوا جب خوش ہوتے بچوں کے ساتھ نیم کے درخت کے نیچے بیٹھ کر فلم دیکھی اور فلم کو ایک عمر رسیدہ شخص ہاتھ سے چلنے والے پرانے پروجیکٹر اسے دکھا رہا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہزاروں کی تعداد میں زمین پر بیٹھے لوگ پروجیکٹر کی بیم کے ذریعے سکرین پر دکھائی جانے والی فلموں کے سحر میں ڈوبے ہوئے دکھائی دیے اور یہ ایسے ہی تھا کہ ہم ماضی کا سفر کر رہے ہیں۔
ہمیں جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ ایک ان کہی بڑی کہانی ہے۔ سات دہائیوں سے اب تک، سفری سینیما نے ریاست مہاراشٹر کے ان علاقوں میں فلموں کو پہنچایا جہاں پر لوگوں کی مستقل سینما تک رسائی نہیں تھی یا وہ ان کی پہنچ سے بہت دور تھے۔
ہمیں جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ ایسی کہانی ہے جو پہلے بیان نہیں کی گئی۔ سات دہائیوں سے اب تک، سفری سینما نے ریاست مہاراشٹر کے ان علاقوں میں فلموں کو پہنچایا جہاں پر لوگوں کی مستقل سینما تک رسائی نہیں تھی یا وہ ان کی پہنچ سے بہت دور تھے۔
گانٹھ دار خیمے، پروجیکٹرز، فلموں کے ڈبوں میں بند رولز پر مشتمل یہ سفری سینما اب ایسے ماحول میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں جب لوگ انفرادی طور پر ڈی وی ڈی اور موبائل فون پر فلمیں دیکھنا پسند کرتے ہیں۔
یہ قدیم اور منفرد سینما کلچر تاریخ کا حصہ بننے کے قریب ہے۔
اس نے مجھے اس حد تک متاثر کیا کہ فلم ’دی سینما ٹریولرز‘ تیار کی اور اس کا پریمیئر 2016 کے کینز فلم فیسٹیول میں ہوا اور اس نے دستاویزی فلموں پر سپیشل جیوری ایوارڈ حاصل کیا۔
ان سالوں کے تجربے سے مجھے معلوم ہوا کہ سینما انسانی احساسات کی سب اعلیٰ شکل ہے اور یہ ہمیں تمام سرحدوں اور زبانوں سے بالا ہو کر ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اپنی فلموں میں کھوئے ہوئے ناظرین کی یہ تصاویر دنیا بھر میں قارئین کو سحر زدہ کر دیں گی اور ایسا احساس صرف سینما پیدا کر سکتا ہے۔
امت مدھیشیا کی تصاویر کی Galleryske کے اشتراک سے دہلی میں قائم گیلری PHOTOINK میں نمائش ہو رہی ہے.